Sahar Hassan | لفظوں کو بے دھڑک برتنے والی جدّت طراز شاعرہ ، ریحانہ روحی

لفظوں کو بے دھڑک برتنے والی جدّت طراز شاعرہ ، ریحانہ روحی
شاعری کے تین مجموعے بہ عنوان’’تم میری کمزوری ہو‘‘،’’اور میں تنہا بہت‘‘ ، ’’عشق زاد‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں
انٹرویو : سحر حسن، کراچی
ریحانہ روحی کا نام سنتے ہی ہمارے ذہن کی اسکرین پر ایک ایسی شاعرہ کا عکس ابھرتا ہے ،جو جدیدیت کی قائل ،سنجیدہ اور معیاری کلام کہنے والی جینئن شاعرہ ہیں۔ شاعری سے والہانہ لگاؤ اور مشقِ سخن کے باعث وہ ہمیں اردو ادب کے افق پر ایک ایسے جگمگاتے’’ستارے‘‘ کی مانند دکھائی دیتی ہیں، جو لفظوں کو مہارت سے برت کر کہکشاں سجا نے کے فن میں مشّاق ہے۔ اِس منصب تک پہنچنا، ملکی وبین الاقوامی سطح پر اپنے نمایاں لہجے کے سبب منفردپہچانبناناکوئی آسان مسافت نہیں۔لیکن انہوں نے اپنیثابت قدمی ، مستقل مزاجی اورطویل ریاضت سے یہ ثابت کر دکھایا کہ عشق سچا ہو تو منزل تک پہنچنے کی جستجوکبھی رائیگاں نہیں جاتی ،آج ریحانہ روحی پاکستان کی نسل ِ ِ نوکے لئے مشعلِ راہ کی صورت ہیں۔
ریحانہ روحی صاحبہ کے نزدیک شاعری ایک منظم آرگنائزیشن ہے،اس میں بحریں،زبان کے قوانین، بیان کے دستور،اوزان کے میزان، روایت کی پاسداری اور عروض کیجھمیلے موجود ہیں لیکن وہ تخلیق کی اصل روح کو مجروح ہونے سے بچانے کے لئے نئی اختراع کرنے سے بھی نہیں چوکتیں اور اپنے عہد کے نئے تجربے کو بنیاد بنا کر نئی تبدیلیاں اور قوانین مرتب کرنے کی خواہاں نظر آتی ہیں ۔ آپ کی شاعری کے تین مجموعے بہ عنوان’’تم میری کمزوری ہو‘‘،’’اور میں تنہا بہت‘‘ ، ’’عشق زاد‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔ہم نے ریحانہ روحی صاحبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست رکھی، اس دوران ہونے والی گفتگونذرِ قارئین ہے۔
* یادوں کے جھرو کے سے جھانکتے بچپن کے بارے میں کیا کہیں گی؟
’’میری شاعری کی بنیاد ہی بچپن سے جُڑی ہے۔ میں اپنے امّی ابّو کی شادی کے چودہ برس بعد دنیا میں آئی اور میری پیدائش کے تین برس بعد میری ماں اس جہاںِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ پھوپھی حمیدہ نے مجھے پالا۔وہ بتاتی ہیں کہ میری ماں بہت خوبصورت اور ذہین عورت تھیں۔ وہ اتر پردیش کے ایک دیہات چرتھاول سے تعلق رکھتیں تھیں ، لیکن بازار سے گزرتے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائن دیکھ لیتیں اور گھر آ کر بالکل ویسے ہی کپڑے مجھے سی کر پہنایا کرتی تھیں۔‘‘
* پھوپھی حمیدہ کے علاوہ رشتے داروں کی کس قدر توجہ آپ کے حصے میں آئی؟
’’پھوپھی حمیدہ کی محبتیں میرے سر پہ سایہ فگاں رہیں۔ وہ مجھ سے اِس قدر محبت کرتی تھیں کہ جب میں بچپن میں چھپ کر کوئلہ کھایا کرتی اور کوئی دیکھ لیتا، ڈانٹتا تو غلط بات پر بھی وہ مجھے کسی کو ڈانٹنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔بچپن میں گھر بھر کی ہمدردیاں میرے ساتھ تھیں مگریوں سمجھیں کہ میں ایک بند گھر میں پلی بڑھی اور پھر اُس عمر میں تواتنی سوجھ بوجھ بھی نہیں ہوتی۔