Dr. Aslam Jamshedpuri | Afsana | عیدگاہ سے واپسی

اسلم جمشید پو ری میرٹھ عید گاہ سے وا پسی پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا […]
اسلم جمشید پو ری
میرٹھ
عید گاہ سے وا پسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر وا قعہ یاد تھا۔ اُ سے یہ بھی یا د تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو وا پسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لا یا تھا۔ اُ س وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ لیکن اس کے دو ستوں کے خریدے کھلونے یکے بعد دیگرے میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس کے چمٹے کی ایک ضرب نے سب کو بے کا ر کر دیا تھا۔ گھر آ نے پر اس کی دادی پہلے اس سے نا راض ہو ئی تھیں او ر پھر اُ سے خوب پیار کیا اور دعائیں دی تھیں۔ اس کے وا لدین بچپن ہی میں اللہ کے یہاں چلے گئے تھے، اُ سے ان کی صورتیں بھی یا د نہیں تھیں۔ بعد میں دادی نے اُ سے غریبی، مجبو ری، بے بسی اور لا چا ری کے لقمے کھلا کھلا کر پا لا تھا۔ اس کا بچپن دو سرے بچوں سے مختلف تھا۔ دو نوں دا دی پو تے ایک دو سرے کی کا ئنات تھے۔ اُ سے وہ دن بھی یا د تھا جب قیا مت صغریٰ نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ ایک رات جب وہ سو رہا تھا۔بہت تیز آ ندھی آ ئی تھی۔ ہوا اور پانی نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔بہت سے پیڑ، پھوس کی چھتیں، کچی دیواریں اور جھونپڑے زمین سے اپنا رشتہ ختم کر چکے تھے۔ ایسے میں اس کی دادی جو گھر کے اسارے میں محو خواب تھیں، چھان گرنے سے دب کر اپنے بچوں کے پاس چلی گئی تھیں۔وہ دادی دادی کرتا رو تا رہ گیا تھا۔ گاؤں کے ہی لوگوں نے تکفین و تدوین کا انتظام کیا تھا۔ وہ تقریباً پندرہ سال کا تھا۔ اس کا حال ایسا تھا گویا زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا ہو۔ اس کا اس بھری پری دنیا میں دادی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ ان کے جانے کے بعد پڑوس کے بابا سکھ دیو نے اس کی ہمت بندھا ئی تھی۔ وہ اُ سے اپنے گھر لے گئے اور اُ سے اپنے بچے کی طرح پالا پوسا۔ گا ؤں کے اسکول سے پانچویں تک پڑھنے کے بعد اُس نے پاس کے ایک چینی مل میں مزدوری کا کام شروع کردیاتھا ۔
’’بابا……بابا…..مجھے بیلون لینا ہے‘‘
اس کے آ ٹھ سا لہ پو تے سا جد نے ایک غبارے وا لے کو دیکھ کر اسے ہا تھ پکڑ کر جھنجھو ڑا تو وہ ماضی کے صحرا میں چلتے چلتے اچانک رک گیا تھا، ماضی کے وا قعات بھی چھلا وے کی طرح غائب ہو گئے تھے۔ وہ اپنے اکلوتے پو تے کے ساتھ عید گاہ جارہا تھا۔ عیدیں تو ہر سال آ تی رہتی ہیں او ر ہر سال وہ عید کی نماز ادا کرتا تھا لیکن اس با ر وہ اپنے پو تے کے ساتھ پہلی بار عید گاہ جا رہا تھا۔
’’بیٹا ابھی نہیں، واپسی پر لینا۔ابھی نماز کے لیے جا رہے ہیں۔‘‘
