Muhammad Ilyas Nadvi | Story | اسٹینڈ کا فنڈا

۔محمد الیاس ندوی رام پوری۔انڈیا موبائل نمبر: 09990002673 اسٹینڈ کا فنڈا زاہد خان، فلمی نام زاہد کپور، خلاف معمول اندھیرے منہ اٹھ بیٹھا، قدآدم آئینہ میں سراپا درست کیا اور […]
۔محمد الیاس ندوی رام پوری۔انڈیا
موبائل نمبر: 09990002673
اسٹینڈ کا فنڈا
زاہد خان، فلمی نام زاہد کپور، خلاف معمول اندھیرے منہ اٹھ بیٹھا، قدآدم آئینہ میں سراپا درست کیا اور تیز تیز قدموں سے زینہ اتر گیا۔
پانچ منٹ کی ڈرائیونگ کے بعدوہ دلآورخان عرف ببلو بھائی کے نیم مردہ چہرے کو بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھ رہا تھا۔
148ماموںجان ، ابھی کیسے ہیں آپ؟
148اللہ کا کرم ہے 147 انہوں نے بستر مرگ سے اٹھنے کی کوشش کی۔
کپور بجلی کی سی سرعت سے صوفے سے اٹھا اور ماموں کو دوبارہ اُسی پوزیشن میں لٹا کر اپنی جگہ آبیٹھا۔
148ماموں 148بجلی 147 دیکھی آپ نے؟147 اس کے لہجے میں بلا کااشتیاق تھا۔
انہوں نے ایک بار پھر اٹھنے کی ناکام کوشش کی تھی مگر ان کے کمزور بدن نے دماغ کاساتھ نہ دیا۔اور ان کا اٹھا ہوا سر پھر تکئے سے جالگا۔
148کپور آگ لگانا سیکھآگ لگاناتیری بجلی تو اچھی ہے ، بڑے تیکھے نقوش ہیں اس کے ایکٹنگ بھی خوب ہے پر 146بجلی 145میں آگ لگانے کی شکتی نہیں کچھ مرچ مسالہ ڈال نا اس میں کہ آگ لگے اور فلم سپر ہٹ ہوجائےاس زمانے کا اسٹینڈ یہی ہے ، فلمیں اپنی فنی بنیادوں پر کامیاب نہیں ہوتیںباہر سے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے147
انہوں نے گزشتہ رات 146بجلی145 کو ایک کامیاب ہدایت کار کی کڑی تنقیدی نظر سے دیکھا تھااور کپور کو مزید رہنما ہدایات دینے کے یے بلا بھیجا تھا۔کپور کو بھی ان کے خیالات جاننے کا بے صبری سے انتظار تھااس لیے وہ اندھیرے منہ ان کے پاس آپہونچاتھا۔
کپور نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے سرکھجایا اور ماموں کو مزید زحمت نہ دینے کے ارادے سے موضوع بدل کر ادھرادھر کی باتیں کرنے لگا۔اس کے چہرے کی شگفتگی اداسی میں بدل گئی ۔
148 گڑیا اپنی شادی کو لے کر بہت ایکسائی ٹیڈ ہے داماد اچھا مل گیاآپ کو147
148 سب اوپر والے کا کرم ہےموہن شرما بہت نیک اور محنتی لڑکا ہے امریکہ میں اس کا ایکسپورٹ امپورٹ کا بزنس ہے۔خوبرو بھی ہے، ذہین بھی، دولت مند بھی اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ فرماں بردار بھی بہت ہے بستر مرگ پر پڑے ہوئے ایک بیمار آدمی کو اس کے علاوہ اور کیا چاہئے کہ اس کی نازو ںکی پالی ہوئی بیٹی سدا سکھی رہے۔147وہ نحیف آواز میںرک رک کر بول رہے تھے۔
ان کی عمر ابھی کچھ زیادہ نہیں تھی مگر جان لیوا بیماری نے انہیں بستر مرگ پر ڈال دیا تھا ۔نزہت عرف گڑیا کا نام یا خیال آتے ہی ان کے بدن میں جانے کہاں سے طاقت آجاتی تھی۔ گڑیا ان کی اکلوتی اولاد تھی، نازوں کی پالی ہوئی۔جب کوئی اس کا ذکر کر بیٹھتا تو وہ اپنی بیماری بھول جاتے ۔اور اس کی بڑی بڑی آنکھوں اور کشادہ پیشانی کاذکر کرنے لگ جاتے۔کبھی کبھار تو وہ حد ہی کردیتے ۔ گڑیا کی پیدائش سے جوانی تک پوری کہانی انہیں ازبر تھی اور جب ایک بار اس کہانی کو شروع کردیتے تو پھر گڑیا کی جوانی اور شادی تک پہونچ کر ہی دم لیتے۔گڑیا اگر ایسے کسی موقع پر موجود ہوتی توچپکے سے کھسک لیتی یا پھر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق کہہ دیتی 146 146 اب بس بھی کرو ڈیڈی آپ ہر ایک کے سامنے میری کہانی لے کر بیٹھ جاتے ہیں لوگ کیا سوچتے ہوں گے آپ کے بارے میں۔147
