Aziz Belgaumi | Review | پروفیسر عنایت امین

عزیز بلگامی azeezbelgaumi@hotmail.com Mbl: 0091 9538 05 4393 فطرت کی شعری عنایتوں کا امانت دارشاعرپروفیسر عنایت امینؔ پروفیسر عنایت امین ؔ کا شعری مجموعہ’’دھوپ سمندر‘‘نہ صرف نیک تمناؤں اور خلوص […]

عزیز بلگامی
azeezbelgaumi@hotmail.com
Mbl: 0091 9538 05 4393

فطرت کی شعری عنایتوں کا امانت دارشاعرپروفیسر عنایت امینؔ

پروفیسر عنایت امین ؔ کا شعری مجموعہ’’دھوپ سمندر‘‘نہ صرف نیک تمناؤں اور خلوص کے ساتھ موصول ہوا تھا، بلکہ اِس پر ’’برائے تبصرہ‘‘ کا حکم بھی درج تھا۔خواہش کے باوجود ہم تبصرہ تو کیا،مطالعہ کی بھی فرصت نہ نکال سکے اورپروفیسر موصوف کے حکم کی تعمیل کافی طویل عرصے تک اِلتواء میں پڑی رہی۔وقت گزرتا گیا اور تاخیر پر تاخیر ہوتی گئی۔پروفیسر عنایت امین چونکہ میرے پرانے عزیزوں میں سے ہیں ، شاید اِس لیے بھی تبصرے کے سلسلے میں کسی عجلت کا دباؤ محسوس نہیں ہوالیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام ترجیحات کی فہرست میں سب سے اوپر تھا۔ اب کچھ ذہن و دل معتدل ہوئے اورکسی نہ کسی کام میں خود کو مصروف رکھنے والی سانسیں درست ہوئیں تو تبصرے میں مزید تاخیر گوارہ نہ ہوئی۔ خدا کا شکر کہ اُن کے حکم کی تعمیل کا وقت آگیا تھا ، ہم نے نوٹس بنانے کے لیے کاغذ قلم تھاما،لیکن جیسے ہی سرورق پلٹا تو سامنے ’’راحت اندوری‘‘ جیسے بلند قامت فنکار و شاعر کی، پروفیسر عنایت امینؔ کی شاعری پر گرانقدر رائے درج تھی جسے دیکھ کر ہم کچھ ٹھٹک سے گیے کہ عالمی سطح پراپنی شاعرانہ فوقیت و غلبے اور مشاعروں میں اپنے بے مثال فکر وفن کا لوہا منوانے والا شاعر اُن کی شاعری کو نہ صرف سراہ رہا ہے بلکہ اُن کی شاعری کو ’’۔۔۔ افکار و احساسات کی سچائی کے ساتھ نئی رتوں کا درشن کروانے والی شاعری‘‘ کہہ رہا ہے ۔اِتنا ہی نہیں ، دوسرے فلیپ نگار جونپور یوپی کے محترم شاعر جمالی عنایت امینؔ کے بارے میں اعلان فرما رہے ہیں کہ’’۔۔۔ وہ تاریخ میں اِس صدی کے گواہ کی حیثیت سے زندہ رہیں گے۔‘‘ تو ظاہر ہے ہم جیسے چھوٹے موٹے تبصرہ نگارکچھ کہنے سے پہلے سہم کیوں نہیں جائیں گے۔لیکن عنایت امین کا حکم اور اُ ن کی خواہش کا احترام اور ہماری اُن سے محبت ہمارے احساسِ کمتری پر غالب آ گئی،مگر اتنا اثر ضرور ہوا کہ ہم نے روا روی میں کچھ کہنے لکھنے کے بجائے مکمل احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کتاب پر تبصرے کی ضرورت محسوس کی اور اِس کی تیاری مکمل کرلی جس میں اِس کا باالاستعاب مطالعہ اور ان کے کثیر الاطراف افکار و احساسات کی سچائیوں پر غور و فکر شامل تھے جن کی بنا پر ہم عنایت امین کی شاعری کا جائزہ لینے کی خود اعتمادی سے مالا مال ہوگیے۔البتہ ایک رکاوٹ رہ گئی تھی اور وہ تھی خود عنایت امین کا ایک شعر جوہم سے کہہ رہا تھا کہ:
جذبات کی افکار کی معراج ہے اِس میں
تنقید کی لاٹھی سے کتابوں کو نہ مارو
چنانچہ احتیاط نا گزیر ہوگئی اور ہم نے طے کر لیا کہ ہم اُن کی کتاب کو تنقیض زدہ تنقید کی لاٹھی سے کسی بھی حال میں نہیں ماریں گے۔
آئیے ’’ دھوپ سمندر‘‘کے مندرجات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں موصوف کی ایک حمد ، دو نعتیں اور۸۵ غزلیں شامل ہیں۔آخر میں دو نظمیں بھی’’اگربتی‘‘ اور ’’فٹ بال‘‘ کے عنوان سے شاملِ مجموعہ ہیں۔بزرگوں کی روایات کا پاس، بچوں کی معصومیت ، کھلونوں سے محروم بچپن،ماں کا مقام و مرتبہ اور اُس کی دعاؤں کی عظمت، گاؤں، کسان اور افلاس کا تکون، قرآن کی طرف پلٹنے کی آرزو، تعلیم بالغان کا نعرۂ مستانہ ، سرپنچ جیسے ذمہ دارانِ معاشرہ کا بدلتا کردار، نہ جانے ایسے اور کتنے ہی موضوعات عصر حاضر کی بازگشت لیے اور عصری حسیت کے علامتی عنوانات کے ساتھ عنایت امینؔ کے مختصر سے مجموعۂ کلام میں بڑی شان سے سمٹ آئے ہیں۔ایک خوبصورت حمد سے انہوں نے اپنے مجموعہ کا آغاز کیا ہے۔حمد کا یہ خوبصورت شعرملاحظہ ہو:
