Muhammad Abdul Aziz Sohail | Review | تند دھڑکنوں کا بھنور

محمد عبدالعزیز سہیل۔ نظامآباد
تند دھڑکنوں کا بھنور
مصنف : محمد انیس فاروقی
صفحات: 128
قیمت: 250/-روپیئے
ملنے کا پتہ: نورجبیں مکان نمبر9-4-611/82، معراج کالونی،ٹولی چوکی۔حیدرآباد(سیل نمبر:9848395356)
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد(سیل نمبر:9299655396)

ترقی پسندتحریک نے اردو ادب کو تین اصناف آزاد نظم، رپورتاژنگاری اور افسانہ نگاری کا تحفہ دیا ۔ مختصر افسانہ یا شارٹ اسٹوری (مختصر کہانی) کوکہتے ہیں۔ مختصر افسانہ دراصل قصہ گوئی کی جدید قسم ہے جس کاآغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوتا ہے ترقی پسندوں نے اس صنف کے ذریعہ زندگی کے نقطہ نظر کی ترجمانی کی۔ مختصر کہانی کی اہم خصوصیت اس کہانی کا وحدت تاثر ہوتاہے۔ جس میں افسانہ نگار کسی واقعہ کو کرداروں کے ذریعہ پیش کرتے ہوئے زندگی کی کوئی ایک جھلک پیش کرتاہے۔ افسانہ نگاری ناول نگاری کے بعد ترقی پذیر ہوئی موجودہ دور میں مختصر کہانی (افسانہ نگاری) کوکافی اہمیت حاصل ہے۔ زندگی کی بڑھتی رفتار اور وقت کی کمی نے جہاں ناول کو زوال پذیر بنا دیا وہیں افسانہ کی مقبولیت کا سبب بنا۔ صحافت کے آغاز اور اردو رسالوں نے افسانہ نگاری کے ارتقاء میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ اردو کے ابتدائی افسانہ نگار کی حیثیت سے منشی پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، کرشن چندر ‘منٹو عصمت بیدی ‘ راشدالخیری کی شناخت کی گئی ہے ۔ منشی پریم چند نے اپنے افسانوں میں اصلاح کے جذبہ کو فروغ دیا اور حقیقت نگاری کو اہمیت دی ہے ۔
جنوبی ہند کا شہر حیدرآباد اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں سے کئی اچھے افسانہ نگار پیدا ہوئے۔ جنہوں نے فن افسانہ کی آبیاری کی۔ رفیعہ منظور الامین ‘جیلانی بانو‘اقبال متین، عاتق شاہ ‘بیگ احساس وغیرہ دکن کے چند ایک مشہور افسانہ نگاری ہیں۔ اسی سفر کو جاری رکھتے ہوئے جدید افسانہ نگاروں کی فہرست میں ایک اہم نام محمد انیس فاروقی کا بھی ہے۔ جو پیشہ سے سیول انجینئر ہیں ۔لیکن ادب کا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ اور فن افسانہ نگاری میں نام پیدا کرتے ہوئے اپنے چھ افسانوی مجموعے پیش کرچکے ہیں۔ انیس فاروقی کا پہلا افسانہ 1975ء میں ماہنامہ شمع نئی دہلی میں شائع ہوا۔انہوں نے 1975ء سے ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ادب کے میدان میں اپنی شخصیت کا لوہامنوایا ہے ’’تند دھڑکنوں کا بھنور‘‘ محمد انیس فاروقی کا چھٹا افسانوں کا مجموعہ ہے جو اسی ماہ شائع ہواہے۔’’تند دھڑکنوں کا بھنور‘‘سے قبل محمد انیس فاروقی کے جو پانچ افسانوں کے مجموعہ شائع ہوئے وہ ’’ریزہ ریزہ چاندنی‘‘ 1994ء ’’کرچی کرچی خواب‘‘1998ء ’’سائبان2003ء‘‘ ’’گماں سے آگے‘‘ 2006ء ’’شفق کے سائے‘‘ 2009ء ہیں۔اچھے افسانہ نگار کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے اطراف پر نظر رکھے اور اپنے ماحول سے کہانیوں کا انتخاب کرے۔ محمد انیس فاروقی نے بھی یہی کیا اور اپنے سماج کے مشاہدے سے اپنی کہانیوں اور افسانوں کے لئے موضوعات کا انتخاب کیا۔محمد انیس فاروقی کے افسانوں کے موضوعات کے متعلق پروفیسر بیگ احساس رقمطراز ہیں ’’انیس فاروقی اپنے افسانوں کے موضوعات کاانتخاب متوسط اور اونچے متوسط طبقہ سے کرتے ہیں۔ جیسے لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ، جہیز کے مطالبات،لڑکوں کے انتخاب میں مال و زر کی اہمیت، جائیداد کے لئے بھائی بھائی کا دشمن ہوجانا، جائیداد کے لئے اپنے باپ سے نفرت کرنا،بیرونی ممالک میں ملازمتوں کے مسائل عرصہ بعد خاندانوں کا ملنا اور پھر قدرت کے آگے انسان کی بے بسی، فسادات وغیرہ۔(پیش گفتار ،گماں سے آگے ، ص7)
