Farkhanda Razvi | Review | ہوا سے پہلے

فرخندہ رضوی۔ ریڈنگ۔ انگلینڈ
farkhandarazvi@hotmail.co.uk
میرے وطن ،میرے شہر کا باسی حنیف تمناؔ
ہوا سے پہلے
کچھ ایسی عادیتں جنہیں ترک کرنا اپنے بَس میں نہیں ہوتا۔ایسی ہی میری ایک پختہ عادت کہ جو مصنف محبت سے میرے ذوقِ مطالعہ کے لیئے اپنی کتاب ارسال کرتے ہیں۔میری خوشی میں اضافہ اورنظریں تشُکر سے جھکنے لگتی ہیں ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ پوری ایمانداری سے کتاب کا مطالعہ کروں پھر اظہار خیال کیلئے لفظوں کو قلم میں پرونا آسان ہونے لگتا ہے ۔کچھ ماہ میری مصروفیت ضرورت سے زیادہ ہی رہی ۔اس مختصر سے عرصے میں میرے چاہنے اور محبت کرنے والوں کی طرف سے کچھ کتابیں مجھے موصول ہوئیں ۔اگر اُن مہربان دوستوں کیلئے چند لفظ نا لکھیں جائیں تو سَرا سر ناانصافی ہو گی۔پہلی کتاب جو میرے ہاتھ میں ہے حنیف تمنا صاحب جن کا تعلق پاکستان کے شہرِ اقبال سے ہے مگر پچھلے پچیس سالوں سے جرمنی کے ایک شہر برلن میں مقیم ہونے کے باوجودادبی سرگرمیوں کو دیس سے پردیس تک لے آنا بہت بڑی بات ہے ۔اجنبی کلچر میں رہنے کے باوجود اردو سے محبت کرنا ،اردو کو زندہ رکھنے کی مترادف ہے۔اِ س بات کی گواہی اِن کا خوبصورت شعری مجموعہ ہوا سے پہلے۔اِس کتاب کا انتساب مصنف نے دو ایسی ہستیوں کے نام کیا ہے جنکا قرضدار انسان آخری سانس تک رہتا ہے ایک ہستی ماں اور دوسری اُن کی بیوی۔
فہرست میں احمد عقیل روبی صاحب اور ڈاکٹر صغرا صدف صاحبہ نے بہت ہی خوبصورتی سے حنیف تمنا کے کلام کو سراہا۔احمد عقیل روبی صاحب کہتے ہیں حنیف تمنا کا اسلوب ،لہجہ اوردھیماپن سارے کا سارا،کلاسیکل شاعری کا ہے۔اِ س رائے سے اتفاق کرنے کے لیئے،ہوا سے پہلے ،شعری مجموعے کو لفظ با لفظ پڑھ ڈالا ۔ڈاکٹر صغرا صدف صاحبہ کہتی ہیں حنیف تمنا کو لفظوں کی حُرمت کا خیال ہے لفظ بھی اِس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔
شاعری تو ایک غیر ارادی عمل ہے جو کہ کسی حساس،منظر یا واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاتی یا پھر ایک لکھاری کے کچھ تجربات اسکے لاشعور میں جمع ہونے لگتے ہیں تو اشعار اُن کے اظہار کا ایک طریقہ بن جاتے ہیں ۔اسی طرح مصنف کے خوبصورت تجربات اشعاروں میںیوں ڈھلنے لگتے ہیں ۔ایک جگہ، ہوا سے پہلے ،شعری مجموعے میں شاعر کہتا ہے۔ نصیب میں تھا نہ دشت کوئی نہ کوئی لیلیٰ ایے قیس ورنہ
ہم اپنے خاموش عشق کی داستاں بھی لازاول کرتے
شکایت ہم نشیں بھی کچھ غلط نہیں ہے مگر تمناؔ
غمِ جہاں سے نجات پاتے تو گھر کا بھی کچھ خیال کرتے
ہوا سے پہلے ،میں شاعر نے عشق،محبت اور امن تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے ۔حنیف تمنا صاحب نے کہیں مشکل لفظیات اور کہیں آسان لفظوں کا ہاتھ تھامے شاعری کا سفر جاری رکھا عام زبان کوبھی اشعار میں ڈھالتے چلے گے ۔ہر اشعار میں یہ خوبی بدرجہ اُتم موجود ہے۔مثلاََ
بُجھا بُجھا تھا صُبح تیرے اعتبار کا دیپ
شَبِ فراق جو روشن ہوئی تو جگنو تھا
تھے کتنے خون کے دھبے بھی اُس کے دامن پَر
وہ جس کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو تھا
ہوا سے پہلے، میں مصنف نے اپنے کلام کو خوبصورت لفظوں کے رنگوں سے خوب سنوارا ہے۔سب شاعر ہی شاید ایک جیسے ہوتے ہیں ۔اجلی صُبح ،سانولی رنگت،پھولوں کی باتیں ۔جدائی کے نغمے۔ملنے کی تمنا لیئے بس اظہار کا طریقہ جُدا جُدا سا ۔اِس کتاب کے مصنف کی کاوش حمد سے لیکرخوبصورت غزلیں اور نظمیں اِس بات کاخود منہ بولتا ثبوت ہیں
ایسی ہی ایک اور مثال۔۔ ۔کہو کسی کو منانے کی آرزو میں کوئی
آپ اپنی ذات سے باہر کہاں تلک آئے
کہتے ہیں شاعرکے اندرمحبت کا ساگر،سمندر سی مچلتی موجوں کا طلاطم نا ہوتو شاعر بے بس اور اشعار کبھی خوبصورتی میں نہیں ڈھلتے ۔ہواسے پہلے ایک خوبصورت کتاب ہے پڑھنے والے کو ہر صفحے پر اشعار ترنم بکھراتے ہوئے ملیں گے۔اِس شعری مجموعے کو یقینََ ادبی حلقے میں پذیرائی ملی ہو گی
میری دعا ہے مصنف کا قلم یونہی چلتا رہے۔ہم خوبصورت اشعار اور اُن کی قابلیت سے استفادہ حاصل کرتے رہیں ۔علامہ اقبال کے ایک اشعار سے اپنی تحریر حنیف تمنا ؔ صاحب کے نام کرتی ہوں ۔
لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے
ایسے لگتا ہے جیسے کوئی قرض ادا کرنا ہے
ڈھیروں کامیابی کی دعا ؤں کے ساتھ
Viewers: 955
Share