Dr. Syed Yahya Saba | Article | سردار علی کا مایہ ناز مجلہ شعرو سخن

ڈاکٹرسید محمد یحیےٰ صبا پروفیسر شعبہ اردو کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی برقی میل urisath@yahoo.com urisath@gmail.com Mob:-+91-9968244001 سردار علی کا مایہ ناز مجلہ شعرو سخن :ذکر ،فکر اور فن کی […]
ڈاکٹرسید محمد یحیےٰ صبا
پروفیسر شعبہ اردو
کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی
برقی میل urisath@yahoo.com
urisath@gmail.com
Mob:-+91-9968244001
سردار علی کا مایہ ناز مجلہ شعرو سخن :ذکر ،فکر اور فن کی روشنی میں
عالمی منظر نامے پر اردو وشعرو ادب کے تعلق سے جن جیالے قلمکاروں اور اردوکے خدمتگاروں کے نام لیے جاسکتے ہیں ان میں سردار علی کا نام نمایاں ہے۔سردار علی کے کل ادبی سرمائے کو نظر انداز کردیا جائے اور کنیڈا سے شائع ہونے ان کے ادبی رسالے سہ ماہی شعرو سخن پر گفتگو کی جائے تو یہ ایک عظیم کارنامہ ہے ۔ اورزندگی کے جھمیلوں اور مصروفیات کے باوجود خدمت خلق کا اس طرح بے پناہ خدمت خلق کا جذبہ کسی کی بھی مغفرت کے لیے کافی ہے ۔ظاہرہے کہ اللہ جس شخص سے چاہتا ہے اس سے قومی وملی فریضہ انجام دلواتاہے اور سردار علی کا فریضہ ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک تنظیم کا ہے جو وہ بخوبی نبھاتے ہیں۔
سہ ماہی شعروسخن اردو زبان میں شائع ہونے والے رسالے غائر مطالعہ کیا جائے تو اسے ایک تحریک کانام دے سکتے ہیں ۔رسالے کے ہوم پیج پر نظر پڑتے ہی خوش آمدید،عید مبارک یا تہنیت کا کوئی نہ کوئی جملہ ضرور مل جائے گا اور ٹھیک اسی کے پیچھے چند اشعار نمایاں اور منقش جو کہ مدیر کے حوصلے، اس کے منشا اور ارادے کی دلیل پیش کررہے ہوتے ہیں ۔ قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔اس رسالے کے مواد سے استفادہ کے لیے بائیں طرف فہرست درج ہے اس فہرست میں سب سے پہلے’’ حمدونعت ‘‘ہے اس کو کلک کرتے ہی مختلف شعراء کے حمدیہ اور نعتیہ کلام سے ہم مستفید ہوسکتے ہیں ۔
دوسرا حصہ اسلامیات کاہے اس کے تحت رمضان المبارک، حج وزکوٰۃ، اسلامی عقائد واحکامات پر مضامین موجود ہوتے ہیں ادب سے عقیدہ کا جو رشتہ ہے اس کو مدیر نے یہاں مستحکم کردیا ہے کہ آپ کو کسی مدرسہ و خانقاہ کے بجائے اپنے انٹر نیٹ پر ہی ضروری اور بنیادی مواد دستیاب ہیں ۔ادبی تقریبات کے تحت مختلف خطے اور علاقوں میں واضح اداروں اوریونیورسٹیوں اور کالجوں میں منعقد ہونے والی حالیہ ادبی تقریبات پر خبریں شائع ہوتی ہیں ۔ اس کالم سے پوری دنیا میں ہونے والی ادبی سرگرمیوں کا پتہ بیٹھے بیٹھائے لگا یاجاسکتا ہے ۔
اس رسالے کا سب سے اہم حصہ’’مضامین‘‘کا ہے اس کے تحت شائع ہونے والے ادبی،تنقیدی اور تحقیقی مضامین کا وہ اہم سر مایہ ہوتا ہے جس سے اردو ادب کی آبیاری اورا س کی سمت ورفتار متعین ہوتی ہے اور ہم جیسے قاری جودرس و تدریس سے وابستہ ہیں اس سے خوب استفادہ کرتے ہیں اوراپنے طلبا کو بھی اس سے استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جس سے ان کے اندرادب اور انٹرنیٹ جیسے عمدہ ذرائع کا استعمال بخوبی آتا ہے۔
