Shahzad Nayyar | Article | “چار چاند “اور نیلم احمد بشیر

شہزاد نیر، لاہور (پاکستان) “چار چاند “اور نیلم احمد بشیر  “نیلم زندگی کی موجودہ سٹیج پر رئیلزم کی پر چارک اور شخصی آزادی کی قائل ہو چکی ہے”(چار چاند) ہر […]

شہزاد نیر، لاہور (پاکستان)

“چار چاند “اور نیلم احمد بشیر 

“نیلم زندگی کی موجودہ سٹیج پر رئیلزم کی پر چارک اور شخصی آزادی کی قائل ہو چکی ہے”(چار چاند)

ہر لکھنے والا ایک آئینے کی تلاش میں ہوتا ہے۔ کھلی آنکھوں سے دیکھی گئی زندگی کو منعکس کرنے والا آئینہ ۔ کسی کو افسانہ آئینہ بن کر ملتا ہے تو کسی کو خاکہ۔ کوئی غزلوں کا شیش محل تیار کرتا ہے تو کوئی نظموں کی آئینہ بندی کرتا نظر آتا ہے۔ کوئی تو ناول کا آئینہ خانہ ہی سجادیتاہے۔ آئینے میں دکھائی دینے والا منظر اصل جیسا ہوتے ہوئے بھی اصل نہیں ہوتا اصل کامعکوس ہوتا ہے لیکن یہ خوبی آئینے کو حاصل ہے کہ عکس کو منظر سے دلکش بنا دیتا ہے۔ سنا ہے یہ کمال ” فریمنگ” کا ہے۔ فنکار منظر کو دیکھنے کا اپنا زاویہ چن کر اس کے گردایسے چوکھٹا کَس دیتا ہے کہ حُسن کی نمو د ہوتی ہے۔ یوں بھی تخلیقِ حُسن ، فنکار کا ایک وظیفہ ہے!
نیلم احمد بشیر نے اپنے فن کا آئینہ یوں چمکایا کہ زندگی اپنی چھوٹی چھوٹی تفاصیل کے ساتھ خود بخود منعکس ہوتی چلی گئی۔ سماجی حقیقت نگاری کا جادوآج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ آج بھی حقیقت ، افسانے سے زیادہ سفاک ہے ۔ فنی چابکدستی کے ساتھ بُنا گیا سماجی جڑُت والا افسانہ اب بھی دل کو مُٹھی میں جکڑ لیتا ہے۔ اور اُردو فکشن سے لا یعنی جدیدیت بوریا بستر سمیٹ چُکی ہے۔ نیلم نے سچا افسانہ لکھا اور اُس کے قلم کی کاٹ بہت سی منافقتوں کے نقاب چیرتی چلی گئی۔
نیلمؔ کو شاید افسانے کے علاوہ بھی ایک آیئنہ درکار تھا۔ جس میں وہ زیادہ قریبی زندگیاں شفاف عکس میں ڈھال سکے ۔ دیکھا ہوا دل سے نکھارے، عکس سنوارے اور جوں کا توں سجا دے… ہاں فریم اور زاویہ ضرور اُس کا اپنا ہو…. سو اُس نے “چار چاند”لکھی۔
“چار چاند” نیلم احمد بشیر کی تازہ تصنیف ہے۔ اس میں خاکے، مضامین اور ایک مختصر سفرنامہ بھارت شامل ہے۔ خاکے کتاب کا غالب حصّہ ہیں سو میں انہی پر زیادہ بات کروں گا۔لیکن ٹھہرئیے …. پہلے آپ آج کے پاکستان کے کسی بھی شہری گھرانے کا تصّور کیجیئے ۔ یہاں لبرل اور سیکولر اقدار کا ذکر داخل دشنام ہو چکا ہے۔ منافقانہ تخلیص پرستی نے افراد کے تمام رابطے زمینی علوم و فنون سے کاٹ رکھے ہیں۔ ایک تصّور اتی، ماورائی ، خُشک مُلائیت ہے جو فرد کی ظاہری سطح سے چپکی ہوئی ہے۔اندر کا گہرا زمینی انسان جو مٹی کا اُگایا کھاتا ہے، اپنے ہی اندر کہیں گھٹ کر رہ گیا ہے۔ بے ساختہ، قدرتی انسانی جذبوں کو اجنبی نگاہوں سے دیکھنے کا چلن عام ہے۔ بات بات پر تعزیر آسمان سے اُترتی ہے۔ شرافت اور عزت کا معیار ، نقاب اور ٹوپی بنتے جاتے ہیں۔ رنگ، رقص، سُر اور شعر کو خلافِ اخلاق قرار دینے والے بڑھتے چلے جاتے ہیں لیکن وہ اندر ہی اندر ان سب کی کشش سے مسحور بھی ہیں۔ منافقت اور دورنگی اس حد تک عام ہے کہ خود موسیقی پر جھومنے والا بھی اپنے بچوں کو اس سے منع کرتا ہے۔ فلم دیکھ کر محظوظ ہونے والا بھی فنکاروں کے لئے نا مناسب الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ٹیلی ویژن کے خلاف فتوے دائر کرنے والا مُلّا اب سارا دن خود ٹی وی پر بر ا جمان نظر آتا ہے۔ عام انسان کو آسمان سے اتنا ڈرا دیا گیا ہے کہ اب وہ خود اپنے آپ سے ڈر کر منافقت کے لبادے میں روپوش ہو گیا ہے۔
ایسے میں چالیس پچاس سال پہلے کے احمد بشیر اور محمودہ کے گھرانے کا تصّور کیجئے جس کے افراد کے خاکے نیلمؔ نے لکھے ہیں۔ نیلم سمیت چار بہنوں کے چار خاکوں کا گلدستہ “چار چاند” معیاری فکشن رائٹر پروین عاطف (پھوپھی) کا نہایت کھرا خاکہ “ٹپر واسنی ” احمد بشیر کا دل پذیر ، بے تکلّف ، زندہ اور توانا خاکہ” ابّا پیا ” اور گھر کے ایک فرد کی طرح لکھا جانے والا ممتاز مفتی کا خاکہ ” ایور گرین ٹین ایجر”۔ یہ سات خاکے ، سات رنگوں کی طرح مل کر ایک ایسے گھرانے کی رنگین تصویر بناتے ہیں جس میں سُر کے دریا بہہ رہے ہیں ۔رقص جاری ہے اور افراد خانہ اعلٰی جمالیاتی ذوق سے محظوظ ہو رہے ہیں۔ شعر،ا فسانہ، فلسفہ، ڈرامہ، فلم، آرٹ، کلچر ، ارفع قدروں کی طرح اس گھر میں سکونت رکھتے ہیں۔ آپ کو آج کے پاکستان میں ایسا کوئی گھرانہ نظر آیا ہو تو ہو میری “مابعد ضیا” نسل کے لئے تو تصور بھی محال ہے ۔ ظاہر ہے یہ خاکے پڑھ کر ہی اس بے مثال تہذ یبی گھرانے سے آگاہ ہو ا جا سکتا ہے۔یہاں تو فن کی صفائی کی دادہی دی جا سکتی ہے۔
نیلمؔ نے یہ خاکے بے پناہ ہنر مندی سے لکھے ہیں ۔ تحریر میں وہ روانی کہ کہیں جملہ جھٹکا نہیں دیتا۔ الفاظ کے پردے پر تصویریں ، آوازیں اور احوال صاف دِکھائی سُنائی دیتے ہیں۔اب اس نوع کی نثر بے انتہا دل پسند اور قابل مطالعہ ہوتی ہے سو یہ خاکے پڑھنا ایک ایسی اُردو سے متعارف ہونا ہے جومتو ازن اور معتدل ہے۔ ادبی شان رکھتے ہوئے سبک اور ملائم ہے۔ تخّیل، عبارت آرائی اور حسُنِ جملہ سازی سے مالامال ہونے کے باوصف سادہ اور رواں ہے۔ فالتو مضمون آرائی سے گریز اور بلاجَواز تفاصیل وسے پرہیز کے باعث یہ”ٹودی پوائینٹ” نثر پڑھتے ہی دل میں اُتر جا تی ہے۔
دوسری اہم خصوصیت صدق بیانی ہے۔ نیلم نے منافقت پر لعنت بھیج کر جراتِ فکروتحریر اور صدق گوئی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سچائی میں اس نے خود کو بھی معاف نہیں کیا۔ اُس نے اپنے نتائج تو اخذ کیے ہیں لیکن ان کی حتمیت پر اصرار نہیں کیا۔ اس طرح ایک علمی رو اور تجزیاتی لہر اِن ساری تحریروں میں چلتی نظر آتی ہے۔
