Parvaiz Shehryar | Story | شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرّم

پرویز شہر یار ایڈیٹر،این سی ای آر ٹی ،نئی دہلی۔16 شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرّم کاشی ڈیہہ کے خلیفہ کو جب پے در پے تین بیٹیاں ہو گئیں […]

پرویز شہر یار
ایڈیٹر،این سی ای آر ٹی ،نئی دہلی۔16

شہر نو شیرواں کا ایک یادگار محرّم

کاشی ڈیہہ کے خلیفہ کو جب پے در پے تین بیٹیاں ہو گئیں تو کسی نے صلاح دی کہ اب کے بھابھی جان کا پاؤں بھاری ہو تو محرم کے موقع پر امام حسین کا نام لے کر محرم کے تعزیے سے گزار کے بیٹے کے لیے منت مانگ لیجے گا، اللہ نے چاہا تو بیٹا ہوگا۔
اللہ اللہ خیر سلّاکر کے وہ دن بھی آگیا جب خلیفن پورے پیٹ سے تھیں۔خلیفہ نے غایت درجے عقیدت کے ساتھ محرم کے سبز رنگ کے ساٹن کے لہراتے ہوئے طویل و عریض نشان کو اپنی دونوں آنکھوں سے لگایا اور منہ سے چوم کے بیٹے کی پیدائش کے لیے دعا مانگی۔پھر خلیفن کا ہاتھ پکڑ کے محرم کے عالیشان تعزیے کے نیچے سے تین مرتبہ گزار ا اور گلے میں پڑی سرخ اور سبز رنگ کی چمکیلی اور سنہری تاروں سے جھلملاتی بدھیاں اُتار کے ٹھنڈ ی کرنے کے لیے تعزیے کے محرابی دروازے کے اندر ڈال دیں۔اُس وقت خلیفن نے بھی امام ضامن کھول کے تعزیے میں ڈالتے وقت دل ہی دل میں چپکے سے منت مان لی تھی۔اب کہ جو اولاد ہوگی اُسے یا علی دولہا بناؤں گی۔محرم کے الاؤ میں اُسے آگ کے شعلوں پر چلاؤں گی۔خلیفن نے عقیدت کے جوش میں آکے یہ منت مان تو لی تھی لیکن ایک بار کو اُس کا دل تیزی سے دھڑکا ضرور تھا۔’’اگر ایسا نہ کر سکی تو۔۔۔ ‘‘۔پھر خلیفن نے شیطان کا وسوسہ سمجھ کے اْس خیال کواپنے ذہن سے جھٹک دیا تھا۔
محرم کے شور و غل اور ہنگامے سے الگ ،ایک طرف کنارے لاکر خلیفہ نے اپنی بیگم سے کہا، ’’جانتی ہو؟۔میں نے کیا مِنّت مانگی ہے ؟اب کے اگر ہماری اولاد نرینہ ہوئی تو اُسے محرم کے اکھاڑے میں تلوار بھانجنا سیکھاؤں گا‘‘۔
’’انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘خلیفن نے مستحکم ارادے اور پورے یقین کے ساتھ اظہار خیال کیا تھا۔
لیکن جب چوتھی بار بھی خلیفہ کے یہاں لڑکی ہی پیدا ہوئی تو اُن کے گھر اور محلے میں تمام اُداسی چھا گئی۔مگر خلیفہ اپنے اصول کے پکّے تھے۔ اُن کی چوتھی بیٹی شاہدہ جب دس برس کی ہوئی تو خلیفہ نے اس کے ہاتھوں میں تلوار تھما دی۔شاہدہ کی گرفت تلوار پر اتنی مضبوط تھی کہ اُسے دیکھ کے لوگ باگ دنگ رہ گئے۔پھر تو ایسا ہو گیا کہ جب بھی شاہدہ اپنی کمر میں ڈوپٹہ باندھ کرمحرم کے اکھاڑھے میں اُترتی تو پورا ماحول نعرۂ تکبیر اور نعرہ رسالت کی فلک شگاف آوازوں سے گونج اُٹھتا تھا۔ اُس کمسن لڑکی کے کھیل اور تیور کو دیکھنے کے لیے پورا مجمع اُمڈ پڑتا تھا۔ وہ جب تلوار بھانجنا شروع کرتی تو ایسا معلوم ہوتا گویا جھانسی کی رانی اپنے وطن کے دْشمن گورے فرنگیوں پر متواتر وار کر رہی ہو۔
ساکچی گول چکر پر سب ہی اکھاڑوں کا ملاپ ہوا کرتا تھا۔ الگ الگ محلّوں اور ٹولوں سے جلوس لے کر لوگوں کا ہجوم یہاں اکٹھا ہو جاتا تھا۔ عورتیں بچے اور گھر کے بزرگ افراد گھروں اور دکانوں کی چھت سے یہ ایمان افروز نظارہ دیکھتے اور عقیدت سے نعرہ تکبیر کے جواب میں بیک زبان ہوکراللہ اکبر کہتے تو آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہوئی اُن کی آواز سے سارا ماحول تھرّا اٹھتا تھا۔ گول چکر کے ارد گر د ایک ہی وقت میں کئی کئی اکھاڑے کھیلے جاتے تھے۔
