Aziz Belgaumi | Article | سنبھل بھی جاؤ قریب آلگا ہے حشر کا دن۔۔۔

عزیز بلگامی azeezbelgaum@hotmail.com Mobile: 9538054393 سنبھل بھی جاؤ قریب آلگا ہے حشر کا دن۔۔۔ انسانو ں کے سر پر چمکتا ہوا سورج انسانوں کی مستقل بے اعتنائی کی پرواہ کیے […]

عزیز بلگامی
azeezbelgaum@hotmail.com Mobile: 9538054393

سنبھل بھی جاؤ قریب آلگا ہے حشر کا دن۔۔۔

انسانو ں کے سر پر چمکتا ہوا سورج انسانوں کی مستقل بے اعتنائی کی پرواہ کیے بغیر کس قدر بے نیازی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن پورے کرنے میں نہ جانے کب سے مصروفِ سفر ہے اوروہ کس ایمانداری کے ساتھ اِنسانوں کے تئیں اپنے فرائض کی ادائیگی میں منہمک ہے ۔پھریہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر
انسانوں کے لیے خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ اِس سے اُٹھنے والے آب بردار بادل انسانوں کے لیے محض پانی کا نہیں زندگی کا سامان کرتے ہیں۔ پانی کے بغیر زندگی ہی ناممکن ہے۔زمین پر پہاڑوں کی موجودگی زمین کے توازن کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے، کون اِس حقیقت سے ناواقف ہو سکتا ہے۔کتاب اللہ خبر دیتی ہے کہ یہ نعمت ہائے خداوندی ایک دن ہم سے چھین لی جائیں گی۔ہاں۔۔۔اللہ کی کتاب تو یہی کہتی ہے۔سورۂ تکویر کی یہ نو آیتیں اِس عظیم حادثے سے بے نیاز انسانوں کو جھنجوڑ دیتی ہیں:’’ جب سورج لپیٹ دیا جائے گااور جب ستارے(اپنے مستقر سے) جھڑجائیں گے اور جب پہاڑ چلا دئے جائیں گے اور جب حاملہ او نٹنیاں (اپنی قدرو قیمت کھو دیں گی اور)غیر محفوظ چھوڑدی جائیں گی اور جب وحشی جانور(کسی آپسی ضرر کے بغیرایک ہی جگہ پر) جمع کرلئے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دئے جائیں گے اور جب ہرنفس کی جوڑی بنادی جائے گی اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم کی پاداش میں اس کاقتل کیاگیا تھا؟ ‘‘
سورج، ستارے،پہاڑ، حاملہ اونٹنیوں کی افراتفری، وحشی جانوروں کا اجتماع، سمندروں میں آگ کے شعلے،جسم اورروح کے تعلق کی تجدید، زندہ دفن کی جانے والی بچیوں سے اُ ن کے جرم کا سوال کہ اُن کا قتل کیوں کیا گیا، یہ ہیں وہ آٹھ موضوعات جو آج سورۂ تکویر کے حوالے سے ہمار ے مضمون کا موضوع ہیں۔
سب سے پہلے سورج کو دیکھیے۔سورج معلوم کائنات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق سورج زمین کے ایک مربع میل کو چارملین ہارس پاور کی توانائی فراہم کرتا ہے۔ گو یا زمین پر زندگی سورج کی اِسی توانائی کی رہینِ منت ہے ۔ لیکن کائنات سمیت اس زبردست منبعِ نور سورج پر ایک دن ایسا آنے والا ہے، جب اس کی ساری طاقت چھین لی جائے گی، جو روشنی اور تپش(اور نہ جانے کس کس طرح) کی شکل میں سورج کے اندر موجود ہے۔ ستاروں کے بارے میں کہا گیا کہ اِن کی یہ خوبصورت انجمن بکھیر دی جائے گی، یہ اپنی جگمگاہٹ سے محروم کر دیے جائیں گے،اور آسمان بے نور ہو کر رہ جائے گا،اِس لیے کہ اِس کی خوبصورتی کا راز اِن ہی ستاروں کی جگمگاہٹ میں پوشیدہ ہے،اور جن کے بکھرنے کے بعد آسمان بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔اونچے اونچے پہاڑوں کا حال یہ ہوگا کہ یہ اپنی ساری مضبوطی کھوبیٹھیں گے اوراِن سے اِن کی زمین میں جمے رہنے کی قوت اوراِن کا وہ وزن جو انہیں زمین میں مضبوطی سے جما دیتا ہے ، جن کی بنا پر وہ زمین پر ٹکے ہوئے ہوتے تھے، اِن سے چھین لیا جائے گا۔