عطا ہے تیری قلم تیرا فکر بھی تیری
کمالِ فن میں مرے کوئی بھی کمال نہیں
ایک حق بات کس خوبصورت شعری پیرائے میں ڈھل کر سامنے آئی ہے اور خدا کے آگے جذبۂ عبودیت سے ایک بندۂ خدا کا سرشار دِل کس شانِ انکساری کا مظاہرہ کر رہا ہے،اِس کے احساس سے کوئی قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔اتفاق کی بات یہ کہ اُن کی غزل کا ایک شعر بھی خالصتاً حمد کا شعر ہے:
ہر قدم پر مجھے پڑتی ہے ضرورت تیری
میری آزادی پہ گویا ہے حکومت تیری
پھراُن کی نعت کا یہ شعر ملاحظہ ہو۔ اِس میں فرض کی ادائیگی کے بعد نعت کہہ کر اپنی مغفرت کی توقع کا قرینہ قابلِ داد ہے ، جو عام طور پر غلو سے اُن کے شعوری اجتناب کا پتہ دیتا ہے :
زندگی میں ہے شامل تری بندگی، بندگی کے سوا کچھ نہیں زندگی
کر نمازیں ادا آگہی کے لیے نعت کہہ لے تری مغفرت کے لیے
آئیے!اب تفصیل سے اُن کے محاسنِ شعری کا جائزہ لیا جائے:
معاشرے کے بدلتے لائف اسٹائل کی خوبصورت عکاسی،عصرِ حاضر کی شقی القلبی، خود غرضی ،انسانیت سے بیزار انسانوں کے مکروہ اعمال کا کچا چٹھا۔۔۔یہاں تک کہ وہ اِس دورکے شیشوں ہی کو پتھر سے تعبیر کرتے ہیں۔دہشت گردی سے بیزاری کا اِظہار،ہمارے معاشروں کے ٹوٹنے بکھرنے کا منظرِ ،خاص طور سے خاندان کا ادارہ کسیے روبہ شکستگی ہے اِس کا اندازہ اُن کے شعروں میں ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ تجارت ہمیں واقعی نہیں آتی۔ ورنہ ہم دنیا کے امام ہوتے۔ ہمار ے پرکھوں نے صدیوں عیش کیا اور اپنی بد نصیبیاں اپنی نسلوں کے لیے چھوڑ گیے۔پھرانسان کا مادہ پرستانہ نقطۂ نظر کیا گل کھلارہا ہے اِس کی خوبصورت تصویر کشی امینؔ کے فکر و فن کا جز ہے۔وہ احساس دلاتے ہیں کہ دورِ حاضر میں ضمیر نام کی شے مفقود ہے۔جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مالِ تجارت کبھی نہیں بن سکتے،بہت جلد کھوکلا ثابت ہو جاتاہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بولی تو لگائی جاتی ہے لیکن یہ قیمت سے جب تک میل نہیں کھاتی کوئی بکتا نہیں لیکن جیسے ہی کوئی معقول قیمت طے ہوتی ہے تو اچھے اچھے لوگ بک جاتے ہیں۔اُن کے بقول شرافت ابھی زندہ ہے۔ درجِ ذیل اشعار ہمارے اِن خیالات کی تائید میں پیش کیے جاسکتے ہیں:
ہمارے گاؤں کے سرپنچ کو فرصت نہیں ملتی
یہاں ہر پل میاں بیوی کے جھگڑے روز آتے ہیں
نہ جانے کیسی کوتاہی ہوئی تھی میرے پُرکھوں سے
تجارت ہم بھی کرتے ہیں منافع کیوں نہیں ہوتا
دل میں رہنے کا تقاضہ بھی بہت ہوتا ہے
اِس حویلی کا کرایہ بھی بہت ہوتا ہے
اس دور کے انساں کو راس آگیا زر زیور
حیران محبت ہے رشتوں کی تجارت پر
میں تو انمول تھا پھر کیسے خریدہ تونے
اتنی طاقت ترے پیسے میں کہاں سے آئی
بیچ دیتا ہے جو اولاد کو پیسوں کے عوض
ایسے ظالم پہ عنایت نہیں ہوگی مجھ سے
عنایت امین ؔ بچوں کے لیے بڑے شفیق واقع ہوئے ہیں۔ شاید اِس کا سبب یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی معاشی جد و جہد کے زمانے میں اپنے کم عمر بچوں سے کچھ عرصہ دور رہنے پر مجبور ہوئے تھے۔چنانچہ اپنے بچوں سے دوری کا کرب وہی سمجھ سکتے ہیں۔ خدا کا اُن پر یہ فضلِ خاص رہا کہ وہ شاعری کی خدا داد صلاحیتوں سے نوازے گیے اور اُنہیں اپنے کرب کو شعری اِظہار میں بدل کر خود کو خوش رکھنے کا سلیقہ آگیا۔کئی شعر ہیں جو اُن کی طفل نوازی کے غماز ہیں،عنایت امین کے پاس بچے کے ساتھ کھلونے کے متنوع تعلقات کے مختلف اِظہار بھی پائے جاتے ہیں جو قاری کو محظوظ کر تے ہیں:
