Ghulam Shabbir Rana | Article | وحید بخش غیاث :عصری آگہی سے متمتع عظیم تخلیق کار

غلام شبیر رانا محمد نوید احسن ہاؤس، مصطفی آباد، جھنگ شہر۔ پاکستان وحید بخش غیاث :عصری آگہی سے متمتع عظیم تخلیق کار وحید بخش غیاث کا تعلق ڈیرہ غازی خان […]
غلام شبیر رانا
محمد نوید احسن ہاؤس، مصطفی آباد، جھنگ شہر۔ پاکستان
وحید بخش غیاث :عصری آگہی سے متمتع عظیم تخلیق کار
وحید بخش غیاث کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے مردم خیز خطے سے ہے ۔وہ ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز گزشتہ سات عشروں سے پرورش لوح و قلم میں مصروف ہیں ۔اردو زبان و ادب کے اس زیرک ،فعال ،مستعد اور بے لوث خدمت گار نے بڑے زوروں سے اپنے آپ کو منوایا ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے وہ اپنے لہو سے ہولی کھیلنے اور کالے کٹھن دکھوں کے پہاڑ تن تنہا اپنے سر پر جھیلنے میں ایک گونہ اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔کتابیں ہی ان کا اوڑھنا اور کتابیں ہی ان کا بچھونا ہیں ۔وہ ایک وسیع المطالعہ تخلیق کار ہیں ۔پاکستان کی تمام زبانوں پر انھیں خلاقانہ دسترس حاصل ہے ۔خاص طور پر اردو ،پنجابی، سندھی ،پشتو، سرائیکی ،بلوچی ،پشتو ،کشمیری اور ہندکو کے کلاسیکی ادب کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا ہے۔عالمی کلاسیک میں انھوں نے ہمیشہ گہری دلچسپی لی ہے ۔دنیا کی تمام زبانوں کے نمائندہ اور نابغہ ء روزگار ادیبوں کی تخلیقات کے تراجم کا انھوں نے مطالعہ کر رکھاہے ۔وہ دنیا کی کئی زبانوں کے ادب سے واقف ہیں ۔ان میں عربی ،فارسی ،ہندی ،انگریزی ،جرمن ،بنگالی ،فرانسیسی اور چینی زبان قابل ذکر ہیں۔اپنی جنم بھومی سے انھیں بہت محبت ہے ۔وہ دنیا کے بہت سے ممالک کی سیر کر چکے ہیں ۔حصول روزگار کے سلسلے میں انھوں نے اپنی عمر عزیز کا بڑا حصہ بیرونی ممالک میں گزارا۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ انھوں نے طویل عرصہ وطن سے باہر گزارا مگر وطن کی محبت ان کے ریشے ریشے میں سما چکی تھی ۔وہ جہاں بھی رہے وطن کی محبت سے ان کے مشام جاں معطر رہے اور پھر ایک دن آیا جب وہ وہیں لوٹ آئے جہاں ان کی آنول نال گڑی تھی۔وہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ وطن سے باہر رہے ۔اب جب وہ وطن واپس آگئے ہیں تو ان کے جذبات اور احساسات کی جو کیفیت ہے اسے خلوص بھرا دل اور درد بھری آنکھیں محسوس کر سکتی ہیں ،الفاظ ان کی ترجمانی سے قاصر ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ حب وطن بلا شبہ ملک سلیما ن ؑ سے کہیں زیادہ سکون بخش اور وطن کے کانٹے تو سنبل و ریحان سے بھی زیادہ پر کیف ہوتے ہیں ۔ان کی حب الوطنی ،علم دوستی ،ادب پروری ،خلوص ،دردمندی ،انسانی ہمدردی اور انسانیت نوازی ان کا سب سے بڑا اعزاز و امتیاز ہے ۔وہ جہاں بھی رہے انھوں نے وطن اور اہل وطن کے ساتھ اپنی والہانہ محبت اورقلبی وابستگی کو برقرار رکھا ۔وہ حریت فکر کے ایسے مجاہد ہیں جنھوں نے ارضی اور ثقافتی حوالے سے وطن اور اہل وطن کی خدمت کو اپنا شعار بنا رکھا ہے ۔اپنے وطن اور اہل وطن کے سا تھ انھوں نے جو عہد وفا استوار کر رکھا ہے اسے وہ علاج گردش لیل و نہا ر قرار دیتے ہیں ۔