148یہی نا کہ میںسٹھیا گیا ہوں147 وہ ہنس دیتے اور خاموش ہوجاتے۔
148جی جی بڑے نصیبوں والے ہیں آپآپ جلد اچھے ہوجائیں گے فکر نہ کریں 147کپور کو معلوم تھا کہ ماموں اب اچھے ہونے والے نہیں پھر بھی اس نے ان کا دل رکھنے کے لیے کہا۔کثرت شراب نوشی نے جگر کے دن تمام کردئے تھے۔
اچھامیں چلتا ہوںپھر آو 191نگا فرصت میں۔ مجھے آج سفر پر جانا ہےاللہ حافظ147
148جاو 191، پھلو پھولو اللہ حافظ۔147
زاہد کپور جتنی تیزی کے ساتھ اپنے گھر سے نکلاتھا اتنی ہی تیزی کے ساتھ ماموں کے گھر سے بھی نکلا۔
اور چند منٹ کی ڈرائیونگ کے بعد وہ ایک بار پھر قدآدم آئینہ کے سامنے کھڑ اتھا۔
148خوبرو تو میںبھی ہوں،ذہانت میں کچھ خاص کمی نہیں اورفرما بردار تو ہوں ہیلیکن اگر گڑیا کو وہ ہا تھی ہی پسند آیاتو میں کیا کروںبے وقوف لڑکی۔147 اس نے زور سے پیر پٹخے اور بیرون ملک سفر کی تیاریوں میںجٹ گیا۔
زاہد کپور فلم انڈسٹری میں نووارد نہیں تھا ماڈلنگ اور پھر ایکٹنگ میں وہ جانا پہچانا چہرہ تھا تاہم فلمی ہدایت کار کی حیثیت سے146 بجلی145 اس کی پہلی فلم تھی۔
148کپور آگ لگانا سیکھآگ لگاناتیری بجلی تو اچھی ہے ، بڑے تیکھے نقوش ہیں اس کے ایکٹنگ بھی خوب ہے پر 146بجلی 145میں آگ لگانے کی شکتی نہیں کچھ مرچ مسالہ ڈال نہ اس میں کہ آگ لگے اور فلم سپر ہٹ ہوجائےاس زمانے کا اسٹینڈ یہی ہے ، فلمیں اپنی فنی بنیادوں پر کامیاب نہیں ہوتیںباہر سے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے147
دیکھنے کو تو وہ سفر کی تیاریوں میں جٹا ہواتھا پر اس کا دماغ ماموں کے اس جملے پر اٹکا ہوا تھااسے سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ اس کے کیا معنیٰ نکالے۔ایک بار اسے اپنے آپ پر غصہ آیا کہ وہ اتنے سالوں سے ماموں کی رہنمائی میں کام کررہا ہے او ر ابھی تک وہ ان کی ذو معنیٰ باتوں کوپوری طرح سمجھ پانے سے قاصر ہے۔جنجھلاہٹ اور غصہ کے عالم میں اس نے گڑیا کی تصویر پر قلم چلادیا ۔گڑیاکے ہونٹ دو حصوں میں بٹ گئے۔
148مگر یہ ماموں بھی نا ہر وقت پہیلیاں بجھاتے رہتے ہیں صاف صاف بات کرنے میں کیا ان کی 147 اچانک اسے بستر مرگ پر پڑے ہوئے ماموں سے ہمدردی پیدا ہوئی اوروہ لبوں پر آئی ہوئی بھدی گالی کو پی گیا۔
وہ بجلی کے تعلق سے خوبصورت الفاظ سننے کا مشتاق تھامگر خلاف توقع اسے نقد بھرے الفاظ سننے کو ملےدوسرے یہ کہ وہ ابھی تک شرما کو گڑیا کے شوہر کی حیثیت سے برداشت کرنے کے لیے خودکو تیار نہیں کرپایاتھا۔اس لیے اس کا دماغ چکرایا ہوا تھا۔
زاہد بیٹا، اتنے لمبے سفر پر جارہا ہے لے یہ گرم گرم پکوڑے کھالے اور تھوڑی دیر آرام کرلے شام میں آٹھ بجے تو فلائٹ ہے تیری پانج بج گئے تیاری کرتے کرتے اب بہت ہوگئی تیاری یہ پکوڑے کھالے او ر سوجا تھوڑی دیر 147
اور وہ اچھا ماں کہتے ہوئے بستر پر چلا گیا۔
148کیامطلب ہوسکتا ہے ماموں جان کا147 پچھلے کئی گھنٹوں سے ماموں جان کے کمینٹس اس کو بے چین کیے ہوئے تھے اور اب بستر پربھی نیند اس کی آنکھوںسے کافی دور تھی۔ جب کسی کا ذہن ہزار کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے گردش کررہا ہو تو نیند اس کے پاس کیسے آسکتی ہے بھلا۔