بچوں کو ہی کرنا ہے بچے ہی تو کرتے ہیں
پھر کیسی پریشانی بچوں کی شرارت پر
بہتے جذبات کا لاوا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے روتا ہوا بچہ نہیں دیکھا جاتا
دیکھا تھا چند بچوں کو آنگن میں کھیلتے
ایسا زمیں پہ پھر کوئی منظر نہیں ملا
ہر شام زندگی کو میں دیکھوں قریب سے
بچوں کی ریل گاڑی مرے لان میں رہے
میں جب بچوں سے ملتا ہوں مرا من موہ لیتے ہیں
میں اُن کے پیار سے من کو اَتی سُندر بناتا ہوں
ہو گیا بند مرے بچے کا رونا فوراً
اتنی دلچسپی کھلونے میں کہاں سے آئی
نئی تہذیب بچوں کو کہیں برباد نہ کر دے
میں آبادی سے کوسوں دور اپنا گھر بناتا ہوں
کھلونے لے کے جب لوٹا میں اپنے گھر جو میلے سے
مرے بچوں کے سپنوں کی قیادت ہو گئی آساں
بہلانے سے دل میرا بہلتا بھی نہیں ہے
اب گھر میں کوئی کھیلتا بچہ بھی نہیں ہے
عرب کا شخ ہو یا ہو مہاجن، اپنے بچوں کو
وراثت میں کھلونوں کی دُکاں ہر گز نہیں دیتا
لوٹ آیا مرے بچپن کا وہ بیتا موسم
تھام کر اُنگلی جوچلنے لگا بچہ میرا
ماں باپ کے موضوع اور خاص طور سے ماں کی دعاؤں کی قدر و قیمت پر شاعری میں قلم اُٹھانے والے ہندوستان کے نامور شاعر منورؔ رانا کے بعد کرناٹک میں صرف عنایت امینؔ ہی ایک ایسے شاعر نظر آ تے ہیں،جنہوں نے اِس روایت کو آگے بڑھایا۔ یاد پڑتا ہے کہ اِس حوالے سے کسی مشاعرے میں ایک اناؤنسر نے آپ کو جنوب کا منور رانا بھی کہا تھا۔اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا فی الواقع ہماراشاعر اتنا کلام اِس موضوع پر تخلیق کر سکے گا کہ وہ منور رانا کی برابری کر سکے۔ دل کو چھو لینے والے اشعار ملاحظہ ہوں:
جھلسا نہ دے امینؔ کو محشر کی تیز دھوپ
ماں، باپ کی دُعاؤں کا سایہ نصیب کر
نوکری مل گئی بیٹے کو سفارش کے بغیر
آج خالی نہ گئی ماں کی دُعا کی جھولی
دیا تھا مجھ کو اک بوسہ مری ماں نے لڑکپن میں
بھی تک میرے ماتھے پر وہ اک بوسہ مہکتا ہے
ظلم کی دیوی بھلا کچھ کر نہ پائے گی امینؔ
سرپہ میرے ماں کا آنچل ہے کوئی پرچم نہیں
آگ اب کیوں بجھانے کو آئے ہو تم
گھر جلا ماں جلی فیملی جل گئی
دیوار ودر اُداس ہیں منظر اُداس ہے
جس گھر میں ماں نہیں ہے وہی گھر اُداس ہے
قرآن حکیم سے قرآ ن کے ماننے والوں کی دوری ناقابلِ فہم ہے۔ اپنے اشعار میں امینؔ نے اِس موضوع پر بطورِ خاص شعر کہے ہیں اوربساط بھر کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کا اِس سے رجوع اورکسبِ ہدایت کا سلسلہ پھر سے جاری و ساری ہو جائے۔ واضح رہے کہ وہ جب بھی قرآن کی عظمت پر شعر کہتے ہیں تو اُن کی مراد اِسے سمجھ کر پڑھنے سے ہوتی ہے:
عمر کم ہے مری قرآن سمجھنے، پڑھنے
کیا کروں پڑھ کے میں اخبار چلو جانے دو
قدم میرے نکل پڑتے ہیں جب گمراہ رستوں پر
مجھے قرآن کی جانب ترا در کھینچ لیتا ہے
دنیا بھر کی ساری کتابیں میں نے پڑھ ڈالیں لیکن
قرآن پڑھنا اور پڑھانا مجھ کو اچھا لگتا ہے
آسان کیوں نہ ہوگی سبھی منزلیں امینؔ
قرآن اورحدیث پہ دارومدار رکھ
میں خوش نصیب ہوں یہ سعادت مجھے ملی
بیٹا بھی میرا حافظِ قرآں ہوگیا
عنایت امین نے واقعی بڑی شد و مد کے ساتھ قرآن کی اہمیت کو اپنے مجموعہ میں اُجاگر کرنے کی سعی کی ہے:
جب مصیبت کوئی آتی ہے تو پڑھتے ہیں اِسے
ورنہ قرآن کو کچھ لوگ بھلا دیتے ہیں
(’’کچھ لوگ ‘‘ کیوں؟۔۔۔ یہ بات تو عام ہے۔)