شاہدہ جس اسکول میں پڑھتی تھی۔اُس اسکول کے سارے بچے شاہدہ کا کھیل دیکھنے کے لیے بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے سب سے اگلی صف میں آکے کھڑے ہو جاتے تھے اور بھلا کیوں نہ ہوتے اُن کا حق بنتا تھا۔ وہ نہ دیکھیں تو اسکول میں استاد کے پوچھنے پر پوری تفصیل سے شاہدہ کے کھیل کے بارے میں وہ کیسے بتاتے۔غرض یہ کہ محرم کے اس عشرے میں جگہ جگہ سبیلیں لگی رہتی تھیں۔ لڑکے بالے گلے میں رنگ برنگے بٹوے ڈالے جب کبھی چلتے چلتے منھ سوکھ جاتااور پیاس لگتی تو کربلا کے میدان میں امام حسین اور ان کے قافلے کو یاد کرتے کہ یزید ملعون نے اُنھیں کیسے بھوکا پیاسا رکھا ہوگا۔ یہ سوچتے ہی اُن کے دل میں خیال آتا۔کاش !ہم وہاں ہوتے تو یزید اور اُس کی فوج کو وہ مزہ چکھا تے کہ وہ یاد رکھتا۔ اپنی سوچ ہی سوچ میں وہ اُس نافر ما ن سے انتقام لیتے اور بٹوے سے کبھی کٹے ہوئے ناریل اور خرمہ اور کبھی کوٹی ہوا ملیدہ نکال کے کھاتے اور بھیڑ کو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ہٹا تے ہوئے سبیل سے جاکر شربت پی آتے۔اس طرح بچے بالے بھی بڑوں کے ساتھ کئی کئی کوس تک پا پیادہ جلوس میں چلتے چلاتے ساکچی گول چکر پر آ کے دم لیتے تھے۔
وقفے وقفے سے بچوں کے بھی اکھاڑے ہوتے جن میں زیادہ تربچے نو لاٹھیاں کھیلتے تھے۔ بعض لوگ اسے گوال لاٹھی بھی کہتے تھے۔ اس کھیل میں ایک کھیلاڑی بیچ میں ہوتا تھا جس پر آٹھ مختلف سمتوں سے حملے کیے جاتے تھے۔ اور بیچ کا کھلاڑی درد سے بلبلا اُٹھتا تھا لیکن کھیل کا اصول تھا کہ اُسے میدان میں ڈٹے رہنا پڑتا تھا۔ لاٹھیاں بھی ایسی تھیں کہ چھوٹا ناگپور کے آدی باسی پہاڑیوں پر سے بانس کاٹ کر لاتے تھے۔لاٹھیاں خریدنے کے بعد مہینوں اُنھیں سرسوں کا تیل پلایا جاتا تھا۔یہ سب تیل پلی لاٹھیاں خلیفہ کے گھر کے نزدیک اکھاڑے میں رکھی جاتی تھیں۔
تین دن تو بقر عید رہتی،چوتھے دن سے محرّم کے اکھاڑے کی مشقیں شروع ہو جا تی تھیں۔ ڈھول ،نگاڑے اور تاشے بجنے شروع ہو جاتے تھے۔ شام ہوتے ہی بعد نماز مغرب خلیفہ اکھاڑے میں آکر لِپے پوتے ہوئے مٹی کے چبوترے کے ایک طرف کونے میں لوبان اور اگر بتی جلاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر امام حسین کے نام کی فاتحہ پڑھتے اور اپنے اکھاڑے کی کامیابی کے لیے دْعا مانگا کرتے تھے۔ محلے ٹولے کے پڑھنے لکھنے والے لڑکے بھی ایک عقیدت کے تحت اس طرف کھینچے آتے تھے۔ چھوٹے بچے تو شام ہی سے جمگھٹالگانے لگتے تھے لیکن سیانے کچھ دیر سے ہی پہنچتے تھے۔ پڑھنے لکھنے اور کھانے پینے سے فارغ ہو کر دیر رات تک وہ اکھاڑے کے پینترے سیکھتے رہتے تھے۔ محرم کے دوران خلیفہ کی بڑی آؤ بھگت ہوتی تھی۔ وہ بڑے چاؤ سے ہر ایک کولاٹھی چلانے اور تلوار بھانجنے کے داؤ پیچ سیکھاتے رہتے تھے۔ اُن کی نگاہ ایسی تیز تھی کہ بچوں میں دیکھتے ہی وہ بھانپ لیتے تھے کہ فلاں لڑکااکھاڑے کی ضرور شان بڑھائے گا۔ عموماًگاؤں سے آنے والے لڑکے بہتر لاٹھیاں چلاتے تھے۔
ہر ایک محلے والے تعزیے داری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی ہوڑ میں لگے رہتے تھے۔ یہ ہر سال کا قصہ تھا۔ ساکچی گول چکر پر جب سال کے بہترین تعزییکے بارے میں لاؤڈاسپیکر پر اعلان ہوتا تو سب عش عش کرتے رہ جاتے تھے۔ پھر اگلے محرم تک اُسی کی بات ہوتی تھی اورسبھوں پر اُس محلے کی دھاک جم جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر ایک محلے کی مسجد اور مدرسے کے صحنوں میں بقرعید کے بعد سے ہی تازیہ بنانے کے لیے بانس کی قمنچیاں چھلنی شروع ہوجاتی تھیں۔ رنگ برنگے کریپ اور پتنگوں کے پتلے کا غذ وں کی مدد سے تعزییداری کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی تھیں۔ کلکتے اور لکھنو سے کاریگر بلائے جاتے اور ان کی ہدایت کے مطابق خلیفہ کی نگرانی میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ اِس کام کا آغاز ہو تا تھا۔ پنواڑی اور پرچون کی دُکانوں میں رنگ رنگ کے بٹوے اور سجی دھجی بدھیاں نظرآنے لگتی تھیں۔ہر چند کہ یہ غمی کا تہوار تھا لیکن محرم کی گہما گہمی میں یہ احساس کچھ دب سا جاتا تھا مگر بڑے بزرگ پوری سنجیدگی سے ان سرگرمیوں میں حصّہ لیتے تھے۔
شیعہ حضرات کے چہروں پر البتہ غم کے یہ اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ان کے گھر میں کسی ایک مقام پر اجتماع ہوتا تھا۔دن بھرسستی اور غمی سی طاری رہتی تھی شام ہوتے ہی مغرب کی نماز کے بعد وعظ اور گریہ وزاری کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔خاک صفا پر نمازیں ادا کی جاتیں اور حضرت علی ،بی بی فاطمہ،امام حسن اور امام حسین کے طغرے دیواروں پر آویزاں کیے جاتے۔ دلدل اور پنجہ شریف والی تصویریں لگائی جاتیں اور ایسے ماحول میں ماتم داری کی جاتی اور سوگ منائے جاتے تھے۔محرم کی نویں اور دسویں شبوں میں اس قدر سینہ کوبی کی جاتی کہ خون کے فوارے اُبل پڑتے تھے۔’’ہائے افسوس یا حسین وہاں ہم نہ ہوئے۔‘‘ہر ایک شخص کی زبان پر یہی فقرہ رواں ہوتا تھا۔