“سلمٰی سلامت”کے عنوان سے معروف اور معیاری فکشن رائٹر سلمٰی اعوان کا نہایت دلچسپ خاکہ شاملِ کتاب ہے۔ اب واقعہ یہ ہے کہ میں نہ صرف سلمٰی آپا کی تحریروں کا قاری اور مداح ہوں بلکہ کئی ملاقاتوں کے بعد ان کی شخصیت سے بھی کسی حد تک واقف ہوں سو یہ کہہ سکتا ہوں کہ نیلم کے خاکے میں سلمٰی اعوان کی سچّی، سادہ اور کھری شخصیت اس جاذبیت کے ساتھ آئی ہے کہ بے اختیار اُن پر پیار آتا ہے۔ “سلمٰی سلامت”اُردو خاکے میں ایک دلچسپ اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود نیلم کی قوتِ مشاہدہ اور صلابتِ تحریر کا بھی شاہ کار ہے۔ ضروری ہے کہ یہاں نیلم کے ایک اور طاقت ور اور بے باک خاکے “خوشیا”کا ذکر کیا جائے جو افتخار نسیم کا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ عصری اُردو ادب سے جڑا ہوا کوئی بھی شخص افتخار نسیم افتی سے واقف نہ ہو۔ اُس کی منفرد شاعری، مختلف افسانہ نگاری اور منحرف شخصیت نے اُسے مشہور کر رکھا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پا مال روش سے الگ چلنے کے باعث اُس کی شخصیت میں ایک طلسماتی کشش رہی ہے۔ نیلم احمد بشیر نے اس خاکے میں نہ صرف افتی کو بیان کیا ہے بلکہ اُسے سمجھنے کی پر خلوص اور پرُدرد کوشش بھی کی ہے۔ اوّلاً تو یہ خاکہ لکھنا اور ثانیاً اس وسیع القلبی سے لکھنا، نیلم کے دوالگ الگ کارنامے شمار ہوں گے۔ یہ خاکہ پڑھ کر مجھے افتی کے اندر کے انسان سے جو شناسائی ہوئی وہ برطانیہ اور پاکستان میں اُس سے ملاقاتوں پر بھی نہیں ہوئی تھی۔ یعنی یہاں نیلم کی سمجھ اور ہنر، دونوں کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ اب جبکہ افتخار نسیم دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے انٹرویوز، کالمز ، شاعری اور افسانوں کے ساتھ ساتھ یہ خاکہ بھی ہمیشہ حوالے کے طور پر سامنے رہے گا۔ اہم ترین نکتہ یہ کہ خود نیلم، افتی کے طرز زیست سے متفق نہیں ہے۔ لیکن اْسے اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق دے رہی ہے۔
“ہمیں مان لینا چاہیے کہ دنیا میں انسان ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور مختلف طرز کی زندگیاں گذارتے ہیں۔ کسی کو اْس کے مختلف ہونے کی سزا کے طور پر اپنی محبت سے محروم کردینا، تعُصّب میں لتھیڑ دینا کافی غیر انسانی بات ہے ۔ (خوشیا)
نگاہ وقلب کی یہ فراخی احمد بشیر کی بیٹی نیلم کا خاصہ ہے اور اْردو ادب میں، جہاں انفرادی و ذاتی سچ کو حتمی وکائناتی سچ ماننے کا رواج ہے، یہ خاصہ نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ میراجی چاہتا ہے کہ چند اور خوبصورت جملوں کی لّذت میں آپ کو شریک کروں۔
“وہ (ممتاز مفتی) ہمارے اتنے سہیلے تھے کہ ہم سے سہیلیوں کی طرح روٹھ جایا کرتے مگر ناراض کبھی نہ ہوتے تھے۔ سنبل اور میں انہیں منانے کی فکر میں گھلے چلے جاتے۔ جب وہ من جاتے تو پھر وہی فلم بینی، گپیں، رنگ بھری باتیں اور موسیقی کی محفلیں سجنا شروع ہو جاتیں”۔(ایورگرین ٹین ایجر)
“سلمٰی اور میں مختلف ہونے کے باوجود گوُڑھی سہیلیاں ہیں۔ وہ سیدھی سادی باعقیدہ مسلمان ہے اور میں احمد بشیر جیسے باغی انقلابی کی بیٹی ہونے کے ناطے اکثر بغاوت کا پھریرالہرانے لگتی ہوں۔ میرا ذہن مذہب، تاریخ، تہذیب اور عقیدوں روایات سے متعلق خدشات اور سوالات سے انار میں بند دانوں کی طرح بھرا رہتا ہے۔”(سلمی سلامت)” وہ )پروین عاطف)ممتاز مفتی کے قبیلے کی ایک ایسی بنجارن ہے جو ہمیشہ محبت کے اکتارے کی دھن سُن کر جنگلوں میں چھپی پُر اسرار گھاٹیوں کی جانب چل دیتی ہے”۔ (ٹپرواسنی)