شرافتِ انسانی دب تو سکتی ہے مر نہیں سکتی۔چاہے کسی نے ساری زندگی غنڈہ گردی میں کیوں نہ گزاری ہو۔ کتنی خوبصورتی سے اِس حقیقت کو انہوں نے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔بھوکوں کی دنیا میں عنایت امین کا درد مند دل کبھی کبھی جھنجلا اٹھتا ہے اور اپنے احساس کو شعر کا پیکر عطا کر دیتا ہے۔پھر’’ضعیفی ‘‘پر بھی وہ قلم اٹھاتے ہیں جو اُن کی نظر میں کسی عذاب سے کم نہیں، جب جسمانی قوت جواب دے جاتی ہے اور اگر اِس ضعیفی کے ساتھ کوئی مرض بھی ساتھ ہولے تو پھر خون کے رشتے بھی بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اولاد اپنے بزرگ ، بیمار ماں باپ کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ صورت حال عام ہے اور اِس کی جھلک اِن کے شعروں میں بخوبی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اولاد کی بے وفائی کی جھلکیاں ان کے کلام میں جابجا موجود ہیں۔لیکن اولاد کی فکر میں ماں باپ کیا کچھ نہیں کرتے، سکون، چین سے بے نیاز ہوکر بچوں کی فکر مندی میں جو قربانیوں پر قربانیاں پیش کر تے ہیں، اِ س کا تذکرہ بھی اِن کے ہاں ملتا ہے۔ناقص نظام ہائے معاش کی ستم ظریفی کہ، ان کی اِن ساری قربانیوں کے باوجود بھی جو چند سکے اُن کے ہاتھ لگتے ہیں، انہیں عنایت امینؔ چھا لو ں سے موسوم کرکے نہایت ہی کرب آگیں تاثر پیدا کر دیتے ہیں ، جس سے قاری کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر کسی کے عیبوں کا چھپانااور اچھائیوں کا چرچا کرنا بھی اُن کا شعری موضوع ہے جو بہت بڑی نیکی مانی گئی ہے۔ خود مالکِ کائنات ستار العیوب ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم ساترِ عیب تھے۔چونکہ امینؔ ایک اسلامی ذہن کے مالک شاعرہیں اِس لیے اُن کے بیشتر شعروں میں ایسے اُمور سخن کا موضوع بنتے ہیں اور جابجا اِسلامی تعلیمات کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
لاش اک بیوہ کی دفنا کے چلا آیا ہے
یہ شرافت کسی غنڈے میں کہاں سے آئی
آج تک کوئی مفکر ہمیں سمجھا نہ سکا
بھوک انسان کے حصے میں کہاں سے آئی
اپنی اولاد پہ اک بوجھ بنا ہوں یارب
جانے بیماری بڑھاپے میں کہاں سے آئی
کس کو بُرا کہوں میں بھلا کس کو دوش دوں
میرے ہی بچے میرے حریفوں سے جاملے
سوکھا پڑا جوگاؤں میں خوشحالی چھن گئی
مزدور اپنے گاؤں کے فاقوں سے جا ملے
بچوں کی فکر نیند کے پنچھی کو لے اُڑی
اک عمر ہو گئی مجھے بستر نہیں ملا
پیٹ کیابھر سکیں گے بچوں کا
چند سکیّ مری کمائی کے
چند سکے ملے جب ہاتھ میں چھالوں کی طرح
ایک مزدور کی محنت ہوئی ٹکڑے ٹکڑے
عیب یاروں کے نظر آئے ہمیشہ پھر بھی
نیک اعمال کا چرچہ کروں چُپ ہو جاؤں
اک فرض دوستی کے نبھانے کا یہ بھی ہے
اُس کی بُرائیوں کوچھپایا غضب کیا
جس دین میں جانوروں کو دھوپ میں باندھنے سے منع کیا گیا ہووہ دین کبھی کسی کو دہشت گرد بنا نہیں سکتا۔ عصر حاضر میں ریس کے مجبور گھوڑوں پر جو ظلم ہوتا ہے اِس پر اِظہار ہمدردی شاعرِ محترم کی اُسی حس کا نتیجہ ہے۔پھرٹوٹے دلوں کو جوڑنے کے لیے لہجے کی شیرینی سے کسے انکار ہو سکتاہے۔دین و دنیا میں اعتدال کا درس نہایت حسین پیرائے میں مگر کتنی سادگی کے ساتھ دیتے ہیں۔ اُن کے خیال میں ایک منزل آشنا با عزم مسافر کو واقعی کسی سہارے کی کبھی ضرورت نہیں ہوتی۔ دورئ منزل کے باوجود ایسے اولوالعزم مسافرین منزل کو صاف دیکھ لیتے ہیں:
مجبوروں کی مجبوری کا کچھ پاس بھی رکھ لو
دولت کے لیے ریس میں گھوڑوں کو نہ مارو
لب کھلیں تیرے تو ہو شہد سے میٹھا لہجہ
جوڑ دے ٹوٹے دلوں کو وہ اثر پیدا کر
اک طرف دین ہے اور دوسری جانب دنیا
کچھ مقامات ادھر اور اُدھر پیدا کر
میں قافلہ والوں کے سہارے پہ رہوں کیوں
منزل مری دور اتنی زیادہ بھی نہیں ہے
شعروں میں اِبہام سے گریز کی طر ف خوبصورت اِشارے اُن کے اشعار میں ملتے ہیں۔