اس کے گا ؤں سے عید گاہ تقریباً 5کلو میٹر تھی۔ اس کا اپنا گا ؤں ہندو اکثریتی گا ؤں تھاوہاں مسجد نہیں تھی پاس کے گا ؤں میں مسجد تھی۔ اکثر مسلمان جمعہ اور عید۔ بقر عید کی نما زوں کے لیے وہیں چلے جاتے تھے۔ حا مد کو عید گاہ میں ہی عید کی نماز پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن کبھی موسم کی خرا بی، کبھی وقت کی تنگی اور کبھی کام کی فرا وا نی کے باعث وہ ہر سال عید گاہ نہیں جا پاتا تھا۔ اس بار وہ کافی عرصے بعد عید گاہ کے لیے اپنے پو تے سا جد کے ہمراہ نکلا تھا ۔ گا ؤں سے نماز کے لیے ایک ٹو لہ روانہ ہوا۔کچھ نو جوان اسکو ٹر اور بائک سے نکلے تھے۔کچھ پیدل ہی چل رہے تھے۔ کتنی خو شی اور رو نق تھی ان کے چہروں پر۔وا قعی عید اللہ کا انعام ہے۔ ایک ماہ کے رو زے رکھنے کے بعد،عید کی خو شی کا عا لم ہی کچھ اور ہو تا ہے۔اللہ مسلمانوں کی محنت، صبر، لگن اور للہیت کے بدلے عید کے دن ان کے گناہ بخش دیتا ہے۔ میاں حا مد نے رمضان کے پو رے رو زے رکھے تھے۔گھر میں اس کی بہو بھی رو زے کی پابندی کرتی تھی۔ ایک پوتا اور ایک پو تی……بس یہی کائنات تھی اس کی۔بیٹا وا حد…..گذشتہ دنوں ہو نے وا لے ہندو مسلم فساد کی نذر ہو گیا تھا۔ بیٹے کی یاد آ تے ہی اچا نک ذہن کے سا توں طبق رو شن ہو گئے۔ پس منظر کا حصہ بن چکے منا ظر یکے بعد دیگرے نظروں کے سا منے آ نے لگے۔
ملک پر بڑا برا دن آ یا تھا۔ سرخ آ ندھی اس بار ایو دھیا سے اُ ٹھی تھی جو آ ناً فاناً پو رے ملک میں پھیل گئی تھی۔ ہندو مسلم منافرت…..ایک دوسرے کے خون کے پیا سے لوگ……عبا دت گا ہوں کو مسمار کر نے کا جنون……کیا عبادت گاہوں کی مسماری سے کوئی قوم ختم ہو جاتی ہے؟یہ وہی ہندو مسلم تھے جنہوں نے شا نے سے شا نہ ملا کر ملک کو آزاد کرایا تھا۔ آج کیا ہو گیا ہے ان کو؟کیوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہیں۔واحد بے چارہ ان حالات سے بے خبر تھا،اس نے تو گاؤں میں آ نکھ کھو لی تو اپنے باباسکھ دیو، چاچا بلدیو اور اپنے ہم عمر دوست رام اور کنور پال کو دیکھا تھا۔ وہ تو انہیں کے درمیان کھیلتا ہو ا بڑا ہوا تھا۔ پاس کے ہی شہر میں وہ ایک بیکری میں مزدوری کا کام کرتا تھا۔ اس کی تنخواہ اور گا ؤں کی محنت مزدوری سے میاں حامد کسی طرح گھر چلا رہے تھے۔ شہر میں آ نے وا لی سرخ آندھی نے بڑی تبا ہیاں مچا ئی تھیں۔ واحد بھی اس سرخ آ ندھی کی زد میںآگیا تھا۔اسے اس کے ہی سا تھیوں نے تہہِ تیغ کردیا تھا۔ غضب تو اس وقت ہوا جب وا حد کی لاش گا ؤں پہنچی۔
’’ میاں حامد……میاں حامد….واحد کی لاش ….آئی ہے‘‘بلدیو نے میاں حا مد کو خبر دی تو اُ سے جیسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ یا۔وہ بلدیو کو پکڑ کر چلا یا۔
’’ یہ کیا مذاق ہے۔‘‘
ابھی وہ بلدیو کے کا ندھوں کو پکڑ کر ہلا ہی رہا تھا کہ ایک گا ڑی دروا زے پر رکی۔ گا ڑی کا دروا زہ کھلا اور اسٹریچر پر وا حد کی لا ش لیے دو لوگ اندر داخل ہو ئے۔ لاش کو چار پائی پر لٹا کر الٹے قدموں لوٹ گئے۔ کسی میں ان سے وا حد کی موت کے با رے میں پو چھنے کی ہمت نہیں تھی۔سا رے گا ؤں وا لوں کے سر جھکے ہو ئے تھے۔ ایک ایک کر کے سب کو پتہ چل گیا تھا کہ وا حد کو شہر میں اس کے سا تھی مزدوروں نے کاٹ ڈا لاتھا۔ گا ؤں کے ہندو، خود کو وا حد کا قاتل محسوس کررہے تھے۔ میاں حا مد کی حا لت عجیب تھی،ان پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔ آواز بند ہو گئی تھی۔ وہ لاش کو ٹکٹکی باندھے دیکھے جارہے تھے۔