Dr. Saif Qazi | Mazah | مایوسی کفر ہے!

مایوسی کفر ہے! ہندوستان میں طب یونانی کیوں زوال پذیر ہے اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھیں موند لی اور غور و خوض کرنے لگے کہ […]
مایوسی کفر ہے!

ہندوستان میں طب یونانی کیوں زوال پذیر ہے اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھیں موند لی اور غور و خوض کرنے لگے کہ آخرایسی کیا وجوہات ہیں کہ طب یونانی محض اشتہاری حکماء کے بلند بانگ دعووں تک محدود ہو کر رہ گئی ؟ ایک زمانہ تھا جب نوابوں کے لئے ایسے ایسے نسخہ وجود میں آئے جن سے جڑی روایتیں سن کر آج بھی لوگ انگشت بد نداں ہو جاتے ہیں۔ ہم اسی سوچ میں گم تھے کہ اخبار والا سیدھے ہمیں ہی نشانہ بنا کر اخبار پھینک گیا۔ ہم نے اپنی عینک درست کی اور اخبار پر نظر کی تو ایک حکیم بذریعہ اشتہار اپنے دست شفا کا اعلان کرتے ہوئے نظر آیا۔ اور یہ اشتہار بھی کیا تھا ، گویا اشتہار نا ہو آخری سانسیں گنتے ہوئے کسی شخص کے لئےٓ اب حیات ہو بلکہ اس اشتہار کو دیکھ کر تو یہ تاثّر ہوا کے ساری خدائی ایک طرف اور اس حکیم کی دانائی ایک طرف۔۔۔۔
مایوسی کفر ہے
مایوسی کفر ہے۔۔ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔ ۔۔ شادی سے پہلے یا شادی کے بعد ۔۔ چاہے بچپن میں کی ہو غلط کاریاں ۔۔ یا ڈھلتی عمر کے ساتھ پیش آ رہی ہو دشواریاں۔۔ دنیائے طب و حکمت میں بس ایک ہی نام
حکیم کمال پاشا ( پچّیس بچّوں والے)
زمانہ طفلی میں جب پڑوس والے چائے خانہ کی وساطت سے ہمارا سابقہ اردو اخبارات سے پڑتا تھا تو ہم پریشان ہو جاتے تھے کہ ان اشتہارات کا آخر کیا مطلب ہے۔ بھئی اگربچپن میں کچھ غلط کاریاں ہوئی ہے گندے بچّوں کے ساتھ دوستی بڑھائی ہے ماں باپ کی نا فرمانی کی ہے تو اس کی سزا اللہ تعالٰی دینگے ۔ اور ہم نے تو کتنے مرد دیکھے ہیں جو بڑی شان سے عینکیں لٹکائیں ہوئے ہاتھ میں لکڑیاں لئے ادھر ادھر گھومتے اور ٹرافک جام کرتے ہیں وہ سب تو بوڑھے ہو گئے ہیں تو اشتہار میں یہ کیوں لکھّا ہوتا ہیکہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ خیر مختصر یہ کہ ہم ان اشتہارات کا مطلب سمجھنے سے قاصر رہے اور وہ تو بھلا ہوا کہ ابّو جان سے یا بھیّا سے ہم نے مطلب جاننے کی کو شش نہیں کی ورنہ۔۔۔۔۔
پھر ذرا کچھ عقل آئی تو یہ بات ستانے لگی کہ ایسی کیا قیامت ٹوٹ پڑی کہ اتنے سارے اردو داں حضرات مردانہ کمزوری کا شکار ہو گئے جس اخبار پر نظر ڈالوں کہیں نا کہیں کوئی حکیم اخبار کے کسی کونے سے جھاکتے یا صحیح الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہوں تو اپنے شکار کو تاکتے ہوئے نظر آتا ہے ؟
جب ہماری عقل ایک سیڑھی آگے چڑھی اور ہم نے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور مراٹھی اخبارات کی بھی ورق گردانی شروع کی تو پتا چلا کہ یہ اشتہارات صرف اردو داں حضرات تک ہی محدود نہیں بلکہ غیر اردو داں طبقہ کو بھی اپنا حدف بنائے ہوئے ہیں۔ اخبارات تو ٹھیک ہے گلی ، محلہ چوراہوں نکّڑوں کی دیواروں ، سٹی بس ، لوکل ٹرین اور یہاں تک کہ پبلک ٹائلٹس اور حمام خانوں وغیرہ میں بھی یہ اشتہارات آپ کا پیچھا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
چونکہ ہمارا تعلّق بھی شعبہ طب سے ہے اس لئے اتّفاقاً کبھی ایسے حکیموں سے گفتگو کا شرف بھی حاصل ہو جاتا ہے ایک مرتبہ ایک حکیم نما شخص سے گفتگو ہونے لگی تو حضرت موصوف نے انتہائی غیض و غضب کے عالم میں ارشاد فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب ان غلط کار نوجوانوں کی سزا یہ ہی ہو سکتی ہیکہ ان سے چمڑی پھاڑ کر پیسہ وصول کیا جائے اور فکر مت کیجئے اگر فائدہ نہیں ہوتا ہے تب بھی کسی سے کیا ذکر کریگا کہ کس بیماری کا علاج کروایا تھا۔
ایک جدیدیت پسند حکیم کہنے لگے ڈاکٹر صاحب دنیا برق رفتاری سے ترقّی کرنے لگی ہے ہر چیز میں جدّت ہو رہی ہے تو بھلا ہم حکماْ ( اور مینے دل میں کہا ، نام نہاد ) کیوں باوا آدم کے زمانے کے نسخہ جات استعمال کریں ۔۔ ہمیں بھی تحقیق کا سہارا لینا چاہیے اسی لیے ہم یوں کرتے ہیں کہ کچھ قدیم اور کچھ جدید کا استعمل کرتے ہوئے اپنے معجون میں ویاگرا کی شمولیت کر دیتے ہیں اس سے نا صرف مریض خوش ہوتا ہے بلکہ طبّ یونانی کا بھی نام روشن ہوتا ہے۔
ایک صاحب نے ادویہ کا افادیت پر بڑا ہی پر اثر بیان کیا اور یہ بیان اس قدر اثر انگیزاور زودہضم تھا کہ اس کہ منفی اثرات ہمارے اوپر ظاہر ہونے لگے اور ہم غش کھاتے کھاتے بچیں ۔ حضرت کےطویل بیان کو مختصراً میں اتنا سمجھ سکا کہ آجکل ادویات کی کمپنیاں اپنے مرکّبات کی مارکیٹ میں فروخت بڑھانے کے لئے نسخہ میں درج ادویہ سے زائد مقدار شامل کر دیتی ہیں اس لئے ان کا یہ معمول ہیکہ مرکّبات کی نصف مقدار میں اتنا ہی شہد ملا دیتے ہیں اور اس طرح سے ماشاءاللہ جہاں ایک طرف مریضوں کو کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے وہی دوسری طرف مہنگائی کے اس دور میں حکیم صاحب کی آمدنی میں بھی کچھ اضافہ ہو جاتا ہے ۔
خیر ان حکماء کے کارنامے سن کر آپ مایوس مت ہو جانا کیونکہ ۔۔۔۔۔ مایوسی کفر ہے۔

Viewers: 4938
Share