Dr. Muhammad Aslam Farooqi | Review | عرفانِ ادب

نام کتاب : عرفان ادب ۔ادبی و تنقیدی مضامین
نام مصنف : ڈاکٹر محمد ابرارالباقی
نام مبصر : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صفحات : 128
قیمت : 200روپئے
اکیسویں صدی بڑی تبدیلیوں اور تیز رفتار ترقی کی صدی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ سے معلومات کاایک سیل رواں بہہ رہا ہے۔ دنیا گلوبل ولیج میں سمٹ گئی ہے۔ لیکن انسانی مصروفیات بہت بڑھ گئی ہیں۔ وقت کی کمی کا احساس لئے انسان مشینی زندگی گزار رہا ہے۔ زندگی کی اس ہما ہمی میں دیگر زبانوں کی طرح اُردو زبان بھی نئی صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہورہی ہے۔ اور اُردو زبان وادب کی وراثت نئی نسلو ں کو منتقل ہورہی ہے۔ اُردوکی جامعات کے قیام اور اُردوشعبہ جات میں نئے اساتذہ کے تقررات اس امید کو ظاہر کرتے ہیں کہ اُردوکا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ اُردوکے فروغ کے لئے قومی و ریاستی سطح پر ادارے اور اکیڈیمیاں کام کر رہی ہیں۔ اور زبان و ادب کی سرپرستی کے ذریعے اُردو کو استحکام بخشنے کی کوشش کر رہی ہیں۔آندھرا پردیش کی اُردو اکیڈیمی اپنے ذیادہ بجٹ کے اعتبار سے ملک کی سر فہرست اُردواکیڈیمی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس اکیڈیمی کے تحت فروغ اُردو کی کئی اسکیمات رو بہ عمل لائی جارہی ہیں۔ ان اسکیموں میں اُردو کتابوں کی اشاعت کے لئے ادیبوں کی مالی اعانت کی اسکیم بھی ہے۔ جس کے تحت اُردو کی سبھی اصناف میں معیاری کتابوں کی اشاعت عمل میں آرہی ہے۔ اور شاعری ‘افسانہ‘تحقیق و تنقید پر مشتمل ادب کا قیمتی سرمایہ محفوظ ہورہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عرفان ادب‘‘ بھی اسی ادبی سرمایہ کا ایک حصہ ہے۔ جو اُردو اکیڈیمی کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمد ابرارالباقی اسسٹنٹ پروفیسر و انچارج صدر شعبہ اُردو ساتاواہانا یونیورسٹی کریم نگر ہیں۔ یہ کتاب ڈاکٹر محمد ابرارالباقی کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس سے قبل ان کی تحقیقی کتاب’’تصانیف ڈاکٹر زور کی وضاحتی کتابیات ‘‘ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبول ہوچکی ہے۔اور اُردو اکیڈیمی نے اس کتاب کو انعام بھی دیا ہے۔’’عرفان ادب‘‘ کتاب میں شامل مضامین صاحب کتاب کے وہ مضامین ہیں جو انہوں نے قومی سطح پر ملک کی مختلف جامعات میں منعقد ہونے والے ادبی سمیناروں میں مقالے کی شکل میں پیش کئے تھے۔ اور بعد میں اُردو کے معیاری رسائل میں ان کی اشاعت عمل میں آئی تھی۔ اور اب یہ مضامین’’ عرفان ادب‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوکر محفوظ ہوچکے ہیں۔
’’ عرفان ادب‘‘ کے آغاز میں ’’ پیش گفتار‘‘ کے عنوان سے اُردو کے نامور محقق و نقاد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے پیش لفظ لکھا ہے ۔وہ ڈاکٹر محمد ابرار الباقی کے ان مضامین کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ ان کے مطالعے کی وسعت اور نظر کی گہرائی کا اندازہ ہوا۔ متعلقات مو ضوع پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے۔ اور زبان وبیان کی نزاکتوں کا وہ خیال رکھتے ہیں۔ ۔۔۔ ڈاکٹر محمد ابرارالباقی نے ان مضامین میں کچھ ایسے نئے پہلو نکالے کہ تھوڑا ہی سہی اقبالیات میں ان کی حیثیت امتیازی ہوجاتی ہے۔ و نیز انہوں نے مضامین میں اپنے زاویہ نگاہ سے کام لیا ہے۔(سلیمان اطہر جاوید۔ عرفان ادب۔ ص۔5)