جب ان کے جلوس نکلتے تو ان میں دُلدل بھی ساتھ ساتھ چلتا تھا۔اس پر خوبصورت گوٹے پٹے لگا ہوا کپڑے کا زین پوش چڑھا ہوتا تھا۔اس زین پوش پر جابجا تمام تیر لٹک رہی ہوتی تھی جو یزید کی فوج نے اُن پر چلائی تھیں۔دلدل کے اوپر پنجہ شریف بھی نصب کیا جاتا تھا۔امام حسین کی یاد میں اہل تشیّع جلوس نکالتے اور زنجیر ی ماتم کرتے تھے۔ساکچی گول چکّر پر اُن کا مجموعی طور پر ایک جلوس ہوا کرتا تھا جس میں شہر بھر کے شیعہ حضرات شرکت کرتے تھے۔اس روح فرسا دینے والا منظر دیکھنے کے لیے اہل ہنودبھی وہاں آجایا کرتے تھے۔
البتہ سنیّوں کے مختلف محلوں سے الگ الگ جلوس آکر آپس میں یہاں مل جاتے تھے۔ ان میں ایک تورانی کوٗ در، دھتکی ڈیہہ اور جُگسلائی وغیرہ کے جلوس کھڑکھائی ندی میں اپنے اپنے تعزیے ٹھنڈے کرتے تھے۔دوسرے کھڑنگا جھاڑ ٹیلکو اور آزادبستی والے بھی گول چکرپر نہیں آپاتے تھے۔لیکن گول موری،بھالو باشہ ،کاشی ڈیہہ اور ندّی پار کی نئی آبادی مُنشی محلہ ،آزاد نگر اور باون گھوڑا کے جلوس کا مِلن اِسی ساکچی گول چکر پر ہوتا تھا اور جب دو اکھاڑے آپس میں تیزی سے دوڑ تے ہوئے آکے ملتے تو ایک بڑا گھمسان کامنظر ہوتا تھا نعرے تکبیر کی مسلسل گونج فضا میں میدانِ جنگ سا جوش بھر دیتی تھی۔لاٹھیوں ،بھالے اور برچھوں کے آپس میں ٹکرانے سے اس قدر ہنگامہ ہوتا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔غروبِ آفتاب سے کچھ پہلے ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی میں انسانوں کے سروں کے اوپر چمکتے ہوئے بھالے اور گڈانسے ،لہراتی ہوئی برچھیوں اور تلواروں سے ناظرین کے دل دَہلنے لگتے تھے۔معلوم ہوتا تھا گویا متحرک انسانی ہجوم کا ایک سیلاب ہے ،پانیوں کا ریلا ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ساکچی گول چکر کے بھنور کے گرد امڈ اچلا آتا ہے۔اگر کسی کی چپل گر جائے تو وہ اٹھا نہیں سکتا ہے۔کوئی اپنوں سے بچھڑجائے تو وہ انسانوں کی اس جم غفیر میں کہاں گم ہوجائے گا پتہ نہیں چلتا تھا۔ایسے نفسی نفسی کے عالم میں لوگ ایک دوسرے کا مضبوطی سے ہاتھ تھامے ایک چین بنا کے گھومتے تھے۔بڑوں نے بچوں کو اپنے کندھوں اور سروں پر بیٹھا رکھا تھا۔اُن دنوں اتنی دُھول دھپّا اور گردو غبار بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔جمشید پور بہت ہی صاف ستھرا شہر تھا۔ ہر روز سڑکوں کی صفائی ہوا کرتی تھی۔
کہتے ہیں کہ اس شہر کو جمشید جی نو شیرواں جی ٹاٹا نے بڑے چاؤ سے بسایاتھا۔اسے نہ صرف ریاست بہار کا بلکہ پورے ایشیا کا سب سے خوب صورت شہر ایسے ہی نہیں تسلیم کیا جاتا تھا۔اس کی خوبصورتی واقعی قابل دید تھی۔ٹاٹا نے کشمیر کے شالیمار اور نشاط باغ کے طرزپر جبلی پارک بنوایا تھا۔پھولوں کے جا بجا تختے ،شام ہوتے ہی رنگین پانیوں کے جھرنے ،زینہ بہ زینہ نشیب کی طرف قل قل چھل چھل کرتا ہوا پانیوں کا بہاؤ ،گلاب باغ سے ہو کر سبک روی سے تالاب میں کھلے ہوئے خوش رنگ کنولوں کے نیچے جا کر روپوش ہو جاتا تھا۔تالاب کا زائد پانی ذرا سے فاصلے پرجا کے سدا بہار سورن ریکھا ندی میں چپکے سے اُتر جاتا تھا کہتے ہیں کہ ندّی کے کنارے پڑی ہوئی ریت پر سونے کے ذرّات ایک ریکھا سی کھینچ دیتے تھے۔جنھیں نیم لباس آدی باسی سیاہ فام عورتیں بانس سے بنے سوپ میں اْٹھا کر جھاڑ پھٹک کر اُن میں سے سونے کے ذرات الگ کر لیتی تھیں۔اسی مناسبت سے اس ندّی کا نام سورن ریکھا پڑ گیا تھا یعنی سونے کی لکیروں والی ندی۔ اسی سورن ریکھا ندی کے کنارے جمشید جی نوشیرواں نے اس خوبصورت شہر کی 1907میں داغ بیل ڈالی تھی۔ جدید تکنیک کو بروئے کار لاکر بسٹو پور میں بمبئی کے طر ز پر سڑکیں اور بڑی بڑی عالیشان دُکانیں ،شو روم بنوائی گئی تھیں۔رات میں یہ شہر روشنی میں اس قدر جھلملااُٹھتاتھا کہ اسے بلاد شہر کہنا چنداں مبالغہ نہ ہوگا۔1962میں چین اور 1965میں پاکستانی افواج نے جب ملک پر حملہ کیا اور اس شہر پر ہوائی حملے اور بمباری کے خطرات منڈلانے لگے تو روشنیوں کے اس شہر کو تارو تاریک کر کے رات کے وقت دلمہ پہاڑ کے کوہستانی سلسلے کو روشن کر دیا جاتا تھا، مبادا دشمن اگر حملہ کرے بھی تو پہاڑوں کو اپنا ہدف بنائے اور اس خوبصورت شہر کو مسمار ہونے سے بچا یا جا سکے۔
