سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کا شاندار انعقاد

منٹو نا قدوں کے ذہن سے محو ہو سکتا ہے مگر قا ری کے ذہن میں زندہ رہے گا: حقانی القاسمی

چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے شعبۂ اردو میں آج ’’سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کا آ غاز ہوا۔جس کی صدارت پرو فیسر زماں آزردہ(سابق،صدر شعب�ۂ اردو،کشمیر یونیورسٹی )نے کی اور مہمانان خصوصی کے طور پر پروفیسر ایس کے کاک(شیخ الجامعہ مہا مایا ٹیکنیکل یو نیورسٹی، نوئیڈا)،ڈاکٹر جہانگیر وارثی(امریکہ)،ڈاکٹر سید فاروق (ایم ڈی ہمالین ڈرگس )اور معروف صحافی محترم سید فیصل علی (صدر سہارا گروپ،اردو)اور مہمانان ذی وقار کے طور پر پروفیسرقاضی زین الساجدین(شہر قاضی،میرٹھ) اور یو نیورسٹی کے فائنانس کنٹرولر شریک ہوئے۔ کلیدی خطبہ حقانی القاسمی نے پیش کیا۔نظامت کے فرائض جناب آ فاق احمد خاں نے انجام دیے۔
پرو گرام کا آ غازمحمدخالدنے تلا وت کلام پاک سے کیا۔مہمانوں نے مل کر شمع روشن کی ۔میزبانوں نے مہمانوں کی گل پوشی کی بعد ازاں ڈاکٹر شاداب علیم نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہو ئے شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کا دس سالہ سفر پر ایک مختصر رپورٹ پیش کی اور صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری نے اس بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کا خاکہ اور تعارف پیش کیا۔سینٹ مومنہ پبلک اسکول، بلند شہر کے بچوں نے قومی ترانہ اور عابد راشد ڈرامہ گروپ نے علامہ اقبال کی مشہور دعا’’لب پہ آتی ہے دعا………..‘‘ کو اسٹیج کر زبردست دادو تحسین حاصل کی۔ساتھ ہی معروف غزل سنگر مکیش تیواری نے اپنی مترنم آواز میں غزلیں پیش کرکے اردو یوتھ فیسٹیول کے آ غاز کو نہایت دلچسپ بنا دیا۔
اس مو قع پر شعبہ کی سابق طالبہ رضیہ بیگم کی کتاب’’گو پال متل:شخصیت اور فن ‘‘اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی کہانیوں کی البم’’ کہانی ندی‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آ یا۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہو ئے پرو فیسر زماں آزردہ نے کہا کہ اردو ایک مشترکہ تہذیب کی دین ہے۔اس زبان میں نوجوانوں کے لیے دیگر مضا مین کے مقابلے طلبا کے روز گار کے زیا دہ مواقع موجود ہیں۔پروفیسر ایس کے کاک نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے ہندوستان میں لڑ کیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی رحم مادر میں مار دیا جاتا ہے۔ معاشرہ میں پھیلی اس لعنت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی تعلیم کا انتظام کیا جائے کہ اس برائی کو ختم کیا جا سکے۔امریکہ سے تشریف لائے ڈاکٹر جہانگیر وارثی نے کہا کہ اردو زبان کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ امریکہ میں اردو زبان کو انگریزی میں پڑھا جاتا ہے اور جنوبی ایشیا میں اس زبان کو یونیورسٹیوں میں ہندی کے ساتھ ملا کر اور علاحدہ بھی پڑھایا جاتا ہے اور اس میں تحقیقی کام بھی کیے جارہے ہیں۔