سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول میں تقریبا70اسکالرز کی شرکت

میرٹھ منٹو سیمینار سے ،منٹو شناسی کے نئے آسمان سر ہوئے:مقررین

میرٹھ19دسمبر2012ء
سرزمینِ میرٹھ تین دن(15تا17دسمبر2012) اردو کے انجم وکواکب کی کہکشا ں بنی رہی۔ موقع تھا ،شعبۂ اردو کے دس سال مکمل ہونے اور معروف فنکار منٹو کے صد سالہ یوم پیدائش کا۔ جس پرشعبۂ اردو نے بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کے عنوان سے سہ روزہ تقریبات کا اہتمام کیا ۔جس میں ’’کہانی منٹو سے قبل، کہانی منٹو کے عہد میں اورکہانی منٹو کے بعد‘‘ موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمنار کے علاوہ فلم شو،محفل غزل، اردو کے پرانے نغمے ،شامِ افسانہ ،ڈرا مہ اور ریڈیائی ڈرامہ ، مشاعرہ وغیرہ جیسے مختلف پروگرام شامل تھے ۔
ان تقریبات کا آغاز ۱۵؍دسمبر ۲۰۱۲ ؁ء کو ۱۰ بجے صبح برہسپتی بھون ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ میں ہوا جس میں پروفیسر زماںآزردہ معروف دانشوراورسابق صدر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی، کشمیر،پروفیسر ایس کے کاک (شیخ الجامعہ مہا مایا ٹیکنیکل یونیورسٹی ،نوئیڈا )، ڈاکٹر جہانگیر وارثی (واشنگٹن ،امریکہ )ڈاکٹر سید فاروق (ایم۔ ڈی۔ہمالین ڈرگس ، دہرادون)معروف صحافی جناب سید فیصل علی(گروپ ہیڈ سہارا اردو پبلی کیشنزاور عالمی سہارا ٹی وی)،منفرد ناقدمحترم حقانی القاسمی(شعبۂ ادارت بزمِ سہارا) ، اور پروفیسر زین الساجدین (شہر قاضی ، میرٹھ ) اور یونیورسٹی فائننس آفیسر محترم اے کے اگروال مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔نظامت کے فرائض آفاق احمد خاں نے انجام دیے۔محمد خالد نے تلا وت کلام پاک ،مہمانوں نے شمع،ڈاکٹر شاداب علیم شعبہ کے دس سالہ سفر پر روشنی اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اس فیسٹیول کا تعارف و خاکہ پیش کیا۔ سینٹ مومنہ پبلک اسکول ، بلند شہر نے ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ پیش کیا اور عابد راشد ڈرامہ گروپ نے علامہ اقبالؔ کی مشہور دعا ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنامیری‘‘ کو اسٹیج کر کے حاضرین کو دادِ تحسین کے لیے مجبور کردیا۔ساتھ ہی معروف غزل سنگر مکیش تیواری نے اپنی مترنم آواز میں غزلیں پیش کر کے اردو یوتھ فیسٹیول کے آغاز کو نہایت ہی دلچسپ بنادیا ۔اس کے علاوہ شعبہ کی سابق طالبہ رضیہ بیگم کی کتاب ’’گوپال متل: شخصیت اور فن ‘‘ اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کی کہانیوں کا ایلبم’’کہانی ندی‘‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ اس موقع پر بشیر مالیر کوٹلوی کا تیار کردہ منٹو کے پوٹریٹ کی نقاب کشائی بھی عمل میں آئی اورشعبۂ اردو کے دارالمطالعہ کو منٹو کے نام معنون کیا گیا۔ فلم شو میں منٹو کی تحریر کردہ فلم ’’مرز ا غالب‘‘، ریڈیائی ڈرامہ میں منٹو کا معروف ڈرامہ ’’جیب کترا‘‘ اور ڈرامے میں ’’کالی شلوار‘‘کو پیش کیا گیا ۔سیمینار آٹھ جلاس پر مشتمل تھا ۔
سیمینار کا پہلا اجلاس اسی دن دوپہر ڈیڑھ بجے منعقد ہوا ’’کہا نی منٹو سے قبل ،کہانی منٹو کے عہد میں اور کہا نی منٹو کے بعد جس کی صدارت پرو فیسر زماں آ زردہ، ڈاکٹر یونس غازی، ڈا کٹر پردیب جین، ڈاکٹر خالد اشرف ،محترم انجم عثمانی نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں محترم اسرار گاندھی،الہ آباد،ڈاکٹر حنا افشاں، کانپور،ڈاکٹر خالد علوی، دہلی، ڈاکٹر ابو ذر ہاشمی، کولکاتہ، ڈاکٹر شمس الہدیٰ ،حیدر آ باد اور نور ین حق، دہلی نے گراں قدر مقالات
پیش کیے۔ اس اجلاس کے شروعات میں ڈاکٹر زیبا محمود کی کتاب’’کلیم الدین احمد کی تنقید نگاری‘‘ کا اجراء بھی عمل میں آیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد کاظم،دہلی نے ادا کیے۔