کائنات میں رونما ہونے والے اِس عظیم حادثہ کے سبب ہر شے تہس نہس کردی جائے گی،سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ گویا قیامت کاڈی مانسٹریشن لائیوہوگا،جس کا ایک مبہم سا تصور ہم اپنے ذہن میں اِس کی حشر سامانیوں کا رکھتے ہیں۔جس بگ بینگ کے ذریعہ رب تعالےٰ نے اِس کائنات کی تشکیل کی تھی، وہی رب ایک اور بگ بینگ کے ذریعہ کائنات کی اس بساط کو لپیٹ دے گا۔ ظاہر ہے یہ منظر کوئی معمولی منظر نہیں ہوگا۔مخلوق خداوندی اِس غیر معمولی منظر کاجب مشاہدہ کر رہی ہوگی تو اُس کے اوسان خطا ہو رہے ہوں گے، وہ حواس باختہ ہو جائے گی۔ اِس حواس باختگی کی شدت کا احساس دلانے کے لیے رب تعالےٰ نے بڑے حکیمانہ طریقے سے ایک طرف حاملہ اونٹنیوں کا ذکر کیا ہے اوردوسری طرف وحشی جانوروں کے اجتماع کا ذکر کیا ہے، جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتا۔ہمارا مشاہدہ بھی ہے کہ عام حالات میں بچھو اور سانپ کبھی ایک جگہ دکھائی نہیں دیتے، شیر اور بکری کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوتے، لیکن قیامت کے مذکورہ منظر میں یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملیں گے۔جہاں تک حاملہ اونٹنیوں کی بات ہے،دُنیا کے جس خطے میں کتاب ہدایت کے نزول کا آغاز ہواتھا ، اُس خطے کے لوگوں کے لیے ایسی حاملہ اونٹنیاں جن کے وضع حمل کا وقت قریب ہوتا،بڑی قیمتی تصور کی جاتیں، یہاں تک کہ اِن کی جان سے بھی زیادہ حفاظت کی جاتی۔ حاملہ اونٹنیوں کی اِسی قدر وقیمت کے پیش نظراِن کے مالکین کی اِن سے لاپروا ہونے کے تذکرے کا مطلب یہی ہوگا کہ صورتحال تباہ کن ہوگی اور یہ خود کو بچانے کی فکر میں ہوں گے اور انہیں کچھ ہوش نہیں رہے گا کہ اُن کی اِن قیمتی اونٹنیوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے اور یہ کس مصیبت میں گرفتار ہیں۔اِسی طرح وحشی جانوروں کا اجتماع بذاتِ خود اِس بات کی علامت ہے کہ یہ ایک دوسرے کے خوف سے بے نیاز ہوکر کسی تیسرے خوف سے سہمے ہوئے ہوں گے اور یہ وہی ٹوٹ پھوٹ والے منظر سے اُبھرنے والا خوف ہوگا جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے۔یہ سب کچھ اچانک رونما ہونے والا حادثہ ہوگا۔جیسا کہ ساتویں سورۃ کی ایک سو ستااسیویں آیت میں اِرشاد فرمایاگیاہے:’’۔۔۔ آسمانوں اور زمین کے لئے انتہائی بھیانک حادثہ ہو گا ، اوروہ تم پر اچانک آپڑے گا ۔۔۔ ‘‘۔