گویا انہیں امید ہو کہ واحد اب اٹھا اور تب اٹھا ۔اور اٹھتے ہی بابا کہتا ہواان سے لپٹ جائے گا۔اچانک بہت زور سے چیختے ہوئے میاں حامد زمین پر بے سدھ گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔واحد کی بیوی شکیلہ پر بھی بے ہوشی کے دور ے پڑ رہے تھے ۔ ساجد اور نازو اپنی ماں کے بے ہوش جسم سے لپٹے رو رہے تھے۔بلدیو اور گاؤں کے پردھان ٹھاکر امر پال نے تدفین کا انتظام کیا ۔واحد کے جانے کے بعد سے میاں حامد کی حالت اس بوڑھے کی سی ہوگئی تھی جو لاغر ہو، کمر جھکی ہو اور اس کی لاٹھی اس سے چھین لی گئی ہو۔میاں حامد نے بچپن سے ہی بڑے نازک حالات دیکھے تھے۔قحط پڑتا تھا تو کھانے کے لالے پڑجاتے۔مٹر ، باجرہ، بے جھڑ اور جو کی روٹیاں بھی دن میں ایک وقت مل جاتیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے۔گھر ، گھرکیا تھا۔ بس ایک کمرہ اور اسارا تھا۔کھیتی کی زمین نہیں تھی ۔اس کے باپ داد انے بھی دوسروں کے یہاں محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالا تھا اور ایک چھوٹا سا گھر بنالیا تھا۔شروع میں باباسکھ دیو کے گھر سے ہی اسے وقت بے وقت کھانا ملتا تھا بعد میں اس نے خود بھی کھانا بنا نا شروع کردیا تھا۔
’’بابا……او بابا…..وہ تتلی پکڑدونا ……….کتنی اچھی ہے وہ ‘‘
ساجد کی آواز نے ایک بار پھر انہیں سوچ نگر کی گلیوں سے حقیقت آباد کے کچے راستوں پر لادیا تھا۔اس کا پوتا ایک تتلی کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔تتلی کبھی ادھر کبھی ادھرجاتی، لیکن ساجد کے پہنچتے ہی اڑجاتی ۔ انہیں ایک پل کو لگا جیسے تتلی ان کی خوشی ہو، جو ہمیشہ اس سے آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے ۔لمحہ بھر کو لگتا کہ اب ہاتھ آئی …..اب آئی ۔ لیکن پھِر پھُرسے اڑجاتی۔ بے چارے ساجد کو کیا پتہ کہ یہ تتلی ہماری قسمت میں نہیں ؟ہماری قسمت میں تو ہمیشہ کے دکھ ہیں جو سردی کی راتوں جیسے طویل ہوتے ہیں۔
’’ساجد بیٹے ۔نہیں ۔تتلی کے پیچھے نہ بھاگو۔گر پڑو گے۔کپڑے خراب ہوجائیں گے۔‘‘
کپڑے،کپڑے تو ساجد نے پہنے تھے مگر نئے نہیں تھے۔جبکہ ساجد نے پچھلے ہفتے ضد کی تھی۔
’’بابا مجھے بھی نئے کپڑے سلواؤ نا،میں بھی حشمت کی طرح نئے کپڑوں میں عید گاہ جاؤں گا۔‘‘
’’اچھا بیٹا…لادیں گے‘‘بوڑھے حامد میاں نے مجبوراً کہا۔
اور انہوں نے ساجد کو پرانے کپڑوں کے ڈھیر میں سے ٹھیک ٹھاک سے کپڑے لادیے تھے ۔اتفاق سے چینی مل کے باہر پرانے سستے کپڑوں کا ایک ٹھیلہ عید کے سبب لگا تھا۔ اس نے سرخ رنگ کی شرٹ اور نیلی پینٹ لے جا کر بہو کو دیے۔
’’بہو انہیں دھودینا۔اور تہہ کر کے نیچے رکھ کر اس پر پہلے پھونس پھر بستربچھا دینا ۔میں سو جاؤں گا ۔کپڑوں پر استری ہوجائے گی ۔‘‘
بہو نے ایسا ہی کیا تھا ۔ساجد کو ماں اور دادا نے بہکالیا تھا ۔چھوٹی نازو کی طبیعت خراب تھی اسے ماتا نکل آئی تھی۔ وہ بہت کمزور ہوگئی تھی ۔ہر وقت روتی رہتی۔مکھیاں اسے پریشان کرتیں ۔حامد مکھیوں کو دیکھ کر کئی بار سوچتا ۔’’اللہ نے مکھیاں کیوں پیدا کی ہیں ۔ یہ تو سب کو پریشان ہی کرتی ہیں۔‘‘پر پھر خود ہی دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا کہ اللہ نے ہر چیز سوچ سمجھ کر ہی پیدا کی ہے ۔
