Qasim Khursheed | Story | جڑیں

قاسم خورشید Head (Language) SCERT Bihar Navgharva, Sultanganj, Patna-06 (INDIA) 09334079876 Email : Saeban@sify.com جڑیں شیتل پور گاؤں کے باہر پیپل کا ایک بڑا درخت ہے۔ اس کی بانہیں دور […]
قاسم خورشید
Head (Language) SCERT Bihar
Navgharva, Sultanganj, Patna-06 (INDIA)
09334079876
Email : Saeban@sify.com
جڑیں
شیتل پور گاؤں کے باہر پیپل کا ایک بڑا درخت ہے۔ اس کی بانہیں دور دور تک پھیلی ہیں اسی درخت کے نیچے ایک چبوترہ ہے، جس پر بیٹھ کرکہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ پنچایت کے فیصلے ہوا کرتے ہیں۔ بچے کھیلتے بھی ہیں۔ اس کی جڑوں میں پوجا کے تازہ پھول بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں چاروں طرف دھاگے بھی لِپٹے ہوئے ملیں گے۔ جڑوں میں رکھے ہوئے تازہ پھولوں یا چاروں طرف لپٹے ہوئے دھاگوں کو بچے نہ چھوتے نہ چھیڑتے ہیں۔
اسی درخت کو لے کر شیتل پور گاؤں کے ایک گھر میں زبردست تناؤ ہے۔ اور وہ گھر ہے شیخ رمضانی میاں کا۔ شیخ رمضانی پینسٹھ کے ہوچکے ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ شیخ کلیم اور شیخ سلیم۔ دونوں کی شادی ہوچکی ہے۔ کھیتی کے علاوہ قرآن و حدیث کا مطالعہ اور گاؤں کے اکلوتے مولوی صاحب کی تقریر سننے میں ان کی خاص دلچسپی ہے۔
ابھی جو اس گھر میں تناؤ ہے، اس سے شیخ رمضانی کے علاوہ ان کی بیوی اور شیخ رمضانی کا سات سالہ پوتا مُنّو بہت پریشان ہیں اب تو روز صبح و شام پہاڑ ٹوٹتا ہے۔ مُنّو کچھ سمجھ نہیں پاتا تو رونے لگتا ہے۔ شیخ رمضانی غصے سے بھر جاتے ہیں تو اسی پیپل کے نیچے جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔
کھلیان سے لوٹنے پر آج پھر دونوں بیٹے، باپ پر بپھر رہے ہیں۔
’ابا! اب اور حاتم طائی نہ بنئے۔ کچھ روز بعد بھوکے رہنے کی نوبت آنے والی ہے۔‘
’ان کی کیا ہے؟ یہ تو آج ہیں کل گزر جائیں گے۔ سارا دکھ تو ہم لوگوں کوہی جھیلنا ہے۔‘
’ہم ایک بار پھر آپ سے کہہ ر ہے ہیں کہ اب اور نہیں جھیلیں گے، جو فیصلہ کرنا ہے جلد ہی کردیجئے۔‘
شیخ رمضانی نے دونوں کی جلی کٹی باتیں سن کر لگ بھگ چیخ کر کہا۔۔۔’اب کیا چاہتے ہو تم لوگ۔ رہی سہی عزت کو بھی مٹی میں ملادیں؟ ارے تم لوگوں نے کیا دیکھا ہے؟ کیا کیا دکھ نہیں جھیلا ہے ہم نے ۔ تین تین دن بھوکے رہے ہیں۔ تم لوگ سمجھتے ہو کہ آج جس کھیت پر راج کررہے ہو، آسانی سے مل گیا ہے؟ خون پسینہ ایک کیا ہے ہم نے۔‘
تبھی شیخ سلیم کی بیوی ٹپک پڑی۔
’ای بات آپ بار بار مت بولئے ابا۔ اس میں احسان کاہے کا۔ کون باپ اپنے بچوں کے لئے نہیں کرتا ہے آپ ہی دنیا میں اکیلے تو نہیں ہیں۔‘
شیخ سلیم نے بیوی کی بات کو اور آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔’کوئی گھر ایسا نہیں ہوگا۔ ہم اب بار بار یہ سب نہیں سنیں گے۔ ہم لوگوں کو الگ کردیجئے، دن بھر محنت کرو، تب بھی چین نہیں ہے۔‘
