شاعری میں ہمت بڑھانے میں میرے والدین نے اہم کردار ادا کیا ہے: شاعرہ مونانجمی

مونا نجمی تخیلات کی کچھ ایسی تشبہیات و استعارات سے بیان کرتی ہیں کہ پڑھنے والا انکی ہمہ گیریت اور چاشنی میں غرق ہو جاتا ہے۔ ممتاز و شاعر مصور اور خطاط انور انصاری
جدہ: (نمائندہ خصوصی) مونا نجمی جدہ میں مقیم نئی نسل کی معروف شاعرہ ہیں انہوں نے ۹برس کی عمر سے شاعری کا آغاز کیا پھر چند برسوں سے مشاعروں میں جب کلام سنانا شروع کیا تو انکی خاصی پزیرائی ہوئی۔وہ کہتی ہیں کہ انکی شاعری میں ہمت بڑھانے میں ان کے والدین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے پہلا مشاعرہ جدہ میں پڑھاجس میں پاکستان اور بھارت کے شعراء موجود تھے۔یہ ماورا لیڈیز آرگنائزیشن کی جانب سے سال کا بہترین شاعرہ کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔انہیں جدہ میں رساچغتائی، انور مسعود اور امجد اسلام امجد کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔پاکستان کے قونصل جنرل سالک خان کی صدارت میں بھی کلام پیش کر کے سامعین سے ڈھیروں دادو تحسین حاصل کر چکی ہیں۔معروف شاعرہ نورین طلعت عروبہ نے موناکی شاعری کو تازہ ہوا کا جھونکاقرار دیا ہے۔جدہ میں مقیم پاکستان کے ممتاز و شاعر مصور اور خطاط انور انصاری نے مونا کی شاعری کے حوالے سے حالیہ اخباری بیان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاعری لفظوں کے ہیر پھیر کا نام نہیں بلکہ اپنے احساسات جذبات تصورات تجربات مشاہدات اور تخیلات کے قامت کو دلفریب لفظوں کی پوشاک سے مستور کرنے کا نام ہے۔ اسی لئے ایسی گراں مایہ متاع شاعری سمیٹتے سمیٹتے جب کسی سخن گوکی عمر جا کر زبان خلق اسے دل سے شاعر تسلیم کرتی ہے۔مگر مونا نے ان تمام حقائق کو باطل ثابت کر دیا ہے۔مونا اپنے تخیلات کی کچھ ایسی تشبہیات و استعارات سے بیان کرتی ہین کہ پڑھنے والا انکی ہمہ گیریت اور چاشنی میں غرق ہو جاتا ہے۔مونا نجمی کی ایک منتخب غزل پیشِ خدمت ہے
اپنی خود جگ ہنسائی کرتے ہیں
جو کسی کی برائی کرتے ہیں
Viewers: 1700
Share