تایا چچا بھی ساتھ رہتے تھے، وہ تو سگے تھے مگر ان کی بیو یوں نے ایسے گورکھ دھندے چلائے کہ میرا میڈیکل کرنے کا خواب ادھورہ رہ گیا۔ اگر میری ماں زندہ ہوتیں تو وہ میری خواہش پوری کرنے کے لئے سو جتن کرتیں۔اسی طرح جب میری کسی سہیلی کی شادی ہو جاتی تو مجھے اس سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ ماں کے نہ ہونے کے باعث مجھے ہر رشتے کا ورسٹائل رُخ دیکھنے کو ملا۔یوں میری ماں نے مجھے لوگوں کے برتاؤ کے حوالے سے بہت امیر کردیا،انہوں نے موجود نہ ہوتے ہوئے بھی مجھے زندگی کرنا سکھائی ہے۔ ‘‘
*آپ کے والد کا تعلق کہاں سے تھا اور وہ کس شعبے سے منسلک رہے؟
’’میرے ابّو محمّد خلیل ہاشمی کا تعلق مظفّر نگر یوپی سے تھا۔ وہ انتہائی ذہین صحافی، شاعر،ادیب و دانش ورتھے۔انہوں نے کراچی میں اپنا پریس قائم کیا تھا اور ’’روزنامہ خادم‘‘ کے نام سے اخبار بھی جاری کیا تھا۔اُن کی بیٹی ہونے کے ناتے میری موزوئی طبع نے بچپن ہی میں مجھ سے سخن لکھوانے شروع کر دےئے تھے۔‘‘
* یہ بتائیے کہ لکھنے کے حوالے سے ابتداء کس طرح ہوئی؟
’’اسکول میں پروگرامز ہونے والے ہوتے۔ریہرسل کے دوران کسی کلاسیکل گانے پر لُڈّی کی پریکٹس کروائی جا رہی ہوتی اوراس دوران گانے کی کوئی لائن مِس ہو جاتی تو ٹیچر فوراً مجھے بلا کر پوچھتیں کہ اس کی لائن کیا ہوگی ؟ میں’’ تُک بندی‘‘ کر دیا کرتی۔کرکٹ ٹیم پر پیروڈی لکھنے کے لئے مجھے کہا جاتا، جیسے میں کوئی لکھنے والی ہوں۔ اسی طرح سے خاندان میں جب شادی کی تقریبات ہوتیں تو میں ساس ، نند، دیور، جیٹھ میں سے اگر کوئی کالا یا موٹا کیریکٹر ہوتا تومیں گانوں کے بیچ میں ٹکڑے لگا دیتی تھی، اور وہ گانے کے ساتھ بالکل فٹ ہو جاتیتھے ۔اس طرح خوب داد وصول کیاکرتی تھی۔‘‘
* پہلی بار شاعری کا معرکہ سَرکرنے کا پس منظر یاد ہے؟
’’جی ہاں ، ہمارے اسکول میں میوزیکل فنگشن منعقد ہوا۔لتا کی گائی ہوئی غزل کی طرز نے مجھے حد درجہ متاثر کیا۔بول تو ذہن سے نکل گئے لیکن تنہائی میں اُس کی کمپوزیشن گنگناتی رہی۔پھر لفظ ذہن میں آنے لگے اور یوں غزل مکمل ہو گئی۔اُن دنوں میں علامہ اقبال سے بہت متاثر تھی،اس لئے اس میں خودی کا ذکر بھی آگیا۔غزل کا آخری شعر کچھ اس طرح تھا کہ۔۔
روحی بلند رکھ خودی طوفاں کی منّتیں نہ کر
ساحل نہ مل سکا تو کیا کشتی بھنور کے پار کر
جبکہ اس سے پہلے سات سال کی عمر سے میں بچّوں کے رسائل مثلاً غنچہ،پھلواری،بچّوں کی دنیا اور کھلونا وغیرہ میں ریحانہ خلیل ہاشمی کے نام سے لکھتی رہی اور بے شمار ادبی مقابلے بھی جیتے۔انعام میں ملنے والی کتابیں آج بھی میری لائبریری کی زینت بنی ہوئی ہیں۔‘‘
* خاندان والوں کو جب شاعری کرنے کا علم ہوا تو آپ کوکس قسم کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا؟
’’گھر والوں کو میں نے خود بتایا کہ میں نے غزل کہی ہے تو ایک کھلبلی سی مچ گئی تھی۔ شاعری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ا سٹیج پر جائیں گے،اس لئے اعتراض اٹھایا گیا۔کیونکہ اُس دور میں تو شاعری فقط عشق اور عاشقی کے زمرے میں آتی تھی۔جب میں نے لکھنے کا آغاز کیا تو عورت کی اپنی ایک شرم وحیا تھی۔اس ضمن میں ہمیشہ ایسے الفاظ کا انتخاب کیا کہ سب کو سنا سکیں،سماجی شرافت کو پار کرنے کا کبھی نہ سوچا۔ پھر وقت کا انتظار کرتی رہی۔ اسی اثناء میں آصف علی ہاشمی سے رشتۂ ازدواج سے منسلک ہو گئی اور ان کے بھرپورر تعاون نے ہی مجھے اپنے آپ کو تسخیر کرنے میں مدد دی۔‘‘
