Muhammad Abdul Aziz | Review | بچوں کی کہانیاں اور حقیقت

محمد عبدالعزیز سہیل۔ نظام آباد تبصرہ ۔۔۔بچوں کی کہانیاں او رحقیقت مصنفہ : عرشیں فردوس صفحات: 112 قیمت: 200/-روپیئے ملنے کا پتہ: الامیر گرافکس قلعہ روڈ، نظام آباد۔(فون نمبر:9246919091) مبصر: […]
محمد عبدالعزیز سہیل۔ نظام آباد
تبصرہ ۔۔۔بچوں کی کہانیاں او رحقیقت
مصنفہ : عرشیں فردوس
صفحات: 112
قیمت: 200/-روپیئے
ملنے کا پتہ: الامیر گرافکس قلعہ روڈ، نظام آباد۔(فون نمبر:9246919091)
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد(سیل نمبر:9299655396)
کہانی کہنا اور سننا انسان کی فطرت میں شامل ہے ہر انسان کی زندگی کی بھی ایک کہانی ہوتی ہے اور ہر گذرے ہوئے واقعات بھی کہانی کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ کہانی کا مقصد انبساط اور تفریح بھی ہے۔ ماضی میں جب کہ تفریح اور فرصت کے اوقات کو گذارنے کا ذرائع محدود تھے۔ کہانی نے یہ کام کافی عرصے تک انجام دیا۔ پہلے کہانی کتاب کے ذریعے پیش ہوتی تھی۔ آج یہی کہانی میڈیا کے ذرائع ٹیلی ویژن‘فلم اور انٹرنیٹ کے ذریعے پیش ہورہی ہے۔ کہانی کی پیشکشی کا ایک مقصہ اصلاح بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ اصلاح کا کام اگر بچوں کے لئے ہو تو اور اچھی بات ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ بچوں کے مشاغل کمپیوٹر اور ویڈیو گیمس ہوگئے ہیں۔ انہیں کہانی کے ذریعے تربیت دینا اور وہ بھی اردو زبان میں ایک انہونی بات سمجھی جارہی ہے ۔ لیکن آج بھی جن علاقوں میں اردو کا چلن عام ہے اور ادبی رسائل اور اخبارات نکل رہے ہیں وہاں بچوں کا ادب لکھا جارہا ہے۔اور اس کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔
عصر حاضر میں بچوں کے ادب پر بہت کم لکھاجارہاہے البتہ ہمارے ملک ہندوستان میں ملک کے مختلف علاقوں سے بچوں کیلئے ادبی رسالے شائع ہورہے ہیں دور حاضر میں کمپیوٹر ٹکنالوجی اور مختلف گیمس نے بچوں کو مشغول کررکھا ہے ایسے میں والدین کافریضہ ہونا چاہئے کہ اپنی اولاد کو اردو زبان وادب سے واقف کروائیں ساتھ ہی اردو لٹریچر اپنے بچوں کو فراہم کریں تاکہ ان کے اخلاق وآداب سنوارسکیں۔
بچوں کے ادب کے مسائل سے متعلق پروفیسر ابن کنول دہلی یونیورسٹی رقمطراز ہیں:
’’بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنا بچوں کاکھیل ہے اور سنجیدہ تخلیق کار جب چاہے بچوں کے لئے کہانیاں یا نظمیں تخلیق کرسکتاہے لیکن یہ محض خوش فہمی ہے بچوں کا ادب تخلیق کرنا انتہائی مشکل عمل ہے اس لئے بہت کم تخلیق کار اس میدان میں جو ہر دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں بچوں کا ادب تخلیق کرتے وقت بچوں کی پسند اور ان کی سطح پر اترنا پڑتاہے اپنی سوچ کو بچوں کی سوچ سے ہم آہنگ کرنے کے بعد بچوں کیلئے ادب تخلیق کیا جاسکتا ہے ۔‘‘(اردو دنیا، نومبر2012ء ص25)