’’عرفان ادب باقی‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد نسیم الدین فریس اسوسی ایٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کتاب پر تعارفی مضمون لکھا ہے۔ وہ اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔
’’ ان مضامین میں کہیں تحقیق کا پٹ ہے تو کہیں تنقید کا رنگ چوکھا نظر آتا ہے۔ منصنف نے ان مضامین میں نہائت ذہانت سے اس کی تشریح و تفسیر کی ہے۔ ان کا زاویہ نگاہ تاثراتی ہے۔ ان مضامین میں انہوں نے تفہیم و تحسین کے ساتھ ساتھ موضوع کی عصری معنویت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ۔۔ ان مضامین میں ان کا رویہ ہمدردانہ اور لب و لہجہ درد مندانہ ہے۔ ان میں قومی و ملی کے ساتھ اردو زبان و ادب کو اعلیٰ ترین رفعتوں پر دیکھنے کی تمنا کروٹیں لیتی نظر آتی ہے۔(ڈاکٹر محمد نسیم الدین فریس۔ عرفان ادب۔ ص۔8)
’’ عرفان ادب ‘‘کے مصنف ڈاکٹر محمد ابرار الباقی نے ’’ کچھ مضامین کے بارے میں‘‘ عنوان کے تحت اپنی مضمون نگاری کی روش بیان کی ہے۔ اور لکھا کہ’’ میں نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ آج سے ایک صدی قبل ادب میں پیش ہونے والے خیالات کا عصر حاضر کی زندگی کے مسائل کی روشنی میں مطالعہ کیا جائے۔ اور ان سے موجود زمانے کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے‘‘۔
’’ عرفان ادب‘‘ مجموعے میں کل10 تحقیقی و تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ جنہیں ادبی شخصیات اور اصناف سخن کے زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ میر تقی میر‘اقبال‘اکبر الہ آبادی‘چکبست اور فیض سے متعلق مضامین شخصیات کی ادبی و صحافتی و ملی خدمات کا احاطہ کرتے ہیں ۔خاکہ نگاری اور آزاد نظم سے متعلق مضامین اصناف سخن کی باریکیوں کو واضح کرتے ہیں۔ مضمون ’’میر تقی میر ایک عہد ساز شاعر‘‘ میں میرؔ کی شاعری کی خصوصیات کو ان کے کلام کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ دل اور دلی کی تباہی کے تذکرے اور میرؔ کے غم کی آفاقیت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ابرار الباقی لکھتے ہیں:
’’ میرؔ کا غم آفاقی تھا۔ اس لئے آج بھی ہر غم ذدہ میرؔ کی شاعری میں اپنا غم تلاش کرتا ہے۔
دل اور دلی گرچہ دونوں ہیں خراب
پر کچھ لطف اس اُجڑے نگر میں بھی ہے
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاؤگے سنو یہ بستی اُجاڑ کر (عرفان ادب۔ ص۔25)
’’ اکبر کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری ‘‘ مضمون میں اکبر کے کلام کے حوالے سے ان کی شاعری کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ اور اکبر کے ملی جذبے و زمانہ شناسی کو خراج پیش کیا گیا ہے۔ اکبر کی شاعری کے بارے میں ڈاکٹر محمد ابرار الباقی لکھتے ہیں:
’’ اکبر کی شاعری پیامیہ ہے۔ ان کی شاعری سے وطن دوستی ‘مشرقی تہذیب سے محبت کا سلیقہ اور اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری کا سبق ملتا ہے۔( عرفان ادب۔ ص۔43)
مضمون’’ قومی یکجہتی اور اقبال‘‘ میں اقبال کے نظریہ قومی یکجہتی کو ان کی نظموں کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔ مضمون میں قومی یکجہتی کی تعریف اور اس کی ضرورت اور اہمیت کو جس انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔ وہ ہندوستانی تناظر میں اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر باقی نے لکھا کہ ’’قومی یکجہتی کا پیغام عام کرنے کے لئے عوامی طور پر مقبول زبان کی ضرورت پڑتی ہے۔ او ریہ کام اُردو زبان نے بخوبی انجام دیا ہے۔اقبال کے قومی یکجہتی کے پیغا م کی عصری معنویت ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ابرار الباقی لکھتے ہیں:
