Muhammad Aziz Sohail | Review | مضامین نو

کتاب کا نام: مضامین نو
مصنف : ڈاکٹر محمداسلم فاروقی
صفحات: 144
قیمت: 200روپیئے
ملنے کا پتہ: ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی حبیب نگر، کھوجہ کالونی نظام آباد503 001سیل نمبر9247191548
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد(سیل نمبر:9299655396)
اردو ادب میں غیر افسانوی ادب میں مضمون نگاری کو خاصی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ مضمون نگاری کا آغاز انیسویں صدی کے آغاز کے بعد شروع ہوا۔ دلی کالج کے قیام 1824ء ؁ کے بعد اس صنف کو فروغ حاصل ہوا۔ پہلے مضمون نگار کی حیثیت سے ماسٹر رام چندر کا نام لیا جاتا ہے ۔ساتھ ہی سرسید احمدخان بھی مضمون نگاری کے ابتدائی دور سے تعلق رکھتے تھے ۔ سرسید احمدخاں کے سفر لندن کے بعد انشائیہ نگاری کو فروغ حاصل ہوا۔ علی گڑھ تحریک کے ذریعہ مضمون نگاری کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ جدید اردو نثر کی ابتداء مضمون سے ہی ہوئی ہے اور نثر کی ساری قسموں کا تعلق بھی مضمون نگاری سے ہے ۔ مضمون میں ادیب یا مضمون نگار ربط و تسلسل کے ساتھ کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات جذبات ، احساسات، تجربات، معلومات ،انکشافات اور ایجادات کو بیان کرتاہے۔ مضمون نگاری میں علمی، تاریخی، مذہبی، انشائیہ جیسی قسموں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
حسرت موہانی نے مولانا ابوالکلام آزادکی نثر نگاری کو دیکھتے ہوئے یہ شعر کہا ہے جو بہت مشہور ہوا۔
جس نے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں بھی مزہ نہ رہا
ہمارے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اردو ادب کے ادیبوں نے ہماری قوم کے اندر آزادی کا شعور بیدار کرنے کیلئے اخبارات میں مختلف عنوانات سے مضامین لکھے اور عوام کو آزادی کی جدوجہد کے لئے بیدار کیا۔ بہرحال مضمون نگاری پر گفتگو کی جائے تو مزید ایک اور مضمون تیار ہوجائے گا۔ دراصل یہاں جو مقصد پیش نظر ہے وہ یہ کہ دور حاضر میں مضمون نگاری کی اہمیت کو بیان کرناہے۔ مضمون نگاری اردو ادب کی ایک اہم صنف ہے جس کا استعما ل ادب کی دیگر اصناف میں سب سے زیادہ ہوتاہے۔
موجودہ دور میں مضمون نگاری میں جن شخصیتوں نے نام کمایا ہے اور اپنی ریاست و ملک کی سطح پرشہرت حاصل کی ہے ان میں ایک نام اردو لکچرار ڈاکٹر اسلم فاروقی کا بھی ہے جوالحمدللہ حافظ قرآن بھی ہے جن کا تعلق ریاست آندھراپردیش کے ادبی شہر نظام آباد سے ہے ۔
زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر اسلم فاروقی کے ادبی ومذہبی معلوماتی مضامین کا مجموعہ ہے جن کی تعداد27ہے یہ کتاب خوشنما دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ 144صفحات پر مشتمل ہے الفاظ کے سائز کو چھوٹا کرکے مصنف نے اس کتاب میں زیادہ سے زیادہ مواد سمانے کی کوشش کی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ خریدار پر کتاب کے وزن اور پیسوں کا بوجھ نہ پڑے۔ اس کتاب کے زیادہ ترمضامین ادبی ہیں ساتھ ہی سیرت اور اصلاحی مضامین کو اس کتاب میں شامل کیاگیاہے۔کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر سیدفضل اللہ مکرم چیرپرسن بورڈ آف اسٹڈیز اردو اورینٹل کالج عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے رقم کیا ہے ۔ ڈاکٹر سیدفضل اللہ مکرم کتاب کاتنقیدی مطالعہ کرنے کے بعد پیش لفظ میں کتاب کے موضوعات کے متعلق رقمطراز ہیں:
