پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے یکجہتی مشاعرہ !!ایک کٹھی میٹھی شام دو عظیم شعراء کے نام!! کا انعقادکیا

امجد اسلام امجد اور انور مسعود نے اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر پیڈ کی ادبی کمیٹی خصوصاؑ طارق رحمان اور طاہر حسنین زیدی کی کاوشوں کو خوب سراہا
سامعیں نے قابلِ ستائش نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، انہوں نے امجد اقبال امجد اور انور مسعود کا کھڑے ہو کر بڑے جوش و جذبے سے تالیوں کی گونج سے یادگار استقبال کیا،
انور مسعود کے پنجابی ثقافت کے اصل اور خالص رنگ سے بھرپور کلام بنیان، اج کی پکاییے ،کوفتہ،جمعہ بازاراور امبڑی نے سماع باندھ دیا

دبئی(حسیب اعجاز عاشرؔ سے) متحدہ عرب امارات کے ۴۱ویں قومی دن کے حوالے سے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے یکجہتی مشاعرہ !!ایک کٹھی میٹھی شام پاکستان کے دو عظیم شعراء کے نام!! کا انعقاد کر کے امارات سے دیرینہ دوستی اورپختہ تعلق کا اظہار کیا۔!!!یکجہتی مشاعرہ !!!میں امارات میں مقیم پاکستانی شعراء اکرام کے علاوہ شاعری اور ادب کے آسمان کے دو درخشندہ ستاروں امجد الاسلام امجد اور انور مسعود نے اپنی شاعری سے رات گئے تک سامعین کو محظوظ کئے رکھا۔طارق رحمان نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے کہاکہ بقول ڈاکٹر زادہ منظور کے مشاعرے کی نظامت اور ندامت میں تھوڑا سا ہی فاصلہ ہوتا ہے میری کوشش ہو گی کہ یہ فاصلہ حتی الامکان برقرار رہے۔ پیڈ کے صدرڈاکٹر ضیاء الحسن نائب صدر زائد ترمذی اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر فیصل اکرام نے مہمان خصوصی کی حثیت سے شرکت کی۔تقریب کا باقاعدہ آغازتلاوت قرآنِ پاک سے ہوا جسکی سعادت طارق رحمان نے حاصل کی۔ڈاکٹر اکرم شہزاد نے حمد اورحضورﷺکی شانِ اقدس میں پُر عقیدت نعتِ رسولِ ﷺ مقبول پیش کی۔طارق رحمان نے اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اردو زبان دنیا میں بولی اور سمجھنے والی زبانوں میں دوسری بڑی زبان ہے اس زبان کے فروغ میں برصغیر پاک و ہند میں ۴ سماجی اداروں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اول خانقاہ دوسرے دربار تیسرے بازار اور چوتھے مشاعرہ،اردو کہ عوام میں مقبول عام کرنے میں مشاعروں کا اہم کردار ہے،حقیقت یہ ہے کہ اردو ایک زبان ہی نہیں بلکہ تہذیب ہے اور اس کا اصل درس کتابوں سے نہیں بلکہ صحبتوں سے حاصل ہوتا ہے۔اس لحاظ سے مشاعرے صحبتوں کا اہم مرکز قرار وئیے گئے۔مشاعروں کی حثییت ایک تہذیبی گہوارے کی رہی ہے۔ ایک طرف تو یہ مشاعرے عوام الناس کو تفریح مہیا کرتے ہیں دوسری طرف یہ ایک کتھارسس یا اجتماعی تبادلہ خیال کا ذریعہ بنتے ہیں تیسری طرف یہ تہذیب شعور اور زبان کی سلیقہ مندی کا ہنر بھی عطا کرتے ہیں۔مشاعرے نہ صرف مستقبل کے ادب کا پتہ دیتے ہیں بلکہ اداب محفل اور اجتماعیت کی تہذیب سے بھی روبرو کراتے ہیں۔
