عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کی الوداعی تقریب

قطر( رپورٹ: شوکت علی نازؔ ۔ قطر) عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے زیرِ اہتمام دوحہ قطر میں ۱۹۹۴ء سے تین روزہ سالانہ تقریبات نہایت تزک و احتشام اور حسنِ انتظام سے انعقادپذیرہو رہی ہیں، دنیائے اُردو میں سال بھر ان تقریبات کا چرچا رہتا ہے۔۱۹۹۴ء میں عالمی جشنیہ مشاعروں کا آغاز ہوا،۱۹۹۶ء میں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کا اجرأ ہوا اور پھر ۱۹۹۸ء میں دبئی میں عالمی جشنیہ مشاعروں کے بانی سلیم جعفری کی نومبر ۱۹۹۷ء میں ناگہانی وفات پر سلیم جعفری انٹر نیشنل اُردو ایوارڈ(۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۴ء) کا اجرأ عمل میں آیا۔تب سے اب تک مجلسِ فروغِ اُردو ادب کی تقریبات ،سوائے ۲۰۰۶ء جو بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن کے وصال کا سال ہے،تواتر و تسلسل سے انعقاد پذیر ہو رہی ہیں۔دوحہ کے محبانِ اُردو ،سفارت خانہ ہائے پاک و ہند اور مجلس کے کارپردازان ،اِن تین دنوں میں اپنے مہمان شعرأ و ادبأ کو آنکھوں پر بٹھائے رکھتے ہیں اور کئی ایک چھوٹی بڑی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اِن میں تین بڑی اور اہم تقریبات مجلس کے پلیٹ فارم سے ہوتی ہیں۔ بروز بدھ منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب ،جس کے میزبان چئرمین مجلس اور دوحہ بنک کے سابق جنرل مینجر محمد عتیق اور رکن سرپرست کمیٹی بیگم شمیم عتیق ہیں، کے پہلے حصہ میں دنیا کے مختلف ممالک سے تشریف لائے ہوئے مہمان شعرأ و ادبأ کو رسمی طورپرخوش آمدید کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصہ میں نامور نقاد ،ایوارڈ یافتگان کے فن اور شخصیت پرمبسُوط مقالہ جات سے اِس تقریب کو وقار بخشتے ہیں ۔بروز جمعرات انعقاد پذیرہونے والی اہم ترین تقریب کے پہلے حصہ میں ایوارڈ یافتگان کی اعلیٰ ترین نثری خدمات کے اعتراف کے طور پر اُنھیں کیش اور طلائی تمغوں پر مشتمل عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ پیش کیا جاتا ہے۔اور دوسرے حصہ میں عظیم الشان عالمی مشاعرہ منعقد ہوتا ہے جسے سننے کے لیے دیگر عرب ریاستوں سے بھی شائقینِ ادب تشریف لاتے ہیں۔ مجلس کی تقریبات کی آخری اور الوداعی تقریب بروز جمعہ منعقد ہوتی ہے جس کی میزبانی کا شرف گذشتہ دوسال سے مجلس کی سرپرست کمیٹی کے رکن ،معروف سماجی اور ثقافتی کارکن اور ساتکوانٹر نیشنل (دوحہ)کے منیجنگ ڈائریکٹر سیّد محمدصبیح بخاری اور بیگم صوفیہ بخاری کو حاصل ہے۔امسال یہ الوداعی تقریب بالی وڈ کے منفرداداکار وہدایت کار،شہرۂ آفاق ٹی وی سیریل مرزا غالب ؔ کے مرکزی فنکاراور مجلس کے خصوصی فروغِ اُردوادب ایوارڈ یافتہ جناب نصیر الدین شاہ ،معروف بالی وڈ اداکارہ رتنا پاٹھک شاہ(بیگم نصیرالدین شاہ)،دنیائے اُردو کے اہم ترین نقاد اور سابق چئرمین ساہتیہ اکادمی پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور بیگم منورما نارنگ کے نام منسُوب ومعنون تھی۔دوحہ کے فائیو سٹار ہوٹل ریڈیسن بیلو کے گیوانا ہال میں انعقاد پذیر اِس غیر رسمی تقریب کی صدارت عزت مآب سنجیو اروڑا صاحب سفیرہندِ برائے قطر نے کی جبکہ قطر میں مقیم پاکستان کے نامور شاعر، مجلس کی انتظامیہ کمیٹی کے رکن اور پاکستان ایجوکیشن سنٹر کے پروفیسر فرتاشؔ سیّد نے نظامت کے فرائض بطریقِ احسن ادا کرتے ہوئے تقریب کے وقار اور اہمیت میں اضافہ کیا۔دیگر مہمانوں میں ہندوستان سے سولہویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ یافتہ شموئیل احمد ،بیگم شموئیل احمد، پاکستان سے ڈاکٹر خورشید ؔ رضوی(میرِمشاعرہ)،اسلم ؔ کولسری،سرفراز شاہدؔ ، رخشندہ ؔ نوید، ہندوستان سے ریئس ؔ انصاری،اقبال اشہرؔ ،ڈاکٹر نزہت انجمؔ ، کوآرڈی نیٹر مجلس (پاکستان) داؤد احمد ملک،معاونِ خصوصی مجلس(دبئی) سیّدصلاح الدین، چیئرمین مجلس محمد عتیق و بیگم شمیم عتیق،پروگرام منیجر شوکت علی نازؔ ،اراکینِ انتظامیہ کمیٹی سیّد فہیم الدین، جاوید ہمایوں اوراعجاز حیدر،فروغِ اُردو ادب کے لیے متحرک دیگر ادبی و ثقافتی تنظیموں کے کارکنان،دوحہ کے اہم تاجرو سماجی شخصیات بھی اس موقع پر موجودتھے۔