مگر اب یہ شہر بوڑھا ہو چکا تھا۔لوگ باگ بھی تھک چکے تھے۔ٹاٹا کمپنی میں سخت پہروں کے با وجودروزانہ لاکھوں روپے کی چوریاں ہونے لگی تھیں۔یہ کون لوگ تھے۔یہ کب اور کیسے اس شہر میں اپنے قدم جمانے لگے تھے۔غنڈوں اور لپاڑوں نے کیوں کر یہاں اپنے اڈّے بنالیے تھے۔یہ کسی کی سمجھ میں نہ آتا تھا۔آئے دن جرائم پیشہ افراد دولت کے لالچ میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے لگے تھے۔بڑے بڑے لینڈ مافیا اور کول مافیا رونما ہونے لگے تھے۔ایک افرا تفری کا ماحول تھا۔بالا جی دیورس کی آمد اور گاندھی میدان میں اس کی تقریر سے سیاسی فضا زہر آلود ہو چکی تھی۔
عام لوگوں کی زندگی میں بھی اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہ گئی تھی۔لوگ اپنی پریشانیوں سے جتنے دکھی نہیں تھے اس سے کہیں زیادہ دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں سے دُکھی ہوئے جاتے تھے۔سڑک پر چلتے ہوئے راہ گیروں میں قوتِ برداشت و تحمل صفر ہو چکی تھی۔طبقہ اشرافیہ ہو کہ ناخواندہ بستی کے لوگ سبھی بے رحم ہو چکے تھے۔بزرگ کہتے تھے جب سے پاکستان سے رفیوجی آئے تبھی سے اس شہر کا امن چین غارت ہوگیا تھا۔1964میں ٹرین کی بوگیوں میں پاکستان سے رفیوجی آئے تو اسٹیشن پر اُن زخمیوں کے کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں دیکھ کر لوگوں کا خون کھول اْٹھا اور پورے شہر میں ہندوؤں نے اْنماد میں آکر نہتھے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دی تھیں۔وہ دن ہے اور آج کا دن ،لوگ خوف کے سائے میں جیتے تھے۔ اجنبیوں کو اب لوگ باگ دروازے پر ہی روک دیتے تھے۔نوواردوں سے یہاں کے باشندے ڈرنے لگے تھے۔باہر سے آنے والا ہر شخص یہاں کے مقامی آدی باسیوں کے استحصال کی تاک میں رہتا تھا۔کہتے ہیں ۔
اِدھر خلیفہ کو بھی ایک فکر اندرہی اندر کھائے جا رہی تھی۔گذشتہ کئی برسوں سے کاشی ڈیہہ کے اس اکھاڑے کو نمبر ایک کا خطاب ملتا آیاتھا۔لیکن پچھلی بار سورن ریکھا ندی کے اُس پار نئی بستی باون گھوڑا کے نام نہاد خلیفہ رسول مستری نے کھلے عام چیلنج کر دیا تھا۔بات صرف اتنی سی تھی کہ خلیفہ کی بیٹی شاہدہ نے محرم کی نویں شب کو ساکچی گول چکر کے اکھاڑے میں رسول مستری کے لڑکے اسرائیل کو تلوار کے کھیل میں شکست فاش دے دی تھی۔تبھی سے اْس نے اپنے دل میں معاندت پال رکھی تھی۔وہ بڑا ہی کینہ توش قسم کا آدمی تھا۔محلّے کے سبھی لوگ اس سے نالاں تھے۔اسے کسی بیوہ محتاج کا مکان ہڑپنا ہو تو اوجھا بُلاکر اس کے ڈائن ہونے کا اعلان کروا دیتا تھا۔بدکردار اور بدقماش قسم کے لوگوں کی منڈلی بے سہارا عورت کو مار پیٹ کے محلہ بدر کر دیا کرتی تھی۔اُس کے بعد رسول مستری کی چاندی ہو جاتی تھی۔وہ کسی کی بھی بہو بیٹی کوبد چلن قرار دے کر اپنی خودساختہ پنچایت میں معصوم بے ضرر لوگوں کو تاوان دینے کے لیے مجبور کر دیتا تھا۔اُس کے خلاف کوئی آواز بلندکرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔دو پڑوسیوں کے درمیان یہ اپنے فتنہ سے تفرقہ د پیدا کردیتا تھا۔اُنھیں آپس میں بھِڑا دیتا اور پھر اُن کے فیصلے بھی خود اپنے مفاد میں کرتا تھا۔اگرکوئی نوجوان اس کے خلاف احتجاج کرتاتو اُس پر اپنی ہی بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کا الزام لگا کر گواہوں کی موجودگی میں اتنے کوڑے لگواتا تھا کہ کوئی دوسرا اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی ہمت نہ جُٹا سکے۔