دوسرے اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف اسکرپٹ رائٹر ریوتی شرن شرما نے شرکت کی۔ صدارت کے فرائض معروف کہانی کار انور نزہت کناڈا ، ابرارالحق رانچی، پروفیسر شبنم حمید الہ آباد، پروفیسر وائی وملااورڈاکٹر قمرالزماں دیوبند نے مشترکہ طور پرکی۔ نظامت ڈاکٹر نصرت جہاں کلکتہ نے فرمائی۔ ڈاکٹر محمد اعظم اعظم گڑھ، ریحانہ سلطانہ نوئیڈا،ڈاکٹر رونق جمال درگ ، شاہ حسین آرا،ایم مبین ممبئی اور ڈاکٹر نورالحسنین ،اورنگ آبادو نے اپنے مقالے پیش کئے۔اس موقع پر ڈاکٹر الکا وشسٹھ کے رسالہ’’ سمر پن‘‘ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
تیسرے اجلاس کی مسندصدارت پر پروفیسر ناشر نقو ی پنجاب، پروفیسر محمدظفرالدین حیدرآباد ، ڈاکٹر ارادھنا،میرٹھ ،اقبال مسعود بھوپال ڈاکٹر ضیا زیدی نوئیڈا اور ایاز احمد ایڈوکیٹ رونق افروز رہے۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر شکیل اختر نے انجام دئے۔اس اجلاس میں سالک جمل برار،عظیم راہی اورنگ آباد،ڈاکٹر اشتیاق سعید ممبی اور بشیر ملیر کوٹلوی نے اپنے مقالے پیش کئے۔
چوتھے اجلاس کی کرسئ صدارت پر ڈاکٹر شمع افروز زیدی دہلی ،حاجی اقبال خلیل رانچی، معین الدین عثمانی اورنگ آباد، طالب زیدی میرٹھ، اور آفاق احمد خان،میرٹھ، متمکن ہوئے ۔ نظامت کے فرائض خورشید حیات چھتیس گڑھ نے انجام دئے ۔ اس میں ڈاکٹر زین رامش ہزاری باغ، ڈاکٹر صالحہ رشید الہ آباد، ڈاکٹر زیبا محمودسلطان پور، ڈاکٹر شاداب علیم،میرٹھ ڈاکٹر نعیم صدیقی،میرٹھ اور تسلیم جہاں،میرٹھ نے اپنے مقالے پیش کئے۔
پانچویں اور چھٹے اجلاس کی صدارت پروفیسر زماں آزردہ ، پروفیسر طارق چھتاری،علی گڑھ، عظیم راہی ، ڈاکٹر پردیپ جین،مظفر نگر، ڈاکٹر صالحہ رشید اور ڈاکٹر قمر الہدیٰ فریدی ،دہلی نے مشترکہ طور پر کی ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر علاء الدین خاں نے بہ حسن خوبی انجام دیے ۔ان دونوں اجلاس میں ڈاکٹر احمد صغیر ،گیا، ڈاکٹر ایم۔ اے ۔حق ،رانچی، معین الدین عثمانی، اورنگ آباد،نوشاد مومن ،کولکاتا، خورشید حیات، بلاسپور،عامر نظیر ڈار،میرٹھ، راشد انور راشد،علی گڑھ، ڈاکٹررضی الرحمان ، مشرف عالم ذوقی، دہلی ،ڈاکٹر اختر آزاد،جمشیدپور،ڈاکٹر ہما نسیم ،میرٹھ ، ڈاکٹر نصرت جہاں ،کولکاتا، ڈاکٹر علاؤ الدین خاں ،دہلی، محترم نورالحسنین ،اورنگ آباد، اور محترمہ رحمت یونس ،دہلی نے اپنے بیش قیمت مقالے پیش کیے۔ان اجلاس میں اردو کے معروف ادیب محترم فاروق ارگلی نے بھی بطور مہمان اپنے خیالات کا اظہار۔
اس سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر جے ۔ کے۔ پنڈیر( پرووائس چانسلر چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی)نے کی۔ جب کہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر محمد لقمان(وائس چانسلرمولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور) اور مہمانانِ اعزازی کی حیثیت سے منظور احمد (وائس چانسلرسبھارتی یونیورسٹی، میرٹھ )، اے رحمان (چئیرمین عالمی اردو ٹرسٹ )شریک تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی نے بحسن و خوبی انجام دیے ۔