’’جہاں انہوں نے ادبی موضوعات کے ذریعہ طلباء میں تخلیقی صلاحیتوں کو پیدا کرنے کی کوشش کی ہے وہیں سماجی اور مذہبی مضامین کے ذریعہ انہیں یہ سمجھایاہے کہ کس طرح ایک بہتر انسان ، ایک بہترین سماج کی تشکیل کرسکتاہے۔ جہیز اور اسراف کی لعنت کے خاتمے کو اجاگر کرتے ان کے مضامین وقت کا اہم تقاضہ ہیں۔ جبکہ سائنسی مضامین کے ذریعہ طلباء میں سائنٹفک رحجانات کو پروان چڑھانے کی کامیاب سعی کی ہے تاکہ طلباء کاآل راؤنڈڈیولپمنٹ ہوسکے۔‘‘(مضامین نو،پیش لفظ صفحہ 7)
غرض یہ کہ ڈاکٹر فضل اللہ مکرم نے مصنف کی شخصیت اور تصنیف کی اہمیت و افادیت پر سیر حاصل گفتگو کی ہے اور اس تصنیف کو دور حاضر کی ایک اہم ضرورت قرار دیا ہے ۔ پیش لفظ کے بعد’’ کچھ اس کتاب کے بارے میں ‘‘کے عنوان سے مصنف نے دیباچہ میں عصر حاضر میں ’’مضامین نو‘‘کی غرض و غایت کو بیان کیا ہے ۔اس دیباچہ میں مختلف رسالوں اور خاص کر انٹرنیٹ پر موجودای میگزین واخبارات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’کمپیوٹر کے اس بڑھتے اثر ورسوخ والے زمانے میں اردو کے نئے قلمکاروں کو اردو کمپیوزنگ کے فن سے بھی واقفیت حاصل کرنی چاہئے ۔‘‘ یہ نکتہ بہت ہی اہم ہے کیونکہ فی زمانہ انٹرنیٹ کا چلن بہت عام ہے لوگ آج گھر بیٹھے اپنے کمپیوٹر پر اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں ساتھ ہی دنیا بھر کی معلومات بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایسے میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں انٹرنیٹ کارول کافی اہم ہے ہم انٹرنیٹ کا استعمال سیکھیں اور اردو زبان کے فروغ کے لئے اس ذریعہ کو بھرپور استعمال کریں۔
ڈاکٹر اسلم فاروقی کی یہ تصنیف ان کی دوسری تصنیف ہے اس سے قبل ’’قوس قزح‘‘ کے عنوان سے مضامین کاایک مجموعہ2005ء میں شائع ہوکر مقبول عام ہوچکاہے۔ انہوں نے اب تک 200سے زائد مضامین لکھے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک پختہ قلمکار اور مسلسل لکھنے والے باشعور ادیب ہیں۔ دیباچہ کے بعدریسرچ اسکالر محمد محبوب ظہیر آباد نے ڈاکٹر اسلم فاروقی کی پیدائش، تعلیم و تربیت، خاندان ، ملازمت اور ادبی سفر پر مشتمل بھرپور تعارف ’’ڈاکٹر اسلم فاروقی دینی مدرسے سے ڈاکٹر یٹ تک‘‘ کے عنوان سے رقم کیا ہے ۔ اس کتاب کے پہلے مضمون ’’بچوں کے لئے اقبال کی سبق آموز شاعری‘‘ میں مصنف نے علامہ اقبال کی شخصیت وشاعری پربچوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ اقبال کی پیدائش ،تعلیم ،شاعری اور بچوں کی نظموں پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے وہ لکھتے ہیں:
’’اقبال نے بچوں کے لئے کہی گئی اپنی نظموں میں چھوٹے چھوٹے قصوں اور سیدھی سادھی زبان استعمال کرتے ہوئے بچوں کی کردار سازی کیلئے سبق آموز باتیں کہی ہیں۔ نظم ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں اقبال نے بڑی جسامت والے پہاڑ کے مقابلے میں ایک ننھی گلہری کی اہمیت اجاگرکی ہے اور گلہری سے عالمانہ گفتگو کرائی ہے ۔‘‘(مضامین نو، صفحہ22)
کتاب کا تیسرا عنوان ’’مرے حصے میں ماں آئی ‘‘ کے عنوان سے مصنف نے شامل کیا ہے جوکہ ہندوستان کے مشہور و معروف شاعر منور رانا کے ایک شعر کا مصرعہ ہے جس میں مصنف نے ماں کے مقدس اور عظمت والے رشتہ کی اہمیت کو بیان کیا ہے ۔ ساتھ ہی اسلامی تعلیمات میں ماں کی افادیت کو بیان کیاہے جس میں سیرت کے واقعات کوبھی شامل کئے ہے ۔ مصنف نے اپنے اس مضمون کو دلچسپ اور سبق آموز بنانے کے لئے مضمون کے درمیان میں ماں کے عنوان سے متعلق اشعار کو شامل کیا ہے ۔ غرض یہ کہ یہ مضمون کتاب کی کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ مصنف نے اس کتاب کے ایک مضمون میں دکن کے نامور محقق نصیر الدین ہاشمی کی حیات اور خدمات کو مفصل طورپر بیان کیا ہے ۔ مصنف نے پرسنالٹی ڈیولپمنٹ(شخصیت کا ارتقاء) کے تحت’’کامیاب طالب علم کیسے بناجائے؟‘‘ کے عنوان پر ایک معلوماتی مضمون کو شامل کیا ہے اور طالب علم کی خود اعتمادی کے متعلق مفصل بحث کی ہے کہ خود اعتمادی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔عصر حاضر کی سب سے دھماکوشئے جس کے بغیر نوجوان نسل کا گذارا نہیں جس کے تحت مصنف نے فیس بک سہولت یا لعنت جیسے عنوان کو شامل کیا ہے ۔ جس میں فیس بک کی اہمیت کو بیان کیاگیاہے۔ ساتھ ہی اس کے فائدے اور نقصانات بھی بتائے ہیں میں اور قاری کو اپنے طورخود فیصلہ کرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے کہ آپ کیلئے فیس بک فائدہ مند ہے یا نقصاندہ۔کتاب کے آخری حصہ میں اسلامیات کے تحت آپ ؐ کی سیرت اور آپؐ کے اخلاق و اوصاف کے متعلق بھی مضامین شامل ہے ۔
کتاب کا آخری عنوان ’’میں صحابیؓ جیسابنوں گا‘‘ کے عنوان پر مصنف نے والدین کی ذمہ داریوں کو یاد دلایا ہے اور ساتھ ہی بیان کیا ہے کہ بچوں کی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے جس کے ذریعہ بچوں کے اندر ادب واخلاق پیدا کیاجاناچاہئے اور انہیں اسلامی تاریخ و ثقافت سے واقف کرانا ان کی دینی ودنیوی تعلیم پر توجہ دے کراور گھروں میں اسلامی ماحول پیدا کہا جانا چاہئے ۔
بہرحال اس کتاب میں شامل سبھی مضامین کی اپنی ایک ادبی اہمیت ہے۔ کتاب کی طباعت عمدہ ہے مضامین کی ترتیب و پیشکش میں فاضل مصنف نے بڑی شائستگی برتی ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب مضامین نو ادبی حلقوں میں خصوصاً نوجوانوں میں مطالعہ کاذوق بڑھانے اور معلومات میں اضافہ کرنے کیلئے معاون ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر اسلم فاروقی کی یہ کوشش قابل ستائش ہے کہ انہوں نے ایک ادبی، اصلاحی ،دینی اور سائنسی مضامین کو اس کتاب میں یکجاکرکے شائع کیا ہے جوکہ دریا کوکوزے میں بند کرنے کافن ہے اوریہ کتاب اردو ادب میں ایک قیمتی جوہر کا اضافہ ہے۔
Viewers: 2979
Share