عید سے دو دن پہلے گاؤں کے حاجی لطیف ان کے پاس آئے تھے اور زکوٰۃ کے تین سو روپے دے گئے تھے۔انہوں نے کچھ پیسوں سے گھر کی ضروریات کو پورا کیا تھا۔ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ نازو کی بیماری اور گھر کے خرچے میں لگ جاتا تھا ۔عید کے لیے پیسے کہاں سے آتے ۔زکوٰۃ کے پیسوں سے انہیں کچھ راحت ملی تھی۔انہوں نے سوچا تھا کہ اب کی عید پر وہ ساجد کو ریموٹ سے چلنے والی کار اور نازو کو پلک جھپکنے والی گڑیا خرید کر لا ئیں گے ۔بہو جو جوانی ہی میں بیوہ ہوگئی تھی ‘ کے لیے ایک سوٹ لائیں گے۔عید گاہ جانے سے پہلے انہوں نے نہا کر اپنے پرانے دھلے کپڑے پہنے۔پھر ساجد کو تیار کیا۔ساجد کی ماں اسے عید گاہ بھیجنے کو تیار نہ تھی۔لیکن ساجد کی ضد اور میاں حامد کی مرضی کے آگے وہ مجبور ہوگئی تھی۔شوہر کی موت کے بعد اسے تو ہر وقت خدشہ لگا رہتا تھا کہیں اس کے بیٹے کو کچھ نہ ہوجائے ۔گاؤں کے لوگ ساجد کو بہت پیار کرتے تھے ،وہ تھا ہی بہت پیارا۔عید گاہ چلنے سے پہلے انہوں نے سویّاں کھائیں۔پھر ایک ایک روپیہ سب کو عیدی کے دیے۔انہوں نے بلدیو کے بچوں کو بھی عیدی دی تھی۔وہ ہر سال ان کے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے۔ساجد نے اپنے اور نازو کے روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے۔گاؤں کے دس بارہ بڑے بوڑھوں، بچوں پر مشتمل یہ ٹولہ سفید کرتا پأجا مے میں ملبوس سرپر ٹوپیاں لگائے عید گاہ کے لیے نکلاتھا۔عید گاہ تک جانے کے لیے تین گاؤں کو پار کرنا پڑتا تھا ۔سردیوں کا زمانہ تھا ۔راستے کے دونوں جانب ہری فصلیں لہلہارہی تھیں۔گیہوں کے کھیتوں پر شباب کا رنگ تھا۔سرسوں پھول رہی تھی ۔ہرے اور پیلے رنگ نے زمین کو اس کنواری دوشیزہ سا بنا دیا تھا جس نے سبز رنگ کے کپڑوں پر پیلا دوپٹہ اوڑھ رکھا ہو ، بلکہ ایسا بھی گمان ہورہا تھاگویا قدرت زمین کے ہاتھ پیلے کرنے کی تیاری کر رہی ہو۔بَٹیا کے دونوں جانب فصلوں کی مہک دیوانہ بنا رہی تھی ۔ کہیں مٹر کے سفید اور جامنی پھول ، کہیں ایکھ کے کھیت ۔ گاؤں میں ایک آدھ کولہو بھی نظر آجاتا ۔کولہو سے گڑ کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی ۔ویسے اب زیادہ تر کسان شوگر ملوں میں ہی گنا ڈالتے تھے اور نقد روپے لے آتے ۔اب گاؤں میں بھی بہت کچھ بدل گیا تھا۔گاؤں کی نئی نسل کے بچے جب سے پڑھ لکھ گئے تھے اور کچھ نے باہر سروس شروع کردی تھی گاؤں کا ماحول تبدیل ہونے لگا تھا۔اب وہ پہلے جیسی بے لوث محبت نہیں رہی تھی۔پہلے گاؤں کے کسی ایک شخص کا داماد سارے گاؤں کا داماد ہوتا تھا۔اس کی اتنی خاطر کی جاتی کہ وہ خاطر سے پریشان ہوجاتا تھا۔ہندو مسلم شیروشکر کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہونا ، ایک دوسرے کے کام کروانا ۔ چھان اٹھوانا ، ایکھ بُوانا ، شادی بیاہ میں ہاتھ بٹاناان کا معمول تھا۔
’’میاں حامد…. میاں ….تنک سستائے لیو ….رس پی لیو ۔گرم گڑ کھالیؤ۔‘‘
مُراد پور گاؤں کے کولہو والے بزرگ چاچا ایشور نے عید گاہ جاتے قافلے کو روک لیا تھا۔مُراد پور کے گاؤں کے مسلم بھی عید گاہ جانے کو تیار تھے ۔ جلد ی جلدی قافلے کی خاطر کی گئی۔قافلہ پھر آگے بڑھ گیا۔ حامد کو سکون ہوا کہ چلو ابھی بڑے بزرگوں میں کم از کم اتنی محبت اور خلوص تو باقی ہے۔قافلہ اب پکی سڑک پر آگیا تھا ۔
