شاعرہ ناہید ورک کے مجموعہ کلام گیلی چُپ کی رونمائی

ٓ ابو ظبہی ( حسیب اعجاز عاشرسے)میرے لئے انتہائی خوشی کا مقام ہے کہ ملک کے اکتالیسویں قومی دن کے موقع پر متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کروں،متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی دانشمندانہ، باصلاحیت اور ذہین قیادت کے ذیرِ سایہ کامیابیوں کا حصول نہ صرف اس ملک کے لوگوں کے لئے بلکہ باکستانی عوام کے لئے بھی قابلِ فخرہے جہاں کم ازکم بارہ لاکھ پاکستانیوں کے علاوہ دوسرے تارکینِ وطن اس قوم کی عظمت کے سفر کا حصہ رہے ہیں۔اِن خیالات کا اظہار سفیرِ پاکستان جمیل احمد خان قلندرانِ اقبال کے زیرِ اہتمام متحدہ عرب امارات کے ۴۱ ویں قومی دِن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ آج کے اہم دِن اس تقریب کاانعقاد اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دوستی امارات کے ساتھ بلند ترین ہے،جس تاریخی دوستی کی بنیاد قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹوشہید کے دورِ حکومت میں رکھی گئی۔اور یہ لازوال دوستی کا رشتہ انشاء اللہ قائم دائم ہی نہیں بلکہ آنے والے وقت میں مزید مضبوط تر ہوتا جائے گا۔سفیرِپاکستان نے شعرو ادب کے حوالے سے کہا کہ شاعری ،ادب، ادیب،آدمیت،انسانیت جب تک معاشرے میں موجود نہ ہو تو معاشرہ ترقی کی جانب گامزن نہیں ہو سکتا،اچھی شاعری ہی بہترین گائیکی کی بنیاد ہے جو دلوں میں انسانیت کے لئے نرم گوشہ اور خود سے محبت کا سبب بنتیہے ۔تمام شعراء ادیب،ادب نواز اور ادب نوازی کی محفلوں کو میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کیونکہ یہ قوموں کی نشوونما میں اہم کردار ہوتا ہے جسکی بدولت انسان کو انسان کی جان لینے کے بجائے جان کی حفاظت کا درس ملتاہے،اگر ہم ادب اور انسانیت کو ان محفلوں سے آگے بڑھاہیں توشدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کر کے اُس ترقی کا سلسلہ آگے بڑھایا جا سکتا ہے جو ۱۹۷۹ سے پہلے تھا۔ہم پرجومصیبتیں مسلط کی گئی ہیں، ہم اِن سے چھٹکارا حاصل کرنا با خوبی جانتے ہیں۔ہم نے ہر دور میں اپنے جوہر دیکھ ئیں ہیں اور ہر مصیبت میں ہم ایک قوم بن کر کھڑے ہوئے ہیں،ہمیں اللہ نے ہر نعمت سے نوازا ہے جو ہمارے سنہرے مقدر کی ضمانت ہے۔ہم ہر حالات میں وطنِ عزیز کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے امارات کے عرب شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق کو ۱۴ اگست کوحکومتِ پاکستان کی جانب سے ایوانِ صدر میں صدارتی ایوارڈ ملنے کے اعلان پر پیشگی مبارکباد بھی پیش کی۔انہوں اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ عنقریب سفارتخانہ پاکستان اردو اور عربی مشاعرے کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہے
معروف شاعر یعقوب تصور کی ذِیر صدارت اس تقریب میں سفیرِپاکستان جمیل احمد خان نے مہمانِ خصوصی کی حثیت سے شرکت کی ،جبکہ ادبی شخصیت محمود خاور کو مہمان اعزازی کی نشست پر مدوح کیا گیا۔تقریب کے تین دلکش حصے تھے جنکے مشاہدے سب کی بصارتوں کہ مہکاتے رہے اور سماعتوں کو لطیف احساسات سے منور کرتے رہے۔،حصہ اول میں امارات کے قومی دنِ پر اظہارِ یکجہتی میں کیک کاٹا گیا جبکہ کالم نگار طارق حسین بٹ نے پاک امارات دوستی پر اپنا سپاس نامہ پیش کیااور نامور شاعر ڈاکٹر صباحت عاصم ؔ واسطی نے امارات کے کامیابیوں کے حوالے سے اپنا کلام پیش کر کے امارات کی قیادت خصوصاشیخ زاید النہیان(مرحوم) کی عظمت کوخوب خراجِ تحسین پیش کیا،جبکہ ڈاکٹر ذبیر فاروق نے بھی یو اے ای کے لازوال کامیابیوں کے عظیم سفر پر عربی قطعہ پیش کر امارات کی لیڈر شپ کی انتہک کاوشوں کو سراہا۔