جناب سید فیصل علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ اردو زبان آج دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ سے مل کر گووا، دھارواڑ اور کرنا ٹک میں بھی پھیل چکی ہے۔انہوں نے اردو زبان کی مقبولیت اور طلبا کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان تہذیب و ثقافت اور اخلاقی اقدار کی بقا کے ضامن ہو نے کے ساتھ ساتھ روز گار کے اعتبار سے بھی دوسرے مضامین سے بہتر حالت میں ہے ۔انہوں نے اپنی مثال پیش کی کہ میں ایک عرصۂ دراز تک مغربی ممالک میں انگریزی صحافت سے جڑا رہا ہوں۔لیکن اس کے با وجود اب اردو صحافت کے میدان میں آ یا ہوں اور میری سہولیات دوسری زبان کے صحافیوں سے کہیں بہتر ہیں۔ انہوں نے منٹو کے حوالے سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ منٹو کو سمجھنے کے لیے ہمیں اسی نظریے سے ان کے افسا نوں کو بھی پڑھنا چا ہیے جس نظریے سے انہوں نے انہیں لکھا تھا ۔ 
اپنا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہو ئے حقانی القاسمی نے کہا کہ منٹو نے جتنے افسا نے لکھے ہیں اس سے کہیں زیا دہ قاری پیدا کیے ہیں۔ منٹو نا قدوں کے ذہن سے محو ہو سکتا ہے مگر قا ری کے ذہن میں زندہ رہے گا۔اگر اردو میں نہیں تو انگریزی میں ان دو نوں میں نہیں تو پھر ہندی اور مراٹھی زبانیں منٹو کو زندہ رکھیں گی۔ بہت سے تخلیق کاروں کو تنقید زندہ رکھتی ہے مگر منٹو تنقید کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے آرٹ کی وجہ سے اردو ہی میں نہیں عالمی ادب میں زندہ رہیں گے۔
ڈاکٹر سید فاروق،محترم سید فیصل علی اور قاضی زین السا جدین نے اس مو قع پر کتاب میلے کا افتتاح فرمایا اور بعد میں انہی حضرات نے معروف افسا نہ نگار محمد بشیر مالیر کو ٹلوی کا بنایا ہوا سعادت حسن منٹو کا پوٹریٹ کی رونمائی کی۔
بعد ازاں ’’کہا نی منٹو سے قبل ،کہانی منٹو کے عہد میں اور کہا نی منٹو کے بعد‘‘ موضوع پر سیمینار کے پہلے اجلاس کی مجلس صدارت میں پرو فیسر زماں آ زردہ، ڈاکٹر یونس غازی، ڈا کٹر پردیب جین، ڈاکٹر خالد اشرف ،محترم انجم عثمانی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں محترم اسرار گاندھی،(الہ آ باد)ڈاکٹر حنا افشاں، کانپور،ڈاکٹر خالد علوی، دہلی، ڈاکٹر ابو ذر ہاشمی، کولکاتہ، ڈاکٹر شمس الہدیٰ ،حیدر آ باد اور نور عین حق، دہلی نے منٹو کی افسا نہ نگاری کے تعلق سے مقالات پیش کیے۔
اس مو قع پر منٹو کی تحریر کردہ فلم’’ مرزا غالب‘‘ کی نمائش کی گئی۔اس کے مہمان ڈاکٹر اے کے چو بے اور معروف فلم صحافی محترم سشیل سیتا پوری تھے۔آخر میں ایک شاندار میو زیکل نائٹ بعنوان پرانے اردو نغمے منعقد ہو ئی ۔اس محفل کے مہمان کے طور پر امر اجا لا کے میرٹھ ایڈیشن کے چیف ایڈیٹر محترم شمبھو ناتھ شکلا، محترم سلیم سیفی اور محترم حاجی مشتاق سیفی تھے۔معروف گلو کار نوید خان نے محمدرفیع ، مکیش اور کشور کے ایسے نغمے پیش کیے جو خالصتااردو میں تحریر ہو ئے ہیں۔نوید خان کو اس موقع پر کافی سرا ہا گیا۔
اس موقع پر کثیر تعداد میں عمائدین شہر ،یونیورسٹی اساتذہ و ملازمین اور طلباو طالبات نے شر کت کی۔

Viewers: 1123
Share