میاں حامد نے اپنے پوتے ساجد کو کندھے پر بٹھا لیا تھا۔قافلہ پکی سڑک کی ایک جانب قطار بنا کر چل رہا تھا ۔ اچانک ایک تیز رفتار بس قافلے کے کے نزدیک سے گذری ۔ سب لوگ جلدی سے ایک طرف کو نہ ہو گئے ہوتے تو معاملہ خراب ہوسکتا تھا۔
’’ابے اے کٹوؤ!کہاں جارہے ہو ………؟‘‘
موٹر سائکل پر سوار تین کم عمر اوباش قسم کے نوجوان، زور سے چلّا تے ہوئے برق رفتاری سے گذر گئے ۔ننھا ساجد چونک گیا ۔
’’بابایہ…..کٹوا کیا ہوتا ہے….؟‘‘
’’کچھ نہیں بیٹا …….یہ گندے بچے تھے …..تم ایسے نہ بننا ….‘‘
میاں حامد کے چہرے پر ناگوار ی کے تاثرات تھے ۔زمانہ کتنا بدل گیا تھا۔بڑے چھوٹوں کا امتیازہی نہ رہا ۔ بیٹے ،باپ کے سامنے بیٹھتے بھی نہیں تھے ۔ میاں بیوی کسی کی موجود گی میں ساتھ بیٹھنے سے بھی کتراتے تھے ۔ بہو ،ساس سسر کا احترام کرتی تھی۔آج سب الٹ ہوتا جارہا ہے ۔یہ سب فلموں اور فیشن سے ہوا تھا۔بچوں میں فلموں کا شوق دن بہ دن بڑھ رہا ہے ۔وہیں سے خرافات سیکھتے ہیں ۔فیشن اللہ توبہ ! لڑکیاں بھی پتلون پہننے لگی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازو کی قمیضیں۔دوپٹا یا تو گلے میں پٹے کی صورت یا پھر ندارد ۔گاؤں بھی تبدیل ہوگئے تھے۔کچے مکانوں کی جگہ پختہ اور بڑے مکان ، موٹر سائیکلیں اور کاریں اب اکثر دکھائی دیتیں ۔ پہلے کسی کے گھر کا ر ہوتی تو اسے بڑا رئیس مانا جاتا، لوگ اس کی مثالیں دیتے تھے۔گاؤں کو شاہراہوں سے ملانے والی کچی سڑکیں کھڑنجے یا تار کول کی بننے لگی تھیں ۔ علاقے میں فیکٹریاں اور مل لگنے لگے تھے۔ترقی اور تبدیلی کے ساتھ ساتھ انسانیت ختم ہوتی جارہی تھی ۔
’’بابا عید گاہ کب آئے گی….؟‘‘
’’بس بیٹا ….وہ جو گاؤں دکھ رہا ہے نا ….بس اسی گاؤں میں ہے….‘‘
’’بھئی ذرا جلدی چلو….کہیں ایسا نہ ہو نماز چھوٹ جائے ۔رمضان کی ساری محنت ڈوب جائے گی۔‘‘
میاں حامد نے قافلے کے بڑے، چھوٹوں، سب کو نصیحت کی ۔اور سب جلدی جلدی قدم بڑھانے لگے۔کچھ ہی دیر میں وہ اسلام پورکی سرحد میں داخل ہوگئے تھے۔اسلام پورمسلم اکثریتی گاؤں تھا۔عید گاہ کے راستے پر دونوں طرف میلہ لگا تھا۔ساجد تو بے چین ہوا جارہا تھا۔کہیں جھولے والے آواز لگا رہے تھے۔کہیں غبارے دھاگوں سے بندھے ہوا میں جھوم رہے تھے۔گول گپے والے، چاٹ پکوڑی والے ، چھولے کی چاٹ ، دہی بڑے ،بتاشے والے، مکا کی کھیلوں والے ، کھلونوں کی تو بہت سی دکانیں تھیں،کسی دکان پر ہر مال پانچ روپے، کسی پر ہر مال دس روپے کا بورڈ لگا تھا۔ساجد کی نظر میں چار وں طرف بکھری بازار کی رونقوں کو دیکھ کرہونق ہوئی جارہی تھیں وہ سب کچھ خرید لینا چاہتا تھا۔
’’بھیا آجاؤ۔جلدی آؤ…..نماز کھڑی ہونے والی ہے۔‘‘
عید گاہ سے کئی لوگ راستے میں آنے والوں کو پکار رہے تھے۔
