ٰImran Akif Khan | Short Story | پتھر کے انساں

عمران عاکف خان imranakifkhan@gmail.com 85،ڈیگ گیٹ، گلپاڑہ،بھرتپور ،راجستھان پتھر کے انساں اس نے شہر کے بارے میں نہ جاے کیاکیا باتیں سن رکھی تھیں۔شہر میں کو ئی کسی کا نہیں […]

عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
85،ڈیگ گیٹ، گلپاڑہ،بھرتپور ،راجستھان

پتھر کے انساں

اس نے شہر کے بارے میں نہ جاے کیاکیا باتیں سن رکھی تھیں۔شہر میں کو ئی کسی کا نہیں ہوتا ،سب اپنے مطلب سے مطلب رکھتے ہیں اور وہاں کو ئی کسی کے کام بھی نہیں آتا۔ آدمیوں کو مار دیاجاتاہے‘لوٹ لیاجاتاہے او رانھیں بیچ دیاجاتاہے۔مگر اسے ان باتوں پر یقین نہیں آتا تھا بلکہ وہ انھیں افواہ اور بے پر کی کہہ کر اڑا دیتا تھا‘۔راصل وہ شہر میں رہنے والے ’انسانوں ‘ کو گاؤں کے باشندوں جیسا سمجھتا تھا‘ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنے والا ‘ہمدرد‘اور ایماندار و نیک‘وغیرہ وغیرہ۔
پچھلے کچھ دنوں سے اس کی تمنا نہ جانے کیوں شہر دیکھنے کی ہو ئی اور وہ اکیلا ہی شہر دیکھنے چل پڑا۔ شہرکے بیرونی حصوں میں صفا ئی ‘پاکیزگی ‘ ٹریفک نظام‘ ماحول کی تازگی ‘پھولوں سے لہلہاتی پارکیں اور بلندو بالاو خوب صورت عمارتیں دیکھ کروہ مگن ہو گیا ‘اتنا اچھا دیکھنے کے بعد اس نے من ہی من ان لوگو ں کو برا بھلاکہا جو شہر کی ’تو ہین‘کر تے تھے۔جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا ‘اس کو یقین ہو تا گیا کہ شہرو ں کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی ہیں وہ غلط ہیں بلکہ یہاں تودنیا کے مہذب ترین لوگ رہتے ہیں۔نیز جس طرح ان کے ار دگر دکاماحول صاف ستھر ا ہے اسی طرح ان کے دل بھی انسانوں کے لیے صاف ہوں گے۔یہ سو چتا ہوا وہ ایک پر رونق بازار کی طرف چل پڑا جہاں دن میں بھی رنگ بر نگی رو شنیوں نے عجیب جادوئی ماحول بنا رکھا تھا۔شاندار اور نفیس لباسوں میں آتے جاتے لوگو ں کو وہ مڑ مڑ کر دیکھنے لگا۔ایک سے بڑھ کر ایک اور دوسرے سے خوب دوسرا ۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس کو خوب کہے اور کس کو خوب تر ‘اسے کمی تو کسی میں بھی نہیں دکھ رہی تھی ۔ایک جگہ تو اس کے بڑھتے قدم خود بخود رک گئے ‘اس نے دیکھا کہ چند نوخیز لڑکیاں ستاروں کے جھرمٹ کی طرح اس کی طرف آرہی تھیں‘ان کی کلکاریوں اور اور کھنکتے قہقہوں سے فضامیں گھنٹیاں سی بج رہی تھیں ۔ستاروں کا جھرمٹ اس کے پاس سے روشنی بکھیرتا اور ہنستا ہوا ہوا چلا گیا‘اسے لگا جیسے وہ اپنے ساتھ اس کی کو ئی ’متاع عزیز‘ بھی لے گیا۔وہ انھیں دور تک جاتا ہوا دیکھتا رہا ۔نہ جانے کیوں اس کا دل کسی سے بات کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا ‘بس وہ چپ چاپ آتے جاتے لوگوں اور بازارو ں کی ’رونق ‘دیکھ رہا تھا ۔