اباّ کی بیٹیاں ایک جیسی ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت مختلف بھی ہیں۔کوئی پہیلی ہے تو کوئی سہیلی ہے۔ اک اکیلی ہے تو اک سجیلی ہے اور سب سُریلی ہیں۔(ابا پیا )
“نیلم نے بڑی نوکرانہ طبیت پائی ہے۔منکسر المزاجی اور عاجزی خون میں رچی بسی ہوئی ہے”۔ (چار چاند)
“اورنگ زیب عالمگیر ہر دور میں زندہ رہتا ہے جو گانے والے مردوزن پر پابندیاں لگاتا اور آلاتِ موسیقی کو دفن کرنے کی خواہش رکھتا ہے “۔ (چار چاند)
“ناچ جتنا ایک قدرتی عمل شایدہی کوئی اور ہو۔ ناچ کا مقصد انسانوں کو اپنے آپ سے اور طبعی دنیا کے خیال سے آزاد کروانا ہی تو ہوتا ہے”۔ (چار چاند)
“حُسنِ فن کا شعور آپ کی ذہنی بالیدگی کی دلیل ہوتا ہے۔ سیکولر قدروں میں یہ کشش ہوتی ہے کہ وہ سکھاتی ہیں۔ انسان کبھی مرتے نہیں”۔ (چارچاند)
نیلم احمد بشیر کے خاکوں میں حُسن، جمالیات اور دانش کا اس طرح امتزاج ہوا ہے کہ قیمتی اَدب وجودمیں آیا ہے۔ کتاب”چارچاند”میں متفرق مضامین اور ایک سفرنامہ بھی شامل ہے۔ ان سب پر نیلم کی مُہر لگی ہے۔ یعنی معیار ، دلچسپی اور حُسن۔
یہاں سخت ناانصافی ہوگی اگر اِس کتاب کے دیباچے کا ذکر نہ کیا جائے۔ پروین عاطف نے “ققنس”کے عنوان تلے محنت اور محبت سے شاندار تحریر لکھی ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ وہی لکھ سکتی تھیں۔ نیلم کی زندگی اور فن اس تحریر میں نکھر کر سامنے آئے ہیں۔ مجھے نیلم کی دیگر کتابوں کی طرح اس کتاب نے بھی مسرت اور دانش بخشی ہے۔یہ ہر اُس شخص کے دِل کو چھوئے گی جو ثقافت اور فن کی وساطت سے دنیا کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے۔ جو کشادہ نظری اور برداشت کے طفیل سماج کی رنگا رنگی کو اُس کا حُسن بنا نا چاہتا ہے نہ کہ نفرتوں کی بنیاد ۔ اپنی جان دار نثر ، شان دار اسلوب اور طرح دار مضامین کے باعث یہ کتاب مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ مجھے اِس بات پر فخر ہے کہ نیلم مجھے عزیز رکھتی ہے اور نجی و تقریباتی ملاقاتوں میں قریبی دوستوں کی طرح کھلے دل سے ملتی ہے۔ میں اس مضمون کا اختتام اِسی کتاب کے ایک اقتباس پر کرتا ہوں جو خود نیلم کے فن پر صادق آتا ہے۔
“اَدب آزاد ہوتا ہے وہ کسی تعصّب اور حد بندی کو نہیں مانتا کیونکہ اس کا ایک اپنا ضمیر، اپنی روح ہوتی ہے جو من مانی کرتی ہے۔ سچالیکھک دل کی زمین میں درد گوندھتا ہے۔ کاغذ کو اپنے بھیتر کا بھید بتاتا ہے تو پڑھنے والوں کے ذہن میں روشنی کے پھول کِھل اُٹھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتا ہے جس میں بوڑھو ں کے ماضی اور جوانوں کے مستقبل ضائع نہیں ہوتے “۔
(کتھا ۔ امریکہ کی تقریب میں)

Viewers: 3522
Share