اب شیخ رمضانی نے بیٹے کو بہت نرم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔’بیٹا سب کچھ تم ہی دونوں کا ہے۔ ہم کیا یہاں سے لے کر جائیں گے؟ تم کو کھیتی کے لئے زمین کم لگتی ہے تو پوکھر کے پاس والی زمین کاہے نہیں جوتنے کی کوشش کرتے ہو۔‘
شیخ کلیم نے کہا۔۔۔’دیکھئے ابا !یہ بات آپ کے ساتھ سارا گاؤں جانتا ہے کہ پوکھر کے پاس والی ہم لوگوں کی جو زمین ہے، ایک دم بنجر ہے۔ ایک بار آپ بھی بولے تھے کہ اس میں کنکر پتھر بہت ہے۔ ہل تک ٹوٹ چکا ہے۔‘
’بیٹا یہ تب کی بات تھی جب میں اکیلے کام کیا کرتا تھا۔ کوئی بھی نہیں تھامیرے ساتھ۔ اب تم دونوں ہو۔ چاہو تو اور مزدور بھی رکھ سکتے ہو۔‘
شیخ سلیم کی بیوی پھر ٹپکی۔۔۔’اب ای سب ڈھکوسلا آپ ہی کیجئے۔ ہم لوگوں سے ای سب نہیں ہوگا۔‘
’دلہن! تم بیچ میں کاہے کوبولنے لگتی ہو۔‘
’کاہے نہیں بولیں؟ تکلیف ہم بھی سہتے ہیں اور پھر روز روز کا بک بک ہم کو بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔‘
اب مُنّو سے بھی نہیں رہا گیا تو اس نے بول دیا۔۔۔’ چُپ بھی رہو اماں۔‘
مُنّو کا اتنا بولنا تھا کہ شیخ سلیم نے سارا غصہ اس پر اتار دیا۔ جب اسے کئی تھپڑّ رسید کرچکا تو زبردستی شیخ رمضانی نے اسے چھڑادیا اور روتے ہوئے مُنّو کا ہاتھ تھام کر گھرسے باہر نکل گئے۔ دونوں درخت کے نیچے آکر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد مُنّو سسکتے ہوئے اپنے دادا جی کی گود میں سر رکھ کر سوگیا۔
اس تناؤ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شیخ رمضانی جس درخت کے نیچے آکر بیٹھے ہیں اسے آج سے چالیس سال پہلے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ جب اپنے کھیت سے وہ یہ پودا لے کر چلے تھے تو ان کے دوست نتھنی رام نے کہا تھا کہ پیپل کا پودا کاہے کو لگارہے ہو۔ آم کا پودا ہوتاتو پھل بھی ملتا۔تب شیخ رمضانی بولے تھے کہ پیپل کا پیڑ مجھے بھلا لگتا ہے۔یہ بہت دنوں تک ٹکتا بھی ہے۔ اس کے پتّوں میں جو بات ہے وہ کسی اور میں کہاں؟ اور انہوں نے یہ بھی چاہا تھا کہ یہ پودا درخت بن جائے تو اس کی شیتل چھایا بھی ہوگی۔بعد میں اس کے نیچے ایک چبوترہ بنوانے کا بھی پلان تھا کہ لوگ شام سویرے بیٹھ سکیں گے۔ کچھ قصہ کہانی ہو تاکہ دل بھی بہل جائے۔
جہاں شیخ رمضانی نے پودا لگایا تھاوہ ا ن کی اپنی زمین تھی۔ پودا دھیرے دھیرے پھیلتا گیا اور پھر شیخ رمضانی کے لگ بھگ بیس کٹھّے کے اس پلاٹ پر درخت بن کر بانہیں پسار کر کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے اس کے بیچ میں چبوترہ بنوایا۔ وہاں پنچایت بھی ہوتی، بچے کھیلتے، لوگ قصے کہانیاں سنتے۔ دھیرے دھیرے آس پاس کے گاؤں والے لوگ اس درخت کی جڑوں میں بیٹھ کر پوجا پاٹ بھی کرنے لگے۔ لوگوں کی منّتیں بھی پوری ہونے لگیں۔ لیکن پوجا کرنے والے لوگ صرف صبح میں ہی دیکھے جاتے تھے۔