اُس سے آج تک کسی نے حساب نہیں مانگا تھا۔وہ جبراًمحرم کے تعزیے ،سبیل اور لنگر کے لیے چندے وصول کرتا تھا۔جو کوئی منع کرنے کی جرأت کرتا اسے کسی نہ کسی بہانے سے تنگ کرتااوران کے گھر پر غنڈے لپاڑے بھیج کر انھیں ذلیل وخوار کرنے کی کوشش کرتا تھا۔اسے مذہبی امور میں دخل در معقولات کا بڑا زعم تھا۔بزرگ کہتے تھے کہ نام کا بڑا اثر پڑتا ہے لیکن وہ اسم با مسمی نہیں تھا ۔اس پر تو گویا نام کا برعکس اثر پڑا تھا صحیح معنوں میں وہ اپنے نام کا ضد تھا۔وہ واقعتاً شیطان الر جیم تھا۔ایک دفعہ کسی نے محرم کا چندہ دینے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ میں اہل حدیث ہوں اور محرم منانا ہمارے یہاں حرام سمجھا جاتا ہے۔اس پر اس شیطان نے پورے محلے میں اس کا حقہ پانی بند کروا دیا تھا۔
ہر سال وہ اجمیر شریف کی درگاہ میں حاضری دینے کی غرض سے جاتا تھا مگر خدا جانے کیوں اس پر درگاہ شریف کی حاضری کا بھی فیض نہیں پہنچ رہا تھا۔کہتے ہیں کہ اللہ ایسے لوگوں کی رسّی میں ڈھیل دے دیتا ہے۔کچھ ایسا ہی معاملہ تھا اس کے ساتھ کہ ہر سال وہ عید میلادالنبی کا جلسہ بھی کرواتا تھا۔وہ ایسے سبھی عوامی تقریبات میں دخل اندازی کرتا جن سے اسے عوام سے چندے وصولنے کا موقع مل جائے۔اُس نے کسی ناجائز زمین پر ایک مسجد بھی تعمیر کروارکھی تھی۔لیکن کوئی بھی پیش امام اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔رسول مستری نِرا نگوٹھا ٹیک تھا۔ اپنے حصول معاش کے لیے وہ راج مستری کاکام کرتا تھا ۔وہ اپنی خود ساختہ کمیٹی کا صدر تھا۔عالموں اور فاضلوں کو اپنے آگے کچھ نہیں سمجھتا تھا۔ایک دفعہ ایسا واقعہ ہوا کہ کسی دوسرے محلے سے ایک تبلیغی جماعت نے آکر اس مسجد میں4 2گھنٹے کا قیام کر لیا۔مسجد کے امام نے رسول مستری کی اجازت لیے بغیر اُنھیں عارضی قیام و پیغامِ حق کی اجازت دے دی تھی۔دوسرے ہی دن مسجد کے امام کو اْنھیں مقررہ وقت سے پہلے چلتا کرنا پڑا اور وہ بچارے دن بھر کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر مسجد کا فرش دْھوتے دْھوتے بیمار پڑ گئے۔لیکن رسول مستری کو اُن پر ترس نہیں آیا۔رسول مستری کا کہنا تھا کہ تبلیغوں کی آمد او رقیام سے مسجد ناپاک ہو جاتی ہے۔چنانچہ ،ایسے میں کم از کم سات بارمسجد کو دھونا واجب ہو جاتا ہے۔
یوں تو اس شیطان الرجیم کے مظالم کے لامتناہی واقعات تھے جِسے سُن کے لوگوں کے دلوں میں غم و غصّے کی لہر دوڑ جایا کرتی تھی۔لیکن اُس ناہنجار نے اس بار شاہدہ کے باپ اور اپنے ہم منصب کاشی ڈیہہ کے خلیفہ پر نشانہ سادھ رکھا تھا جس کی فکر خلیفہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔
شاہدہ اس برس پندرہ سال کی ہوگئی تھی۔وہ اپنے تلوار کے فن میں طاق تھی ۔اب اس علاقے میں کوئی اس کا ثانی نہیں تھا۔گذشتہ برس اُس نے رسول مستری کے بیٹے اسرائیل کو محرم کے بھرے مجمع میں بُری طرح شکست دی تھی۔وہ زخمی بھیڑیے کی طرح بدلے کی آگ میں اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔رسول مستری اس شکست کو اپنے بیٹے کی نہیں بلکہ خود اپنی شکست محسوس کر رہا تھا۔شمالی ہندوستان میں عام طور سے سندھیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ایک طرف سانپ ہو دوسری طرف سندھی تو پہلے سندھی سے نمٹنا چاہیے بعد میں سانپ سے کیونکہ سانپ سے تو آپ بچ بھی سکتے ہیں مگر سندھی سے نہیں بچ سکتے۔اس قول میں کہاں تک صداقت تھی یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرا سندھیوں سے کبھی کوئی معاملہ پیش نہیں آیا تھا۔البتہ یہ قول رسول مستری پر ضرور صادق آتا تھا۔دراصل ،وہ بہت ہی کمینہ اور لچر قسم کا آدمی تھا۔ وہ اپنے فائدے کے لیے کمینگی کی کسی بھی حد کو لانگ سکتا تھا۔