وہ حریت فکر کے عظیم مجاہد ہیں ۔انھوں نے ہمیشہ جذبو ں کی صداقت کا بھرم بر قرار رکھا ہے ۔انسانیت کے وقار اور سر بلندی کے لیے ان کی خدمات کو پوری دنیا میں سراہا گیا ۔بیرونی ممالک میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزارنے کے بعد جب وہ ڈیر غازی خان واپس آئے تو سارا ماحول ہی بدل چکاتھا ۔دیار غیر میں تو وہ پرانے آشنا چہروں کو یاد کر کے ہجوم غم میں دل کوسنبھالنے کے جتن کرتے تھے ۔جب واپس اپنے آبائی علاقے میں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے کہ سیل زماں کی مہیب موجیں تمام پرانی رفاقتوں کو خس و خاشاک کے مانند بہا کے لے گئی تھیں ۔اب انھیں اپنے ہی آبائی شہر میں لو گ اجنبی گردانتے تھے ۔یہ کوہ غم ان کے لیے اس قدر گراں ثابت ہوا کہ انھوں نے تنہائی اور اجنبیت کی جان لیوا گھڑیوں کو گزارنے کے لیے تیشہ ء حرف سے فصیل غم کو منہدم کرنے کی مساعی کا آغاز کر دیا ۔اب و ہ سر گرداب اپنے احباب کو پکار رہے ہیں کہ شاید ساحل سے کو ئی مانوس آواز اور درد مند لہجہ سنائی دے ۔ہم اہل وطن ان کو یہاں آنے پردل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کرتے ہیں ۔وطن ہم سب کے جسم اور روح سے عبارت ہے ۔اگرچہ وحید بخش غیاث بہت طویل عرصے کے بعد وطن آئے ہیں لیکن جب یہاں آگئے ہیں تو پھر ہم سب ان پر خلوص بھرے جذبات اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں ۔وہ اب آ گئے ہیں تو وہ سب کے دل میں بس جائیں گے ۔اس میں دیر سے آنے کی شکایت کیسی اور وطن سے دور رہنے پر ندامت کا کیسا تذکرہ ؟میں یہاں ممتاز شاعر عندلیب شادانی کے یہ شعروحید بخش غیاث کی نذر کرتا ہوں ۔
دیر لگی آنے میں تم کو ،شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ،ویسے ہم گھبرائے تو
شفق ، دھنک ،مہتاب ، گھٹائیں، تارے ، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیاکیا کچھ ہے ، وہ دامن ہاتھ آئے تو
جھوٹ ہے سب ،تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خواب جوانی ،تھوڑا سا دہرائے تو
وحید بخش غیاث نے 1958میں وطن سے باہر قسمت آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ۔حصول معاش کے لیے وہ دنیا کے متعدد ممالک میں پہنچے اس طرح انھوں نے پوری دنیا کی سیر کرنے کے عزم کی تکمیل کی ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ابن بطوطہ کا جس طرح تعاقب کیا اس میں کوئی ان کا شریک اور سہیم نہیں ۔وہ جہا ں بھی گئے اپنے وطن کی تہذیب ،ثقافت ،معاشرت اور علم و ادب کی ترجمانی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔وطن اور اہل وطن کو ان کی علمی ،ادبی اور قومی خدامات پر ناز ہے ۔تاریخ ہر دور میں ان کے ان عظیم کاموں اور فقید المثال خدمات کی بنا پر ان کے نام کی تعظیم کرے گی ۔اردو زبان و ادب کی نئی بستیاں بسانے اور دیار غیر میں گلشن اردو کو خون جگر سے سیراب کرنے والوں میں وحید بخش غیاث کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔جب وہ 1958میں مسقط میں مقیم تھے تو انھوں نے اس سر زمیں پر پہلی مرتبہ ایک عظیم ثقافتی پروگرام ترتیب دیا ۔