سیّد محمدصبیح بخاری اور بیگم صوفیہ بخاری نے صدرِمحترم ،مہمانانِ اعزازی ،مہمانانِ گرامی اور شرکأکی آمد پر ان کا پُر تپاک استقبال کیا۔ حاضرینِ مجلس مذکورہ تقریب میں بھی کئی ایک لمبی تقریروں کی توقع کر رہے تھے ،لیکن پروفیسر فرتاشؔ سیّد نے تقریب کا آغاز بہت ہلکے پھلکے انداز میں کیا۔انھوں نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ تقریب غیر رسمی ہوگی اور اس کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ بیس پچیس منٹ ہو گا،پھر کھانا ہوگا،آپ ہوں گے اور ہمارے معزز مہمانوں سے گپ شپ۔دوحہ کی فعال ترین ادبی و سماجی شخصیت،کامیاب تاجر، تقریب کے میزبان اور روح و رواں سیّدمحمد صبیح بخاری نے حرفِ سپاس ادا کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ،مہمانانِ اعزازی اور مہمانانِ گرامی کو غالبؔ کے اشعار کی روشنی میں مخاطب کیا اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ان کی ہلکی پھلکی گفتگو سے ہال کشتِ زعفران بن گیا۔بالی وڈ سٹار رتنا پاٹھک شاہ ،جو گذشتہ تین دن سے مجلس کی تقریبات میں خاموش کردار ادا کر رہی تھیں ،انھوں نے خاموشی توڑی اور اُردوکے حوالے سے بڑی سنجیدہ گفتگو کی۔انھوں نے عصمت چغتائی کے افسانوں کی ڈرامائی تشکیل کے دوران میں اپنے تجربات و مشاہدات میں سامعین کو شریک کیا۔انھوں نے اُردو سے اپنی انسیت اور لگاؤکا بھرپور اظہار معروف کہانی کار عصمت چغتائی کے حوالے سے کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اُس جیسے کروڑوں لوگ اُردو سے قلبی تعلق رکھنے کے باوجود اِس عظیم زبان کو اس کا رسم الخط نہ جاننے کی وجہ سے پڑھنے سے قاصر ہیں۔پروفیسر فرتاشؔ سیّد نے اس موقع پر کہا کہ مجلس کا سالانہ میگزین اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور بعض اوقات دیو ناگری رسم الخط میں بھی اشاعت پذیر ہوتا رہاہے۔جہاں تک رسم الخط کی تبدیلی کی بات ہے توہم سمجھتے ہیں کہ اُردو کا مروّجہ رسم الخط ہی اُردو کے فروغ اور ترقی کا ضامن ہے۔جناب نصیر الدّین شاہ نے خطبۂ استقبالیہ کے تناظر میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا مجھے افسوس ہے کہ میں اُردو کو وہ نہیں دے سکا ،جو اُردو نے مجھے دیا ہے۔یہ اُردو کا اعجاز ہے کہ میرانام غالبؔ کے نام کے ساتھ جُڑا ہوا ہے اور اِس نام کی برکت سے مجھے کئی ایک کامیابیاں ملی ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ میں خصوصی فروغِ اُردو ایوارڈ کے لیے مجلس کا شکر گزار ہوں اورسمجھتا ہوں کہ میں نے شعرأ و ادبا کے ساتھ خوش گوار وقت گزارا ہے جو ناقابلِ فراموش ہے۔پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے محترمہ رتنا پاٹھک شاہ کی طرف سے اُٹھائے گئے سوالات کا اپنے مخصوص انداز سے مدلّل جواب دیتے ہوئے کہا کہ اُردو ایک ایسی بے مثال اور لاثانی زبان ہے جس نے برِصغیر پاک و ہند کی جملہ زبانوں کا رس کشید کیاہے،اُردوآبِ حیات پی چکی ہے اِس لیے یقینِ واثق ہے کہ اُردو اپنے فارسی رسم الخط کے ساتھ ہی یونہی پھلتی پھولتی ر ہے گی۔عزت مآب سفیرِ کبیر جناب سنجیو اروڑا صاحب نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے اُردو سے اپنے تعلق کی بات کی،انھوں نے نپے تلے انداز اور انتہائی صاف لب و لہجے میں پورے اعتماد سے مشاہیرِاُردو کے اشعار سے مزّین گفتگو کر کے اپنے بارے میں دو دن قبل مجلس کی مرکزی تقریب میں قائم ہونے والے تأثر کو مزید اعتبار بخشا۔انھوں نے میزبانِ تقریب جناب سیّد محمدصبیح بخاری کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا کہ میںآپ سے مل کر اُردو کی جو بھی خدمت ہو گی ،کروں گا۔پُر تکلف ظہرانے کے بعد یہ یادگار تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
Viewers: 4216
Share