Empty mind is Devils Work Shop
سے بچنے کے نظریہ کی خوب شعری ترجمانی انہوں نے کی ہے۔ایک اسلام پسند شاعرو فن کار اِسلامی اُمورسے متعلق موضوعات کو نظم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔وقت کے عکاس شعروں کی امین کے ہاں کمی نہیں۔ دم توڑتے اخبارات کی تشبیہ کے ساتھ ان کا یہ دعویٰ بے جا نہیں کہ وہ وقت کے حالات کی عکاسی سے کبھی نہیں رکتے۔ شاید اِسی لیے شاعر جمالی نے اُنہیں ’’اِس صدی کا گواہ بن کر کھڑا ہونے والا‘‘ شاعر کہا ہے:
ہم تو پھیلا دیا کرتے ہیں مضامینِ حیات
شعر گوئی کو معمہ نہیں ہونے دیتے
روز سکھلاتے ہیں ہر فکر کو ورزش کے اْصول
ہم کبھی ذہن کو بوڑھا نہیں ہونے دیتے
نمازوں میں جو پانچوں وقت دُھلتا ہے وضو کرتے
سُنا ہے بعد مرنے کے وہی چہرہ مہکتا ہے
میری تحریروں میں رقصاں وقت کی پرچھائیاں
میں کسی دم توڑتے اخبار کا کالم نہیں
معاشرے کے کریہہ مناظر کے کیسے کیسے نمونے وہ اپنی شاعری میں پیش کرتے ہیں۔مفلس خاندانوں میں موجود غیر محفوظ دوشیزگی پر نہ جانے معاشرے کے ’’شریف زادوں‘‘ کی سوداگری کے کیسے کیسے خطرے منڈلاتے رہتے ہیں۔پھر ڈگریوں کے بارے میں اُن کے نظریات کس قدر حقیقت پسندانہ اور دلنواز
ہیں۔گو کہ خود امینؔ ڈگریوں کے مالک اور کئی کالجوں کے اندرون و بیرون ملک پرنسپل رہ چکے ہیں،لیکن اِس کے باوجود وہ خود اِن کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔فکر و نظر کبھی ڈگریوں کی مرہونِ منت نہیں رہتی ۔ہمارے معاشرے میں اِس کی بے شمار مثالیں بکھری پڑی ہیں:
پک گیے پھل مفلسوں کے گھر میں جیسے ہی امینؔ
بھیڑ ہے سوداگروں کی بولیاں ہیں شہر میں
اس زمانے کا مفکر ہوں ادب کر میرا
ڈگریاں لے کے مجھے آنکھ دکھاتا کیا ہے
’’کبوتر با کبوتر باز با باز‘‘مشہور ہے ، شعر ملاحظہ ہو:
دستور زمانے کا بدلا ہے نہ بدلے گا
زاہد سے ملے زاہد پاپی سے ملے پاپی
اِس دنیا کے نرالے دستور کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اصلاً اسباب کی دنیا ہے ، اور یہ سب مادی و ذہنی اسبا ب ہوتے ہیں جس سے ایک فطری نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔خدا فراموش انسان ہو کہ شاعر کے بقول کوئی پاپی ہی کیوں نہ ہو، اگر ڈھنگ سے کوئی مادی سبب پیدا کرلے تو فطرت اس کا ساتھ دیتی ہے۔ خداپرست بھی اگر بے ڈھنگے طریقے سے جی رہا ہے تو اُس کے بے ڈھنگے اسباب اُسے ناکام ہی کردیتے ہیں۔یہ اصل حقائق ہیں جن کے درمیان انسان کی آزمائش ہورہی ہے اور وہ مسلسل امتحان گاہ میں اپنا پرچہ حل کر رہا ہے۔ اصل دنیا تو محشر کی دنیا ہے جہاں صرف اخلاقی اسباب کی قدر وقیمت ہوگی، جہاں اصل رسوائی اور اصل عزّ ت کا تعارف ہوگا۔عنایت امین کے یہ دو شعر دیکھیں:
خالق تری دنیا کا دستور نرالا ہے
انسان ہوئے رُسوا پھولوں میں تُلے پاپی
کل تک تو جن کو پیر کی جوتی نہ تھی نصیب
اُن کے سروں پہ آج حکومت کا تاج ہے
کسان اورمزدور اور ان کی مفلسیوں کا احاظہ کرنے والے موضوعات عنایت امین کی شاعری کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔جن کے مسائل اور اُن کے حل کی تجاویز کااحاطہ کرنے والے شعر ان کے کلام میں جابجا ملتے ہیں:
چند مزدور جب بھوک سہہ نہ سکے
موت سے جا ملے زندگی جل گئی
محنت میں جس نے خون پسینہ بہا دیا
اللہ اُس کسان کی کھیتی ہری کرے
آنکھ والے بھی دانستہ اندھے بنے
ایک مُفلس کی جب چھونپڑی جل گئی
محلوں میں بیٹھ کر نہ ہو مغرور آدمی
مُفلس کے گھر کی فِکر بھی کچھ لازمی کرے
ساحل پہ مفلسوں نے یہ مانگی تھی کل دُعا
غارت امیر زادوں کوبہتی ندی کرے
