Farkhanda Razvi | Review | سنہرے خواب کی ملکہ۔۔۔غزل انصاری

فرخندہ رضوی۔ ریڈنگ ۔ انگلینڈ سنہرے خواب کی ملکہ۔۔۔غزل انصاری قلم سے محبت کرنے والے ہمیشہ خوابوں کی دنیا تک محدود نہیں رہ سکتے ۔اُن کی دنیا تو لامحدود سی […]
فرخندہ رضوی۔ ریڈنگ ۔ انگلینڈ
سنہرے خواب کی ملکہ۔۔۔غزل انصاری
قلم سے محبت کرنے والے ہمیشہ خوابوں کی دنیا تک محدود نہیں رہ سکتے ۔اُن کی دنیا تو لامحدود سی ہوا کرتی ہے۔کبھی چاند کی تمنامیں نکل کھڑا ہونا،کبھی ستاروں کی تمنا،کبھی پھولوں کی خوشبو میں بسنے کی حسرت لیئے اور پھر سمندر کنارے مچلتی لہروں سے ہزار سوالوں کے متلاشی،مگر آج میرے روبرو سنہرے خواب کی دنیا بسی پڑی ہے۔اور پھراِن سنہرے خوابوں کی دنیا تو ایک شعری مجموعے میں سِمَٹ آئی ہے۔خوابوں کی شہزادی کا نام غزل انصاری ہے۔مجھے کتاب کے اور نام کے حوالے سے اتفاق کرنے میں کچھ دیر لگی کیونکہ مصنفہ کا اصل نام تو مہہ جبین ہے مگر غزل انصاری کے نام سے ادبی حلقوں میں جانی پہچانی جاتی ہیں ۔مصنفہ نے اصلی نام کی پہچان کو کہیں طاق میں رکھ کر ادبی دنیا میں غزل انصاری کے نام سے اپنی شناخت کروائی ہے ۔یہ میرے سے ذیادہ خود مصنفہ ہی جانتی ہوں گئی ۔ایسا کیوں ؟
سنہرے خواب غزل انصاری کا دوسرا شعری مجموعہ ہے اتفاق کی بات کہ انکا پہلا شعری مجموعہ جسکا تذکرہ بہت اَدب نوار شاعروں ،مصنف و ادیبوں نے کیا۔اِس کتاب کے آخری صفحات پر ادھورے سپنے ،،شعری مجموعے کا فراغ دلی سے تذکرہ کیا گیا ہے۔سنہرے خواب کا سرِورق بھی اپنے اندر تمام رنگوں کی آمیزش لیئے ہوئے جتنے مصنفہ کے خواب تھے ۔موسم ،سورج،آسمان سمندر،سبھی غزلوں اور نظموں کا عکس اِس سرورق میں ڈھلا ہواہے ۔اسی عکس میں شعری مجموعے کا عنوان اور خوبصورت دیکھائی دے رہا ہے۔
سنہرے خواب کا انتساب مصنفہ نے اپنے شوہر اور بچوں کے نام کیا ہے یہ بڑی خوش کِن بات ہے کہ جب گھر والوں کا مکمل تعاون ملے وہی آپکے خزانے کے سب سے پہلے حقدار ہوتے ہیں ۔
سنہرے خواب کے اندر جھانکنے کے بعدچند لفظ مصنفہ کے نام کرنا چاہوں گی۔میں نے پہلے مصنفہ کا نام کہیں نہیں دیکھا اور ناسُنا تھا ۔یہ بھی ایک سچ ہے ۔پھر اچانک پچھلے تین چار سال میں غزل انصاری کا نام سُننے میں آنے لگا ۔حالانکہ میرا ہر میگزین اور ہفت روزہ نیوز پیپروں سے پچھلے چوبیس سالوں سے واسطہ رہا ہے ۔لکھنے لکھانے کا سلسلہ طویل عرصے سے ہے۔ایسے ہی پھر ایک دنیا فیس بُک کی شروع ہوئی ایک دن اِسی پلیٹ فارم پر غزل انصاری سے ملاقات ہوگی۔