شیخ رمضانی کے بیٹوں کے نظریے سے یہ زمین بہت اپجاؤ تھی اور ان کا ایسا سوچنا غلط بھی نہیں تھا کہ قانونی طور پر زمین ان کی ہی تھی۔ وہ جب چاہتے جوت سکتے تھے، لیکن شیخ رمضانی ان کی پوری طرح سے مخالفت کررہے تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ برسوں پہلے انہوں نے جس درخت کی کلپنا کی تھی اور وہ درخت جس روپ میں ابھر کر ان کے سامنے آیا تھا، اسے بیٹوں کی ضد کے آگے قربان کردیں۔ انہیں بیٹوں کے رویّوں کو دیکھ کر محسوس ہوچکا تھا کہ ان کے بعد یہ درخت یونہی بانہیں پھیلائے نہیں رہ سکتا۔ شاید اسی لئے انہوں نے اپنی سطح پر اس کی حفاظت کا انتظام کردیا تھا۔ پھر بھی ان پر اداسی چھائی رہتی تھی۔
آج اپنے دل کی بات انہوں نے اپنے بچپن کے دوست نتھنی رام سے کہی۔
’کیا کہتے ہو نتھنی۔ اب تو ہم لوگ کسی بھی رو ز گزر جائیں گے۔‘
’کیا کروگے، یہ تو ہوتا ہی ہے رمضانی میاں۔‘نتھنی نے دور کھیتوں کو تکتے ہوئے کہا۔
’نتھنی مجھے ایک چِنتا ہے کہ اگر میں نہیں رہا تو ہوسکتا ہے یہاں پر چوپال نہ ہو، یہ درخت بھی نہ رہے، کوئی کہانی کہنے والا بھی نہیں آئے۔ پوجا کرنے والوں کو بھی دوسرا درخت تلاش کرنا ہوگا۔‘
نتھنی نے غور سے رمضانی میاں کو دیکھا۔’ ای تم کا بکے جارہے ہو؟‘
’نتھنی! میرے بیٹوں نے مجھے بہت پریشان کررکھا ہے۔ ایسالگتا ہے کہ یہ چین سے مرنے بھی نہیں دیں گے۔ کہتے ہیں کہ اس زمین کو جوت ڈالوں۔ بولو ایساکیسے ہوسکتا تھا؟ اس لئے میں نے بہت سوچ وچار کر اپنی یہ زمین گاؤں کی پنچایت کے نام کرتے ہوئے وصیت کردی ہے کہ اس درخت کو جیسے بھی ہو بچایا جائے، چوپال یہیں ہوتی رہے۔ شام میں گاؤں کے بچے یہاں پر کھیلا کریں۔ اپنے لئے صرف یہ وصیت کی ہے کہ جہاں اس درخت کی شاخیں زمین کو چھونے کی کوشش کررہی ہیں وہیں کہیں میرے مرنے کے بعد مجھے دفنایا جائے، میری قبر بنائی جائے، لیکن کبھی اس پر گارا یا سیمنٹ ڈال کر پختہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ دھیرے دھیرے اسے زمین کی سطح بننے دیا جائے۔‘
نتھنی رام یہ سن کر سنّاٹے میں آگئے۔ پھر انہوں نے غور سے رمضانی کو دیکھا۔ دیر تک دیکھتے ہی رہے۔ ان کے اندر بھاونائیں تو بہت ابل رہی تھیں لیکن شبدان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ جب کچھ بھی نہیں کہہ پائے تو زور سے شیخ رمضانی کا ہاتھ تھام لیا۔
دوسرے روز شیخ رمضانی کئی مزدوروں کے ساتھ پوکھر کے پاس والی اپنی بنجر زمین کو کھودنے کی کوشش میں لگے تھے۔ گھر میں بیٹے انہیں پاگل سمجھ رہے تھے لیکن شیخ رمضانی کا پوتا مُنّو ان کے کام میں ہاتھ بٹاتا ہوا نظر آیا۔ کئی دنوں پھر کئی مہینوں کی محنت کے بعد ایک روز ایسا ہوا کہ اس بنجر زمین پر بھرپور فصل ہوئی۔ اناج کھلیان میں لے جایا گیا تو شیخ رمضانی کے بیٹوں کو یقین نہیں ہوا کہ اچانک ہم اتنے خوشحال کیسے ہوگئے۔ اس روز برسوں بعد دونوں بہت خوش نظر آئے۔ گھر لوٹے تو پتہ چلا کہ ابا گھر میں نہیں ہیں۔ دونوں بیٹے ابا کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تو دور سے پیپل کے گھنے درخت کے نیچے چبوترے پر لیٹے ہوئے نظر آئے۔ انہیں قریب سے دیکھنے پر ایسا محسوس ہوا تھا کہ دنیا کی ہر فکر سے بے خبر ہوکر بہت سکون کے ساتھ سورہے ہیں۔
بیٹے وہاں پہنچنے کے بعد ابا کو چین سے سوتا ہوا دیکھ کر پاس میں بیٹھ گئے۔ انہیں جگانے کی کوشش نہیں کی لیکن جب اندھیرا اور گھنا ہوگیا تو دوڑتا ہوا مُنّو درخت کے نیچے آیا اور اپنے دادا جی کو جگانے کی بہت کوشش کی لیکن شیخ رمضانی پورے طور پر سرد ہوچکے تھے۔
بیٹوں پر سکتہ طاری ہوگیا کہ انہوں نے اچانک اس عظیم ترین سانحے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ مذہبی کتابوں کے حوالے سے ہزاروں پیغمبروں کے بارے میں سنا تھا، ان کے پیغامات پرایمان بھی لاچکے تھے لیکن کیا یہ ممکن تھا کہ کسی بے حد معمولی کسان کے گھر اور جو بظاہر روایتی انداز سے اپنے خالق کی عبادت میں بھی کبھی مشغول نہیں پایا گیا ہو۔ جس نے اپنی چھوٹی سی کائنات کے انسانوں میں ہی سب کچھ تلاش کرلیا ہو، جس نے اپنے جینے کے انداز سے ہزاروں صحت مند تبدیلیاں لائی ہوں اور اس عالم سے صرف شیخ رمضانی ولد شیخ ربّانی بن کر اٹھ گیا ہو۔ کیا ایسے انسان کے گھر پیغمبر کی رسم لوٹ آنے کی بات پر کوئی یقین کرسکتا ہے؟ لیکن یہ تو طے ہے کہ آج جو درخت دور تک شیخ رمضانی کی دی ہوئی زمین پر بانہیں پھیلا کر کھڑا ہے اور جس کی جڑیں نہ جانے کہاں کہاں تک پھیل چکی ہیں۔ شاید کوئی چاہ کر اسے نہیں مٹا سکتا۔ یہی سوچ کر سچ مچ دونوں پورے طور پر بھیگ چکے تھے۔ ساری رات انہوں نے روتے ہوئے کیسے گزار دی اس کا احساس تک نہیں ہوسکا۔ جہاں درخت کی بانہیں زمین پر جھکی تھیں بیٹوں نے وصیت کے مطابق شیخ رمضانی کو وہیں پردفنایا تھا۔
پھر درخت کے نیچے سب کچھ پہلے جیسا ہونے لگا۔ اب عقیدت بھی بڑھی تھی۔ سبھوں کو وشواس تھا کہ شیخ رمضانی بابا انہیں دیکھ رہے ہیں۔
کئی مہینے گزر گئے۔ ایک روزمُنّو اسی درخت کے نیچے کھیل رہا تھا کہ اس نے دیکھا ، داداجی کی قبر کی مٹی سے ایک چھوٹا سا پیپل کا پودا اُگا ہے۔ وہ دوڑتا ہوا اس جگہ پر گیا۔ اپنی طرح ایک دم معصوم سے پیپل کے چھوٹے چھوٹے پتّوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے دیر تک چھوکر دیکھتا رہا۔ تھوڑی مٹی لے کر پودے کی حدبندی کی اور پھر پاس کے تالاب سے تھوڑا سا پانی لاکر اس کی جڑوں میں ڈال دیا۔ بعد میں یہی اس کا معمول ہوگیا۔
کبھی شیخ رمضانی کی قبر بھلے ہی زمین کی سطح بن جائے لیکن جو پودا آج بہت تیزی سے آسمان کو چھونا چاہتا ہے اور جس کی جڑیں زمین میں نہ جانے کہاں تک پھیل جائیں گی کوئی نہیں جانتا۔ 3
***
Viewers: 3391
Share