اسے اس بات کا قطعاً پتا نہیں تھا کہ کچھ لوگ اس وقت سے اس کے پیچھے لگے ہو ئے ہیں جب وہ شہر کی حدود میں داخل ہوا تھا اور وہ بڑی دیر سے اسے شہر کی ’شرافت و عظمت‘دکھانے کا منصوبہ بنا ئے ہو ئے ہیں ۔اچانک ایک موڑ پر ان میں سے ایک سامنے آہی گیا اور بڑے بھولے پن سے اس سے کہنے لگا:
’’چچا آپ کو کہاں جانا ہے‘ایسا لگتاہے آپ کچھ پریشا ن ہیں‘میں آپ کی کچھ مدد کرسکتا ہوں ۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گیا۔’’مم….مم….‘‘’ہاں ہاں آپ سلیم بھا ئی کے پاس جانا چاہتے ہیں نا ‘میں ان سے ملوا دیتا ہو ںآپ فکر مت کیجئے ۔‘‘اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ آدمی بول پڑ ا او روہ حیرا ن رہ گیا کہ شہر میں اس کا شناسا ’سلیم بھا ئی‘یہاں کون ہے ؟ وہ تو یہاں کسی کو بھی نہیں جانتا ۔اچانک اس نے آس پاس دیکھا تو وہ آدمی غائب تھا ۔ ’’اونہہ تو …..‘‘اچا نک اس کے کان کھڑے ہو ئے ’’کہیں شہر نے ….‘‘’’ارے نہیں ‘نہیں ۔‘‘ایک خیال اس کے دل میں گذرا جس کااس نے عقل کے ہاتھوں گلا گھونٹ دیا۔مگر اب اسے وہ جگہ کچھ مکدر سی لگی اس لیے وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ابھی کچھ ہی دور چلا تھا کہ ایک بازاری قسم کی عورت نے اسے گھیر لیا اور اسے بدی کی دعوت دینے لگی‘…..کھلے عام بے حیائی کی دعوت کی جرأت دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین کھسک گئی اور اسے اپنے اوپر آسمان ٹوٹتا سا محسوس ہوا ۔ابھی وہ پس و پیش میں تھا کہ وہ عورت اس کی طرف جھپٹ پڑی‘قیامت سے پہلے ایسی قیامت دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔اب ایک ہی چارہ تھا کہ سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہو ‘اس نے ایسا ہی کیا مگر اس عورت نے شو ر مچا کر چاروں طرف سے اس کا راستہ بند کر ادیا‘پھر کیا تھا لوگوں سے اسے چاروں طرف سے گھیر کر بری طرح زدو کوب کیا۔
اب شہرکچھ کچھ اس کی سمجھ میں آنے لگا تھا ۔وہ کچھ اور آگے بڑھا اورایک گلی سے ہو تا ہوا ایک چوک میں آگیا۔یہاں کا حال ہی عجیب تھا ‘ کچھ لوگ اِدھرُ ادھر اپنے کاموں میں مشغول تھے اور کچھ وقت گذاری کے لیے تاش جوا کھیل رہے تھے ‘مال دار اپنے جیسے کم زور اور غریب انسانوں پر ان کی حیثیت اور طاقت سے زیادہ مال لاد کر لیجا رہے تھے۔کبھی کبھی اگر کوئی بوڑھا آدمی سامان لے جاتا ہوا رُکتا تو اس پر کوڑوں اور گالیوں کی بارش کر دی جاتی۔یہ کتنا دردناک منظر تھا جواس نے دیکھا ….وہ اور آگے بڑھ گیا۔ایک جگہ اس نے دیکھا شہر کے ایک عالیشان پارک میں کچھ غنڈے قسم کے لوگ ایک دوشیزہ کو گھیر رہے ہیں او روہ اپنی عصمت کی حفاظت کے لیے شارع عام پر جاتے لوگوں سے فریاد کر رہی ہے مگر کو ئی اس کی فر یاد نہیں سن رہاتھا … اچانک غنڈوں نے اس پر قابو پالیا اور دن کے اجالے میں اس کی چادر عصمت تار تار کردی۔تھوڑی دیر بعد حیوان نما انسان اس معصوم کو اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔یہ کتنی بھیانک تصویر دیکھی تھی اس نے شہر کی ‘دکھ کے احساس سے اس کی آنکھیں خود بخود بند ہو تی چلی گئیں۔