’’افسا نے‘‘ ایک ایسا گوشہ ہے جس میں افسانوی تخلیقات کو شائع کیا جا تاہے کہنہ مشق افسانہ نگاروں کے ساتھ ساتھ جواں سال افسانہ نگاروں کی تحریروں کو خوش اسلوبی سے جگہ دی جاتی ہے ۔کسی بھی رسالے کا یہ وہ اہم حصہ ہے جہاں کسی بھی ادیب کی اولین تخلیق کی اشاعت کا مربع وسیع قرار پاتاہے اورتحقیق کے لیے یہ بنیادی ماخذ قرار پائے گا۔
اس کے بعد ’’شاعری‘‘پر کلک کرتے ہی مختلف شعراء کے تازہ کلام سے غزلوں اور نظموں کے علاوہ دوسرے اصناف وسخن کو کے نمونے شائع کئے جاتے ہیں۔ایک اہم بات جو اس رسالے کی قدر ومنزلت میں اضافہ کرتی ہے وہ یہ جگہ کی کافی فراوانی ہے جس سے مدیرزیادہ سے زیادہ شعراء وادباء کو ایک ہی ویب سائٹ پر شائع کرسکتا ہے۔ ایک دوسری خوبی یہ کہ گزشتہ شمارے بھی اسی کالم میں نیچے دئیے ہوتے ہیں جس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے ۔ ’’طنز ومزاح‘‘کے عنوان سے ایک اور تخلیقی کالم ہے جس میں مزاحیہ مضامین شائع کئے جاتے ہیں۔
آج کل جتنے بھی رسائل وجرائد شائع ہورہے ہیں وہ طنز ومزاح پراتنی توجہ صرف نہیں کرتے ہوسکتا ہے کہ ان کے نزدیک طنزومزاح اعتبار کا وہ درجہ نہ رکھتی ہو مگر کوئی بھی سنجیدہ قاری غیر سنجیدہ سبھی جانے والی اس صنف پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرتاہے۔ سردار علی نے اس بات کا پاس ولحاظ رکھا ہے کہ ہمارے اہم ترین اصناف کے ساتھ انصاف ہوسکتے۔
’’برقی کتب‘‘پر کلک کرتے ہی’’ سب ‘‘ اس حیدرآباد سے شائع ہونے والے مجلے کے علاوہ مختلف شعراء وادبا کی تخلیقات ناول ، افسانوی مجموعے تنقید وتحقیق وغیرہ شائع کئے جاتے ہیں جس سے براہ راست ہم لائبریری کی طرح استفادہ کرسکتے ہیں۔
’’شخصیات ‘‘اس رسالے کا ایک اہم حصہ اس لیے ہے کہ اس میں مختلف شعراء وادبا پر مضامین اور انٹر ویو شائع کئے جاتے ہیں ۔’’ خاکے‘‘ پیش کئے جاتے ہیں ۔کسی بھی شاعر وادیب کی زندگی اوراس کے تمام ادبی وفنی پیش رفت پر مشتمل اہم مرجع ماخذ ہوتے ہیں بیسویں صدی کی جدید زین اصناف میں خاکہ اہم اور مقبول صنف سخن ہے۔ مدیر نے بطور خاص اپنی میگزین کاحصہ بنا یا ہے۔
’’چلتے چلتے‘‘یہ سردار علی کا نیا اور اوراہم گوشہ ہے اس میں مختصر سفرناموں کو جگہ دی جاتی ہے سفرنامے شائع کرنے کو روایت چونکہ قدیم نہیں ہے اس لیے یہ ایک خوش آئند قدم ہے جس میں ادباء اور شعراء کے ادبی افکار کو پیش کیا جا تا ہے ۔اس ویب سائٹ کو دیکھنے سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ صرف ادبی رسالہ ہی نہیں ہے بلکہ دلچسپی کے مختلف ادبی پہلوؤں سے استفادہ کیا گیا ہے ۔اس حصے میں فلمی وغیر فلمی ویڈیو کلیپنگ موجود ہیں ۔جو کہ اکثر مزاحیہ یا ادبی ہوتے ہیں ۔جس کے ذریعہ مدیرنے اپنے رسالے طبقے اور مکتب فکرکے قارئین کے ذوق کے لیے ضروری اور اہم مواد جمع کردیا ہے ۔
’’اس ماہ کا نغمہ‘‘اس کے عنوان سے ہی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے موجودہ شمار میں پسندیدیہ اور اہم نغمے اپلوڈ کئے جاتے ہیں جس سے قاری کے ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ ذہنی اور جذباتی ذوق کی بھی آبیاری ہوتی رہے۔
’’کلام بزبان شاعر‘‘آپ نے یقیناًاس جیسا پروگرام ٹی وی دیکھا یا ریڈیو پر سنا ہوگا جس میں شاعر خود اپنی زبان اوراپنے لہجے میں اپنی کسی غزل یا نظم کو پیش کرتا ہے ۔کسی بھی شاعر کے کلام کو خود اس کی زبان سے سننے سے اس کی معنویت واہمیت دوگنی ہوجاتی ہے کیونکہ نغمے کے ساتھ اس میں شاعر کے دلی جذبات شامل ہوتے ہیں وہ اس کی وجہ تخلیق بھی بتلاتا ہے ۔یہ ایک اہم گوشہ ہے کہ جس کو مدیر کی فکری پرواز نے رسالے میں شامل ہونے کا موقع دیا ۔