غرض کہ قیمتی مال و متاع کو چھوڑ کر حواس باختہ انسان اپنی پناہ گاہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتا نظر آئے گا۔ نہ صرف مال و متاع بلکہ اپنے اہل و عیال یعنی بال بچوں، والدین اور رشتہ داروں تک کی اُسے فکر نہ ہوگی۔اِن کو چھوڑ کر صرف اپنے ہی دفاع کی فکر میں وہ بھاگا جارہا ہوگا۔لیکن عجیب بات ہے کہ وہ بھاگ کر آخرجانے والا ہوگا کہاں؟ پچہتر ویں سورۃ کی گیارھویں اور بارھویں آیات میں رب تعالیٰ اپنی کتاب میں اعلان فرماتا ہے:’’۔۔۔(کائنات میں برپا ہونے والی اِس افرا تفری میں فرار کا کوئی امکان )ہر گز نہیں(ہو گا) ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی، اُس دن تیرے رب ہی کے پاس( تیرا) مستقر ہوگا۔‘‘ کَلَّا لَا وَزَرَ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَءِذِ نِالْمُسْتَقَرُّ ۔

اِنسانوں کے نام اللہ کا یہ اعلان ہوگا کہ آسمان اور زمین میں ہماری اور صرف ہماری ہی حکومت کی کارفرمائی ہے۔ آج کا دن تو وہ ہے جب تمہیں ہمارے سامنے کھڑے ہونا ہے۔آج تمہیں اپنی زندگی کاحساب دینا ہے۔تمہیں بتا نا ہے کہ تم نے ہماری تخلیق کردہ اِس خوبصورت زمین پر کیاکچھ کیا۔تم کو بتانا ہوگاکہ زمین پر موجود ہماری نعمتوں کا تم نے ذمہ دارانہ استعمال کیا یااِن کی بے قدری کی۔یعنی یہ کہ ہم نے تمہیں جو عقل، قوت فہم اورطاقتِ جسمانی عطا کی تھی،ان کے استعمالِ بے جا یا بجا کامکمل حساب دینا ہوگا۔اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے پہلو تہی یا کوئی لغزش جرمانہ طلب کرے گی،تمہاری ہر خطا ہرجانہ کی مستحق ہوگی۔آج کے دن دیکھ لوکہ اُن وحشی جانوروں کو بھی ہم نے جمع کرکے حاضر کردیا ہے جوگواہی دیں گے کہ تم نے کس طرح اپنے مفادات کی خاطر یا اپنے شوق کی تکمیل کے لیے اِن وحشی جانوروں کی پرسکون دنیابرباد کی تھی اور ہمارے بنائے ہونے جنگلات کے ماحول کو بگاڑنے کا کام کیا تھا اوراِن کے ایکو بیلنس کو ڈسٹرب کرکے اِن کی زندگی سے کھیلا تھا۔ ہماری کسی مخلوق پرتمہارے ظلم کی کوئی داستان چھپ نہ سکے گی اور مظلوم سے دادرسی اس دن ہماری منصفی کا تقاضہ ہوگا۔اِس لیے کہ ہم ہی خالق کائنات ہیں، ہم ہی آج منصفِ اعلیٰ ہیں، ہم ہی احکم الحاکمین ہیں، ہم ان وحشی جانوروں کی بھی دادرسی کریں گے جو اِس وقت بلا لحاظِ ضرر رسانی یہاں جمع ہیں۔اِن کا اور ان جیسی دیگر ستم رسیدہ مخلوقات کاہر جانہ دلوانا یوم الدین کا اہم حصہ ہوگا۔ پھرآج کے دن ہم یہ بھی جائزہ لیں گے کہ ہم نے جن جانوروں کو تمہاری غذا کے لئے تجویزکر رکھا تھا،ان کے ذبح کے وقت تم نے کن کا نام لیا تھا، نام لیا بھی تھا یا نہیں، اگر تم نے ہمارے نام کے علاوہ کسی اور کا نام لیا تھا تو تمہیں جواب دینا ہوگا کہ جن جانوروں کے خالق ہم تھے، تمہیں یہ جۂت کیسے ہوئی کہ تم نے کسی اور کا نام لے کر اِنہیں ذبح کیااور اِس ذبیحے کو حلال جانا۔حق تو یہ تھا کہ اِن پرہمارا نام لیا جاتا اور انہیں واقعتا حلال کیا جاتا۔
جہاں تک یہ بات کہ ’’ اور جب سمندر بھڑکا دئے جائیں گے۔ ‘‘(یا جب سمندروں کو آبادیوں میں دھکیل دیا جائے گا) تویہ الفاظ ہی ایسے ہیں کہ سننے والا خوف زدہ ہو جائے۔ہمیں چاہیے کہ تباہ کاریوں کے اِس منظر کے رونما ہونے سے پہلے ہم اپنا رخ اور اپنی صفوں کو درست کرلیں۔ اپنے آپ کو اُس دن کی سختی سے بچانے کی ہمیں بہر صورت فکر کرنی ہوگی ،اپنے رب کی طاقت وحشمت کاکا اعتراف کرنا ہوگا۔ اسکی جانب سے بھیجی جانے والی چھوٹی چھوٹی سونامیوں کوتو ہم دیکھ ہی چکے ہیں اور اب بھی دیکھ رہے ہیں،تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سمندر کے بھڑکائے جانے کی کیفیت کس قدر دل دہلادینے والی ہوگی ۔