148اسٹوری، ایکشن، میوزک،گانے،ایکٹنگسبھی کچھ تو اچھا ہے، سیکس بھی ہے، سسپینس بھی ہے اور آئٹم سانگ بھی ہے ایک چھوڑ دودو آئٹم سانگ ہیں اب آخر ایسی کیا کمی رہ گئی ہے بجلی میںکہ اس میں بقول ماموںکے کرنٹ نہیں ہے۔147
148 اور بجلی کیا کمال کی اداکاری کی ہے اس نے مجھے تویقین ہی نہیں ہورہا اچھا ہی ہوا کہ گڑیا شادی کرکے امریکہ چلی گئی اور اس کی جگہ بجلی کولینے کا فیصلہ لیا گیا۔147بجلی پہلی بار کسی بڑی فلم میں ایکٹنگ کر رہی تھی۔
ماں کے ہاتھ کے گرم گرم پکوڑے کھاکر اسے عجیب سی خوشی کا احساس ہوا148 کتنی اچھی ہیں میری ماں ۔ کتنا خیال رکھتی ہیں میرا۔147وہ زیر لب بڑبڑایا۔
ہزار کلومیٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتے ہوئے ذہن کی رفتار ذرا دھیمی ہوئی تو نیندکی دیوی آدھمکی اور اسے اپنی نرم کشادہ باہوں میں بھر لیا۔
148 نہیں چلے گی نہیں چلے گیبیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی147
ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ گھبراکر اٹھ بیٹھااور بجلی کی سی سرعت سے بالکنی کی طرف لپکا۔
اس کے بنگلے کے ٹھیک سامنے مین چوک پر لوگوں کا ہجوم تھا، ان کے ہاتھوں میں طرح طرح کے پلے کارڈ تھے اور منہ میں عجیب وغریب سلوگنز سب لوگ زور زور سے ہاتھ ہلا رہے تھے اور بلند آواز سے نعرے لگا رہے تھے۔
ایک کھدرپوش نیتا مائک ہاتھ میںلئے اعلان کر رہاتھا۔ توہین آمیز فلمیںمزید برداشت نہیں کی جائیں گی۔اس کے اردگرد کچھ مذہبی لوگ اس کی تائید کررہے تھے۔
اسی اثنا میں ایک نوجوان نے نعرہ لگایا۔
148 نہیں چلے گی نہیں چلے گی147 اور ہجوم میں شامل تمام لوگ چلا نے لگے۔148بیجاپور میں بجلی نہیں چلے گیبیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی147 درودیورا لرز گئے اور بجلی سپلائی کے تار جھنجھنا اٹھے۔
ایک نوجوان لوگوں کے گول دائرے کے بیچ آیا ۔ اس کے ہاتھ میں146بجلی145 کا بڑا سا پوسٹر تھا۔ نوجوان بہت پرجوش معلوم ہورہا تھا اس نے ایک ہاتھ سے پوسٹر اوپر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ سے لائٹر جلاکر پوسٹر کے ایک کونے کو آگ لگادی ۔ جیسے ہی پوسٹر کو آگ لگی لوگوں کا جوش وخروش دونا ہوگیا اور وہ زورزور سے چیخنے چلانے لگے۔اس کے بدن میں جھرجھری پیدا ہوئی ، جلد ہی اس نے خطرے کی بو محسوس کرلی اور پلک چھپکنے کے وقت میں وہ کسی محفوظ مقام پر روپوش ہوچکا تھا۔
148ٹرن ،ٹرن ٹرن،ٹرن 147 عین اسی لمحے فون سنسنان کمرے میں پوری طاقت سے چیخ اٹھا۔ اس نے گھبراکر آنکھ کھولی اور غنودگی کے عالم میں رسیور اٹھایا۔
148سمجھ گیا پوری طرح سمجھ گیا147
148 ارے ،ارےیہ کیابک رہے ہو سورہے ہو کیایا بجلی کے پیار میں دیوانے ہوگئے ہو۔147
148اوہو ! تم ہوآخر تمہیں فرصت مل ہی گئی اس موٹے سےخوب ستاتا ہوگانا تمہیں وہتمہاری شادی کیا ہوئی کہ تم تو دنیا جہان سے غافل ہو گئیں۔147
شادی ہوتے ہی موہن شرما کو جانے کیا ہوا کہ وہ محض تین چار ماہ کے اندر ہی پھول کر کپا ہوگئے ۔اوروہ اسی باعث نزہت کپور کو جو اب نزہت شرما کے نام سے پہچانی جاتی تھی اکثر چڑھایا کرتا تھا۔