مندرجہ بالا گوشہ شعری کلام سے متعلق ہے اس کے بعد ’’آواز کی دنیا’’میں ادیبوں ،قلمکاروں اور دانشوروں کی تقاریر ان کے نفع اور بالخصوص کوئی اہم کلاسیکی نغمہ یا کوئی ادبی مباحثہ پیش کیا جاتاہے ۔
’’ادب نامہ‘‘بھی’’ ادبی تقریبات ‘‘کے طرز کا گوشہ ہے اس میں مختلف تعلیمی اورتحقیقی اداروں کے جلسوں اور میٹنگوں کی رودادوں اور فوری طورپر رونما ہونے والی کسی ادبی سرگرمی پر مباحثہ یا پریس ریلیز سے متعلق خبریں اور تبصرے شامل ہوتے ہیں۔ اس کالم کا فائدہ یہ ہیکہ قاری براہ راست دنیا کے کسی بھی خطے میں منعقد ہونے والے پروگراموں کی ادبی خبروں سے جڑا رہتا ہے ۔
’’اردو ٹیچر‘‘یہ رسالے کی ایک ایسی خدمت ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا سکتا ہے بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسکے لیے کسی الگ ویب سائٹ کی ضرورت درکار تھی لیکن مدیر نے ان تمام سہولیات کا جوکہ اردو سے متعلق نہیں وہ یکجا کردی ہیں ۔اس حصے میں اردو سیکھنے اور سیکھانے کے طریقہ کا ر کمپیوٹر کے ذریعے ہی بتلائے گئے ہیں ۔اس کے علاوہ سبق آمیز قصوں ، کہانیوں، فرمودات کے علاوہ لہجے اورانداز گفتگو سیکھنے کے لیے مختلف کلپنگ اپلوڈ کی گئی ہیں اس حصے سے اردو سیکھنے والے غیر اردوداں طبقے کو بہت زیادہ فائدہ ہورہاہے ۔ سردار علی کی یہ کاوش اور ایجاد اردو کی اتنی بڑی خدمت انجام دے رہی ہے اس کا اندازہ رسالے کے وزیٹرس سے بحسن وخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔اس طرح ’’دیگر ویب سائٹ ‘‘کے تحت اردو سے متعلق پوری دنیا میں اہم ویب سائٹ کے پتے موجود ہیں جس سے نہ صرف سہ ماہی شعروسخن بلکہ آپ کے کسی بھی اردو کے اہم ویب سائٹ کو اسی وقت وزٹ کرسکتے ہیں ۔یہ ایسی بڑی خدمت ہے جس کو صرف نیک نیتی سے انجام دیاگیا ہے ۔آخر کے گوشے میں مختلف حضرات اورقارئین کے آرا کو خطوط کے کالم میں شائع کیا جاتا ہے ۔جس میں مفید مشوروں کے علاوہ ضروری معلومات بھی شائع ہوتی ہیں اس کے علاوہ ویب سائٹ پر یادگار تصاویر بھی موجود ہیں۔سردارعلی نے جس منظم انداز میں اس رسالے کو شائع کیا ہے اور کرتے آئے ہیں ان کی خدمت کو کبھی اردو دنیا فراموش نہیں کرے گی ۔ہوم پیج پر بھی بہت ساری ضروری معلومات سامنے ہی جمع کردی گئی ہیں ۔جس میں اردو ٹیچر اور آرکایو کا کالم موجود ہے ۔اس رسالے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ پرانا ذخیرہ اس میں ہٹا یا نہیں جاتا ہے بلکہ وہ آرکاریو میں موجودرہتا ہے ۔مدیر کے ذوق سلیم کی داد اس لیے بھی دینی پڑے گی کہ انہوں نے اس کی حسن کاری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔خدمت
کا جذبہ ان کو ملکوں ملکوں سرگرداں رکھتی ہے ۔گفتگو کے دوران رسالے کی اشاعت فراہمی مواد پر گفتگو کرتے ہوئے ان کو اکثر دیکھاجاسکتا ہے ۔کسی دانشور کا قول ہے کہ اگر قیامت کا سور پھونک دیا جائے اور صرف ایک کھجور کا پیڑ لگانے وقت تمہارے پاس ہوتو اس کو لگا دو ۔سردار علی نے دنیا کے اس قیامت خیز ہنگاموں کے درمیان جس پودے کولگایا تھا وہ آج تناور درخت بن چکا ہے اوراس کے ثمر سے اردو کا عالمی حلقہ مستیفض ہورہا ہے ۔
***
Viewers: 3279
Share