Dr. Muhammad Aslam Farooqi | Article | شادی نامہ

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گراج گورنمنٹ کالج نظام آباد اے پی انڈیا draslamfaroqui@gmail.com شادی نامہ اردو کے مشہور شاعر نظیرؔ اکبر آبادی بڑے مردم شناس شاعر تھے۔انہوں […]
ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو گراج گورنمنٹ کالج نظام آباد اے پی انڈیا
draslamfaroqui@gmail.com
شادی نامہ
اردو کے مشہور شاعر نظیرؔ اکبر آبادی بڑے مردم شناس شاعر تھے۔انہوں نے اپنی نظموں آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ میں شاعرانہ انداز میں آدمیوں کی اقسام اور ان کی صفا ت بیان کیں ۔نظیرؔ کی طرح آج ہم شادی نامہ اور بیوی نامہ پیش کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں مظلوم شوہروں سے اظہار ہمدردی بھی ہے۔ اور شادی کی فلسفیانہ تاویلات بھی۔ شادی ہر نارمل انسان کی زندگی کے سب سے خوبصورت حادثہ ہوتی ہے۔ شادی کے بارے میں مفکرین کی رائے جدا جدا ہے۔ جن کی شادی نہیں ہوتی انہیں اس بات کا افسوس رہتا ہے کہ ان کی شادی نہیں ہوئی۔ جبکہ جن کی شادی ہوجاتی ہے اور بیوی ماشاء اللہ تیز ہوتی ہے۔ انہیں اس بات کا افسوس رہتا ہے کہ انہوں نے شادی کیوں کی۔اسی طرح کہا گیا کہ شادی ایک ایسا قلعہ ہے جس میں رہنے والے باہر آنے کی اور باہر والے اند ر جانے کی تمنا کرتے ہیں۔ یعنی مارے چین نہ مرے چین۔ شادی کا یہ سلسلہ دنیا کے آغاز سے رہا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللہ نے ان کا غم دور کرنے اور انہیں زندگی میں ساتھ دینے کے لئے اماں حوا کو پیدا کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بی بی حوا کو آدم علیہ السلام کی تیڑھی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ اس لئے عورت مرد کے لئے ہمیشہ تیڑھی کھیر ہی ثابت ہوئی۔ آدم و حو ا سے جب دنیا کا کاروبار پھیلا تو شادی بیاہ کے معاملے میں انسان کو اپنی پسند ناپسند کا موقع ملا۔شادی دراصل ایک عہد نامہ ہے ۔ میاں اور بیوی کے درمیان کہ وہ زندگی کے ہر معاملے میں باہمی اتفاق سے رہیں گے۔ لیکن شادی کے بعد زندگی بھر دونوں میں کسی بات پر اتفاق نہیں ہوتا۔ اور دونوں میں سے کسی ایک کا انتقال ہوجائے تو دوسرا کہتا ہے کہ مرحوم اچھے انسان تھے اور مرنے والے میں بڑی خوبیاں تھیں۔سنا ہے کہ ایک عورت نے خدا سے شکایت کی کہ اس نے مرد کو طاقت ور کیوں بنایا تو خدا نے جواب دیا کہ تمہارا بوجھ اٹھانے۔ شکایت کی کہ اسے دولت مند کیوں بنایا تو جواب ملا کہ تم پر لُٹانے کے لئے اور جب یہ شکایت کی کہ اسے بے وقوف کیوں بنایا تو جواب ملا کہ تم سے محبت کرے۔جب اگر کوئی شوہر بیوی کی یا بیوی شوہر کی تعریف کرنے لگے تو سمجھئے کچھ گڑ بڑ ہے۔جہاں بیوی نے شوہر کی تعریف کی تو سمجھئے شوہر کی جیب خالی ہونے والی ہے اور شاپنگ کی فرمائیش ہے۔ اور اگر شوہر بیوی کی تعریف کرے تو سمجھئے کہ وہ رات گھر دیر سے لوٹنے والا ہے۔یا بیوی سے کہہ کر دوستوں کی دعوت کا پکوان کرانے والا ہے۔عورتوں کا دل جیتنے کے معاملے میں عامل حضرات بڑے کامیاب رہتے ہیں جب وہ کسی عورت سے کہتے ہیں کہ ان پر کسی کا سایہ ہوگیا ہے یاآپ کو کسی کی نظر لگی ہے۔ایک صاحب کو بازار میں دوسری عورتوں کو دیکھنے کی عادت یا یوں کہئے بیماری تھی۔ ایک دن ان کی بیوی نے کہا کہ کیوں جی پرائی عورتوں کو گھورتے تمہیں شرم نہیں آتی۔ تب چالا ک شوہر نے معصومیت سے جواب دیا کہ میں دوسری عورتوں کو صرف اس لئے دیکھتا ہوں کہ کوئی عورت خوبصورتی میں تم سے ذیادہ تو آگے نہیں۔ اس طرح وہ بیوی کی تعریف کرکے پرائی عورتوں کو دیکھنے کا جواز پیدا کر لیتا ہے۔بیوی ٹوک ٹوک کر اپنے شوہر کی عادتوں کو بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور جب وہ واقعی بدل جاتا ہے تو کہتی ہیں کہ اے جی آپ کتنے بدل گئے ہو۔شادی کے ابتدائی دنوں میں وہ بیوی سے پیار سے کہتا ہے کہ چلو شاپنگ کرتے ہیں۔ بعد میں جب وہ بیوی سے بیزار ہوجاتا ہے تو کہتا ہے لو یہ پیسے اور جاؤ شاپنگ کرلو مجھے دفتر کے کام ہیں۔ابتدا میں بیوی کے ہاتھ کے پکے کھانے کھا کر بے انتہا تعریف کرتا ہے بعد میں اچھے کھانے کھا کر کہتے پھر وہی ڈش کچھ تو نیا بنایا ہوتا۔شروع میں بیوی کو نئے جوڑے میں دیکھ کر اسے پرینکا‘ایشوریہ اور ودیا بالن کہتا ہے ۔ بعد میں بیوی کو نئے جوڑ ے میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے کتنے کا ہے۔کہتے ہیں خوبصورت بیوی وہ ہے جس کی ہر بات شوہر سنتا ہواور خوب سیرت بیوی وہ ہے جو شوہر کی ہر بات سنتی ہو۔ایک خاتون کا شوہر نیند میں بڑ بڑاتا تھا جس سے بیوی کی نیند میں خلل پیدا ہوتا تھا۔ اس نے شوہر کو ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس لے جاکر معائنہ کروایا۔ ڈاکٹر نے کئی طرح کے ٹیسٹ کروائے اور آخر میں اس نتیجے پر پہونچا کہ انہیں دن میں بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے ۔ خدارا آپ انہیں دن میں بات کرنے کا موقع تو دیں۔اسی طرح ایک خاتون کا شوہر بیمار رہنے لگا تھا۔ خاتون نے ایک اچھے ڈاکٹر سے شوہر کا معائنہ کروایا۔ڈاکٹر نے کہا انہیں آرام کی ضرورت ہے میں نیند کی گولیاں لکھ رہا ہوں۔خاتون نے دریافت کیا یہ گولی انہیں کب دوں تب ڈاکٹر نے جواب دیا یہ گولی آپ کے شوہر کے لئے نہیں بلکہ آپ کے لئے ہے۔
بات سے بات چلی ہے تو سن لیں ایک مظلو م مرد کی فریاد وہ کہتا ہے۔جب میں چھوٹا تھا ماں باپ بولتے تھے میں سنتا تھا۔ اسکول گیا اساتذہ بولتے تھے میں سنتا تھا۔ نوکری ملی باس بولتا ہے میں سنتا ہوں۔ شادی ہوئی بیوی بولتی ہے میں سنتا ہوں۔ بچے ہوئے بچے بولتے ہیں میں سنتا ہوں۔ آخر میں کب بولوں۔ شائد ایسے ہی لوگوں کو نیند میں بڑ بڑانے کی عادت ہوتی ہو گی۔عورت اگر شاعرہ ہو اور مشہور ہو تو اس کا شوہر دنیا کا مظلو م تر شخص ہوگا۔جب بھی مشاعرے میں لوگ اور نوجوان اس کی بیوی کی شاعری یا اس کے حسن کی داد دیں گے تو بے چارے شوہر کے سینے پر سانپ لوٹنے لگیں گے۔ اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا سا منہ لے کر رہ جائے گا۔ محفلوں میں لوگ اسے اس کے نام یا شخصیت سے نہیں پہچانیں گے بلکہ یوں کہئے ان سے ملئے یہ مشہور شاعرہ فلاں فلاں خانم کے شوہر ہیں۔ اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ وہ شاعرہ بیوی کے ساتھ مشاعرے میں نہ جائے تو بہتر ہے ۔ لیکن اس کے بھی مجبوری ہے کہ اسے کار میں چھوڑنے کے لئے جانا ہوتا ہے۔ جب دو مرد آپس میں بات کرتے ہیں تو وہ صرف دوسری شادی کے تذکرے کر کے ہی خوش ہوتے ہیں ۔ لیکن کسی کی مجال ہے کہ و ہ اس ہمت کا کام کر دکھائے۔ غالب لوگوں کے عقد ثانی پر رشک کرتے تھے اور کہتے کہ کتنے خوش نصیب ہیں یہ لوگ کہ سہرے کے پھول بار بار پہن رہے ہیں۔ ہمارے پیر میں جو بیڑی پڑی ہے وہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ لیکن غالب کس قدر خوش قسمت انسان تھے کہ ان کی بیوی نیک صفت خاتون تھیں۔ انہیں اچھے اچھے پکوان پکا کر کھلاتی تھیں اور کبھی ان کی شراب و کباب کی محفلوں میں مداخلت نہیں کرتی تھیں۔ایک صاحب کو گھر میں پرانے سامان بدل کر نئے سامان خریدنے کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر سال فریج ‘ ٹی وی ‘واشنگ مشین اور دیگر سامان پرانا نکال کر نیا لے آتے تھے۔ ان کی اس عادت دیکھ کر لوگوں نے انہیں چیلنج کیا کہ میاں تم گھر کی ہر پرانی چیز بدل سکتے ہو لیکن بیوی نہیں بدل سکتے۔کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ یہ قسمت کی بات ہے۔ ورنہ مرد کی کامیابی کے پیچھے اس کی ذاتی کوشش کو ہی ذیادہ دخل ہوتا ہے۔شوہر او ربیوی کے درمیان اکثر چھوٹی موٹی لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ بیوی کبھی بیلن کا استعما ل کر لیتی ہے تو مرد کبھی اپنے ہاتھ کا۔ امریکہ اور یورپ میں اگر بیوی نہ لڑے تو سمجھا جاتا ہے کہ یہ ذیادہ دن ٹکنے والی نہیں ہے۔اور ہمارے معاشرے میں بیوی نہ لڑے تو شوہر کو احساس ہوتا ہے کہ وہ شوہر نہیں ہے۔مغربی ممالک میں بیوی کی خاموشی پر وکیل آتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں سالے اور ساس سسر آتے ہیں۔عورت کا تعلق اردو شاعری سے بہت ملتا جلتا ہے۔ پہلے عورت غزل کی طرح حیا دار اور پردے کی پابند ہوتی تھی۔ اور غزل کے پوشیدہ مفہوم کی طرح وہ بھی چلمن کے پیچھے چھپی رہتی تھی۔ کبھی اس کی جھلک دکھ جاتی تو شاعر کہتا۔صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔آج کی عورت آزاد نظم کی طرح ہے ۔ اسے کھلی کتا ب کی طرح جدھر سے چاہے پڑھ لو۔بعض عورتیں قومی ترانے کی طرح ہوتی ہیں جو تقاریب کی زینت بڑھانے کے لئے بلائی جاتی ہیں۔ اور منتظمین انہیں اگلی صفوں میں بٹھا کر اپنی محفل کو رونق بخشتے ہیں۔ بعض عورتیں علامتی غزل کی طرح ہوتی ہیں جن کا آپ جو چاہیں مطلب نکال لیں۔شوہروں کا حال اخبار کی طرح ہوتا ہے جو کل کے باسی اخبار کی طرح ہوجاتے ہیں۔لوگوں کو بڑا شوق ہوتا ہے کہ وہ بائیک پر بٹھا کر اپنی بیوی کو شہر گھما لائیں ۔ بیوی پیچھے آرام سے بیٹھی ہے شوہر کی نظریں ٹریفک پر اور بیوی کی نظریں سارے بازار پر۔ کبھی کبھی شوہر سامنے سے گذرنے والی کسی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔ لیکن اسے پتہ نہیں کہ پیچھے بیٹھی اس کی بیوی بھی کچھ اس طرح کے نظاروں میں مصروف ہے۔ آج کل شادی میں جہیز میں کچھ نہ دینے والے بھی بطور خاص اپنے داماد کو گاڑی دیتے ہیں وہ اس خیا ل سے کہ اگر گاڑی نہ دیں تو ان کی بیٹی کو پیدل مارے مارے پھرنا پڑے گا۔ نوجوانوں میں یہ بحث عام ہے کہ جس لڑکی سے محبت کی جائے اسی سے شادی کی جائے یا نہیں۔ اگر محبت شادی میں بدل جائے تو مرد کو فرصت کے رات دن آٹے دال کا بھاؤ معلوم کرنے میں گذارنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ محبوبہ سے بیوی بننے والی لڑکی شوہر کے ہاتھ میں تھیلی دیتی ہے کہ چلو محبت بہت ہوگئی اور گھر سنسار کی بھی فکر کرو۔ بہت سے شوہروں کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جانے کی امید رہتی ہے کیونکہ و ہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ہی انہوں نے دوزخ کا مزہ چکھ لیا ہے۔ اب تو خدا ان پر رحم کرے گا اور انہیں جنت میں ڈال دے گا۔ بہر حال شادی کا سبق ایسا وسیع اور گنجلک ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد بھی اچھے اچھوں کو خالہ یاد آجاتی ہے۔
Viewers: 6692
Share