علیگڑھ اولڈ بوائز ،دوحہ قطر کے زیر اہتمام سرسید ڈے ۲۰۱۲ء

(حامد ظفرسے) ’’ تنظیم ابنائے قدیم علیگڈھ مسلم یونیورسٹی،دوحہ قطر ‘‘ کی جانب سے بانئی علیگڈھ مسلم یونیورسٹی سرسید احمد خان کا (۱۹۵)واں یوم ولادت بتاریخ ۲۲/نومبر بروزجمعرات شب آٹھ بجے گلوریا ہوٹل میں منایا گیا ۔جس میں ہندوستان کی نامورشخصیت جناب ایس ایم افضل (آئی جی پولیس گوالیار)نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت فرمائی۔
پروگرام کا آغازقاری عمر نیاز کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا ۔پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے جناب عاقل محمود(جنرل سکریٹری)نے پروگرام کی اہمیت اورجناب ایس ایم افضل کی شخصیت کا مختصر تعارف کراتے ہوئے سب سے پہلے جناب ایس ایم افضل کو اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے کی دعوت دی نیز جناب منور حاذق(منیجر امارات ایئرلائنس۔ہندوستان)جناب صبیح بخاری(ساتکو انٹرنیشنل)جناب محمد عیسی (علی انٹرنیشنل) اور جناب حبیب النبی کو بحیثیت مہمانانِ اعزازی اسٹیج پر آنے کی دعوت دی ۔تنظیم کے صدر ندیم ماہرؔ نے اس موقعہ پرتنظیم کی نمائندگی فرمائی۔سید ذاکر حسین (معروف فلم پروڈیوسر اور ڈاکو مینٹری فلم میکر)مشہور بزنس مین جناب مرزا صادق بیگ نے بھی شرکت فرمائی۔
پروگرام کی نظامت ندیم ماہر(صدر تنظیم) نے کی۔
اس موقعہ پر حبیب النبی نے مہمانان کا مختصر تعارف پیش کیا اورتنظیم کی جانب سے تمام مہمانوں کا استقبال فرمایا۔
جناب عقیل احمد(سابق صدر)نے سمرہ احمد کے ساتھ مل کر ایک پریزینٹیشن پیش کیا جس میں یونیورسٹی سے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئیں تھیں۔
جناب ایس ایم افضل (آئی جی پولیس گوالیار)وسابق رجسٹرار مسلم یونیورسٹی وجامعہ ملیہ اسلامیہ(دہلی) نے اپنے پُرمغز تقریر میں سرسید کی حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سر سید نے جس وسیع الذہنی کے ساتھ اس پیغام کو عام کیا تھا ہمیں لگتاہے کہ ہم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کرپائے ہیں اور آج ہمیں یونیورسٹی اپنے دائرے کے حساب سے بہت چھوٹی لگنے لگی ہے، ضرورت ہے کہ اس کو پھیلا یا جائے اور اس کے لئے ضروری ہے اسکی شاخیں ہوں یا پھر یہاں کے فارغین طلبہ علمی میدان میں قدم رکھیں، ادارے قائم کریں میڈیکل اور انجینئرنگ کالج قائم کریں ، یہی سرسید کا خواب تھا یہی وہ کرب او رتڑپ تھی جس نے سرسید کو مصلحین کی صفوں میں نمایاں مقام عطا کیا۔اس موقعہ پر انہوں نے البرکات کا ذکر کیا(واضح رہے کہ علیگڈھ میں البرکات کے نام سے ایک انٹر کالج ،بزنس مینیجمنٹ کالج افضل صاحب کے بڑے بھائی جناب امین اشرف کی زیر سرپرستی چل رہاہے ، جس نے بہت ہی کم وقت میں ترقی کی منازل طے کی ہیں)۔
ایس ایم افضل نے خاص طور اپنے دیرینہ عزیز دوست مرزا اطہر بیگ (سرپرست تنظیم)کا شکریہ ادا کیا جن کی دعوت پر وہ دوحہ قطر تشریف لائے ۔
(محمد عیسی)علی انٹر نیشنل نے علیگڈھ یونیورسٹی کی تاریخ اور برصغیر میں اس کے رول پر ایک مختصر گفتگو کی اور کہا کہ یہ واحد یونیورسٹی ہے جس کے پروردہ دنیا کے ہر ملک میں مل جائیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے جلد ہی قائم ہونے والے علیگڈھ یونیورسٹی کے نئے کیمپس کا بھی ذکر کیا جو عنقریب ہی ملاّپورم میں شروع ہورہاہے۔انہوں نے اس موقع پر اراکین تنظیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئندہ بھی مجھے اگر دعوت دی گئی تو میں حاضر ہونگا ۔
مہمان اعزازی جناب صبیح احمد بخاری نے یونیورسٹی کی آفاقیت اور عالمی معیار پر بولتے ہوئے کہا کہ گوکہ میں علیگڈھ میں نہیں پڑھا ہوں لیکن میرا ناطہ بچپن سے علیگڈھ سے رہاہے ۔یہ ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جس کا سفر ڈیڑھ صدی پر محیط ہے ماضی قریب میں ایسی شخصی طور پر چلنے والی کوئی اور تحریک ہمیں نظر نہیں آتی۔میں اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اتنی خوبصورت شام کا انعقاد کیا۔اور مجھے اس کا حصہ بنایا۔
ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے مہمان جناب منور حاذق نے پروگرا م پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قطر آکر مجھے بہت خوشی ہوئی تھی ،لیکن اب اس وقت اس پروگرام میں آکرمیں حیرت زدہ رہ گیا کہ وطن سے دور رہ کر وطن کی یادوں کو سمیٹے رکھنا اور اتنا معیاری پروگرام منعقد کرانا یہ کوئی آسان بات نہیں ، میں ایسو سی ایشن کو مبارکباد پیش کرتاہوں،اور شکریہ اداکرتاہوں کہ مجھے یہاں مدعو کیا گیا اور عزت افزائی کی گئی۔
اس پروگرام میں مہمانِ خصوصی اور مہمانانِ اعزازی کو اعزازات سے نوازاگیا۔نیز بہتر اسکولی کارکردگی پر بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔اس موقعہ پر ایک شعری نشست کا بھی انعقاد ہوا جس میں فرتاش ؔ سید، شوکت علی نازؔ ، عزیز نبیلؔ ،قیصر مسعودؔ ، اشفاق احمد قلقؔ اور ندیم ماہرؔ نے کلام پیش کیا۔پروگرام کے بعد تمام شعرائے کرام کو اعزازات سے نوازاگیا۔
خصوصی مدعوئین میں جناب حسن عبدالکریم چوگلے ،انجمن محبان اردو ہند،قطر کے بانی جناب ابراہیم خان کمال ، خالد داد خان(صدر انجمن)کے علاوہ پروگرام کے معاونِ خاص جناب مرزا عمران بیگ(جنرل منیجر گرانڈ ریگل ہوٹل) کے اسماء قابل ذکررہے۔
جناب عقیل احمد کے کلماتِ تشکراور پُرتکلف عشائیہ کے ساتھ اس خوبصورت کا شام کا اختتام عمل میں آیا۔
Viewers: 1029
Share