قافلے نے لپک کر عید گاہ میں قدم رکھا ۔ عید گاہ بہت بڑی نہیں تھی۔مغرب کی طرف مسجد جیسی عمارت کی تقریباً بیس فٹ اونچی دیوار تھی جس میں کنگورے کٹے ہوئے تھے دیوار کے آخری سروں پر دو بلند مینار تھے۔باقی دور تک خالی زمین جو سال میں دو نمازوں کے لیے اپنا دامن پھیلائے رہتی تھی۔عید میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔اسلام پور کے علاوہ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی یہیں نماز پڑھنے آتے تھے۔میاں حامد بچپن سے اب تک نجانے کتنی بار عیدگاہ آئے تھے ۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے تو ایسا لگتا گویا فرشتے زمین پر اتر آئے ہوں ۔نماز کے بعد اسلام پورکے لوگ آس پاس کے لوگوں کو بغیر کچھ کھائے پیئے واپس جانے نہ دیتے میاں حامد کے ساتھ کئی بار بلدیو چاچاکے بچے بھی آجاتے تھے ۔مسلمان نماز پڑھتے اور وہ سب کے جوتے چپلوں کی رکھوالی کرتے بعد میں عید گاہ میلے سے میاں حامد ان کے لیے کچھ نہ کچھ تحفے ضرور خریدتے ۔وہ سب اپنے بھائی ہی توتھے۔وہ سب میاں حامد سے چھوٹے تھے۔میاں حامد کو اچھی طرح یادتھاکہ ایک بار بلدیو چاچا نے اپنی ٹریکٹر ٹرالی نکالی تھی اور گاؤں کے سارے مسلمانوں کو بھرکر عید گاہ لائے تھے۔کتنا میل ملاپ تھالوگوں میں ۔گاؤں میں امن و امان تھا۔گاؤں کے حالات سیاست سے بدلے تھے۔ اب گاؤں میں بھی سیاست بڑھنے لگی تھی، پردھان اور گاؤں کے امیر لوگ ایک دوسرے کی کاٹ میں لگے رہتے۔رات کو موٹر چور ی کرواتے ، صبح کو ہمدردی جتانے پہنچ جاتے ۔اور دو ایک دن بعد موٹر کہیں سے بر آمد ہوجاتی۔اسی طرح بیل اور بھینس بھی غائب ہوجاتیں ۔انہیں اچانک دس سال قبل کا وہ واقعہ یاد آگیا جب اس نے ایک رات بابا سکھ دیوکی بھینس چراتے مکھیا کے بڑے لڑکے کو دیکھ لیا تھا۔
’’چور ……چور……دیکھو بھینس لے جارہا رہے ۔ چاچا …اوبابا، بھیا…..‘‘
اس کی آواز پر بھینس کو بیچ میں چھوڑ کر چور فرار ہوگئے تھے۔مگر اس نے ایک چور کو پہچان لیا تھا۔اور غضب تو اس وقت ہوگیا جب اگلے دن پنچایت میں اس نے مکھیا کے بیٹے کا نام سب کے سامنے کہہ دیا ۔ مکھیا کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا تھا۔
’’تم جھوٹ بولت ہو ….میرا بیٹا نہیں کوئی اور ہوگا…..‘‘
’’نہیں ….نہیں….میں نے اپنی آنکھوں سے بیر پال کو دیکھا تھا…..‘‘
’’پنچوں یہ مسلمان ہے ….یہ ہندوؤں میں پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔….‘‘
میاں حامد نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ تھا کہ بات اس کے کردار پر آجائے گی ۔ نفرت کیا ہوتی ہے ، اسے پتہ ہی نہ تھا۔اس نے تو کبھی کسی کو بری نظر سے بھی نہیں دیکھا ۔ کیا ہندو ، کیا مسلمان۔وہ تو بچپن سے ہی بابا سکھ دیو کے گھر رہ کر بڑا ہوا تھا۔انہوں نے ہی اس کی شادی کروائی تھی ۔گاؤں کے کئی مسلمانوں نے اسے سمجھایابھی تھا کہ سکھ دیو کے گھر نہ رہے لیکن اس نے کسی کی نہ سنی تھی ۔ پھر بابا اسے بیٹا ہی تو مانتے تھے۔ہمیشہ اس کے دکھ سکھ میں شریک رہتے۔مکھیا کے جملے نے تو جیسے میاں حامد کے سینے کو گرم سلاخوں سے داغ دیا تھا۔اس کو اتنا صدمہ پہنچا کہ وہ گم سم ہوگیا۔مانوں اس کی زبان کاٹ دی گئی ہو ۔ لیکن اگلے ہی لمحے سکھ دیو اور ان کے خاندان والوں نے مکھیا اور اس بیٹے پر لاٹھیا ں برسانا شروع کردی تھیں ۔ دونوں طرف سے زوردار حملے ہورہے تھے۔اس سے قبل کے کچھ انرتھ ہوجاتا ، حامد میاں نے ایک زور کی چیخ ماری…..