اِدھر شاہدہ کی تینوں بڑی بہنوں کی خلیفہ نے بہت پہلے ہی شادی کر دی تھی اور وہ سب اپنی اپنی سسرال میں خوش تھیں۔سب سے بڑی بہن عائشہ اسکول میں ٹیچر تھی۔منجھلی بہن آمنہ اور سنجھلی زاہدہ اپنی اپنی گھر گرہستیوں میں مصروف تھیں۔لیکن شاہدہ میٹرک کے امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔دوسرے وہ ابھی اپنی بالی عمر میں تھی۔شاہدہ کی ماںیعنی خلیفن کی خواہش تھی کہ وہ اٹھارہ سال کی ہو جائے تبھی اسے الاؤ میں اُترنا چاہیے۔خلیفہ کو اس کے لڑکی ذات ہونے کا بھی خیال تھا۔مذہبی اور سماجی پابندیوں کے بھنور میں پھنسے خلیفہ کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔مرد کی بات اور ہوتی ہے۔
جب خلیفہ جوان تھے۔انھوں نے بھی حضرت علی کے نام پر شیر بننے کی منتیں پوری کی تھیں۔جسم پر چیتے کی طرح زرداورسیاہ دھاریاں بنوائی تھیں۔سر پر شیر کی کھال سے بنی ٹوپی اور چہرے پر مونچھیں چھپکا کے وہ بھی شیر علی بنے تھے۔انھوں نے بھی الاؤ پر ننگے پاؤں چل کے اپنی والدہ کی منّت پوری کی تھی۔بلکہ کئی برسوں تک یہ منّت پوری کرتے رہے تھے۔محرم کے پہلے عشرے میں گھر گھر جا کے حضرت علی کے نام پر جب وہ ہاتھوں میں ہرن کی سینگ لے کے ناچتے تھے تو دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔خوشی سے کوئی نوٹوں کا نذرانہ دیتا تو وہ ناچتے ناچتے منہ میں پکڑ لیا کرتے تھے۔بچے البتہ ڈر سے ماؤں کے پیچھے دُبک جا یا کرتے تھے۔ ہاں!گرمی کے دنوں میں البتہ جب پینٹ سوکھنے لگتا تو جلد کی حالت ناگفتہ بہ ہو جاتی تھی، ویسے میں لوگ بالٹی بھر بھر کے پانی لاتے اور اُن پر ڈال دیا کرتے تھے۔
اچانک ،شاہدہ کا جب اْنھیں خیال آتا تو وہ سہم سے جاتے ایک تو وہ لڑکی ہے۔خدا جانے اُس کی قسمت میں کیالکھا ہے۔لیکن وہ جانتے تھے کہ قرآن کریم میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔’’نا امیدی کفر ہے۔‘‘اس خیال کے آتے ہی اُن کی کسی قدر رنجش دور ہو جاتی اور حوصلہ بندھ جاتا تھا۔
آج محرم کی دسویں تاریخ تھی۔صبح کے دس بج چکے تھے۔ابھی سے شام کی تیاریاں شروع ہو گئی تھیں۔بڑے بڑے دیگوں میں لنگر کے لیے کھچڑا پکانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔بچے اور جوان سبھی اپنی لاٹھی ،برچھی،گڈانسے ،بانا،گدکا اور تلوار چمکانے میں جُٹے تھے۔بچے اور بچیاں لال اور ہری کاغذی ٹوپیاں لیے امام حسن اور امام حسین کی یاد میں صبح ہی سے اِدھر اُدھر دور بھاگ رہے تھے۔کوئی اپنے بٹوئے کے کھول بند کرنے والے دھاگے درست کروا رہا تھا تو کوئی اُن میں کٹے ہوئے میوے اور ملیدے بھروا رہا تھا۔کوئی اپنی اُلجھی ہوئی بدھیاں بیٹھ کے سلجھانے میں منہمک تھا۔
محرم کی نویں شب دیررات تک اکھاڑے میں کھیلتے رہنے کی وجہ سے کھلاڑی تھک کر چور ہو گئے تھے۔لیکن آج آخری اکھاڑا تھا۔اس لیے بچے ،بالے،پیرو جوان سبھی کے حوصلے بلند تھے۔کل گئی رات کسی کے چوٹ لگی تھی۔ وہ سر پر سفید پٹی باندھے گھوم رہا تھا۔ویسے بھی گوٹے لگی ہری لال پٹیاں سبھوں نے کل رات اپنے سروں پر باندھ رکھی تھیں۔آج بھی اُن پر استری کر کے اْنھیں ٹھیک بنایا جا رہا تھا۔ان پٹیوں پر کسی میں اللہ محمد سلمی ستاروں سے لکھا ہوا تھا تو کسی کسی پر کلمہ توحید تحریر کیا ہوا تھا۔کسی پر یا علی اور کسی کسی پر یا حسن یا حسین لکھا ہوا تھا۔رات کے وقت جب ان پر پیٹرومیکس کی روشنی کی پڑتی تو وہ جھلملا اٹھتی تھیں۔
رات میں جب جلوس نکلتا تھا تو جلوس کے دونوں اطراف میں آدی باسی عورتیں اپنے سروں پر پیٹرو میکس لیے قطار درقطاربھیڑکے ساتھ چلتی رہتی تھیں۔چنانچہ ایسی عورتیں پیٹرومیکس کے شیشوں کو مٹی کے چولہوں سے لکڑی اور کوئلوں کی راکھ لے کر صاف کر رہی تھیں۔پیتل کیپیٹرومیکس کی ٹنکی کو چمکانے کے بعد ہر ایک پیٹرومیکس کے جلے ہوئے مینٹل ہٹا کر نئے مینٹل لگائے جارہے تھے۔ان میں کیروسین تیل بھرے جارہے تھے۔ڈھول ،تاشے اور نگاڑے والے اُن کی بندھنی کی رسیاّں کھینچ تان کر کے اُنھیں درست کرنے کے بعد دھوپ دکھانے کے لیے محفوظ جگہوں پر رکھ رہے تھے۔
