Imran Akif Khan | Afsana | قسمت کی بازی

عمران عاکف خان imranakifkhan@gmail.com 85،ڈیگ گیٹ گلپاڑہ‘بھرت پور ‘راجستھان 09911657591 قسمت کی بازی….. وہ پیدا ہوا تو پورا گھر اس کی معصوم کلکاریوں سے گونج رہا تھا۔ہر کو ئی اسے […]
عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
85،ڈیگ گیٹ گلپاڑہ‘بھرت پور ‘راجستھان
09911657591
قسمت کی بازی…..
وہ پیدا ہوا تو پورا گھر اس کی معصوم کلکاریوں سے گونج رہا تھا۔ہر کو ئی اسے گود میں اٹھا ئے یہاں سے وہاں لے جارہاتھا ۔بہنیں اس کی بلا ئیں لے رہی تھیں اور بھا ئی اس کے سرپر ہاتھ پھیر رہے تھے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے پیدا ہوتے ہی نعمتیں ‘نوازشیں اور بھا ئی بہن کا پیار ملنے لگا اور وہ زندگی کے مصائب سے بے فکر ایک سانس سے دو سانس اور دو سے چار لیتا رہا۔اس دوران اسے موسمی اور ماحولیاتی بیماریوں نے اپنا شکار بنایا مگر فوری اور جدید طرز علاج نے اسے پلک جھپکتے سے اس کے چنگل سے آزاد کر دیا۔یعنی وہ صبح کو بیمار ہوا اور شام کو میونسپل پارک میں دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔دن ہفتے‘ہفتے ماہ اور ماہ سالوں میں بدلنے لگے مگر اس کی بے فکری اور اس کے لیے گھر والوں کے پیار کا وہی عالم تھا۔اسی بے فکری اورپیار کے عالم میں اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب وہ بچپن سے لڑکپن میں داخل ہو گیا اور اب جوانی کی دہلیز چھورہا تھا ۔اسے ہوش تو اس وقت آیا جب گھر کے بڑے لوگوں نے اس کی نوخیزی کی عمر میں ہی شادی کرادی ‘اس طرح انھوں نے’’اپنا فرض ‘‘پوراکردیا۔
یہ شادی بس کہنے کو ہی شادی تھی ورنہ دن میں تارے نظر آنا کسے کہتے ہیں اسے اس کا تجربہ ہو رہاتھا۔گو یہ کیفیت زیادہ دن نہیں رہی اس لیے کہ خاندانی دولت اس کا آسرا بن گئی مگر ایک دن اسے اس وقت شدید جھٹکا لگا جب اس کا مہربان ایک حادثے کی نذر ہو کر انھیں روتا بلکتا چھوڑ گیا۔باپ کی اندوہناک اور دلدوز موت کا دس پانچ دن تو ماتم رہا مگر وقت نے جلد اس زخم کی مرہمی کر دی او راتنا بڑا حادثہ آئی گئی بات بن کر رہ گیا۔بھا ئیوں نے بندر بانٹ طریقے سے باپ کی اس میراث کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے خون پسینہ بہا بہا کر اور دن رات ایک کر کر کے جمع کی تھی اور اسے گنوا کر فاقہ کشی کی نوبت سے دوچار ہو نے لگے۔بڑے بھا ئی تو جیسے تیسے اپنے تعلقات والوں اوردوستوں سے قرضے لے لے کر زندگی کی گاڑی آگے بڑھاتے رہے مگر چونکے اس کے نہ تو دوست تھے یاجو تھے وہ اسی کی طرح دوسروں کے ٹکڑوں پہ پلنے والے تھے نیز اس پر یہ حادثہ اچانک اورایک دم پڑا تھا اس لیے وہ پریشا ن ہو کر رہ گیا۔اب اسے حقیقت میں دن میں تارے نظر آنے لگے مگر تاروں کو توڑ کرتھوڑا لایا جاسکتا ہے! لہٰذا وہ حسرت بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھ کر رہ جاتا۔