’’ اقبال کی شاعری سے فیضیاب ہونا آنے والی قوموں کی ذمہ داری ہے۔ اقبال کا نظریہ قومی یکجہتی واضح ہے۔ کسی شاعر کا ایک گیت ہی ساری قوم میں اتحاد پیدا کر سکتا ہے۔ اور وہ گیت اقبال کا ترانہ ہندی ہے۔ اگر اقبال کے نظریہ قومی یکجہتی سے کام نہیں لیا گیا اور لوگ مذہب‘زبان اور کلچر کے نام پر لڑتے رہیں تو ان کی ترقی ممکن نہیں۔( عرفان ادب۔ ص۔58)
مضمون ’’چکبست ایک محب وطن شاعر ‘‘ میں ڈاکٹر محمد ابرارالباقی نے چکبست کے جذبہ حب وطن کو خراج پیش کیا ہے۔ اور ان کی نظم ’’ خاک وطن‘‘ کے تجزیے کے ذریعے واضح کیا کہ چکبست نے لوگوں کو ہندوستان کے ذرے ذرے سے پیار کرنا سکھایا اور اس کے ذریعے لوگو ں میں وطن کی محبت کا جذبہ پروان چڑھایا۔ مضمون’’ تحریک آزادی کا بے باک صحافی محمد علی جوہر‘‘ میں محمد علی جوہر کی صحافتی خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اور ان کے مروجہ صحافتی اصول بھی بیان کئے گئے ہیں۔ مضمون’’ جنوبی ہند کے معمار تعلیم ڈاکٹر محمد عبدالحق‘‘ میں علاقہ کرنول کے نامور ماہر تعلیم محمد عبدالحق کرنولی کی تعلیمی و ملی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ مضمون’’ ڈاکٹر زور۔دکنی ادب کے معمار‘‘ میں ڈاکٹر محمد ابرارالباقی نے دکنی ادب کے کوہ نورزور صاحب کی دکنی زبان و ادب کے فروغ‘اور بہ حیثیت شاعر‘نقاد‘محقق اور ماہر لسانیات‘‘ ان کی خدمات کا احاطہ کیا ہے۔ فیضؔ کی نظم ’’ صبح آزادی ‘‘ کا سیاسی ‘سماجی و ادبی تناظر میں تجزیہ کیا گیا۔فیض کی نظم کا یہ شعر ؂
یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
کے حوالے سے ڈاکٹر محمد ابرار الباقی لکھتے ہیں:
’’ یہ نظم فطرت کے اس اٹل قانون کی طرف اشارہ کرتی ہے جسے تقدیر کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ تقدیر پر بھروسہ نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے تقدیر لکھیں گے۔ لیکن آخر میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان اپنے لئے بہت کچھ سوچتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو قدرت اور فطرت کا قانون ہے۔( عرفان ادب۔ ص۔107)
مضامین’’ آزاد نظم ایک مطالعہ‘‘ اور ’’اُردو میں خاکہ نگاری کی روایت‘‘ اپنے موضوع پر خاطر خواہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر ڈاکٹر محمد ابرار الباقی کے یہ ادبی تحقیقی و تنقیدی مضامین معلوماتی ہیں۔ انداز تنقید تاثراتی ہے۔ موضوع کی تفہیم و تشریح کے ساتھ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور مصنف نے اپنی رائے کو امانت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اردو ادب کے طالب علموں کے لئے یہ تاثراتی مضامین ادب کی تفہیم میں ضرور معاونت کریں گے۔ جس کے لئے ڈاکٹر محمد ابرا لباقی مبارک باد کے لائق ہیں۔ امید ہے کہ وہ ادب کے دیگر گوشوں پر بھی اپنی ہمداردانہ اور تاثراتی نظر ڈالیں گے۔ اور اردو ادب کے خزانے سے قیمتی موتی ڈھونڈ لائیں گے۔ عمدہ کتابت و طباعت سے آراستہ 200 روپئے قیمت والی یہ کتاب ہر ادب کے طالب علم کے زیر مطالعہ ہونی چاہئے۔ اور کتب خانے کی زینت بننی چاہئے۔آئی ایس بی این نمبر کے ساتھ یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤز نئی دہلی نے شائع کی ہے۔ کتاب مصنف سے ان کے فون:9440717525پر رابطے کے ساتھ حاصل کی جاسکتی ہے۔ اردو کتابوں کی اشاعت میں ادیبوں کا مالی تعاون کرنا اردو اکیڈیمی اے پی کا مستحسن اقدام ہے۔ جس کے لئے اکیڈیمی کے موجودہ سکریٹری ڈائرکٹر ڈاکٹر ایس اے شکور بھی مبارک باد کے حق دار ہیں۔
مبصر
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ کالج نظام آباد

Viewers: 1895
Share