کاشی ڈیہہ کے اکھاڑے کے چبوترے کے ساتھ سب سے بڑا نشان اور اس کے ساتھ رکھے چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے ساٹن کے نشانات ہوا میں لہرا رہے تھے۔اُن میں گوٹے کناری لگے ہوئے تھے اور سب سے بڑے ہرے رنگ کے نشان پر کچھ زیادہ ہی بڑا سا ہلال بنا ہوا تھا جس کے کچھ ہی اوپر ایک پانچ کونے والا سنہرے رنگ کا ستارہ چمک رہا تھا۔سیاہ مخمل کے بینر کو بھی دھوپ دکھائی جا رہی تھی اس پر سنہرے اور پیلے افشاں برادوں سے جلی حروف میں ’’کاشی ڈیہہ کا اکھاڑا‘‘لکھا ہوا تھا۔اس بینر کو جلوس میں سب سے آگے رکھا جاتا تھا جسے دو لوگ پکڑکے آگے آگے چلتے تھے۔خلیفہ نے اُنھیں خود اپنی نگرانی میں تیار کروایا تھا۔اس کے چاروں کونوں میں یا علی ، یا فاطمہ ، یا حسن اور یا حسین لکھا ہوا تھا اور پیشانی پر86 7 بسملہ کا ہندسہ لکھا ہوا تھا۔خلیفہ کا عقیدہ تھا کہ رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔2 1 وفات اللہ کے رسول کا لیکن محرم میں امام حسین کی شہادت کے ساتھ ساتھ مرتضی علی ،بی بی فاطمہ اور حسن علیہ السلام کو بھی خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے کیونکہ شہدائے کربلا میں ان سبھوں کا خون شامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے نام کی فاتحہ خوانی ہوتی ہے۔مرثیے اور نوحہ خوانی کی جاتی ہے۔ان کے علاوہ ان 72 نہتھے افراد کو بھی خراج عقیدتپیش کرنا چاہیے جنھیں ہم اہل بیت کے نام سے جانتے ہیں۔جنھوں نے اپنے جان ومال کی پرواہ کیے بغیر اسلام کو اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا۔ مذہب اسلام کی آبیاری کی تھی۔ ورنہ یزید ملعون کے ہاتھوں اسلام کا شیرازہ نعوذ بااللہ کب کابکھر چکا ہوتا۔آج ہم مسلمان ہیں تو اْنھیں شہدائے کربلا کی وجہ سے ہیں اور اْن ہی کے دم سے سارے عالم میں اسلام کا ڈنکا بج رہا ہے۔
آج جیسے جیسے دن چڑ ھ رہا تھا۔گہما گہمی بڑھتی جا رہی تھی۔ظہر کے نماز کے بعد ہی ڈنکے اور تاشے بجنے شروع ہوگئے تھے۔عصر کے وقت جلوس کو روانہ ہونا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے عصر کا وقت بھی ہو گیا۔لنگر اور سبیلوں پر بھیڑ ہونے لگی۔رکشے پر لاؤڈسپیکر لے کر بچے جوان سب ہی گانے لگے
رو رو کے کہتی تھیں سکینہ
ظالمو! میرا گوہر نہ چھینو
بچے گلی محلے میں زور زورسے چلّا رہے تھے۔’’کربلا دور ہے جانا ضرورہے‘‘کربلا دور ہے ،جانا ضرور ہے۔‘‘ چھوٹے بچوں نے کاٹھ کی اور پلاسٹک کی تلواریں لی ہوئی تھیں۔جِسے دیکھو آج تیور ہی کچھ اور تھا۔تلواریں لڑی جا رہی ہیں۔لڑکیاں بھی گڑیا اور گھروندا کے کھیل چھوڑ کے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار تھیں۔آج ان کا سب سے بڑا دشمن یزید تھا۔بڑے بھی مائک پر نعرے بلند کر رہے تھے۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
مغرب کا وقت ہوتے ہوتے کربلا جانے والوں کا قافلہ ساکچی گول چکّر پر پہنچ چکا تھا۔تمام نشانات اور تعزیے سنبھال کر آگے بڑھائے جا رہے تھے۔ جہاں کہیں کوئی درخت یا بجلی کا کھمبا آتا وہاں نشانوں کو کئی لوگ مل کر پوری احتیاط کے ساتھ جھکادیتے اور بجلی کے تاروں سے بچا کر آگے محفوظ جگہ پر کھڑا کر دیتے تھے۔آسمان سے باتیں کرتے ہوئے کاغذی بُرج اور گنبدوں والے تعزیے بھی کہاروں کے کاندھوں پر بڑے احتیاط کے ساتھ دھیرے دھیرے آگے بڑھائے جا رہے تھے۔عورتیں اور بچیاں ان میں اپنے گلے کی بدھیاں اُتار اُتار کر ڈال رہی تھیں۔ان کے اندر سے گذرنے والوں کی اور منّت مانگنے والوں کی بھی لام لگی ہوئی تھی۔کوئی بھی موقع چوکنا نہیں چاہتا تھا اور جیسے ہی ذرا سا موقع ملتا اس کے نیچے سے گزرنے کے بعد فاتحہ خوانی میں مصروف ہوجاتا تھا۔ناخواندہ لوگ مولوی صاحب کو الانچی دانے ، بتاشے اور چراغی کے پانچ آنے دے کر فاتحہ پڑھوا رہے تھے۔غرض یہ کہ ایک گہماگہمی کا ماحول تھا۔مراثی الگ مرثیہ خوانی اور نوحہ گری میں مشغو ل تھے۔ہر طرف گریہ و زاری کا ماحول بنا ہوا تھا۔فضا میں مختلف نوع کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ جس سے دل پر عجیب سے رقّت طاری ہو گئی تھی۔تڑا تڑکہیں لاٹھیاں بج رہی تھیں تو کہیں تلواریں اور برچھیاں فضا میں چمک رہی تھیں۔