پھر کبھی کبھار سلام ودعا ہو جاتی ۔اِس انجانی سی ملاقات کے بعد گلاسگو میں بزم شعرو ادب کی جانب سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا ۔خوش قسمتی سے میں بھی اُس مشاعرے میں شامل تھی وہاں میری ملاقات غزل انصاری سے ہوئی ۔کچھ لوگ دیکھنے میں ایسے نظر آتے ہیں کہ اُن کی طرف قدم بڑھانا مشکل سا لگتا ہے میں جب غزل انصاری سے ملی تو مجھے اپنے خیالات کچھ بدلنے پڑے بہت ہی پیاری شخصیت ،لَب و لہجہ بے ساختہ،ہم نے ایک ساتھ مشاعرہ پڑھا ۔وہ جو ایک خوف سا اِس مصنفہ کے بارے میں تھا کم از کم دور تو ہوا ۔پھر انہوں نے اپنی کتاب سنہرے خواب مجھے سونپی۔آج میں نے مکمل طور پر سنہرے خواب کا مطالعہ کیا تو مجھے غزل ،نظم دونوں ہی اعلیٰ مقام پر ملیں ۔قلم کی ایک اپنی برداشت ہوتی ہے۔وہ برداشت غزل انصاری کے قلم میں دیکھی ہے میں نے۔غزل انصاری کے بہت سے اشعار میری توجہ کا مرکز بنے ۔۔ایسے ہی کچھ اشعار
تھک گئے تُجھ کو یاد کر کر کے
کیا تُجھے ہم بھی یاد آئیں گے
دل تھکن سے نڈھال ہے اَب تو
آبلہ پا ہی چلتے جائیں گے
میں سمجھتی ہوں سنہرے خواب بہت پُرخلوص قلم کار تخلیقی ذہین رکھنے والی خوبصورت فنکار ہ نے ایک کینوس تخلیق کیا ۔غزلوں اور نظموں کی قوس وقزاح بکھراتی ہی چلی گیءں ۔ایک اچھا تخلیق کار احترام ِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔لفظ جگنو کی مانند ٹمٹماتے ہوئے کبھی غزل اور کبھی نظم بن کر چمکتے ہی نظر آئے۔ایک ایسی ہی خوبصورت نظم میرے مطالعے سے گزری ،
جانے کیوں کے عنوان سے
کب سے ڈھونڈتی ہوں میں
کب سے کھو جتی ہوں میں
گُم شدہ مسافر کو
کب سے سوچتی ہوں میں
شبنمی سا لہجہ تھا
خواب خواب جیسا تھا
جب وہ مسکراتا تھا
پھول کھلنے لگتے ہیں
بات بات ہنستا تھا
مجھ میں جیسے بستا تھا
اس سے مل کے جانے کیوں
مُجھ کو ایسا لگتا تھا
وہ بھی میرے جیسا تھا
اسی طرح بہت سی نظمیں کوئی بتائے،میں کیسے مان لوں ،مگر پھر سوچتی ہوں ،وغیرہ وغیرہ۔۔مجموعی طور پر شعری مجموعہ جاذبِ نظر ہے۔مصنفہ غزل انصاری کی شکر گزار ہوں جس نے اپنی خوبصورت کتاب سنہرے خواب ارسال کر کے مجھے اظہار خیال کا موقع فراہم کیا ۔کہاں تک انصاف کر پائی نہیں جانتی مگر اتنا کہتی ہوں جو لکھا بخدا ایک ایک لفظ دل کی سچائی سے لکھا ۔اپنے اِس قلم کی بھی قرضدار ہوں جس نے میرا ساتھ دیا ۔دعا کرتی ہوں غزل انصاری کی راہیں انہی سنہرے خوابوں سے سجی رہیں ۔
اللہ کرے روزِ قلم اور ذیادہ
پُر خلوص دعاؤں کے ساتھ
Viewers: 9118
Share