اللہ کا یہ اعلان قابل غور ہے:’’ اور جب ہر نفس کی جوڑ ی بنادی جائے گی۔ ‘‘بظاہر انسان دو چیزوں کا مجموعہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک تو اس کا بدن ہے، جسے رب تعالیٰ نے مٹی کے اجزاء سے بنایا ہے، اور دوسرے اسکی روح، جو ظاہر ہے کہ عرشِ اِلٰہی سے آئی ہوئی ہے۔لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ روح کی حقیقت سے ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا۔ چاہے سائنس کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، روح کے بارے میں کوئی زیادہ معلومات حاصل نہیں کر پائے گی۔ صدیاں گزر گئیں، روح کے بارے میں ہماری معلومات میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکا ہے۔ اس لئے کہ رب تعالےٰ نے اپنی کتاب کی ستراویں سورۃ کی پچااسی ویں آیت میں ارشاد فرمایا ہے:’’اوراے بنی صلی اللہ علیہ و سلم یہ انسان آپ سے روح کے بارے میں استفسار کرتے ہیں، آپ( جواباً صرف اتنا )کہہ دیں:(کہ) روح میرے رب کے امْرسے ہے،اور( امورِ روح سے متعلق) علم میں سے بجز قلیل سی معلومات کے، تم (کچھ زیادہ تفصیل )سے نوازے نہیں گیے ہو۔‘‘
ہم جانتے ہیں کہ انسان کی جب موت واقع ہوتی ہے تواس کا بدن زمین پر ہی رہ جاتا ہے اور بدن کے اندر موجود روح ایک محفوظ مقام کی سمت پرواز کر جاتی ہے۔ اسی روح کو حشر کے دن نیا قالب عطا کیا جائے گااورجس مقام پر وہ کھڑا ہوگا، وہاں کی آب ہوا، ماحول ، فضاء نیے قالب کی بقا و استحکام کے ضامن ہوں گے ۔وہ اِس قابل ہوگا کہ اُس سے پوچھے جانے والے سوالات کو سمجھ سکے اور اِن کے جواب دے سکے۔
اِن فقروں کے تیور ملاحظہ ہوں:’’ اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا، کہ کس جرم میں وہ قتل کی گئی؟ ‘‘ کس قدر چونکادینے والی بات ہے۔رب تعالیٰ کی کتاب ایک آفاقی کتاب ہے، کسی مخصوص دور کے لئے نہیں، کسی مخصوص علاقے کے لئے نہیں،کسی مخصو ص قوم کے لیے نہیں، بلکہ ہر دور، ہر علاقہ اور ہر قوم کے لئے یکساں اور مکمل طور پرکتابِ ہدایت ہے۔ جس دور سے ہم گزر رہے ہیںیہ عرب کا وہ دور نہیں ہے جب بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، تاکہ بیٹی سے وابستہ اخلاقی و معاشرتی ذمہ داریوں سے چھٹی حاصل کرلی جائے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس ذہنیت اورجرم کا اختتام آج بھی نہیں ہوا۔آج لڑکیوں کو بھلے ہی زندہ درگور نہ کیا جاتا ہو، مگر لڑکیوں کو آج بھی بے قصور مارا جاتا ہے۔آخر یہ سیکس ڈیٹرمینیشن ٹیسٹ ے کیا چیز؟یہی تو ترقی یافتہ ترکیب ہے بیٹیوں کے قتل کی ، خوبصورت الفاظ میں۔ہم اِسے قتل کا نام اِسی لیے دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں بچے عین ظہور کے دن ہی جان ڈال دی گئی ہوتی ہے۔