ُ پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کے کلچرل سیکریٹری طاہر حسنین زیدی نے اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیڈ کے زیرِاہتمام !ڈرتے ڈرتے! پہلا مشاعرہ منعقد کیا تو ہم اس کوچے میں بالکل نووارد تھے اس حوالے سے نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ امارات میں موجود شعراء کرام سے کوئی واقفیت۔ لیکن میں خراج تحسین پیش کرونگا ٰ!اردو منزل! کے روح رواں جناب صغیر احمد جعفری اور محترمہ صبیحہ صاحبہ کو جو حقیقت میں اردو زبان کے سفیر ہیں انہی کی تحریک پر یہ پہلا مشاعرہ منعقد کیاگیا۔آج اگر ہم پوری آن بان کے ساتھ پہچان کا ادبی شمارہ جاری کرنے کے لائق ہیں تو درحقیقت اس کا سبب یہی مشاعرہ بنا یہ بارش کا پہلا قطرہ تھا۔اور پھر ایک کے بعد ایک ادبی محفلوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو الحمداللہ آج تک جاری ہے،تقاریب کیساتھ مددگار ہاتھوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔سحرتاب رومانی، ڈاکٹر ثروت زہرا، یعقوب عنقا، طیب رضا، مصدق لاکھانی، مقصود احمد تبسم، امجد اقبال امجداور اکرم شہزاد جیسے محترم ساتھیوں کی رفاقت نصیب ہوئی،ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی،اور ظہور الاسلام جاویدجیسے معتبر لوگوں کا تعاون حاصل ہوا،اور ہاں ان ادبی محفلوں کی خو شبو کو چارسو اپنے کیمرہ اور رپورٹوں کے ذریعہ پھیلانے والے حسیب اعجاز کو بھلا کون بھول سکتاہے۔ادبی سرگرمیوں کے انعقاد سے جہاں مل بیٹھ کر کتھارسس کا موقع ملا وہاں پاکستان ایسوسی ایشن کو بھی ایک وقار حاصل ہوا۔انہوں نے جوائنٹ سیکریٹری طارق رحمان کو نرم دم گفتگو۔گرم دم جستجو قرار دیتے ہوئے کہاانکے تعاون کے بغیر یہ کاوشیں ممکن نہیں تھیں۔ پیڈ کے نائب صدرجناب زائدترمذی نے تمام شعراء اکرام اور سامعین کی کثیر تعداد کو خوش آمدید کہا۔شعراء اکرام جنمیں فرہاد جبریل،فقیر سائیں،آصف رشید اسجد،طیب رضا،امجد اقبال امجد،یعقوب عنقاء، سحرتاب رومانی،صغیر جعفری،مصدق لکھانی،ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی، صبیحہ صباشامل تھے،نے اپنے اپنے دل موہ منفرد کلام سے محفل کاپل پل لمحہ لمحہ یادگار اور شاندار بنا دیا۔سامعین کا جوش قابلِ دید تھاوہ ہر دل عزیزمہمان شعراء اکرام کو دیکھنے کے لئے بیتاب بیٹھے تھے۔تمام سامعیں نے جہاں قابلِ ستائیش نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا وہاں انہوں نے امجد اسلام امجد اور انور مسعود کا کھڑے ہو کر بڑے جوش و جذبے سے تالیوں کی گونج سے ایسا استقبال کیا، کہ مہمان شعراء ہاتھ ملا کر محبتوں کا جواب دینے پر مجبور ہو گئےء،گیسٹ روم سے سٹیج تک کا صرف ۲۵ فٹ کا فاصلہ ۴۰ منٹ میں طے ہو پایا۔محبت کا جادو ایسا چلا کہ سب کو ہسانے والے انور مسعود آبدیدہ ہو گئے،کہتے ہیں کہ ایسی محبت انہیں کہیں بھی سمیٹنے کو نہیں ملی،یہ میرے لئے کسی انمول سرمائے سے بھی بھر کر ہے۔جو کبھی بھولی نہیں جا سکتی ۔۱۹۸۷ میں پرایڈ آف پرفارمنس اور ۱۹۹۸ میں ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے امجد الاسلام امجد کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں،انکا پہلا مجموعہ کلام برزخ ۱۹۷۴ میں شائع ہوا،اسکے بعد سے اب تک ۱۴ مجموعے شائع ہو چکے ہیں،اسکے علاوہ نظموں کے مجموعے غیر ملکی ادب سے ترجمے، اخباری کالمز کے انتخاب سفرنامے اور تحقیق و تنقید جیسے مو ضوعات پر بیسیوں کتابیں تحریر کر چکے ہیں ٹی وی پر ان کی مقبولیت سے ہر خاص و عام واقف ہے ۔انہوں نے کئی غزلیں اور نظمیں پیش کی۔ فرمائشی کلام بھی سامعین کی نذر کر کے اپنے دامن کو دادو تحسین سے بھر لیا۔