تقریب کے حصہ دوئم میں امریکہ سے آئیں شاعرہ ناہید ورک کے پہلے مجموعہ کلام!!گیلی چُب!! کی رسمِ رُونمائی سر انجام دی گئی،اور ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی اور یعقوب تصور نے !!گیلی چُب!! پر مقالات پیش کئے۔ تقریب کے حصہ سوئم میں عرب امارات کے اُردو شعراء اکرام ڈاکٹر زبیر فاروق،عبدالحمید الامیری سمیت ناہید ورک۔ یعقوب تصور۔مصدق لا کھانی ۔ سعید پسروریؔ ۔ ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی۔ تسنیم عابدی۔ محمود خاور ،محمد یعقوب عنقاؔ ۔سحر تاب رومانی۔ مقصود تبسم، حفیظ عامر۔طارق حسین بٹ۔آصف رشید اسجد۔ڈ اکٹر وحید الزمان طارق ۔سلیمان ا حمد خان۔ م ،ق، حسرت۔ڈاکٹر اکرم شہزاد۔فرہاد جبر یل۔عبدالسلام عاصم اورنیر نینانے اپنا کلام پیش کر کے باذوق سامعین سے بھرپُور دادکے حق دار بنے
تقریب کا باقاعدہ آ غا زتلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جسکی سعاد ت شیخ وا ھد حسن نے حاصل کی۔ ندیم فریدی نے ہدیہ نعت بحضور سرورِ کونین ﷺ پیش کیا ، نظامت کے فرائض طارق حسین بٹ اور سلیمان احمدخان نے ادا کئے طارق حسین بٹ نے سپاس نامہ با عنوان !!گُلِ صحرا!! پیش کرتے ہوئے کہا ۔ متحدہ عرب امارات 2 دسمبر ۱۹۷۱ ؁ کو دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے معرض وجود میں آیا۔ شیخ زاید بن سلطان النہیان اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور پنی خداداد صلاحیتوں سے امارات کو شاہراہِ ترقی کی ایک ایسی راہ پر گامزن کر دیا جس پر اہل جہاں آج تک انگشت بد نداں ہیں ۔اسلامی کلچر کی تخلیق کردہ برابری اور مساوات کی روح میں رچے بسے اماراتی آپ کو ہرجانب محبتوں کی دولت لٹاتے نظرآئیں گے۔ محبتوں کا یہ وصف انہیں اپنے عظیم قائد شیخ زاید بن سلطان النہیان سے ورثے میں ملاہے۔ پاکستان اور امارات کے درمیان دوستی اور احترام اور محبت کا ایک جذبہ ہمیشہ سے موجود تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور عزت مآب شیخ زاید بن سلطان النہیان نے جس طرح ان جذبوں کو ا ٹو ٹ دوستی میں بدل دیا وہ ان کی بالغ نظری کا نقطۂ کمال تھا۔ پاکستان اگر ہماری دھرتی ماں ہے تو امارات ہمارا دوسرا گھر ہے جس کی ترقی اور استحکام ہر پاکستانی کو عزیز ہے ۔یعقوب تصورنے !!گیلی چُپ!! پر اپنا مقالہمیں ناہید ورک کو انتہائی متاثر کن شاعرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انکا الفاظی نظام سہل اور عام فہم ہے اور اپنی معنوی تفہم کی طاقت رکھتا ہے، طلسماتی شدّت کے ساتھ ساتھ خیالات میں تنوع اور ترسیل میں ندرت کے زاوئیے بھی ہیں ۔انہوں کا کہنا ہے کہ ناہید ورک کے اثر انگیز کلام سے لطف اندوز ہونے کیلئے انکے خوبصورت مجموعہ کلام !!گیلی چُپ!! کا مطالعہ ضروری ہے۔ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اپنے مقالہ میں کہا کہ مشی گن میں ناہید ورک سے ملاقات میں انکا شاعری سے والہانہ لگاؤنظر آیا۔مجھے شاعری ان میں رچی بسی ہوئی محسوس ہوئی۔!!گیلی چُب!! کے مختصر مطالعہ سے یہ خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کے ناہید اپنے شعری سفر میں مگن نظر آتی ہیں۔لفظ اور لفظ کی عنائیت سے اُن کا لگاؤ اِس کتاب میں کھل کر سامنے آتا ہے۔کتاب میں شامل نظمیں اور غزلیں دونوں ایک خاص رجحان کے تحت تخلیق ہوتی نظر آتی ہیں۔اچھاہوا،یو ٹرن اور گول کمرہ انکی اچھوتی نظمیں ہیں۔