ایسے میں سورن ریکھا ندی کے اْس پار سے آنے والے باون گھوڑے کے اکھاڑے کا مِلن ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے پانی پت کے میدان میں دو فوجیں آپس میں بھڑ گئی ہوں۔زور زور سے لاٹھیاں بجنے لگیں۔ٹھن ٹھن تلواروں اور گڈانسوں کے ٹکرانے سے آواز یں پیدا ہونے لگیں نعرۂ تکبیر اور اللہ اکبر کی گونج سے آسمان تھرا اُٹھا تھا۔لوگ باگ گرتے پڑتے ایک دوسرے پر چڑھے چلے آرہے تھے۔ڈھول تاشے اور نگاڑے پورے ہی زور و شور سے بج رہے تھے۔دھول دھپوں کا ایک ایسا مرغولہ اُٹھا کہ چاروں طرف اندھیرا سا چھا گیا۔تبھی ایک ایسا دہشت ناک واقعہ پیش آگیا کہ خوف سے پورا ماحول تھرّا اُٹھا۔
باون گھوڑا کے خلیفہ نے جوں ہی کاشی ڈیہہ کے خلیفہ سے مصافحہ کرنے کے بعدمعانقہ کیا، اچانک سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔کسی نے خلیفہ کو پیچھے سے پیٹھ میں چھورا پیوست کر دیا تھا۔چشم زدن میں خون کا فواّرہ اُبل پڑا۔ایک بھگ دھڑ سی مچ گئی۔اس قدر شوروغوغا مچا کہ آناًفاناً میں کہرام مچ گیا۔ جِسے دیکھو دیوانہ وار بھاگتا جا رہا تھا۔ماحول ویسے ہی سوگوار تھا۔ اس پر اِس حادثے سے بالکل ماتمی سناّٹا چھا گیاہر طرف سراسیمگی چھائی ہوئی تھی۔
خلیفہ کو کسی نے چھورا گھونپ دیا تھا۔ لیکن خلیفہ کو کس نے چھورا گھونپا ،اس کا بالکل بھی پتہ نہیں چلا۔اسپتال میں جب ان کی آنکھ کھلی تو وہ ایک ہی جملہ بار بار دہرارہے تھے۔تھا’’میری بیٹی شاہدہ کہاں ہے؟‘‘اور یہ جملہ ایک ایسا سوال تھا کہ جس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔آپس میں چیے میگویاں شروع ہو گئیں۔جتنے منھ اتنی باتیں ہو رہی تھیں۔رات بھر شاہدہ کو تلاش کیا جاتا رہا تھا لیکن کہیں اس کا پتہ نہ تھا۔شاہدہ اکھاڑے سے اْٹھا لی گئی تھی۔
کوئی کہتا ،’’شاہدہ کو میں نے کربلا کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تھا۔جب لوگوں کا ریلا اْس طرف کو بھاگ رہا تھا ‘‘۔کوئی کہتا،’’ ہم نے اْسے تعزیے کے ساتھ کربلا میں فاتحہ پڑھتے ہوئے دیکھا تھا‘‘۔کوئی کہتا تھا کہ’’ کربلا میں تعزیے اور نشان ٹھنڈ ا کرنے کے بعد کچھ نوجوان ہوٹل میں بیٹھے نہاری کے ساتھ ساتھ شراب بھی پی رہے تھے۔ان ہی بدمعاشوں نے اسے اِغوا کیا ہوگا۔‘‘کوئی کہتا تھا کہ’’ وہ بہت بہادر اور دلیر لڑکی تھی۔ وہ ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی کہ کوئی اس کا اپہرن کر سکے۔‘‘ قصّہ مختصر یہ کہ شاہدہ کا اس رات کے بعد سے کوئی پتہ نہ تھا۔شاہدہ کی ماں کا رو رو کے برا حال ہوگیا اور خلیفہ کو تو اس کا اتنا شدیدصدمہ پہنچا کہ اپنی چہیتی بیٹی کے اس غم میں ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تھی۔
پولیس تحقیقات میں لگی ہوئی تھی ۔
اگلے روز سورن ریکھا ندی کی باندھ سے باون گھوڑا کے خلیفہ کے بیٹے اسرائیل کی لاش برآمد ہوئی۔اس پھولی ہوئی لاش کے جسم پر تلوار سے جا بجا وار کیے گئے تھے۔اس پُر اِسرار موت کی خبر نے پورے شہر کو سناّٹے میں لے لیا تھا۔ہر طرف ایک خوفناک خاموشی سی طاری تھی۔
لوگ باگ دبی زبان میں کانا پھوسی کر تے نظر آرہے تھے۔کوئی کہتا ،’’ایسے وار تو شاہدہ ہی کر سکتی ہے۔‘‘
کوئی کہتا،’’لیکن ایسی نوبت ہی کیوں آئی ؟‘‘
لیکن زیادہ تر لوگوں کا گمان تھا کہ ہو نہ ہو۔باون گھوڑا کے خلیفہ رسول مستری کی اس میں سازش ہو گی۔جب وہ بغل گیر ہو رہا تھاتو عین اُسی وقت اس کے بیٹے اسرائیل نے ان کی پیٹھ پر چھورا گھونپ دیا ہوگا۔اور یہ منظر ممکن ہے شاہدہ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو اور اُس نے جنون میں آکر اس لڑکے کا قتل کردیا ہوگا۔‘‘
بہر حال ،اگر شاہدہ نے ایسا کیا بھی تو وہ آخر گئی کہاں؟
کوئی کہتا،’’ اس نے گہر باندھ میں ڈوب کر خودکشی کر لی ہے۔‘‘کوئی کہتا کہ وہ بہت مردانی تھی۔وہ ندّی کے اُس پار آدی باسیوں کے گاؤں میں جا کر روپوش ہوگئی ہوگی۔‘‘کسی کے کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ شاہدہ کہاں گئی۔آسماں کھا گیا اُسے یا زمین نگل گئی؟
نوشیرواں کے اس شہر میں محرم کاوہ آخری جلوس تھا اُس کے بعد سے پھر کبھی اُس شہر میں ویسے آن بان شان والا کوئی جلوس نہیں نکلا۔**

Viewers: 3446
Share