Molana Muzafar Hussain | سیمیناربعنوان : احمدآباد میں اردو زبان اور اس کا فروغ

سیمیناربعنوان : احمدآباد میں اردو زبان اور اس کا فروغ

لوک سیوا سنگھ ،احمدآباد نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی اشتراک سے احمدآباد میں’’احمدآباد میں اردو زبان و ادب اور اس کا فروغ‘‘کے عنوان سے ۲۰؍جنوری ۲۰۱۳ ؁ء ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا۔یہ سیمینار تین اجلاس پر مشتمل تھا ۔ جس میں شہر احمدآبادکے پروفیسرس، عمائدین شہر ، شائقین ،حامیانِ اردو نیززبان کے باذوق حضرات کے ساتھ اردوکالج کے طلباء اور طالبات نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے محققین ،ناقدین، اردو زبان و ادب کے دانشوران ، بڑودہ ،دہلی اور بنگال سے اس سیمینارمیں شریک ہوکر اس کی زینت بنے۔پروفیسر ذاکرہ خاتون(پرنسپل،ایف۔ڈی۔ کالج)مفتی مبشر رضا اور حاجی نثار احمدشیخ بحیثیت مہمانِ کے شریک تھے۔ اس سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا مظفر حسین (سیکریٹری ۔ لوک سیوا سنگھ، احمدآباد)نے تمام شرکاء کا استقبال کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں اپنے ادارے کی کارگزاریوں اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اردو زبان و ادب کے فروغ اور بقا کی خاطر مثبت اقدام لئے جانے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔حافظ اشفاق عالم نے تمام مدعوئین مہمانان کا پھولوں سے استقبال کیانیز شرکائے سیمینار کا خصوصی طور پر خیر مقدم کیا۔محمد حسین وفاؔ نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کی۔اجلاس اوّل کا آغاز مولاناارشاد عالم نے تلاوتِ قرانِ پاک سے کیا ،بعد ازآں بابل حسین دیناجپوری نے اپنی خوبصورت مترنم آواز میں نعت پیش کر ایک سماں باندھ دیا۔پروفیسر نثار احمد انصاری(گجرات ودھیا پیٹھ،احمدآباد)نے اپنے کلیدی کلمات میں گجرات کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے گجرات میں اردو کی ابتدائی صورتِ حال کا موجودہ دور کے تناظر میں جائزہ لیا۔اُردو کے فروغ میں مشاعرے ،ادبی نشستیں،سیمینار وغیرہ کا رول کس طرح اردو زبان کا ماحول بنانے میں مدد کی اس کو مختلف دلائل سے واضح کیا۔مفتی مبشر رضا صاحب نے گجرات کے ’’دار الفقہ‘‘ اردوکی بقا میں کس طرح کوشاں ہیں اس کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سائل اپنا سوال نامہ گجراتی زبان میں پیش کرتا ہے تو ہم سب سے پہلے اس کاترجمہ اردو رزبان میں کرتے ہیں اور سائل سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ دوبارہ اپنا سوال نامہ اردو میں پیش کرے۔اُنہوں سے بتایا کہ گجراتی زبان میں فقہی مسائل کے جوابات نہ دینے کی ہماری شعوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ کم از کم اسی ذریعے سے اردو کا فروغ ہو اور وہ اردو زبان میں اس مسئلے کو سمجھے ۔اور اردو دینی مدارس کی زبان ہے اس لئے اس عدم توجہی نہ برتے۔اور عوام سے اس کی دلچسپی بنی رہے۔ گویا فقہی مسائل کے اردو تراجم کے ذریعے موصوف نے ’’دار الفقہ‘‘کی اردو خدمات کا ذکر کیا۔افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محی الدین بمبئی والا(ڈائریکٹر۔حضرت پیر محمد شاہ لائبریری اینڈ ریسرچ سینٹر) نے اردو کے فروغ میں لائبریری کی اہمیت کو واضح کیا۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کا ایک بڑا حلقہ ماضی کے مقابلے حال میں لائبریری اورکتابوں کے مطالعے سے دور ہو گیا ہے۔ اُنہوں نے گجرات میں اردو کے شاندار ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں سے چھ(۶) اردو رسائل شائع ہوتے تھے لیکن آج قاری نہ ملنے کے باعث ایک بھی رسالہ جاری نہیں ہوتا۔استقبالیہ کلمات بابل حسین دیناجپوری نے ادا کئے۔اس افتتاحی اجلاس میں کلماتِ تشکر ڈاکٹر اختر خان نے پیش کئے۔
دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر انور ظہیرانصاری (صدر شعبۂ اردو،ایم۔ایس۔یونیورسٹی آف بڑودہ)نے کی ۔ ا جلاس کی نظامت ڈاکٹر مسیح الزماں انصاری( شعبۂ اردو،گجرات کالج،احمدآباد)نے کی ۔مفتی مطیع الرحمن نے اپنے مقالے میں گجرات کے ’’دار الافتا‘‘اور ’’دار القضا‘‘کی اردو خدمات کا احاطہ کیا۔مقالہ خوانی سے قبل موصوف نے اردو سیمینار میں جبہ اور دستار والوں کی دور ی یا عدم موجودگی کاشکوہ کیا۔اُنہوں نے ارد ادب میں مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر ،مولانا محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالیؔ جیسی با کمال شخصیات نے اردو زبان و ادب کی خدمت میں نمایا کردار ادا کیا ہے تو پھر دینی مدارس اور اسکول و کالج کے اساتذہ کے مابین اس دوری کی وجوہات کیا ہیں،اس پر غور کئے جانے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر اظہر ڈھیری والا (ایم۔ ایس۔ یونیورسٹی آف بڑودہ)نے شہر بڑودہ میں اردو اسکولوں میں واقع تخفیف پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُردو زبان کے طلباء کو سوال نامہ گجراتی زبان میں دیا جاتا ہے اور انتظامیہ اس جانب کوئی عملی اقدام نہیں لیتا ہے۔
پروفیسر اختر شاہ دیوان(ایف۔ڈی۔کالج)گجرات میں اُردو کے ابتدائیہ نقوش پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے دلائل سے یہ واضح کیاکہ اردو کا سر چشمہ گجرات بھی رہاہے۔قادری افشاں(گجرات کالج)نے گجرات میں’’گجری‘‘ بولی کے فروغ کا ذکر کرتے ہوئے شہر احمدآباد و شہر سورت کے اردو غزل گو شعراء کا تعارف پیش کیا۔شیخ عذرابانو(ایف۔ڈی۔کالج)نے گجرات کے قدیم اردو شعراء سے متعارف کراتے ہوئے اُن کی خدمات کا جائزہ لیا۔صدارتی خطبہ میں ڈاکٹر انور ظہیرانصاری نے دکن و شمال میں اردو زبان کے ارتقاء پر روشنی ڈالی ہوئے کہا کہ اردو میں جمع بنانے کے اصول و صرفی و نحوی قوائد اس قدر آسان ہیں کہ دنیا کی کسی دوسری زبان میں اس کی مثال ممکن نہیں۔دوسری زبانوں کے جو لفظیا ت اُردو میں استعمال کی جا رہی ہیں ان کی تلاش و جستجو ضروری ہے ۔مزید گجرات میں اُردو کی صورتِ حال ،اہم شعراء وناقدین اور پڑھے گئے مقالات پر متعلق تفصیلی گفتگو کی ۔
تیسرا اجلاس پروفیسر ڈاکٹر یحیٰ صبا(دہلی یونیورسٹی) کی ذیرِنگرانی تھالیکن کچھ پریشانیوں کے سبب وہ پہنچ نہ سکے لہذا ان کی عدم موجودگی میں موصوف کا مقالہ’’ شاہ نوازاختر‘‘نے پیش کیا اور ڈاکٹر نثار احمد انصاری (گجرات ودھیا پیٹھ)نے مسند صدارت کے فرائض ادا کئے ۔پروفیسرناظمہ انصاری(صدر شعبۂ اُردو۔گجرات کالج)نے نظامت کی۔ دورانِ نظامت اُردو کے فقدان پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہی زبانیں فروغ کی منزلیں طے کرتی ہیں جنہیں سرکاری تحفظ حاصل ہوتا ہے۔آج ایک المیہ یہ ہے کہ ہندوستان میں آسان عام فہم زبان کو ’’ہندی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جب وہ فہم و ادراک سے بالا تر ہو جاتی ہے تو اسے ’’اردو‘‘ کہاجاتا ہے۔ڈاکٹر انور ظہیر انصاری نے اپنے مقالے میں گجرات کے ادبی منظر نامے میں ۲۰۰۱ ؁ء کے بعد اردوزبان و ادب کی سمت و رفتارکے حوالے سے احمدآباد کے اہم قلم کاروں کے ساتھ چند شعراء کا ان کے نمونۂ کلام کے ساتھ احاطہ کیا۔ڈاکٹر مسیح الزماں انصاری (گجرات کالج)نے گجرات میں اردو کے آغاز میں ولیؔ کے ذریعے برتی جانے والی زبان نے شمالی ہند پر کیا اثرات مرتب کئے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس دور میں فارسی سرکاری زبان تھی اسے سلطنت کا تحفظ حاصل تھا ۔ تاہم اس نوساختہ اردو زبان میں ولیؔ کے شاعری کرنے سے اردو کو اہم مقام و رتبہ دلانے میں بنیادی مدد کی۔لہذا اردو کو اپنی غزلوں سے وسعت دینے میں ولیؔ نے اہم کردار ادا کیا۔ شیخ سلمیٰ بانو نے ’’گجرات میں اردو کی نشو نما میں صوفیائے کرام کے حصے کو اجاگر کیا۔ ندیم انصاری نے ’’وارث حسین علوی‘‘ کے تنقیدی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ان کی نثری شگفتگی کو واضح کیا۔اس اختتامیہ اجلاس میں ’’لوک سیوا سنگھ‘‘ کے سیکریٹری مولانا مظفر حسین صاحب نے تمام حاضرین کی خدمت میں کلماتِ تشکر پیش کیا۔
دستخط:
(مولانا مظفر حسین)
(سیکریٹری ۔ لوک سیوا سنگھ، احمدآباد)
***

Viewers: 1510
Share