ظاہر ہے اِسے ابارٹ کنے جانے کا مطلب سوائے قتل کے اور کیا ہو سکتا ہے۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ گڑھا کھود کر مٹی میں دبا دینے کے بجائے جدید طبی آلات کے ذریعہ ماں کے پیٹ ہی میں اِس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔یعنی رب نے اس میں جان ڈالدی اور ہم نے اسے جدیدطبی چاقو سے ختم کرڈالا! کیا یہ سب نظر انداز کر دیاجائے گا؟کیا اِسی طرح خالق کے تخلیقی فیصلوں میں ہم من مانی مداخلت کرتے رہیں گے؟ اور ہم پر کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا؟کیا یہ منطق کسی کی عقل میں سما سکتی ہے کہ اِس گھناونے جرم کا کوئی نو ٹس نہ لیا جائے ؟ستراویں سورۃ کی اکتیسویں آیت میں رب تعالیٰ اپنی کتاب میںیہ حکم صادر فرماتا ہے:’’اور تم ( کبھی) زِنا( جیسے فعلِ فحش ) کے قریں نہ جانا،بلا شبہ یہ (بے رہ روی میں مبتلا کرنے والا ایک کارِ) فاحشہ ہے اور( تمہیں منزل مقصود سے بھٹکا نے والی )بری سبیل(بھی)۔اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرنا۔ انہیں بھی ہم ہی رزق دیں گے اور تمہیں بھی تو ہم ہی رزق دیتے ہیں! بیشک ان کا قتل انتہائی شدید گناہ ہے۔ ‘ ‘ ان والدین کاکیا حال بنے گا، جب انکی عدم پیدا شدہ بیٹی ہی حشر میں یہ سوال کرے گی کہ:اے، میرے امی ابّو مجھے کس خطا میں آپ نے موت کی نیند سلادیاتھا؟
انسانی جان کی یہ ارزانی اس دنیا کو رہنے بسنے کے قابل نہیں رہنے دے گی۔ آج توہر جان غیر محفوظ بن گئی ہے۔ انسانی جان کا احترام اور اسکی قیمت کا اندازہ پانچویں سورۃ کی بتیسویں آیت سے لگایا جا سکتاہے:’’(۔۔۔الغرض آدم کے دو بیٹو ں کے درمیان انسانی تاریخ کے اولین قتل کی واردات رونما ہو چکی تھی) اُسی وقت سے ہم نے نافذ کردیا تھا اور اور: ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لیجسلیشن نافذ کر دیا تھا کہ(انسانی قتل جیسے گھناونے عمل سے باز رہا جائے، اِس لیے کہ)کسی انسانی جان کے( قتل کے جواب میں قتل کیے جانے کے اصول کے )بغیر یا فساد فی الارض (کے جرم کے ارتکاب کی عدم موجودگی میں)کسی نے کسی نفسِ انسانی کا قتل کیا، تو گویا اُس نے پوری انسانی جمیعت کا قتل کر دیا اور کسی نفسِ انسانی کو کسی نے( موت سے بچا لیا اور اُسے)حیاتِ(نو) بخشی تو گویا اُس نے پوری جمیعتِ انسانی کا احیاکیا، حقیقت یہ ہے کہ(اِس نوع کے لیجسلیشن اور دیگر قوانین کو وضع کرنے والے )بینات یا اوپن سٹیٹمنٹ کے ساتھ ہمارے رُسُل اُن کے پاس آتے رہے،تاہم اِن( رسولوں کے دنیا سے رخصت ہو جانے ) کے بعد ، انسانیت کی کثیر تعداد زمین میں بلاشبہ حدودِ (اِلٰہی کو) پھلانگنے والی ہی بن کر رہ گئی۔‘‘
یہ حقیقت اکثر نظر انداز کی جاتی ہے کہ ہر فرداپنی انفرادی حیثیت ہی میں اپنے مالک کے ہاں جواب دہ ہوگااور یہ کہ وہ کسی اور فرد یا قوم کے اعمال کی جواب دہی کا مکلف ہر گز نہیں ہوگا۔ہمیں آج سے بلکہ ابھی اِسی لمحے سے خود اپنی ذات کو آخرت کی جواب دہی کے لیے ذہناً اور عملاً تیار کرنا ہے۔یہ تیاری خلوص ،سنجیدہ طرز عمل پر مبنی ہونی چاہیے،نہ کہ کسی جذباتیت کے زیر اثر رہ کر یہ تیاری ہو۔
زندگی کے کسی مرحلے میں کیا کبھی جواب دہی کے احساس کی کوئی لہر ہمارے گوشۂ د ل سے اُٹھتی بھی ہے۔؟
اِس سوال کا جواب آج بھی اپنے جواب کے لیے ترستا نظر آتا ہے۔!!!
***

Viewers: 3525
Share