اپنی اولاد کی فکر مندی کا احساس جیسے سلگتے مضامین کو شعری آداب کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔ مدینہ منورہ میں مستقل قیام پذیری کے سبب انہیں یقیناًکئی مواقع عمرہ کے نصیب ہوئے ہوں گے۔چنانچہ اُن کی وارداتِ قلبی کے حوالے سے ہمیں بھی اِن کے تبرکات کا شعری فیض نصیب ہوتاہے۔عنایت امینؔ کو بھی واعظ سے شکایت ہے اور کیوں نہ ہو، دنیا کو جگانے کا وعظ دینے والے ابھی تک سوئے ہوئے جوہیں:
اپنی اولادکو فٹ پاتھ پہ کیسے چھوڑوں
جب کہ چڑیوں نے بھی بچوں کو نہ بھوکا رکھا
شعر کہنے کو سُلگتے ہوئے مضمون لیے
فاعلاتُن فُعِلاتن کا بھی سانچہ رکھا
کھل گیے مجھ پہ محبت کے کئی راز امینؔ
خانۂ کعبہ کی چوکھٹ پہ جو ماتھا رکھا
یہ بات کبھی تنہائی میں پوچھو تو جناب واعظ سے
دنیا کو جگاتے پھرتے ہو کیوں خود کو جگانا بھول گیے
بہکاؤ نہیں عالمو ملّت ہے یہ بھولی
فرقوں میں نہ بانٹو انھیں نسلوں کو نہ مارو
تنگ دستی کو فراغت میں بدلنے کے لیے ہجرت کو عنایت امین نہایت ضروری سمجھتے ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تنگ دستی ہی نہیں،’’ ہجرت‘‘ اصلاً انسانوں کے کتنے ہی اجتماعی وسیاسی مسائل کا حل ہے۔ قرآن نے بھی ہجرت کی کئی مقامات پر تاکید فرمائی ہے اور’’ جہاد ‘‘پر اِسے فوقیت دے کر یہ قرینہ پیدا کیا ہے کہ ہجرت کے بغیر تمہارے جہاد میں بھی برکت نہیں ہوگی ۔کیوں کہ قرآن میں’’ ہجرت اور جہاد‘‘ ہر مقام پر اِسی ترتیب کے ساتھ آئے ہیں۔’’..وھاجروا وجاھدوا..‘‘ قرآنی اسلوب سے نابلد ہمارے بعض مجاہدین ہجرت کے بغیر جہاد کرکے کامیابی کی امید میں رہتے ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوتی۔خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا اُسوہ ہمیں بتا تا ہے کہ جب تک آپؐ مکہ میں رہے کبھی جہاد کے لیے تلوار نہیں اٹھائی اور جب مدینہ ہجرت کر گیے جہاد کے لیے میدان میں اُترے:
تنگ دستی کو فراغت میں بدلنے کے لیے
ہم نے ہجرت کی ضرورت کو ضروری سمجھا
سود میں ملوث مسلمانوں سے بیزاری،محنت کی کمائی اور اکلِ حلال کی جستجو کا حوصلہ( عنایت امین نے اکلِ حلال کے حصول کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، اِس کے ہم چشم دید گواہ ہیں، وہ اِ س موضوع پر جب شعرکہتے ہیں تو ہمیں اُن پر فخر کرنے کو جی چاہتا ہے)۔انسان کی مصروف زندگی نے جو نقصانات انسان کو جھیلنے پر مجبور کیا ہے اُن میں سے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ وہ اپنی بیوی بچوں میں پیار بانٹنے سے محروم رہ جاتا ہے۔پھرآسمان سے باتیں کرنے والی مہنگائی کا ذکر بھی وہ نہایت کرب کے ساتھ کرتے ہیں۔’’ہریجن‘‘ کی خوبصورت تشبیہ ملاحظہ ہو جو لطف اندوزی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ہمارے دیش کے نیتا ؤں کے کردا رکی عکاسی بھی اُن کے شعروں میں ملتی ہے، نیزوکالت کے پیشے میں در آنے والے مکروہات کا حقیقت پسندانہ حوالہ بھی قابلِ داد ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
باعثِ شرم مسلماں بھی مہاجن کی طرح
سود میں ڈوبی تجارت کو ضروری سمجھا
محنت کا سکہّ جب مری جھولی میں آگیا
بچے مرے حرام کی روٹی سے بچ گیے
رشوت زدہ سماج میں رہنے کے باوجود
رزقِ حلال میں نے کمایا غضب کیا
میں اپنے بیوی بچوں میں کہاں سے پیار بانٹوں گا
لہو میرے بدن کا جب کہ دفتر کھینچ لیتا ہے
نہ جانے آئی کہاں سے غضب کی مہنگائی
تڑپ رہے ہیں پرندے بھی دانے دانے کو
(اِس شعر میں’’پرند ے بھی‘‘ کا جواب نہیں)
جس گھر میں دیا جلتا ہے دولت کی ہوس کا
اُس گھر میں شرافت بھی ہریجن کی طرح ہے
بچانے اپنی کرسی کو ہمارے دیش کا نیتا
دلوں کے بیچ نفرت کے شرارے بانٹ دیتا ہے
کل جو غنڈے تھے موالی تھے منسٹر ہیں آج
