منکیرہ میں معروف ادیبہ فرحت پروین کے لیے اعزازی پروگرام کا انعقاداور مشاعرہ

رپورٹ: اعجاز چھینہ

معروف ادیبہ فرحت پروین کے لیے اعزازی پروگرام کا انعقاداور مشاعرہ

گزشتہ دنوں تحصیل کونسل ہال منکیرہ میں شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام امریکہ میں مقیم ممتاز افسانہ نگار اور خوش خیال شاعر ہ فرحت پروین کے ساتھ ایک ادبی شام منعقد کی گئی۔ اس یادگار تقریب کے لئے پریس کلب منکیرہ اور پنجاب پراپرٹی سنٹر کا خصوصی تعاون رہا ۔تقریب کی صدارت سرائیکی وسیب کے نامور شاعر ودانشور ملک نذیر ڈھالہ خیلوی نے کی جبکہ ممتاز سیاستدان وادب دوست شخصیت ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ سرگودھا سے آئی ہوئی نامور شاعرہ اور شریف اکیڈمی کی سرگودھا ڈویژن کی ڈائیریکٹر ثمینہ گل اورجھنگ میں مقیم سوانح نگاہ سید الطاف حسین نقوی تقریب کے مہمان اعزاز تھے ۔دوران تقریب علی شاہ نے اپنی منفرد اور خوبصورت کمپئیرنگ کے ذریعے چھ گھنٹے پر مشتمل اس تقریب کو یوں گلرنگ بنائے رکھا کہ شب نو بجے شروع ہونے والی یہ تقریب تین بجے ختم ہوئی لیکن وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا اور لوگ تقریب کے آخر تک محضوظ ہوتے رہے تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت ایک طالب علم محمد اطیب قریشی نے حاصل کی جبکہ انتظار جعفری نے اپنی خوبصورت آواز میں صاحبہ شام فرحت پروین کی لکھی نعت رسول مقبول پیش کی۔ یہ تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی ۔پہلی نشست میں دانشوروں نے صاحبہ شام کے حوالے سے پر مغز مقالہ جات اور خوبصورت منظوم پیش کیں جبکہ دوسری نشست میں اردو اور سرائیکی کے معروف شعراء نے اپنے اپنے کلام کے ذریعے حاضرین کو بے حد محضوظ کیا۔ پریس کلب منکیرہ کے سینئر رہنما صبغۃاللہ عاصم نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ میں اپنے ساتھیوں اور اہل منکیرہ کی جا نب سے محترمہ فرحت پروین کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جو منکیرہ تشریف لائیں اورہماری حوصلہ افزائی کی انہوں نے شریف اکیڈمی کی کارکردگی کو بھی سراہا کہ جس نے دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوردراز علاقوں تک اپنا دامن پھیلا رکھا ہے اور جن کی بدولت منکیرہ جیسے پسماندہ شہر میں بھی خوبصورت ادبی تقریبات دیکھنے کو ملتی ہیں صبغۃاللہ عاصم نے مہمان شعراء اور پروگرا م کے جملہ شرکاء کو خوش آمدید کہا اور مزید کہا کہ محترمہ فرحت پروین کی شخصیت اور فن اس قابل ہیں کہ انہیں خراج تحسین پیش کیا جائے اور مجھے خوشی ہے کہ میرے شہر کے لوگ یہ فرض بخوبی نبھا رہے ہیں ۔تحصیل بار کونسل منکیرہ کے صدر اور دانشور عبدالجبار قریشی ایڈوکیٹ نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ فرحت پروین کی افسانہ نگاری اگرچہ ان کی شہرت وپذیرائی کا باعث ہے لیکن ان کی شاعری بھی دلکش موسموں کی عکاس ہے انہوں نے اپنے افسانوں میں زیادہ تر امریکہ اور یورپ کی ثقافت کو اجاگر کیا ہے جس کی شائد بڑی وجہ یہ ہو کہ ان کا زیادہ تر وقت پاکستان سے باہر گزرا ہے اور وہاں رہ کر انہوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا قلم کے سپرد کر دیا۔ عبدالجبار شاہ ایڈوکیٹ نے آخر میں کہا کہ میں ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ ؛نذیر ڈھالہ خیلوی ؛ثمینہ گل ؛سید الطاف نقوی اورجملہ شرکاء اور بالخصوص فرحت پروین صاحبہ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس خوبصورت تقریب میں شرکت کرکے میرے شہر کو رونق بخشی تا ہم میں پریس کلب کے جملہ ممبران کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے بالخصوص شریف اکیڈمی کے ڈائریکٹر علی شاہ اور اس کے ساتھیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے نے یہ تقریب سجائی ۔اس موقع پر مہمان خصوصی ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ نے موم بتی روشن کرکے شریف اکیڈمی کے علم وادب کے نصب العین کو واضح کیا ۔سید شاہد بخاری اور نجف علی شاہ نے فرحت پروین کے فن وشخصیت کے حوالے سے خوبصورت منظومات پیش کر کے حاضرین سے بھر پور داد وصول کی ۔