Sajid Umar Gil | Short Story | اشرف المخلوقات

ساجدعمر گِل۔ لاہور۔ پاکستان اشرف المخلوقات؟؟ ۔۔۔ بس بہت ہو گیا۔۔۔ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا!! تو کیا کر لو گے تم؟ مَیں؟ ۔۔۔ مَیں بہت کچھ کر سکتا […]

ساجدعمر گِل۔ لاہور۔ پاکستان

اشرف المخلوقات؟؟

۔۔۔ بس بہت ہو گیا۔۔۔ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا!!
تو کیا کر لو گے تم؟
مَیں؟ ۔۔۔ مَیں بہت کچھ کر سکتا ہوں۔
مثلاً۔۔۔!!
مَیں اسے اتنا ستاؤں گا کہ یاد رکھے گا۔
ہُوں۔۔۔ مگر کیسے؟
دیکھو ناں! یہ ہر وقت بس صفائی میں ہی جُتا رہتا ہے۔ عجیب شخص ہے۔ جب دیکھو صفائی، دھلائی۔ ہر شے نک سک سے جمی جمائی ہوتی ہے پھر بھی یہ باز نہیں آتا۔ آدھی رات کو اُٹھ کر آ جاتا ہے۔ کبھی فرش پر پانی پھینکتا ہے۔ کبھی برش چلانے لگتا ہے حتیٰ کہ مرچ مصالحوں اور میٹھے کے مرتبانوں پر لگے ڈھکن اُٹھا اُٹھا دیکھتا ہے۔ کہیں دھول جمی ہو تو کپڑے سے رگڑنے لگتا ہے۔ عجیب شخص ہے۔ بس حد ہوتی ہے ہر بات کی۔ اب مَیں ۔۔۔ بس اب۔۔۔ بس اب مَیں کچھ کر ہی گزروں گا۔۔۔
وہ سب تو ٹھیک ہے۔۔۔ جو کچھ تم نے کہا وہ سب سچ ہے ۔۔۔مگر مَیں نے پوچھا کہ تم آخر کرو گے کیا؟؟
کر تو بہت کچھ سکتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں کیا فائدہ؟ یہ کم بخت ہے تو ہم سے طاقت ور۔ تھوڑا بہت نہیں۔۔۔ بلکہ بہت زیادہ۔ اس سے بدلہ لینے کیلئے کوئی ایسا طریقہ سوچ رہا ہوں کہ اس کا زیادہ سے زیادہ نقصان ہو۔
او بھائی خود ہی سوچتے رہو گے یا کچھ بتاؤ گے بھی؟؟
(اُس کے ساتھی کا تجسس حد سے بڑھ چکا تھا۔ شائد وہ کچھ تنگ بھی پڑ گیا تھا اس بے جا لُکن میٹی سے۔ بہرحال وہ تھا اُس کا وفادار ساتھی۔ تکلیف میں تو وہ خود بھی تھا۔ مگروہ ہمیشہ کچھ خوفزدہ سا رہتا تھا۔ جب سے یہاں آیا تھا اس کی زندگی کو لاحق خطرات بڑھ گئے تھے۔بیٹھے بٹھائے بھگڈر مچ جاتی تھی۔ اِک آفتِ ناگہانی ہمہ وقت تیار ہی رہتی تھی۔ سکون اُس کی زندگی سے گویا رخصت ہو چکا تھا۔۔۔ پھر بھی اس وقت وہ اپنے دوست کے ساتھ تھا اور باتوں باتوں میں اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔ مگر اُس کے ساتھی کا غصہ تھا کہ بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔۔۔ اس کے من میں لگی آگ سارے بدن کو جلانے لگی تھی۔ اس کا کالا رنگ خون کی حدت سے اور بھی سیاہ پڑنے لگا تھا۔۔۔ ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ دروازہ دھڑ سے کھلا ، ایک آدمی فون پر اونچی آواز میں باتیں کرتا ہوا اندر داخل ہوا اور کچن سے ملحقہ برآمدے میں بچھے صوفے پر جیسے ڈھے سا گیا۔ وہ دونوں اُس کی آمد سے کچھ سہمے مگر پھر حواس مجتمع کرتے ہوئے فرج کے پیچھے چھپ کر اُس کی باتیں سننے لگے)