اپنے بھارت کی یہ سرکار ہے بچ کر رہنا
ایک مدت سے پریشان تھا مجبور وکیل
آج خوشحال ہے غنڈے کی وکالت کرکے
کہتے ہیں کہ غزل کے شاعر کی صلاحیتِ شعری کا پتہ مطلع ہی میں چل جاتا ہے اورقاری مطلع ہی کی بنیاد پر غزل کے دیگر اشعارکی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
پروفیسر عنایت امینؔ کے چند مطلعے ملاحظہ فرمائیں کہ کس شان اسے انہوں نے اپنی غزلو ں کا آغاز کیا ہے:
پتھر کی لکیروں سا اپنا بھی مقدر تھا
تبدیل کیا میں نے میں بھی تو سکندر تھا
قربان جاؤں اُس پہ جو قرآن دے گیا
ہر مسئلے کا حل مجھے آسان دے گیا
حیات و موت کے بستر پہ تلملانے کو
غریبی دے گئی اولاد آزمانے کو
انمول ہیں یہ رشتے رشتوں کی حفاظت کر
بچوں کی طرح اپنے بوڑھوں کی حفاظت کر
دل میں رہنے کا تقاضہ بھی بہت ہوتا ہے
اِس حویلی کا کرایہ بھی بہت ہوتا ہے
دلاسہ دینے نیکی کے فرشتے روز آتے ہیں
مری ٹوٹی ہوئی چھت پر پرندے روز آتے ہیں
کر کے خیرات گناہوں کو چھپاتا کیا ہے
رنگ سونے کا توپیتل پہ چڑھاتا کیا ہے
عنایت امین کے بعض مقطعے بھی غضب ڈھاتے ہیں:
یہ سچ ہے امینؔ آج بھی کردارِ مُسلماں
جنگل میں مہکتے ہوئے چندن کی طرح ہے
امینؔ اس دور کا فنکار ہے جو اپنی غزلوں میں
نئی فکر و نظر کے استعارے بانٹ دیتا ہے
پہچان کرا دے تو دنیا میں امینؔ اپنی
غزلوں کا مسیحا بن غزلوں کی حفاظت کر
تاریخ امینؔ اپنی اس بات کی شاہد ہے
چھوڑا نہ اُنھیں ہم نے جب ہاتھ لگے پاپی
جس نے امینؔ تم کو مٹانے کی بات کی
اُس کا بھی تم نے ساتھ نبھایا غضب کیا
سہمی ہوئی فضاء ہے ترے شہر کی امینؔ
کیا کوئی خوفناک خبر لے کے آگیا
حالات کا شکوہ ہی امینؔ اب تو عبث ہے
ہر ھال مین جینا ہے تو پھر خوف و خطر کیا
فریاد امینؔ اپنی کوئی کیا بابِ اثر سے ٹکراتی!
سر کو تو جھکا یا سجدے میں اور دل کو جھکانا بھول گیے
عالموں پر کریں تکیہ؂ تو کریں کیسے امینؔ
عیدکے دن بھی وہ آپس میں لڑا دیتے ہیں
انسانیت کے واسطے لازم ہے اے امینؔ
انسان جو بھی بات کرے کام کی کرے
تم اپنے خول کے باہر جو آگیے ہوتے
امینؔ ذکر تمہارا نگر نگر ہوتا
آخر میں شاعرِ موصوف کے مزیدکچھ اچھے شعروں کا گلدستہ پیش کر رہا ہوں:
رسم اور ریت کے زیور کو میں کیسے بدلوں
تم مجھے گاؤں کا مکھیا نہیں ہونے دیتے
مصلحت کھا گئی زندگی کا بھرم
ہم بھی خاموش تھے پتھروں کی طرح
چوری سے بڑا ڈاکا، ڈاکو سے بڑا قاتل
اتنی تو ترقی کر پاپی بھی کہے پاپی
چھو نہیں سکتی مرے پھول سے تن کو دیمک
نیم کے پیڑ سے رشتہ کروں چُپ ہو جاؤں
تم بھی نہ روشنی کی اُسے بھیک دے سکے
دامن پسارے رہ گیے تیرہ شبی کے ہاتھ
اک عمر کٹ گئی مجھے منزل کو ڈھونڈتے
تھک ہار کے میں کربِ سفر لے کے آگیا
اخلاص سے خالی ہو اگر عشق کا دامن
پھر کیسی دُعا اور دعاؤں میں اثر کیا
کون کس درجہ سخنور ہے سمجھنے کے لیے
طرحی غزلوں کی ضرورت کو ضروری سمجھا
جب تمہارے گاؤں کے بچوں کو دیکھا پیار سے
مجھ پہ اغوا کا لگا الزام پہلی مرتبہ
سجدوں کے اِس مقام پہ باتیں فضول کی
مسجد کا احترام بھی کچھ دھیان میں رہے
میں نے سینے سے لگایا ہے ترے ہر غم کو
دودھ پیتے ہوئے اک گائے کے بچھڑے کی طرح
آج کل ادبی اداروں میں جو ٹکراؤ ہے
ختم ہوگا نہ کسی مذہبی جھگڑے کی طرح
دل کے مقام سے نہیں بڑھ کر کوئی مقام
یہ وہ مقام ہے جہاں بستی ہیں بستیاں
میں نے اک بار زبان کھولی تھی حق کی خاطر
زہر دینے پہ ہے آمادہ مسیحا میرا
چھوڑ کر مجھ کو وہ دُنیا سے گیا ہے ایسے
جیسے پھینکا ہوا پتھر نہیں آنے والا
کوئی دیتا ہے ہمیں گالی تو دینے دیجیے
ہم بُرا چاہنے والوں کو دُعا دیتے ہیں
پیاس اتنی ہے سمند ر کے سمندر پی لوں
ایک جلتا ہوا صحرا یہ صدا دیتا ہے
جوانی تھی تو من مانی کا طوفاں تھا طبعیت میں