اس سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول میں جو ادبا، علما،دانشور،محقق ،ناقداور مفکر شریک ہوئے اور منٹو کی حیات و خدمات کے تعلق سے جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہ تھا کہ منٹو دنیا کے چند نامور ترین دانشوروں میں سے ایک تھا اور اس کا جرم بھی یہی تھا کہ اس نے اپنے عہد سے صدیوں آگے دیکھنے کی جرأت کی تھی۔ پروفیسر زماں آزردہ نے اردو کے مستقبل اور منٹو پرتفصیلی روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ منٹو پر جنس پرستی کا الزام لگانا سطحی مطالعے کا عکاس ہے ۔در اصل منٹو سیاہ تختے پر سیاہی سے لکھنے کا عادی نہیں تھا بلکہ سیاہ تختے پر سفید چاک سے حقائق طشت از بام کرنے کا عادی تھا۔جسے سطحی ذہن سمجھنے سے قاصر تھے۔پروفیسر ایس کے کاک نے اخلاقی قدروں کے تنزل کا ذکر کرتے ہو ئے کہا کہ آج پھر منٹو جیسے حقیقت پسند ادبا کی ضرروت ہے۔سید فیصل علی نے اردو کے مستقبل کو تابناک بتاتے ہو ئے کہا کہ اردو کا مستقبل روزگار کے اعتبار سے بھی دوسرے مضامین سے بہتر ہے۔حقانی القاسمی نے منٹو کی ادبی اہمیت سے برتی گئی بے اعتنائی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ منٹو ناقدین کے ذہن سے محو ہوسکتا ہے مگر قاری کے ذہن میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ریوتی سرن شرمانے کہا کہ منٹو کو سمجھنے کے لیے وسیع نظر اور عمیق مطالعے کی ضرورت ہے ۔کنا ڈا سے تشریف لائیں محترمہ انور نزہت نے منٹو کی حقیقت نگاری کا ذکر کرتے ہو ئے کہا کہ منٹونے عام ادبا کی طرح تبلیغ کا فرض نبھانے کے بجائے حقائق کو ان کی اصل صورت میں پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر جہاں گیر وارثی نے مغربی ممالک میں اردوکے بڑھتے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اردو کا مستقبل رو شن بتایا۔اقبال مسعود نے کہا کہ افسانے میں منٹو حقیقت نگاری کی روایت کا پاسدار تھا۔منٹو ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں سے ہیں جن کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے ۔معروف افسانہ نگار نور الحسنین نے کہا کہ منٹو کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے سماج اور معاشرے کو اپنی ہی آنکھوں سے دیکھا۔پروفیسرمحمد لقمان خان نے اردو کے زوال کا ذمہ دار اردو والوں کو ہی ٹھہراتے ہوئے کہا کہ زبان و تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے حکومتوں سے زیا دہ افراد معاشرہ کے فعال کردار کی زیادہ ضرورت ہے۔پروفیسر منظور صاحب نے اردو کے ماضی ومستقبل پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اردو خود اپنے مائکے میں بیگانی ہے جب کہ دوسرے کئی صوبوں میں اردوکی درس و تدریس کا ابتدائی سطح سے ہی معقول انتظام ہے۔
فیسٹیول کے دوسرے شرکاء نے بھی اردو کی صورت حال اورمنٹو کی حیات و خدمات پر مختلف زاویوں سے نگاہ ڈالی جس سے منٹو فہمی کے نئے گوشے وا ہوئے۔
پروگرام کے آخر میں معزز مہمانان نے اس یوتھ فیسٹیول کے شرکاء سمیت شعبۂ انجینئرنگ ،مہمان خانہ ،فوٹو گرافر اور شعبۂ اردو کے ملازمین کومومنٹو پیش کر کے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
سہ روزہ بین الاقوامی اردو یوتھ فیسٹیول کا آخری پرو گرام فلم اینڈ تھیٹر سوسائٹی، دہلی کا تیار کردہ اور عالمی اردو ٹرسٹ کے زیر انتظام سعادت حسن منٹو کے معروف افسانے کی ڈرامائی شکل ’’کالی شلوار‘‘ کی پیش تھا۔سامعین نے پرو گرام کو خاصا پسند کیا۔
اس فیسٹیول کے تمام اجلاس میںیونیورسٹی کے اساتذہ و طلبااورمختلف صوبوں کے ریسرچ اسکالرز سمیت شہر اور گردو نواح کے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے منٹو فہمی حکومت کی کو نسانی ذہن ودماغ کواس لیے اد ب میں اسے وہ مقام میسر نہ ہو سکا جس کا وہ مستحق تھا۔ آج سو سال بعد اس کی پیشین گوئیاں اور حقائق طشت ازبام ہوئے ہیں۔لہٰذا منٹو کی اہمیت کا اعتراف شروع ہوچکا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی انہیں ان کا جائز مقام ملے گا۔اس بین الاقوامی سیمینار نے منٹو فہمی کے نئے گوشے وا کیے اور منٹو کو نئے زاویوں سے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔

Viewers: 1200
Share