ضلع نظام آباد ریاست آندھراپردیش کے علاقہ تلنگانہ کا ایک تاریخی تہذیبی و ادبی مرکز ہے یہاں اردو کی مختلف تنظیمیں ہر آئے دن اردو زبان وادب کے فروغ کیلئے مختلف سرگرمیاں انجام دیتی آرہی ہیں ساتھ ہی اردو صحافت کا کردار بھی نمایاں ہے یہاں سے5روزنامے ،10 سے زائد ہفتہ وار اخبارات اور تقریباً10اردو رسائل شائع ہوتے ہیں۔ جس میں بچوں کے ادب سے متعلق ماہنامہ التوحید (ایس آئی او) کی جانب سے اور بچوں کاساتھی شیخاپور ہائی اسکول کی جانب سے شائع ہوتے آرہے ہیں۔راقم الحروف کو نظام آباد سے بچوں کیلئے اردو کا پہلا رسالہ شائع کرنے اور ماہنامہ التوحید کے بانی ایڈیٹر کا بھی اعزاز حاصل ہے یہ کوشش اب سے تقریباً12سال قبل کی گئی تھی۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ضلع نظام آباد اردو زبان و ادب کی ترقی میں پیش پیش ہے۔ اور یہاں بچوں کے ادب کے لئے بھی خاطر خواہ کام ہورہا ہے۔ اور شائد اس کا ایک اچھا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ یہاں سے بچوں کا ادب تخلیق کرنے والی ایک غیر معروف اور ابھرتی ہوئی قلمکار عرشیں فردوس بچوں کے لئے اپنی دلچسپ اور حیرت انگیز کہانیوں کے مجموعے ’’بچوں کی کہانیاں اور حقیقت‘‘ کے ساتھ سامنے آئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ادیبوں کی کتابوں کے لئے اردو اکیڈیمی اے پی کی امدادی اسکیم کے تحت شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں 38کہانیاں شامل ہیں یہ کہانیاں بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز ہیں کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گری راج ڈگری کالج نظام آباد نے ’’قصہ ایک ابھرتی کہانی کار کا‘‘کے عنوان سے لکھا ہے انہوں نے عرشیں فردوس کا تقابل ’’ہیری پورٹر ‘‘ کی رائٹر جے کے رولنگ سے کیا ہے۔اور اس کی وجہہ ان کہانیوں میں شامل Fantasy ہے۔
ڈاکٹر اسلم فاروقی رقمطراز ہیں’’جب مجھے اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کے لئے کہا گیا تو میں نے دریافت کیا کہ یہ کہانیاں کسی اخبار یا بچوں کے رسالے میں شائع ہوئی ہیںیا نہیں تب جواب ملا کہ نہیں !میں نے سمجھا کہ کہانیوں کا معیار اور انداز بیان کم ہوگا لیکن جب میں ایک ایک کہانی پڑھتا گیا تو میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ ان کہانیوں میں نیا پن ہے بچوں کی دلچسپی کا سامان ہے اور ہیری پوٹر کی طرح ان کہانیوں میں بھی مافوق الفطرت اور خیالی عناصرجسے انگریزی میں Fantasyکہتے ہیں اور آج کل کے بچے اس طرح کی باتوں کو بہت پسند کرتے ہیں کا عنصر بھی موجود ہے ۔‘‘(بچوں کی کہانیاں اور حقیقت ص6)
عرشین فردوس نے اپنی اس کتاب کا انتساب اپنے والدین اور اساتذہ منور ضمن اور وسیم احمد کے نام معنون کیا ہے ۔ پیش لفظ کے بعد مصنفہ نے ’’میری کہانی کا سفر‘‘کے عنوان سے دیباچہ لکھا ہے جس میں انہوں نے بچوں کے ادب سے متعلق سیرحاصل گفتگو کی ہے ساتھ ہی اپنا مختصراً تعارف بھی پیش کیا ہے ۔ اور لکھا کہ بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا ان کا مشغلہ رہا ہے۔ جو اب کتابی شکل میں شائع ہورہی ہیں۔ اس کے بعد کہانیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے۔ پہلی کہانی ’’چھوٹا شہزادہ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے جس میں مصنفہ نے کہانی کے اجزاء ترکیبی کو اچھی طرح سے برتا ہے اور ایک کے بعد ایک واقعات کو بیان کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح بادشاہت کیلئے ایک بھائی دوسرے بھائی کا دشمن ہوجاتاہے ۔ دوسری کہانی کا عنوان’’میں نے روزہ رکھا‘‘ ہے اس کہانی میں ایک ننھے طالب علم کی روزہ رکھائی کے واقعہ کورقم کیاگیاہے کہانی کااختتام غریب بچوں کی مدد پر ہوتاہے۔ تیسری کہانی لومڑی اور بھالو کی ہے جس میں لومڑی کی چالاکی اور چوری کے واقعہ کو بیان کیاہے۔ مصنفہ نے کہانی کا اختتام چوری نہ کرنے اور بری عادتوں سے پرہیز کرنے کے پیغام سے کیا ہے۔