’’بند کروخدا کے لیے…..!‘‘
اور واقعی لڑائی کو اچانک بریک لگ گئے تھے ۔
’’تم لوگ میرے اوپر لڑ رہے ہونا۔چلو میں گاؤں چھوڑ کرہی چلا جاتا ہوں ۔‘‘
میاں حامد کی آنکھوں سے آنسو روا ں تھے، انہوں نے اپنا منھ دونوں ہتھیلیوں میں چھپا رکھا تھا۔ان کے اتنا کہتے ہی مکھیا اور بلدیو چاچا ایک ساتھ ان کی اور لپکے تھے۔
’’نہیں حامد……تم گاؤں نہیں چھوڑو گے….‘‘
اور پھر وہ ہوا جو گاؤں والوں نے کبھی نہ دیکھا تھا۔مکھیا نے اپنے بیٹے بیر پال کو سب کے سامنے مارنا شروع کر دیا ۔
’’اس کے کارن سب کچھ ہوا ہے…….‘‘
بڑی مشکل معاملہ رفع دفع ہوا تھا۔ گاؤں میں حامد کی الگ پہچان تھی۔وہ ایک ایماندار مسلمان تھا ۔ جو جتنا مسلمانوں کا ہمدرد تھا اتنا ہی ہندوؤں کا بھی۔
’’اللہ اکبر….‘‘
امام صاحب نے نیت باندھ لی تھی سب نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ خطبہ سنا اور دعا مانگنے لگے۔میاں حامد نے خدا کی بار گاہ میں ہاتھ اٹھائے۔ان کے لب تھر تھرا رہے تھے،ہاتھ بھی لرزنے لگے۔’’اے خدا …..میرے خدا….ہم بڑے گنہہ گار ہیں ۔ اے خدا ہمیں مسلمان کے ساتھ ساتھ انسا ن بھی بنا ۔ مجھے انسانوں کی خدمت کرنا سکھا۔یہ جو ایک عجیب قسم کی آندھی شہروں سے گاؤں کی طرف چلی آرہی ہے ہمیں اس سے محفوظ رکھ……‘‘
دعا کے بعد سب ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے ۔میا ں حامد جھک کر اپنے پوتے ساجد سے گلے ملے۔گلے ملتے وقت انہیں بے پناہ طمانیت اور مسرت کا احساس ہوا ۔انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ ساجد کے اندر سرایت کرگئے ہیں۔ایک چھوٹا بچہ بن گئے ہیں بچہ جو معصوم ہوتا ہے جو فرشتہ صفت ہوتا ہے۔
’’بابا ….بابا…..آؤ نا کھلونا لیں گے…..‘‘
ساجد نے ان کا ہاتھ کھینچاتو وہ دکانوں کی طرف چل دیے۔ساجد نے بہت سے کھلونے دیکھے ۔ سب کو فیل کرتا گیا۔آخر میں اسے بولنے والا کمپیوٹر پسند آگیا ۔ کمپیوٹر کی شکل والا کھلونا تھا جو انگریزی کے لفظوں کے تلفظ اور معنی بتاتا تھا۔ساجد نے ضد کرلی بابا میں تو اسے ہی لوں گا۔
’’بھیا کتنے کا ہے…..؟
’’بابا پورے سو روپے کا ‘‘
’’سوروپے. …؟‘‘میاں حامد کا منھ حیرت سے کھل گیا تھا۔
وہ سوچ میں پڑ گئے ۔ ان کی جیب میں کل ڈیڑھ سو روپے رکھے تھے۔اگر وہ کھلونا خرید لیتے تو گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔لیکن وہ پوتے کا دل بھی نہ توڑ نا چاہتے تھے۔آخر کار ساجد کی ضد جیت گئی ۔مول بھاؤ کے بعد سودا پچاس روپے میں ہوگیا۔ پھر دونوں نے نازو کے لیے ایک آنکھیں مٹکاتی گڑیا خریدی ،بابا سکھ دیو کے بچوں کے لیے بھی کھلونے اور دوسراسامان خریدا ۔سامان لے کر وہ نکل ہی رہے تھے کہ اچانک گولیوں کے دھماکوں سے فضا گونج اٹھی۔اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔پتہ چلا کہ ایودھیا سے لوٹنے والے کارسیوک اسلام پور سے گذر رہے تھے۔ان پر کسی مسلم نے پتھر مار دیا تھا بس کیا تھا۔کارسیوکوں نے مسلمانوں کو مار نا شروع کردیا تھا۔خبر پھیلتے ہی گاؤں کے مسلمانوں نے گولیاں چلانی شروع کردی تھیں ۔کارسیوکوں کی حمایت میں بھی بندوقوں نے گولیاں اگلنی شروع کردی تھیں ۔ گولیوں کا نشانہ بن کر کئی لوگ لاشوں میں تبدیل ہوچکے تھے ۔