148ان کی بات چھوڑو یہ بتاو 191 ، یہ تم کیا بک رہے تھے، سمجھ گیا سمجھ گیا۔147
148ارے ۔ کچھ نہیں میں سمجھا کہ تمہارے ڈیڈی کافون ہے147 پھر ادھر ادھر کی بات کرکے جلدی سے رسیور رکھا اور فریش ہونے کے لیے باتھ روم کی طرف دوڑپڑا۔ اس نے ایک بار پھر اپناسراپا قد آدم آئینے میں دیکھاوہ ڈرا ہواسا لگ رہا تھا۔
148اوہ، شٹ کتنا بھیانک خواب تھایقینا میں تو ڈر ہی گیا تھا۔147 وہ اپنے آپ سے مخاطب تھا۔مگر معاًبعد اس کے چہرے پراطمئنان کی پرچھائیاں نمایاںہوگئیں۔جیسے اسے کچھ مل گیا یا کوئی انوکھا آئیڈیا اس کے دماغ میں آیاہو۔
148اب سمجھا میں ترے رخسار پہ تل کا مطلب147اس کے من میں عجیب سی سرمستی سمارہی تھی۔
اس نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اپنے تمام فلمی معاونین کو خاص ہدایات دیں اور امریکہ کے لیے روانہ ہوگیا۔
اور خدا کی شان میںچند نازیبا کلمات پرمبنی کلپس کا اضافہ کردیا گیا۔
اس کی ہدایت کے مطابق اس کے غائبانے میں بجلی رلیز ہوئی اور دیکھتے دیکھتے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں چوراہوں پر وہی منظر ابھر آیا جو اس نے خواب میں دیکھا تھا۔جیسے خواب خود جاگ اٹھا ہواور رونمائی کے شوق میں خواب کا چوغہ اتار کر لباسِ حقیقت زیب تن کرلیا ہو۔
148 نہیں چلے گی نہیں چلے گیبیجاپور میں بجلی نہیں چلے گی147
لوگ حکومت سے فلم ہٹانے کی مانگ کر رہے تھے۔ ایک دو سنیما میں توڑ پھوڑ کے واقعات بھی ہوئے تھے۔لوگوں کا الزام تھا کہ146 بجلی145 میں مبینہ طورپر مذہب مخالف کلپس شامل کی گئی ہیں۔ اس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔خدا کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔
حکومت کی نظر آنے والے انتخابات پر تھی۔ اس لیے اس نے فلم پر پابندی بھی نہیں لگائی او ر احتجاج کرنے والوں کی ہم نوا بھی بنی رہی۔
وہ ابھی تک امریکہ میں ہی تھا اور میڈیا کی اپڈیٹس کے ذریعہ پل پل بدلتے حالات پرپوری طرح نظر رکھے ہوئے تھامگر اس بار اس کے چہرے پرگھبراہٹ کے بجائے خوشیوں کے سائے رقصاں تھے۔
ادھر احتجاج کی گھن گرج جاری تھی اور ادھرفلم نے باکس آفس پر دھمال مچا رکھا تا۔
باکس آفس پر بجلی کی کامیابی اور پہلے ہفتہ کی کروڑوں کی کمائی دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشیوں کے آنسو چھلک اٹھے۔ اور وہ احساس تشکر کے زیر اثر خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا۔
148اے خدا تو کتنا مہربان ہےیقینا تو دلوں کا حال جانتا ہے تجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں تیرے لیے کتنی عزت ہے اے دلوں کا حال جاننے والے خدا مجھے معاف کردے147
مگر یہ کیا یکایک ایک حسرت اس کے دل کی گہرائیوں سے کہیں سے نمودار ہوئی اور اس کی آنکھوں میں جھلملاتے ستاروں کے عقب سے نمکین پانی پھوٹنے لگا۔وہ اداس ہوگیا ۔
وہ جن کی ہدایات ورہنمائی نے اسے شہرتوں کی بلندیوں تک پہونچایا تھا اس کی شہرتیں دیکھ کر خوش ہونے کے لیے اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔
148 اے کاش ! ماموں کچھ اور جئے ہوتے ۔ کم از کم میں انہیں یہ تو بتا پاتا کہ میں نے ان کا اشارہ سمجھنے میں غلطی نہیں کی تھی۔147
اس نے سجدے سے سر اٹھایا اور آرام کرسی پر جا بیٹھا۔tt
Viewers: 6247
Share