*آپ نے باقاعدہ مشاعرہ کب اور کس کی صدارت میں پڑھا؟
’’شادی کے بعد جب میرا بیٹا میٹرک میں آگیا تب میں نے حمایت علی شاعر صاحب کی صدارت میں پہلا مشاعرہ پڑھا۔سارہ شگفتہ کی خود کشی ایک پر اسرارداستان میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھی ۔پروین شاکر کیطلاق کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر کچھ اس طرح تھا ،گویا ہر شعر کہنے والی لڑکی کا مقدر یہی فرض کیا جانے لگا تھا۔ میں نے جان لیا کہ خاتون شاعرہ کے لئے یہ معاشرہ اتنا تنگ ہے کہ تھوڑی سی جنبش پر دیوار میں سر لگتا ہے ۔ سو میں نے گھر بنانے اور ذمے داریاں نبھانے کی ٹھان لی اور اﷲ کا شکر ہے کہ شاعری کے عشق کو گھر اور بچوں کی تعلیم و تربیت پر کبھی فوقیت نہ دی اور میچورڈ ہو کر ادب دنیا میں قدم رکھا۔‘‘
*شاعری کی باقاعدہ تعلیم نا گزیر ہے، پھر آپ کی ادبی جستجو نے فروغ کیسے پایا ؟
’’میں شاعری کو مکمل سائنس سمجھتی ہوں اور یہ علم حاصل کئے بغیر آگے بڑھا نہیں جا سکتا۔کیونکہ شاعری میں اوزان، قوائد و ضوابط، دو اور دو چار کی طرح ریاضی کے قطعی اصولوں پر قائم ہیں۔جب میں سعودی عرب میں تھی تو ’’پاکستانی اسکول الخبر کی لائبریری‘‘ میری پہلی استادہے۔وہاں ادب کے حوالے سے مجھے ہر وہ کتاب دست یاب ہوئی جو میری طبع رواں صیقل کرنے کے لئے ضروری تھی۔اس مکتبِ عشق میں جناب رشیدالزماں وحشت کلکتوی کی عروض پر لکھی کتاب’’کلیدِ سخن‘‘ میری دوسری استاد ہے۔زبان برتنے کا سلیقہ مجھے ’’دبستانِ دلّی‘‘نے سکھایا۔آرائشِ سخن کا قرینہ مجھے ’’دبستانِ لکھنو‘‘ نے دیا۔مولانا الطاف حسین حالی کی’’ مقدمۂ شعر و شاعری‘‘سے میں نے خود احتسابی کا ہُنر کشید کیا۔’’دیوانِ غالب‘‘ نے انسانی جذبات کی آفاقیت کے اسرار کھولے۔ ’’میر صاحب‘‘نے جذبوں کی گداز تہہ داری سے آشنا کیا۔ ’’اقبال‘‘ نے رموزِ خودی سمجھائے۔’’فیض احمد فیض ‘‘ نے معاملاتِ درد مندی منکشف کئے اور’’ ناصر کاظمی‘‘ نے تو کائنات عشق کے بلیغ استعارے میں تبدیل کر دی۔ یہ سب میرے بنیادی انسٹی ٹیوشن میرے کلیدی اسکول آف تھاٹس ہیں۔ پھر الخبر میں ہم نے ایک ادبی انجمن ’’نخلستانِ ادب ‘‘کی داغ بیل ڈالی ۔وہاں میرے گھر ’’سکھر ہاؤس‘‘ میں ہر ماہ کے آخری بدھ کو ا یک ادبی نشست کا اہتمام ہوتا تھا۔یہ سلسلہ میری زندگی کے ساتھی آصف علی ہاشمی کے تعاون سے 18 برس تک جاری رہا۔‘‘
*آپ کے نزدیک شاعری میں آمد کا کیا مفہوم ہے؟
’’شاعری خیالات کی آمد کا نام ہے لیکن کوئی الہامی چیز نہیں۔لفظوں کی آمد ہوتی ہے مگر وہ اُس علم کے ذریعے ہوتی ہے،جو آپ نے حاصل کیا اور پھرمشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر ہی آپ کی شاعری میں پختگی آتی ہے۔میں نے شاعری کو اپنے لئے منتخب کیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ شعر اس طرح لکھا جائے کہ آپ جو کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،اس کا صحیح طرح سے ابلاغ ہو، نثر کی طرح سمجھ میں آئے۔شعر سیدھا بھی ہو اور اُس میں پَلٹاوے بھی ہوں۔‘‘