زیر تبصرہ کتاب ’’ تند دھڑکنوں کا بھنور‘‘ میں12؍افسانے شامل ہیں۔ کتاب کا پیش لفظ جنوبی ہند اور حیدرآباد کی ہی ایک نامور ادیبہ و افسانہ نگار و ڈرامہ نگار محترمہ قمر جمالی نے لکھا ہے ۔ اپنے پیش لفظ میں انہوں نے محمد انیس فاروقی کے افسانوں کے متعلق لکھا ہے کہ’’اس مجموعے میں شامل افسانوں کو پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ موصوف کی زبان سادہ مگر اغلاط سے پاک ہے ۔ انہیں زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے انیس فاروقی لفظوں کو ان کے سباق و سیاق میں استعمال کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ افسانوں کے موضوعات بڑے سیدھے سادھے ہیں۔ موضوع سخن معاشرتی تہذیبی وخاندانی اقدار کا احترام اور ان کی حفاظت ہے ۔ خاندانی مسائل چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور غم ہلکاپھلکا رومان یہ سارے لوازمات قاری کو ایک تازہ ہواکے جھونکے کی طرح چھوکر گذرجاتے ہیں۔‘‘(پیش لفظ تند دھڑکنوں کا بھنور ص13)۔
پیش لفظ کے بعد کتاب میں محمد انیس فاروقی کی افسانہ نگاری پر ایک تجزیاتی مضمون شہر نظام آباد کے ایک استاد شاعر اور محمد انیس فاروقی کے بڑے بھائی محمد ایواب فاروقی صابرؔ نے تحریر کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب کا پہلا افسانہ ’’منگل سوتر‘‘ ہے جس میں انہوں نے متوسط گھرانے کی حقیقی زندگی کو اپنے کہانی کا موضوع بنایا ہے ۔ روی نامی شخص کی بیوی سنیتا جو اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور روی کو کینسر کے مرض سے نجات دلانے کیلئے اپنے سہاگ کی نشانی منگل سوتر کو فروخت کردیتی ہے لیکن اسی دوران روی کا انتقال ہوجاتاہے۔ اور یہ روی کے ماں کی کہی یہ بات پوری ہوتی ہے کہ اس منگل سوتر کی حفاظت کرنا یہ تمہارے سہاگ کی نشانی ہے۔بہت ہی اچھوتے اور سادہ سلیس انداز بیاں کے ساتھ زندگی کی حقیقت کو انیس فاروقی نے اپنے اس افسانے میں بیان کیا ہے ۔ جس سے ان کے فن کی پختگی اور زبان و بیان پر دسترس کا اندازہ ہوتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب کا چھٹا افسانہ ’’امن کے سوداگر‘‘ ہے جس میں افسانہ نگار نے بہت ہی خوبصورت انداز میں فسادات کے واقعات اور امن کی کوششوں کو بیان کیا ہے۔ قاری کے سامنے افسانے کے اختتام پر فسادات کی وجہ کو بیان کیا ہے اور امن کی سیاست کے کھیل کو سلیس انداز بیان میں پیش کیا ہے یہ تمام واقعات موجودہ حیدرآباد کے حالات پر صادق آتے ہیں۔
تند دھڑکنوں کابھنور کا آخری افسانہ ’’پگلی‘‘ ہے اس افسانہ میں افسانہ نگار نے ایک یتیم اور بے سہارا لڑکی نازیہ اور ایک یتیم لڑکا افروز کے محبت کی داستان کوبیان کیا ہے اور زندگی کی حقیقی خوشی اور خدا کی نعمتوں کو یاد دلایا ہے ۔
زیر تبصرہ کتاب کے تمام افسانوں میں کہانی کے تمام واقعات، کردار، ماحول ، غرض کے ہر پہلوکااحاطہ کرتے ہوئے قاری کو وحدت تاثر کی طرف لے جاتے ہیں محمد انیس فاروقی نے اپنے افسانوں میں زندگی کی حقیقتو ں کو بیان کیا ہے ۔مندرجہ بالا تین افسانوں کے علاوہ اس کتاب میں شامل دیگر افسانوں کے موضوعات اس طرح سے ہیں بھوک، ممتا، تند دھڑکنوں کا بھنور، راہیں ہوئیں آساں، بے لوث جذبے، تبدیلی، پناہ گاہیں، سمجھوتہ ،اپناگھر۔انیس فاروقی کو زبان وبیان پر قدرت حاصل ہے۔ وہ منظر نگاری سے کہانی کا ماحول بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے حیدرآباد کی فضاء کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ اصلاح کا مقصد ان کے پیش نظر رہا ہے۔ اس لئے ان کے افسانوں میں انجام خیر کی جانب ہوتا ہے۔ عصر حاضر کے مسائل اور ان کا حل ان افسانوں کی بڑی خوبی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب کا ٹائٹل بہت ہی خوبصورت ہے کمپیوٹر کی عمدہ کمپوزنگ کے ساتھ ہی دیدہ زیب عبارت سے آراستہ کتاب کی قیمت 250/-روپیئے رکھی گئی ہے ۔ اردو افسانے کے اس سفر میںیہ کتاب اہم اضافہ ہے۔ امید کے اس صنعتی اور ترقی یافتہ دور میں انیس فاروقی کی یہ کتاب پسند کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور ادبی حلقوں میں اس کتاب کی بے حد پذیرائی ہوگی۔
***

Viewers: 1227
Share