میاں حامد نے ساجد کو گود میں اٹھا لیا اور ایک طرف کو بھاگنا شروع کردیا ۔ انہیں قافلے کو دوسرے لوگوں کو ادھر ادھر دیکھا بھی، لیکن وہ ایک لمحہ بھی انتظار میں گنوانا نہیں چاہتے تھے ۔گاؤں کے حاجی شوکت نے حامدمیاں کو اسلام پور میں ہی رکنے کو کہا ۔ اسلام پور مسلمانوں کا بڑا گاؤں تھا ۔ مگر حامد میاں نے منع کردیا اور ایک طرف بھاگنے لگے ۔وہ بہت تیز دوڑ رہے تھے۔ساجد کے ہاتھوں میں کمپیوٹر، گڑیااور دوسرا سامان تھا۔ننھے ساجد کو پتہ نہیں تھا اس نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں ۔میاں حامد پکی سڑک تک آگئے تھے۔ان کے بوڑھے قدموں میں نجانے کہا ں سے طاقت آگئی تھی۔در اصل موت کا ڈر ۔ خود ایک زبر دست طاقت عطا کر تا ہے۔ان کو ڈر تھا کہ اسلام پور کا معاملہ جب دوسرے گاؤں پہنچے گا تو ظلم ہو جائے گا۔وہ اس لمحے کے آنے سے قبل ہی اپنے گاؤں پہنچ جانا چاہتے تھے۔سڑٖک پر پیچھے سے شور کی آواز یں بلند ہورہی تھیں۔ انہوں نے مڑ کر دیکھا ایک بھیڑ بے تحاشہ بھاگی آرہی تھی۔لوگوں کے ہاتھوں میں تلواریں ، لاٹھیاں اور بلّم تھے۔انہوں نے سڑک سے کھیتوں میں بھاگنا شروع کردیا تھا ۔ اب بس ایک گاؤں پار کرنا رہ گیاتھا ، جس کے پار ان کا گاؤں تھا ۔ دوڑتے دوڑتے وہ تھک گئے تھے ۔ گاؤں کے ایک ویران پڑے ٹیوب ویل کے پاس وہ سانس لینے کو رکے۔انہوں نے راستے سے خود کو چھپا لیا تھا تاکہ کوئی گذر ے تو دیکھ نہ پائے ۔
’’بابا…کیا ہوا ۔آپ کیوں بھاگ رہے ہو ….؟‘‘
’’چپ….پ…‘‘
میاں حامد نے اس کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔کہیں کوئی آواز نہ سن لے۔اتنے میں گاؤں میں زبر دست دھماکہ ہوا ۔ لگا جیسے کہیں کوئی بم پھٹا ہو ۔در اصل ایودھیا سے اٹھنے والی سرخ آندھی کے لیے دونوں فرقوں نے تیاری کر رکھی تھی۔موقع ملتے ہی چنگاری ، شعلہ بن رہی تھی۔ آگ گاؤں گاؤں پھیلتی جا رہی تھی۔میاں حامدکے جسم میں خوف کا ناگ بری طرح لہرایا تھا۔انہوں نے ایک بار پھر اپنا راستہ تبدیل کیا ۔ اب وہ گاؤں سے نہ گذر کر کھیتوں کھیتوں اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔دوڑتے دوڑتے وہ اپنے گاؤں کی سرحد میں داخل ہوگئے تھے ۔ ساجد کو نیچے اتار کر انہوں نے ایک لمبی سانس لی۔اطمینان ہوگیا تھا کہ اب وہ اپنے گاؤں میں آگئے ہیں وہ گاؤں جہاں ان کی اوران کے باپ دادا کی عمریں گذری تھیں ۔وہ اطمینان سے ساجد کی انگلی پکڑے گاؤں کی طرف چل پڑے ۔ابھی وہ گاؤں میں داخل ہی ہوئے تھے کہ گاؤں سے ایک شور بلند ہوا۔
’’مارو……پکڑو……‘‘
اس سے قبل کے میاں حامد کچھ سمجھ پاتے ایک جتھا سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ خون کی پیاسی تلواریں ، آنکھوں میں درندگی اور وحشت سمائی ہوئی ۔انہوں نے پلک جھپکتے ہی ساجد کو اپنی گود میں اٹھالیا اور جیسے ہی ایک طرف کو بھاگنا چاہا مکھیا کے بیٹے بیر پال کی دونالی سے نکلنے والی ایک بے رحم گولی نے ساجد کو نشانہ بنا لیا۔
ساجد کے جسم کو پار کرتی ہوئی گولی میاں حامد کے سینے میں پیوست ہوگئی تھی ۔ دونوں زمین پر آرہے ۔ خون کا فوارہ دونوں جسموں سے بلند ہورہا تھا۔زمین ساکت تھی ۔ آسمان خاموش تھا ۔ہوا سانس لینا بھول گئی تھی۔تاریخ نے ایک بار پھر ، خود کو دُہرایا تھا۔حامد میاں اس طرح اپنے پوتے کو گود میں لیے گاؤں کی زمین کا پیوند بن گئے تھے جیسے کربلا میں امام حسین اور ان کی گود میں علی اصغر نے اجل کو لبیک کہا تھا۔دونوں کے خون میں لت پت لاشے پڑے تھے اورتھوڑی ہی دوری پر ساجد کا کمپیوٹر ، نازو کی گڑیا،بہو کا سوٹ اور ایک دھوتی، ایک خوب صورت اور چھوٹی سی پیتل کی لٹیاپڑی تھی ، جومیاں حامد بابا سکھ دیو کے گھر والوں کے لیے لائے تھے۔
Viewers: 2818
Share