*کتابوں سے سیکھنے کے علاوہ کیا آپ اپنے سینئر اساتذہ سے اصلاح اور مشورے کرنے کی قائل ہیں؟
’’ عروض میں نے راغب مراد آبادی صاحب سے سیکھے اور ان کے بعد پروفیسر سحر انصاری نے میری کتاب ’’عشق زاد‘‘ پر بار بار نوٹ لکھ کر اسے بہتر سے بہتر کرنے کے مشورے دئیے اور اس کتاب کا مسودہ فائنل ہونے میں دس سال لگے۔ میں جب بھی کوئی کتاب شائع کرنے جا رہی ہوتی ہوں،اساتذہ سے لازمی اصلاحلیتی ہوں۔‘‘
ریحانہ روحی کی شاعری شعراء و ادباء کی نظر میں
راغب مراد آبادی
قرطاس پہ اک نقشِ مراد آیا ہے
لے کر یہ ،اساتذہ کی یاد آیا ہے
اہل ادب و علم کریں قدر اِس کی
روحی کا کلام’’ عشق زاد‘‘ آیا ہے
ڈاکٹر جمیلجالبی نے انہیں عہد حاضر کی آواز کہا ۔احمد ندیم قاسمی نے ’’فنون‘‘ شمارہ 111کے حروف اول میں شعر و ادب میں حیرت انگیز کارنامے انجام دینے والی خواتین کے ذکر میں ریحانہ روحی کا نام بھی لکھا ۔سرشار صدیقی کہتے ہیں کہ ادب کے سفر میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ۔اس کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے اور ریحانہ روحی اس امتحان میں کامیاب ہو گئی ہیں ۔پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم لکھتے ہیں کہ ریحانہ روحی بے دھڑک شعر کہنے کا فنکارانہ سلیقہ جانتی ہیں ۔سلیم جعفری کے مطابق آپ انتہائی ذمہ دار اور حساس شاعرہ ہیں ۔شکیل عادل زادہ اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ ریحانہ روحی کا مقصود شاعری ہے ۔شاعری ان کا یقین ہے اور انہیں کسی سماجی بے طلبی ،بے قیمتی یا بے حسی کی پرواہ بھی نہیں ہے ۔چند شخصیات کا ذکر ہم نے کیا لیکن ادبی دنیا کی بے شمار قدآور شخصیات نے ان کی شاعری کو بے پناہ سراہا ہے ۔
میں کون ہوں؟
قلمی نام : ریحانہ روحی
پیدائش : کراچی
تعلیم : ایم اے اکنامکس،سندھ یونی ورسٹی ۔
ایم اے اردو،کراچی یونی ورسٹی ۔
کمپیوٹر ڈپلوما اِن کمپیوٹر اکاؤنٹینسی ،شاہ نواز لمیٹڈ کراچی۔
ملازمت : ڈپٹی مینیجراکاؤنٹس کاٹن ایکسپورٹ کارپوریشن کراچی۔
انگلش لینگویج ٹیچر ،درالطفولہ دمام سعودی عرب ۔
سوشل ورک : صدر و سوشل چےئرمین وومن پاکستان وومنز گروپ الخبر سعودی عرب
ادبی حوالہ چےئرپرسن’’نخلستانِ ادب‘‘الخبر سعودی عرب ۔
صدر شعبہ خواتین پاکستانی اووسیز رائٹر فورم الخبر سعودی عرب۔
مشقِ سخن : شاعری (غزل،نظم،ہائیکو،قومی نغمے ،قطعات ،اظہاریے)
فکشن(مدیرمجلہ ’’مشعل‘‘ الخبرسعودی عرب،افسانے)
صحافت (معاشرتی مضامین ،تنقید،تجزیہ ،کالم)
اعزازطباعت : تمام مقامی و عالمی ادبی رسائل بطور خاص ’’فنون‘‘ لاہور،’’اقدار‘‘ کراچی ۔
بچپن (کھلونا ،غنچہ ،پھلواری ،بچوں کی دنیا ،نونہال کراچی)
مشاغل : مطالعہ(فلسفہ،سیاسیات،لٹریچر ،تنقید)
ادبی سیاحت : ہندوستان،کل پاکستان، مشرقِ وسطی،یورپ اور متعددممالک
میں وہ یقین ہوں روحی کہ گھپ اندھیرے میں
کر ن کا وہم ہو تو آفتاب سوچتی ہوں
***
Viewers: 2174
Share