منٹو پر جنس پرستی کا الزام لگانا درست نہیں ہے: پروفیسر زماں آزردہ

سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کامنٹو کے ڈرامے کے ساتھ اختتام
میرٹھ، 17؍دسمبر2012،۔ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے شعبۂ اردو میں جاری سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کے تیسرے روز پہلے اجلاس میں مختلف مقامات سے تشریف لائے مہمانان نے سعادت حسن منٹو کے حوالے سے مختلف عنوانات پر اپنے مقالے پیش کیے ۔ سیمینار کی صدارت پروفیسر زماں آزردہ ، پروفیسر طارق چھتاری، عظیم راہی ، ڈاکٹر پردیپ جین، ڈاکٹر صالحہ رشید اور ڈاکٹر قمر الہدیٰ زیدی نے مشترکہ طور پر کی ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر علاؤ الدین نے بہ حسن خوبی انجام دیے ۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر زماں آزردہ نے کہاکہ’’ منٹو سے پہلے افسانہ تھا ، منٹو کے بعدکہانی ہوگئی، منٹو کی کہانی کو آج ہم تبدیل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منٹو پر جنس پرستی کا الزام لگانا درست نہیں ہے۔ منٹو نے جو چیزیں دیکھیں اور جن کو محسوس کیا انہی کو اپنی کہانیوں میں پیش کردیا۔‘‘پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ’’ نئی نسل کے ناقدین نے منٹو کو بہت قریب سے دیکھنے کی کوشش کی ہے، جو قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ منٹو ناقدین کا نہیں بلکہ عام قاری کا فن کار تھا۔منٹو ناقدین کے دل میں اترے یا نہ اترے لیکن قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔‘‘عظیم راہی ،ڈاکٹر صالحہ رشید، ڈاکٹر قمرالہدیٰفریدی اور ڈاکٹر پردیپ جین نے سیمینار میں پڑھے گئے سبھی مقالوں کی تعریف کرتے ہوئے مقالہ نگاروں کو مبارک باد پیش کیں۔سیمینار میں ڈاکٹر احمد صغیر ، ڈاکٹر ایم۔ اے ۔حق ، معین الدین عثمانی، نوشاد مومن ، خورشید حیات، عامر نظیر ڈار، راشد انور راشد، محمد رضی الرحمان ، مشرف عالم ذوقی، نصرت جہاں ، ڈاکٹر علاؤ الدین ، محترم نورالحسنین اور محترمہ رحمت یونس نے مقالے پیش کیے۔
سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کے تیسرے روز دوسرے اور اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر جے ۔ کے۔ پنڈیر( پرووائس چانسلر چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی)نے کی۔ جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد لقمان(وائس چانسلرمولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور) نے شرکت کی ۔مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے منظور احمد (وائس چانسلرسبھارتی یونیورسٹی، میرٹھ )، اے رحمان (چئیرمین عالمی اردو ٹرسٹ )، فاروق ارگلی (سیکریٹری عالمی اردو ٹرسٹ) موجود رہے ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف نے انجام دیے ۔سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کی رپورٹ ڈاکٹر شاداب علیم نے پیش کی ۔اظہارِ تشکرکی رسم پروگرام کے روحِ رواں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری (صدر شعبۂ اردو ) نے ادا کی ۔بعد ازاں عالمی اردو ٹرسٹ کے تعاون سے فلم اینڈ تھیٹر سوسائٹی نئی دہلی کے فن کاروں کے ذریعے سعادت حسن منٹو کا معروف ڈرامہ’’ کالی شلوار‘‘اسٹیج کیا گیا ۔اس موقع پر محمد یونس جمشید، ابراہیم افسر، محمد خالد، ارشاد علی،ساجد علی، سعید احمد ، رخسانہ عثمانی، ایاز احمد ایڈوکیٹ، ضیاء الدین سیفی، طالب زیدی، آفاق احمد خان، شبستاں، تسنیم جہاں ، محمد آصف سیفی ،ریحانہ، مختار احمد، ذیشان خان، مشتاق سیفی، سلیم سیفی، جاوید راؤوغیرہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعدادمیں یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
Viewers: 942
Share