معروف دانشور سید عارف بخاری نے صاحبہ شام کے فن وشخصیت کے حوالے سے پر مغز مقالہ پیش کرتے ہوئے بالخصوص ان کے فن کا احاطہ کیا اور ان کے افسانوی اسلوب کو اجاگر کیا انہوں نے شریف اکیڈمی کے کام کو سراہتے ہوئے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پر علی شا ہ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ثمینہ گل نے مقالہ پیش کرتے ہوئے جہاں فرحت پروین کی ادبی خدمات کو سراہا وہاں شریف اکیڈمی جرمنی کا بھی مکمل تعارف پیش کیا اورکہاکہ شریف اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شریف مراد کا کمال یہ ہے کہ وہ باصلاحیت اور باکمال لوگوں کو دریافت کر لیتے ہیں اور علی شاہ بھی ان کی ایک ایسی ہی دریافت ہیں۔ آ خر میں انہوں نے کہا کہ آج کی یہ بھر پور تقریب دیکھ کر خوش گوار حیرت میں مبتلا ہوں کہ منکیرہ جیسے شہر میں ایسی جاندار اور پروقار تقریب علی شاہ اور اس کے ساتھیوں کی بھر پور محنت کا نتیجہ ہے اس موقع پر انتظار جعفری نے خوبصورت ترنم کے ساتھ فرحت پروین کی ایک ٖغزؒ ؒ ل سنا کر حاضرین کو محضوظ کیا ۔چوک اعظم سے آئے دانشور ممتاز ادیب اور شاعر ناصر ملک نے تاریخ منکیرہ کے حوالے سے بھر پور گفتگو کی ۔مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی کمی اور مسائل کی بہتات کی بدولت اگرچہ منکیرہ ایک پسماندہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے لیکن شعور اور صلاحیتوں کے تناظر سے دیکھا جائے تو منکیرہ ایک ترقی یافتہ شہر ہے ۔یہاں گاہے بگاہے خوبصورت ادبی تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں یہاں بھر پور مشاعرے انعقاد پذیرہوتے رہتے ہیں اور یہاں علی شاہ جیسے با صلاحیت اور با شعور نوجوان رہتے ہیں جن کی بدولت منکیرہ ملک بھر میں جانا پہچانا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ فرحت پروین کے ساتھ یہ ادبی شام یہاں کی ادب دوستی اور یہاں کے شہر یوں کے شعور کی آئینہ دار ہے ۔میں اس خوبصورت تقریب کے انعقاد پر تقریب کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔انہوں نے لوگوں کی فرمائش پر مختلف سرائیکی شعراء کا کلام بھی سنایا ۔ صدر تقریب ملک نذیر ڈھالہ خیلوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات جہالت اور معاشرتی پریشانیوں کے خلاف جہاد کے مترادف ہیں اور میں منکیرہ کے لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو نہ صرف ادب دوست ہیں بلکہ ادبی تقریبات منعقد کرنے والوں کی بھر پور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔انہوں نے شریف اکیڈمی کی اس یاد گار تقریب کو سراہا اور صاحبہ شام فرحت پروین کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا آخر میں صاحبہ شام محترمہ فرحت پروین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے امریکہ ،یورپ ،متحدہ عرب امارات سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ادبی دورے کئے ہیں ؒ ؒ ؒ لیکن جو پذیرائی ،عزت افزائی اور اپنائیت مجھے منکیرہ میں ملی ہے کہیں اور نہیں ملی جس پر میں شریف اکیڈمی،علی شاہ اور ان کے ساتھیوں اور تقریب کے جملہ شرکاء کی شکر گزار ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس لفظ نہیں ہیں کہ میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کروں سو اس پذیرائی پر میں آپ سب کو سلام پیش کرتی ہوں۔اس موقع پر ثمینہ گل نے شریف اکیڈمی کی جانب سے محترمہ فرحت پروین کو یادگاری شیلڈ پیش کی ۔پریس کلب منکیرہ کے سابق صدر شاہنواز اعوان نے فرحت پروین کو پریس کلب کی جانب سے گفٹ پیش کیا۔ ممتاز دانشور بلال مہدی نے زین نیوز ایجنسی کی جانب سے صاحبہ شام کو گفٹ پیش کیا جبکہ ناصر ملک نے اپنی شاعری کی کتاب”ہتھیلی”اور ملک نذیر ڈھالہ خیلوی نے اپناسرائیکی شعری مجموعہ “درسال”فرحت پروین ، ثمینہ گل، نذیر ڈھالہ خیلوی، ڈاکٹر افضل خان ڈھانڈلہ، سید الطاف حسین نقوی کو پیش کئے۔دوسری نشست محفل مشاعرہ پر مشتمل تھی جس میں شعرائے کرام نے اپنے اپنے اردو سرائیکی کلام سے لوگوں کو خوب محضوظ کیا۔ جن شعرائے کرام نے اپنا پنا کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ ملک نذیر ڈھالہ خیلوی،فرحت پروین، ثمینہ گل، سید عارف بخاری، ناصر ملک، اصغر گورمانی، شاہد بخاری، صفدر کربلائی، جمشید اقبال، نجف علی شاہ،مضطر کاظمی، علی شاہ، سعید احمد حاشر، محمد نواز عاصم ،ظہور دانش، اشفاق شجر،ملازم حسین صفدر، اقبال بالم، وارث چھینہ، سہیل انور،رفیق بھٹی اور عارف سہوانی ۔منکیرہ کے شہریوں نے اس پروگرام کو منکیرہ کی تاریخ کی ایک خوبصورت اور یادگار تقریب قرار دیا۔
***

Viewers: 3119
Share