ایک دن وہ پریشان اور بدحال‘ سڑکوں کی خاک چھانتا پھررہا تھا کہ اس کی نگاہ دیوار پر چسپاں ایک اشتہار پر پڑی جس پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا تھا ۔’’امریکی کمپنیوں میں شامل ہو کر لاکھوں کمائیے….‘‘اس کی ادھ کھلی آنکھیں اس راتوں رات دولت مند بنانے والے اشتہارکو دیکھ کر اورکھل گئیں ۔وہ اور نزدیک چلا گیا اور غور سے اوپر سے نیچے تک اس اشتہار کو پڑھنے لگا جس میں چھوٹے چھوٹے حرفوں میں کچھ ہدایات اور شرایط لکھی تھیں۔وہ پڑھتا رہا اور اس کے اختتام تک اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور اس کمپنی میں شامل ہو کر اپنی بدحالی دور کر ے گااورایک دن پھر اپنے روٹھے دنوں کو منالے گا ۔وہ اس اشتہار کو ایسے انداز میں دیکھ رہا تھا جیسے صحرامیں کسی کو پانی کی جھیل نظر آجائے۔
دوسرے دن وہ اس کمپنی کی عالی شان عمارت میں پہنچ گیا۔جس کے صدر دروازے پر جلی حرفوں میں لکھا تھا۔’’ہر بل لائف ۔اے کمپنی آف انکم جنریٹر اینڈاپر چنیٹی‘‘ استقبالیہ کے سوال و جواب کے بعد وہ منیجر کے کیبن میں چلاگیا ۔
’’جی کہیے!میں آپ کی کیا خدمت کرسکتاہوں ۔‘‘اخلاقیات کی انتہا ہی تو کردی تھی اس نے اورنووارد کے دل میں ایک خوشگوار خیال نے گھر بنالیا۔
’’جی دراصل میں نے آ پ کا اشتہار دیکھا ہے ‘میں اسی جا ب اور اپرچنیٹی کے بارے میں جان کاری حاصل کر نے آیا ہو ں۔‘‘اس نے کہا اور منیجر کی کر سی پر بیٹھا شخص گھسے پٹے اور طوطے میناکی طرح رٹے رٹا ئے جملے بولنے لگا۔ایک ایک جملہ اس کے اندر اترتا چلا گیا۔دولت مند بننے کا اتنا آسان ترین طریقہ اسے آج تک پتا نہیں تھا ۔ وہ بنا سوچے سمجھے اس کے لیے تیار ہو گیا۔’’ہاں میں جاب کر نا چاہتاہوں۔‘‘اس نے پر جوش انداز میں کہا۔
’’مگر…..اس کے لیے آپ کو کم سے کم 5ہزار روپے کا انتظام کرنا پڑے گا۔‘‘
’’پانچ ہزار روپے….! ‘‘اس کے نیچے سے زمین کھسکتی سی چلی گئی ۔’’ہاں پانچ ہزار روپے ‘اس کے بنا آپ کی انٹری بھی ممکن نہیں ہے ۔‘‘منیجر کی سفاکی الفاظ بیان کر رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے ۔میں 5ہزارکا انتظام کر وں گا۔‘‘اس کا جوش ابھی تک باقی تھا ۔اور پھر وہ اپنے بیوی بچو ں کی تنگ دستی اور بد حالی دور کر نے کے ایک نئے ولولے کے ساتھ اس عالی شان عمارت سے باہر آگیا جس کی دیواروں سے اسے اب غریبوں کے خون پسینے کی بو آرہی تھی۔
خدا جانے اس نے کہا ں کہاں سے پانچ ہزارروپے کا انتظام کیا اور’’ہر بل لائف کمپنی‘‘جب مشکل دوچار قدم رہی ہو گی کہ ایک تیز رفتار کار اس کے ارمان خاک میں ملا گئی ۔چشم زدن میں اسے پتا ہی نہ چلا کہاں سے کہاں چلا گیا ‘ا ب تو ہوش بھی نہیں تھے ۔اگر اسے کچھ دیر کو ہوش آجاتا تو میر ا احساس ہے کہ وہ یہ ضرورکہتا ۔
قسمت کی بازی دیکھیے ٹوٹی کہاں کمند
دوچارہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
یا
اگر طوفاں نہیں آتاساحل مل گیا ہو تا
مگر اب نہ ساحل تھا اور نہ لب بام ۔بس زندگی کا چراغ تھا جو ساعت ساعت بجھتا جارہا تھا۔
Viewers: 3810
Share