بوڑھاپے میں قدم رکھا تو بستر کھینچ لیتا ہے
وفا خلوص محبت کے نرم دھاگوں سے
مین بُن رہا ہوں مقدّر کے تانے بانے کو
بچانے اپنی کرسی کو ہمارے دیش کا نیتا
دلوں کے بیچ نفرت کے شرارے بانٹ دیتا ہے
سیلاب چلا آئے یا دورِ خزاں چھائے
پھل پھول تو نکلیں گے پیڑوں کی حفاظت کر
تاریخ یہ کہتی ہے ہر لمحہ غنیمت ہے
صدیوں سے ہے گر اُلفت لمحوں کی حفاظت کر
کیا تجھ کو خبر بھی ہے ماحول ہے تیزابی
ہیں گھر میں جواں بہنیں بہنوں کی حفاظت کر
ایسا نہ ہو کہ اپنے ہی سر پر وہ گر پڑے
دیوار نفرتوں کی نہ انساں کھڑی کرے
ممکن ہے پھرسے تیسری جنگِ عظیم ہو
بجنے لگی ہیں ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں
دل میں احساسِ محبت کا تقدس جاگا
ایک معصوم کے چہرے کی تلاوت کرکے
میں نے سیکھا ہے صداقت کا محبت کا سبق
جھوٹے لوگوں کی قیادت نہیں ہوگی مجھ سے
سلگتی ریت کے صحرا میں بیج بوتے ہیں
ہم اپنی فکر کے پودے نیے اُگانے کو
قدرت کو تیرے جذبۂ ایماں پہ ناز ہو
سینے میں وہ تڑپ وہ دلِ بے قرار رکھ
عورت میں دیکھنی ہے جومریم کی ہر صفت
آنکھوں سے بے حیائی کی چلمن اُتار رکھ
پوچھی تھی میں نے اپنے پڑوسی کی خیریت
اللہ میرے گھر کا نگہبان ہوگیا
خون محنت کا تو دوڑا دے رگوں میں اُن کی
میری اولاد کو آرام دہ بستر کا نہ کر
ٹوٹ سکتی ہے مری فوج کی ہمّت اس سے
ذکر دربار میں ہارے ہوئے لشکر کا نہ کر
تان دے سر پہ مرے چادرِ رحمت اپنی
مجھ کو محتاج کبھی غیر کے چھپّر کا نہ کر
میں خطاوار ہوں سچ ہے تو ہے رحمان و رحیم
بخش دے میری خطائیں مجھے در در کا نہ کر
ضعیفی شکر ہے تیرا ، ترا احسان ہے مجھ پر
ابھی تک میرے ہاتھوں میں کوئی رعشہ نہیں آیا
ترے پڑوسی کی کردے ضرورتیں پوری
تو اپنے نفس کی حاجت سنبھال کر رکھ لے
نیکیاں رکھیں تو ذروں کے برابر رکھیں
اور گناہوں کو پہاڑوں سے بھی اُنچا رکھا
اک وقت ہم پہ ایسا بھی گذرا ہے دوستو
پایا ہے اپنے آپ کو تنہا جگہ جگہ
سب پیشوائے قوم پہ حیرانی چھا گئی
جیون کے سارے راز مسلمان دے گیا
میں نے تو بس فقیر کو اک روٹی پیش کی
پھر کیا تھا میرے کھیتوں کا غلہ اُبھر گیا
ہم نے نماز جنگ کے میدان میں پڑھی
پل میں منافقین کا لشکر بکھر گیا
یہ الگ بات ہے سینے سے لگایا ہم نے
بے وفائی کے سوا آپ کو آتا کیا ہے
دل میں بھکتی ہوتو حالات سنور سکتے ہیں
پھول مالا کسی دیوی پہ چڑھاتا کیاہے
اُن کی نظم’’ اگربتی‘‘ کے کچھ اچھے شعر یہ ہے:
یہ کس نے کہا تم سے سستی ہے اگربتی
مزدور کی محنت سے مہنگی ہے اگر بتی
بھارت کی جنم لیوا خوشبو کا سفر لے کر
ہر ملک کے کونے میں بکتی ہے اگر بتی
مسجد ہو یا میخانہ گِرجا ہویا بُت خانہ
جلنا ہی مقدر ہے جلتی ہے اگربتی
کسی ادارے یا اکاڈمی کے مالی تعاون کے بغیرشائع ہونے والی مالکِ حقیقی ، دوستوں اور اپنے عزیز دوست سلیم جاوید کے نام منسوب پروفیسر عنایات امینؔ صاحب کا مجموعۂ کلام’’ دھوپ سمندر‘‘ پر خوبصورت کاغذ لگا ہے اور معنی خیز ٹائٹل کے ساتھ شائع ہونے والی اِس کتاب کی دل کشی کو بڑھاتا ہے۔قیمت ۱۵۰ روپے یا ۲۰ ڈالر یا۲۵ ریال ہے جسے محبوب بک ڈپو ، رسل مارکیٹ اسکوائر ، شیواجی نگر، بنگلور ، منور ڈاٹ کام، نمبر ۱۰۱، دوسرا درجہ، نارائن پلائے اسٹریٹ ، شیواجی نگر، بنگلور کے علاوہ خود پروفیسر عنایت امین ؔ ، ۳۷؍ شاداب منزل ،چھٹواں کراس، بی ٹی یم لے آوٹ ، پہلا اسٹیج بنگور۔۲۹ سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فون پر رابطے کے لیے کتاب میں یہ نمبر درج ہے:080-26787000
خداکرے کہ ملت کا یہ وفا شعار شاعر اِسی طرح اپنے فکر و فن کے گوہر لٹاتا رہے اور اللہ اِس کی عمر میں برکت عطا فرمائے۔آمین۔

Viewers: 3158
Share