تو مرد مسلماں ہے پیغام امن دے
اٹھ اور زمانے کے مقدر کو بدل دے
فاضل مصنفہ نے کہانیوں کے درمیان میں نصیحت آموز باتوں کو معنی ومفہوم کے ساتھ واعظ کے انداز میں بیان کیا ہے جبکہ ایک عنوان ’’ضد‘‘ ہے جس کے متعلق انہوں نے بچوں کو سمجھایا ہے کہ وہ ضد نہ کریں ورنہ ہمارے ماں باپ ناراض ہوتے ہیں ہمیں ضد کرکے انہیں پریشان نہیں کرنا چاہئے۔ اسی طرح ’’دوست‘‘ کے عنوان سے دوستی کے رشتہ پر مصنفہ نے سیرحاصل گفتگو کی ہے اور احادیث کے ذریعہ اچھی دوستی کی مثالیں پیش کی ہے۔ ’’ایکتا‘‘ کے عنوان سے شامل کہانی میں جنگل کے جانوروں کے اتحاد کا ثبوت ملتا ہے اور یہ کہانی تجسس کا انداز لیئے ہوئے ہیں مصنفہ نے اس حیوانی کہانی کے ذریعہ اخلاقی سبق دیا ہے۔
دیگر اہم کہانیوں میں ’’ننھی گلہری‘‘ ’’چاند کا سفر‘‘ ’’کولے کی کہانی‘‘ ’’خزانے کی تلاش‘‘وغیرہ شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب مکمل طورپر بچوں کی کہانیوں پر مشتمل نہیں ہے بلکہ اس میں وعظ اور نصیحت کی باتوں کو بھی کہانیوں کے درمیان میں شامل کیاگیاہے۔ کہانیوں کا انداز واقعاتی ہے۔اور بیانیہ اسلو ب اختیار کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں شامل جنگل کی کہانیوں میں جانور انسانوں کی طرح بات کرتے ہیں۔ اور انہیں نئے زمانے کے انسانی مشاغل جیسے جاسوسی اور اولمپک کھیلوں میں شرکت وغیرہ کی طرح دکھایا گیا ہے۔ جو کہانی کار کی تخلیقی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے۔چونکہ کہانی کار بچوں کے ادب میں نئی ہیں۔ اور ان کی یہ پہلی تخلیق ہے۔ اس لئے ان کی کہانیوں میں بعض فنی کوتاہیاں ہیں جسے وہ بچوں کے ادب کی معیاری کہانیوں کے مطالعے سے دور کرسکتی ہیں۔ ان کی بعض کہانیوں میں کہانی کے اجزاء کو برابر نہیں برتا گیا ہے کہانی کے واقعات ایک دوسرے سے مربوط نہیں ہیں یعنی کہانیوں کا پلاٹ مربوط نہیں ہے لیکن پھر بھی مصنفہ کی یہ کوشش قابل ستائش ہے کیونکہ ادب کے میدان میں وہ بھی نوآموزقلمکار اوراردو ادب کی طالب علم ہیں۔ انہوں نے اچھی کوشش کی ہے ان کی اس کوشش کو سراہنا چاہئے اور اس کتاب کو مدارس اور تعلیمی اداروں کے کتب خانوں میں شامل کرتے ہوئے ان کی ہمت افزائی کی جانی چاہئے ۔ موجودہ دور میں بچوں کے ادب کی جانب بہت ہی کم توجہ دی جارہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں میں اردو ادب کا ذوق اور اچھے اخلاق پیدا کریں اس کے لئے اردو لٹریچر فراہم کریں اور نئی نئی کتابیں خرید کردیں تاکہ ہمارے یہ بچے اردو ادب کے فروغ اور ملک کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار انجام دے سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب کا ٹائٹل بہت ہی عمدہ اور جاذب النظرہے کتاب میں املے کی غلطیاں اور پروف ریڈنگ کی غلطیاں نمایاں طورپر دیکھی جاسکتی ہے۔ کتاب کی قیمت200روپیئے رکھی گئی ہے جس کی خریدی بچوں کے بس میں ممکن نہیں ۔ اس طرح کی کتابوں کی قیمت کم رکھی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے ان سے استفادہ کریں۔ توقع کی جاتی ہے کہ مصنفہ کی اس پہلی کوشش کو علمی اور ادبی حلقوں میں بنظرتحسین دیکھاجائے گا۔
اگرہو جستجو صادق تو ناکامی نہیں ہوتی
جو ہو منزل کا متوالا وہ منزل پاہی لیتا ہے
***
Viewers: 14527
Share