لڑ کھڑاتا ہوا وہ شہر کی سیر کو پھر آگے بڑھا…ابھی کچھ ہی دور چلا ہوگا کہ ہوش روبامنظر نے اس پرہارڈ اٹیک کر دیا۔وہ ایسا ہی دل دوز منظر تھا …مخالف سمت سے آتی ہو ئی ایک تیز رفتار کار نے اس نوجوان کاقیمہ کر دیا تھا ۔اس کی چیخ دلوں میں چھید کر نے والی تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اس کے علا وہ یہاں سب’ پتھر کے انسان‘ بستے ہیں جو اس غیر معمولی وا قعے کو معمولی سمجھ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے تھے۔گاڑیاں گذرتی رہیں اور اس نوجوان کے قیمے کا قیمہ بنتارہا ۔
اس سے اب شہر کا یہ پتھر پن دیکھا نہیں جارہا تھا ۔ایک چیز اس کی آنکھوں میں چبھ رہی تھی ‘اسے اب پل پل ان لوگوں کی باتیں صحیح اور سچی لگ رہی تھی جو شہر کی باتیں اسے بتایا کر تے تھے اور وہ انھیں جھوٹ کہتا تھا …آج سب تماشے اس کی آنکھو ں کے سامنے ہو رہے تھے ….اس سے پہلے کہ اب اس سے بھی بر اکچھ ہو ‘وہ شہر چھوڑدینا چاہتا تھا ..مگر انسانیت کا سر شرم سے جھکادینے اور شہر وں کی شان سمجھے جانے والا منظر تو ابھی اس نے دیکھا ہی نہیں تھا ….وہ آگے چل دیا ‘شہر کے ایک پر رونق چوک سے گذرتے ہو ئے وہ شہر والوں کی حیوانیت اور پتھرپن پر افسوس کر رہا تھا کہ ‘ایک طر ف سے عجیب سا شور بلند ہوا ۔’’مارو! کاٹو ….فنا کردو ‘ مٹادو ….ہا ؤ ..ہاؤ …ہوہو …‘‘ہزاروں لوگ بے تحاشا چیخ رہے تھے ‘گالیاں دے رہے تھے ‘مذہبی نعرے لگا رہے تھے ‘ا نکے ہاتھوں میں ،بلم ،بھالے اورلاٹھیاں تھیں جو آپس میں چل رہی تھیں…. پھر دھڑا دھڑ لا شیں گر نے لگیں ‘تھوڑی ہی دیر میں زمین خون سے لت پت ہو گئی …اس طوفان کے اسباب و آغاز کا کچھ پتانہیں تھا اور نہ یہ خبر کہ یہ آگ کس نے لگا ئی ہے۔دکانیں دھوں دھوں کر کے جل رہی تھیں ،املاک تباہ ہو رہی تھی ‘جوکچھ سامنے آرہا تھا توڑا پھوڑا جارہا تھا۔ہر طرف افرا تفری کا ماحول تھا ۔
’انسانوں‘کے اچانک لڑنا اور خون کی ہو لی کھیلنے کا منظر اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔اس نے گا ؤں میں اس طرح جانوروں کو لڑتے دیکھا تھا جو بِنا بات ہی کہیں بھی لڑ بھڑ جاتے تھے مگر اس طرح تو انھوں نے بھی کسی جانور کو قتل نہیں کیا تھا ۔یہ کیا کیا کر دیا انسانوں نے ….ارے اپنے ہی بھا ئی مارڈالے ….اسے وحشت سی ہونے لگی‘اب شہر اس کی سمجھ میں پوری طرح آگیا تھا لہٰذاوہ وہاں سے جلد جلد سے نکل جانے کی کوشش کر نے لگا…..خدا خدا کر کے کسی طرح وہ شہر سے باہر آیا اور پہلی ہی گاڑی سے گاؤں پہنچ گیا۔لوگ اس سے شہر کی سیر کی رود اد پوچھتے ‘جواب میں بس وہ یہی کہتا …..
آنکھوں میں شرم کانہ پانی‘وہ میں نے حیواں دیکھے ہیں
پتھر کے خدا ،پتھر کے صنم ،پتھر کے انساں دیکھے ہیں
دل اور جگرکا سواد نہیں بس مطلب سے ہی چاہت ہے
اور نفرت کی چکی میں پستے کتنے غریباں دیکھے ہیں

Viewers: 3417
Share