محفل اپنے اختتام کی جانب بڑی کامیابی سے روا ں دواں تھی۔،انور مسعود کے مائیک پے آتے ہی سامعین کے چہرے کھل کھلا اُٹھے آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔با ذوق سامعین کی کثیر تعداد اپنی نشستوں کو چھوڑ کر سٹیج کے قریب زمین پے آبیٹھی تھی جیسا کہ وہ انور مسعود کے کلام کے ہر لفظ و حرف سے بھرپور سرشار ہوکر ان لمحات کو یادوں کے کوزے میں قید کرنا چاہتی ہے۔باذوق سامعین انور مسعود سے انکے متعد کلام بصد اصرار بار بار سن کر لطف اندوز ہوتے رہے۔انکا پنجابی ثقافت کے اصل اور خالص رنگ سے بھرپور کلام بنیان، اج کی پکاییے ،کوفتہ،جمعہ بازاراور امبڑی بھی دلوں کو خوب بھایا۔ تقریب کے اختتام پر طارق رحمان نے مقامی اور مہمان شعراء اکرام، میڈیا اور سامعین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،ہزاروں کی تعدادمیں موجود تمام شرکاء نے ایک بار پھرہاتھوں کو لہراتے ہوئے کھڑے ہو کر مہمان شعراء کو بے حد خراجِ تحسین پیش کیا۔ یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات کے ۴۱ویں قومی دن کے حوالے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی نے کمیونٹی کے اُمنگوں کی عین ترجمانی کرتے ہوئے!!Solidarity Celebration2012!! کا ۲نومبر سے۲دسمبرتک خصوصی اہتمام کیا ہے جسمیں مذاکرے،تقریری مقابلے، کرکٹ ٹورنامنٹ،شعروادب کی محافل،ہیلتھ کیمپ،فوڈ فسٹیول،یکجہتی واک اور دیگر شامل ہیں یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ۱۹۷۱ میں امارات کی تشکیل سے آج تلک دونوں ممالک ہر سطح پر محبت کے لازوال بندھنوں میں مضبوطی سے جکڑے ہوئے ہیں،دعا گوہ ہیں کہ ہمالہ سے بلند اور بحیرہ عرب سے گہرا یہ تعلق تا قیامت قائم ودائم رہے۔آمین
تقریب پیش کیا گیا شعراء اکرام کے کلام سے منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں
فرہاد جبریل
بشر فطرت مجھے فرہاد ؔ سمجھیں
فرشتوں میں رہوں جبریل یارو
فقیر سائیں
نہ میرا نام موسی ہے نہ میں فرعون ہوتا ہوں
مجھے بھی نہیں معلوم کہ میں کون ہوتا ہوں
آصف رشید اسجدؔ
روز کہتی ہے نیا بھیس بدلنے کے لئے
زندگی تو نے اداکار بنا رکھا ہے
طیب رضاؔ
وہ جو منصور کی ادا ٹہری
اس کو اظہار ذات نے مارا
امجد اقبال امجد
کوئی پودا لگانا چاہتا ہوں
میں اپنا دل اُگانا چاہتا ہوں
یعقوب عنقاؔ
ہم محبت کو سمندر میں بہا آئے تھے
وہ صدف زاد اُسے پھر سے بچا لایا ہے
سحرتاب رومانی
اُصولوں کی لڑائی لڑرہا ہوں
میرے پیشِ نظر دنیا نہیں ہے
صغیر جعفریؔ
مجھے بھی صحرا میں برسوں گزر گئے لیکن
زمین اپنی مجھے پھر بھی یاد آتی ہے
ڈاکٹر صباحت عاصمؔ واسطی
میں بولتا تھا کہ مجھکو نہیں تھا کچھ معلوم
میں چب ہوا ہوں کہ مجھکو خبر ذیادہ ہے
مصدق ؔ لکھانی
رسی پے چل رہا تھا توازن بچاکے میں
پچھلے قدم پے خوش تھا تو اگلے کا ڈر بھی تھا
صبیحہ صباؔ
وطن سے دور ہیں یا وطن میں بس جائیں
یہ مہرباں سے کسی مہرباں کا رشتہ ہے
امجد الاسلام امجدؔ
کسی کی آنکھ جو پرنم نہیں ہے
نہ سمجھو یہ کہ اس کو غم نہیں ہے
سوادِ درد میں تنہا کھڑا ہوں
پلٹ جاؤں مگر موسم نہیں ہے
انور مسعودؔ
بنین لین جاندے او
بنین لے کے آوندے او
پاندے او تے پیندی نئیں
پے جائے تے لیندی نئیں
لے جائے تے دو جی واری
پون جوگی ریندی نیءں
Viewers: 3664
Share