’’۔۔۔ دیکھو حد ہوتی ہے ہر بات کی۔ اب مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ مَیں اس ۔۔۔ کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل کے رکھ دوں گا۔ اب زیادہ چالاکی نہ کرے مجھ سے۔مَیں اپنا بچہ اُس سے واپس لے کے ہی رہوں گا۔ اس نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے۔۔۔ اُس سے کہنا میری شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔۔۔ جتنا عرصہ میرے ساتھ رہی ہے اُس کے نخرے اُٹھاتا رہا ہوں میں۔ بدمزاج، پھوہڑ کہیں کی۔ سمجھتی کیا ہے اپنے آپ کو؟ ہر دم گھر میں گند مچائے رکھتی تھی۔۔۔ کھانا پکانا تو دور کی بات، کھاتی بھی جانوروں کی طرح تھی۔ حد ہوتی ہے زیادتی کی۔ اُسے کہو میرا بچہ مجھے دے دے تو تب ہی مَیں اسے طلاق دُوں گا۔۔۔ وہ اگر انسانوں کی طرح بات نہیں سنتی تواسے کہہ دو اگر میرے اندر کا حیوان جاگ گیا تو مَیں سب کچھ برباد کرکے رکھ دوں گا۔ فون بند کر کے وہ بھناتے ہوا اٹھا۔ اُسے اُٹھتا دیکھ کر وہ دونوں سہمے ہوئے بھاگے پھر کسی محفوظ جائے پناہ کی طرف۔
’’آج تو یہ ظالم بڑے غصے میں ہے!‘‘۔
’’ہاں دیکھو تو کیسے دھمکیاں دے رہا تھا کسی کو!‘‘۔
بس یار آج کل کے انسانوں میں شرافت اور وضع داری سرے سے ناپید ہے۔ ہر دم جھگڑتے اور فساد پھیلاتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں انھیں اشرف المخلوقات کیوں کہا جاتا ہے؟
خیر چھوڑو۔۔۔ اپنے بدلے والے منصوبے کی بابت کچھ بتاؤ۔ مجھے تو اس سے خوف آنے لگا ہے۔ دیکھا کیسے لال پیلا ہو رہا تھا غصے سے۔ آؤ مل کر اسے سبق سکھاتے ہیں۔
ہوش کے ناخن لو۔ اس وقت بدلے کے نہیں بچاؤ کے منصوبے بناؤ۔ یہ آ دھمکے گا ابھی اپنا غصہ نکالنے۔ فرش پر پانی پھینکے گا۔ برش چلائے گا۔ جھاڑ پونج کرے گا۔ پھر کچھ دیر بعد تھک ہار کر بیٹھ جائے گا پنکھے تلے۔ میوزک سُنے گا۔ سگریٹ پھونکے گا۔ پھر دفع ہو جائے گا آوارہ گردی کرنے۔
چلو پھر بھاگ جاتے ہیں۔ یہ چلا جائے تو پھر آئیں گے۔ (اُس کے لہجے میں انتہا درجے کی چالاکی نمایاں تھی۔)
اونہہ۔۔۔ دیکھو تو ذرا تم بھی کیسے انسانوں جیسے مکار ہو گئے ہو۔ بدبخت شرافت سیکھو۔ کیڑے ہی بنے رہو۔ کہیں بگڑ کر انسانوں جیسے ہی نہ ہو جانا۔
ذرا موٹے اور سیانے کیڑے نے اپنے ساتھی کو ٹوکا تو اُس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

Viewers: 3543
Share