Sheikh Khalid Zahid | Article | کراچی میں آٹھواں کتب میلہ

شیخ خالد زاہد، نیو کراچی shzahid2010@gmail.com آٹھواں کراچی بین الاقوامی کتب میلا! سمندر یا دریا کے کنارے رہتے ہوئے کوئی پیاسا مر جائے تو کتنی عجیب اور حیران کن بات […]
شیخ خالد زاہد، نیو کراچی
shzahid2010@gmail.com
آٹھواں کراچی بین الاقوامی کتب میلا!

سمندر یا دریا کے کنارے رہتے ہوئے کوئی پیاسا مر جائے تو کتنی عجیب اور حیران کن بات ہوگی ۔۔۔مدتوں لوگ اس پریشانی میں مبتلا رہینگے کہ جانے کیا وجہ تھی کے اس شخص نے پانی نہ پیا ۔۔۔آپ زیادہ نہ سوچیں مضمون اور عنوان میں توازن آگے آجائے گا ۔۔۔در اصل معاملہ کچھ ایسا ہوجا تا ۔۔۔سمندر کنارے کوئی پیاسا مر جاتا ۔۔۔وہ کوئی اور نہیں ہم ہی ہوتے۔۔۔کتاب دوستی کے دعوے دھرے رہ جاتے ۔۔۔اور ہم اگلے کتب میلے تک فقط آہ و فغاں کرتے رہ جاتے۔۔۔مگر شکر اس خدا کی ذات کا جس نے ایسا ہونے نہیں دیا ۔۔۔پچھلے ایک ماہ سے کتب میلے میں جانے کی ٹھانی ہوئی تھی کہ لازمی جانا ہے۔۔۔مگر بے وجہ کی مصروفیت اور الا بلا کی مرہونِ منت ۔۔۔چھ دسمبر سے شروع ہوا یہ کتب میلہ ۔۔۔جس کے آس پاس سے روز گزرتے رہے ۔۔۔اور دس تاریخ آگئی جو کہ آخری تاریخ مقررتھی اس کتب میلے کی ۔۔۔آفس سے نکلے اور سیدھے سمندر پر پہنچے۔۔۔تب کہیں جاکہ جان میں جان آئی۔۔۔
شہرِ کراچی کی اہم ترین اجتماعی تقریبات کی فہرست جب مرتب کی جاتی ہوگی ۔۔۔تو سب سے پہلے بین الاقوامی کتب میلا لکھا جاتا ہوگا ۔۔۔ میں ایک ایسا میلا شامل ہوچکا ہے جس کو اگر کوئی کراچی والا نہ دیکھنے جائے یا نا جا پائے ۔۔۔تو مندرجہ بالا تحریر ایسے ہی افراد کیلئے لکھی گئی ہے۔۔۔کراچی بین الاقوامی کتب میلا حقیقتا کراچی کے ماتھے پر جھومر سا ہے۔۔۔ایک طرف ویسے ہی دسمبر بھی اب دسمبر نہ رہا ایک عام سے مہینے کی مانند گزرا چلا جا رہا ہے۔۔۔تو دوسری طرف روشنیوں کے شہر کراچی کے تاریکی میں ڈوبے مکین ۔۔۔خوف و دہشت میں سہمے سمٹے کراچی کے مکین۔۔۔اداس زدہ موسم میں رہنے والے ۔۔۔کتابوں کا میلا سجتے ہی یہ کراچی والے۔۔۔ سب باتوں سے بے نیاز ۔۔۔( اگر یوں بھی لکھوں کے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیرتو غلط نہ ہوگا)۔۔۔ جوک در جوک کتابوں اورعلم سے محبت اور دوستی کا ثبوت دینے اس میلے میں بھر پو انداز سے شریک ہوتے نظر آئے۔۔۔یہ فقط زندہ دلی کا مظاہرہ نہیں ہے ۔۔۔ہمارے اس عمل میں دنیا کہ لئے امن کا پیغام پوشیدہ ہے۔۔۔ہم محبت کرنے والے لوگ ہیں ۔۔۔چاہے کتاب ہو۔۔۔ چاہے کرکٹ ہو۔۔۔چاہے اسنوکر ہو۔۔۔ہم اپنے ہرعمل سے محبت اور دوستی کے پیغام کے خواہ ہیں۔۔۔
سچ پوچھئے تو علم کی پیاس وہ پیاس ہے اگر حقیقتاً لگ جائے توشائد سمندر بھی اسے نا بجھا سکے۔۔۔یہ کتابوں کا میلا بھی شائد کسی سمندر سے کم نہیں۔۔۔
اخبارات کے توسط سے معلوم ہوا کہ اس سال ہمارے پڑوسی ملک کے پبلشرز نے بھی اس میلے میں شرکت کی۔۔۔اور تو اور انہوں نے کراچی شہر کے بارے میں وہ خدشات قطعاً مسترد کردئے جو وہ بذریعہ میڈیا دیکھتے یا سنتے تھے۔۔۔ان کے ساتھ ساتھ وہ تمام لوگ بھی قابلِ ستائش ہیں جنھوں نے پاکستان کے دوسرے شہروں سے آکر اس میلے کی رونق کو چار چاند لگائے۔۔۔
کتب میلے کے منتظمین خصوصی ستائش کے مستحق ہیں کہ انھوں نے کتابوں سے دور ہوتی ہوئی اس نسل کیلئے ایک ایسے سالانہ کتب میلے کا اہتمام کیا ۔۔۔یہ میلانسلوں کے درمیان بڑھنے والے پاٹ کو بھی کم کرتا ہے۔۔۔کیونکہ یہاں بچے، بوڑھے اور جوان سب ہی ایک چھت کے نیچے اپنی اپنی تلاش میں سرکردہ نظر آتے ہیں۔۔۔کبھی کوئی بزرگ کسی جوان کی رہنمائی کرتے ہیں تو کبھی کوئی جوان کسی بزرگ کی رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔۔۔یہ اس میلے کی ہی مرہونِ منت ہے کہ ہمارے بچے سال میں کئی بارکتابوں کے اس میلے کا تذکرہ کرتے ہیں۔۔۔کبھی وہاں سے لائی ہونی اپنی من پسند کتاب پڑھتے ہوئے ۔۔۔تو کبھی نئی کتاب لانے کے لئے۔۔۔
آخر میں صرف اس دعا پر اکتفا کرونگا کہ ہم لوگوں نے جو کتابیں خریدیں ان کو پڑھنے اور ان پر مثبت طور پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔۔۔ معاشرے کی تبدیلی کا سر چشمہ یہ کتابیں ہی ہیں۔۔۔
Viewers: 3137
Share