گیلی چپ کی اصطلاح اور رنگوں کو کیفیات نہایت دل موہ اور دلچسپ ہیں۔ناہید غزل میں بھی ایک الگ احساس اور مختلف تعظیات لئے سامنے آتی ہیں یہ اُن کے داخلی تجربوں سے اخذ نتیجہ ہے جسے وہ سنوارنے کے مرحلوں سے گزرتی محسوس ہوتی ہیں۔جسمیں گہرائی ہے،الفاظ کی بتت رواں ہے اور ندرت چونکا دینے والی ہے۔میں ناہید کو گیلی چُپ کی اشاعت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعاگو ہوں کے انشاء اللہ تعالی اُن کے لفظ کا سفر معتبر رستوں کی طرف گامزن رہے گا۔ تقریب میں سفارتخانہ پاکستان کے ویلفئر اتاشی میر فاروق۔ڈیفنس اتاشی للیاس عمران۔قونصلر عمران خان۔ پرنس اقبال۔فرحان نقشبندی۔مسٹر اینڈ مسزانوار شمسی۔چوہدری ارشد۔سجاداحمد،میاں مطلوب۔ڈاکٹرثمینہ چو ہدری کے علاوہ کمیونٹی کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کر کے یو اے ای سے اپنی لا زوال محبتوں کااظہار کیا ۔تقریب کے اختتام پرمیزبان ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اسطرح کی ادبی محفلیں سجانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا
شعراء اکرام کے کلام سے منتخب اشعار قارئین کے لئے پیشِ خدمت ہیں۔
سلمان احمد خان
وہ تیرا دیکھنا ہی ایسا تھا
ہم بھی مغرور ہو گے ساقی
نیر نینا
شام ہے اُداس کیوں
تم نہیں ہو پاس کیوں
حفیظ عامر
مجھ کو نزدیک سے نہیں دیکھا
تم نے بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا
عبدالاسلام عاصمؔ
وہ آنکھ کے سجدوں کو قضا ہونے نہیں دیتا
اوروں کا کبھی مجھ کو گدا ہونے نہیں دیتا
فرہاد جبریلؔ
یہ کیسی کشمکش میں رات دن اُلجھا سا رہتا ہوں
یہاں رہنا بھی ہے،چلنے کی تیاری بھی کرنی ہے
ڈاکٹر وحید الزمان طارق
بستے یہاں غزال ہیں شیروں کے درمیاں
واحدت کا خاکداں ہے محبت کا ترجماں
م ک حسرتؔ
رکھیے مقابل آئینہ ،آئینہ ساز کے
حیرت زدہ کو اور بھی حیراں بنائیے
آصف رشید اسجدؔ
کسی کو لُوٹا،کسی پے لُوٹا کے چلتا بنا
کہ جس کے ہاتھ جو آیا،اُٹھا کے چلتا بنا
عبدالحمید الامیریؔ
عشق ایک روگ ہے تو ہونے دو
میں یہ روگ پال دیکھتا ہوں
ڈاکٹر طارق حسین بٹ
نئی سحر کا نئا اُجالا میرے لہوسے پھُوٹا ہے
امرے وقت کا ظلم و جبر میری ضرب سے ٹوٹا ہے
یعقوب عنقاؔ
وقت یادوں کے دریچوں سے یہ کیا لایا ہے
عمرِ گم گشتہ کی موہوم صدا لایا ہے
مقصود احمد تبسمؔ
جب عشق ہو وابستہ نعلینِ محمدﷺ
پھر دل کیوں نہ ہو نقشہِ نعلین محمدﷺ
ڈاکٹر اکرم شہزاد
جو بحرِ سخا ہے، کرم ہی کرم ہے
وہ آقا ملا ہے کرم ہی کرم ہے
سحرتاب رومانی
بجھے چراغ سے مہتاب دیکھ سکتا ہوں
میں اپنے خواب میںیہ خواب دیکھ سکتا ہوں
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
ُعشق میں کون یہ کہہ سکتا ہے
وقت بے سائبان برباد کیا
سعید پسروریؔ
چھوُ لے جو دل کو ایسی کوئی بات چائیے
اُن سے بطور خاص ملاقات چاہیے
ڈاکٹر زبیر فاروق
اندر اندر ٹوٹ چکا ہوں میں اتنا فاروق
انٹیں گارا مٹی پتھرمجھ پے روب جمائیں
تسنیم عابدی
فریب عمر گزشتہ کہاں لکھا جائے
تو پھر یہ طے ہوا سب رائیگاں لکھا جائے
مصدق لکھانیؔ
کوئی خیال کوئی بات حسبِ حال نہیں
سوال یہ ہے،یہاں کیوں کوئی سوال نہیں
محمود خاورؔ
رات ڈھلتے ہی بھڑک اُٹھتے ہیں خوابوں کے بدن
دن نکلتے ہی پگھل جاتے ہیں تصویر کے رنگ
ناہید ؔ ورک
ابھی سے طاقِ طلب پر نہ تُو سجا مجھ کو
ابھی تو کرنا ہے اس دل سے مشورہ مجھ کو
میں جس میں دیکھ کے خود کو سنوار لوں ناہیدؔ
ابھی ملا ہی کہاں ہے وہ آئینہ مجھ کو
یعقوب تصوؔ ر
ہوئی ہے جب سے پرندوں کی واپسی کی خبر
ہر ایک شخص نے پنجرہ خرید رکھا ہے
***

Viewers: 3177
Share