ایک عظیم الشان عالمی اردو مشاعرہ کا انعقاد اور اس کے بعد ایک ثقافتی پروگرام میں نامور گلوکار مہدی حسن کی شرکت سے اس محفل کی رونق کو چار چاند لگ گئے ۔قطر میں انھوں نے ایک علمی ،ادبی اور ثقافتی تنظیم قائم کی جو کہ’’ پاکستان کلچرل کونسل ‘‘کے نام سے اب بھی ایک فعال اور مستعد تنظیم ہے ۔وحید بخش غیاث اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ۔علمی ،ادبی اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد میں وہ ہمیشہ گہری دلچسپی لیتے رہے ہیں ۔انھوں نے قطر میں جو علمی ،ادبی اور ثقافتی تنظیم قائم کی وہ اس کے بانی بھی تھے اور اس کے صدر بھی وہی تھے ۔اپنے قیام کے عرصے میں انھوں نے اس تنظیم کے زیر اہتما م متعدد یاد گار تقریبات کا انعقاد کیا ان میں سے ایک یادگار تقریب وہ بھی تھی جس میں پاکستان کے مایہ ناز اداکار اور کامیڈین معین اختر نے قطر میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور پوری دنیا سے آئے ہوئے ناظرین کو اپنی لا زوال کارکردگی سے مسحور کر دیا۔قطر میں اس نوعیت کی تقریبات اب روز کا معمول بن گئیں ۔ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی والی کیفیت تھی اورمرحلہ ء شوق کا یہ عالم تھا کہ کبھی طے ہونے میں نہ آتا تھا ۔وحید بخش غیاث ان سب تقریبات کی روح رواں اور بانی اور منتظم ہوتے تھے ۔شاخ چمن سے پرواز کے بعد اگرچہ وہ طویل عرصہ تک عذاب در بدری سہتے رہے لیکن اس کے باوجود مٹی کی محبت میں ایسے تمام قرض بھی ادا کرتے رہے جو کہ ان پر واجب بھی نہیں تھے ۔مجھے وحید بخش غیاث کی شخصیت کا احوال پڑھتے وقت بے اختیار مجید امجد کے یہ شعر یاد آگئے ۔انھوں نے وطن سے محبت کا جس طرح حق ادا کیاہے اس کی ترجمانی ان اشعار میں بہ طریق احسن کی گئی ہے ۔وہ جہاں بھی رہے اگرچہ ہماری آنکھ سے دور رہے مگردل سے کبھی دور نہ ہوئے ۔
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی
روحوں میں جلتی آگ خیالوں میں کھلتے پھول
ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی
جب بھی غم زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دو چار
منہ پھیر کر تبسم دل سے نگاہ کی
وحید بخش غیاث کا نام ہر پاکستانی کو لوح دل پر لکھا ہے ۔وہ محب وطن پاکستانیوں کے لیے اجنبی کیسے ہو سکتے ہیں ۔ایک ایسا محسن جس نے اپنی عمر عزیز کے پچاس سال دیار غیر میں وطن کی عظمت اور وقار کا پرچم بلند رکھنے کے لیے جد و جہد کی اسے ہر پاکستانی دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرنے میں کبھی تامل نہیں کرے گا ۔ا یام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتے وقت ان کا نام دلوں کو مرکز مہرو و فا کرتا رہے گا ۔وہ تاریخ اور اس کے مسلسل عمل کے بارے میں مثبت شعور و آگہی پروان چڑھاتے رہے ہیں ۔ان کی شاعری میں قومی ،ملی ،سماجی اور معاشرتی موضوعات پر نہایت پر تاثیر اسلوب اپنایا گیا ہے ۔ان کی شاعری قلب اور روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کو پتھروں کو بھی موم کر دیتی ہے ۔ان کی موضوعاتی قومی شاعری پر ان کو متعد د اعزازات سے نواز ا گیا ۔وہ قطر میں پاکستان ایجوکیشن سنٹر کے بورڈ آف گورنرز کے رکن رہے ۔ان کی کوشش رہی کہ جس طرح بھی ممکن ہو تعمیر وطن کا عظیم کام جاری رکھا جائے ۔اپنی زندگی کے حسین دن دیار غیر میں گزارنے والے اس نابغہ ء روزگار تخلیق کار نے اپنی تخلیقی کامرانیوں سے اردو زبان و ادب کی ثروت میں جو بے پناہ اضافہ کیا اس کی بنا پر ہرپاکستانی کا سر ان کے سامنے خم رہے گا ۔مجید امجد کے یہ شعر میرے جذبات کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔
باگیں کھنچیں،مسافتیں کڑکیں ،فرس رکے
ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگا ہ کی
دونوں کا ربط ہے تری موج خرام سے
لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی
جدید اردو نظم کو موضوعاتی تنوع عطا کرنے کے سلسلے میں وحید بخش کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ان کا کلام اردو کے ممتاز ادبی مجلات کی زینت بنتا رہتا ہے ۔علمی اور ادبی حلقوں کے لیے ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کی متعدد موضوعاتی نظمیں قارئین نے بہ نظر تحسین دیکھیں ۔تعلیم ادارے ہوں یا ادبی محفلیں ان میں وحید بخش غیاث کی شرکت سے یہ محفلیں رنگ ،خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعاروں سمیت نگاہوں میں گھومنے لگتی ہیں ۔ان کا کرشمہ دامن دل کھینچتا ہے کہ یہی تو وہ جگہ ہے کہ جہاں خلوص و محبت کا زم زم رواں دواں ہے ۔ایک زیرک تخلیق کار کی حیثیت سے وہ ید بیضا کا معجزہ دکھاتے ہیں۔ان کی شاعری سچے جذبات کی ترجمان ہے ۔ان کی چند نظمیں جو اپنے عہد میں بے حد مقبول ہوئی ان میں ’’خواب ‘‘،’’یوم آزادی ‘‘،’’پیروی دین حنیف ‘‘،’’برکات رمضان شریف ‘‘،’’ آشوب روزگار ‘‘’’سچ کی طاقت ‘‘،’’شعرائے کرام سے گزارش ‘‘ اور ’’فرق ذات پات ‘‘شامل ہیں ۔وحید بخش غیاث نے ہر صنف شعر میں اپنی تخلیقی فعالیت کے جوہر دکھائے ہیں ۔ان کی شاعری میں نظم ،غزل ،قطعات ،تضمین،حمد اور نعت شامل ہیں ۔ان کی شاعری میں وطن سے دوری کا احساس نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ان کی طویل نظمیں پڑھنے کے بعد فرط جذبات سے آنکھیں بھیگ بھیگ گئیں ۔انھوں نے ہر جگہ اہل وطن کو آزادی کی اہمیت اور وطن سے محبت کا احساس دلایا ہے ۔یہ سچ ہے کہ شکم کی بھوک انسان کو در بہ در لیے پھرتی ہے لیکن ایک جذبہ ایسا بھی ہے جو اس عذاب دربہ دری پر غالب آ جاتا ہے اور وہ حب الو طنی کا جذبہ ہے ۔انسان کہیں بھی رہے وطن اور اہل وطن کی حسین اور دل کش یادیں اس کے ساتھ رہتی ہیں ۔وحید بخش غیاث کے ساتھ مقدر نے عجب کھیل کھیلا ۔وہ تو دیار غیر میں وطن اور اہل وطن کے ساتھ کیے جانے والے پیمان وفا کو نبھاتے رہے مگر اہل وطن نے نے اپنی غفلت کے باعث انھیں وہ حقیقی مقام نہیں دیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے ۔وہ عظیم ادیب جس کی علمی ،ادبی اور قومی خدمات کا پوری دنیا کے اخبارات و جرائد میں اعتراف کیا گیا ۔ روزنامہ گلف نیوز (Gulf News)نے اپنی 7۔اگست 1986کی اشاعت میں اپنے ایک طویل مضمون میں وحید بخش غیاث کو شاعر اردو اور شاعر پاکستان کے نام سے یاد کیا ہے ۔واقفان حال جانتے ہیں کہ وحید بخش غیاث نے تمام عمر ایک ایسے ادیب کی حیثیت سے وقت گزارا جس نے نمود و نمائش سے ہمیشہ دامن بچایا ۔متعدد عالمی اخبارات و جرائد نے ان کی علمی ،ادبی ،ملی اور لسانی خدمات کہ بہ نظر تحسین دیکھتے ہوئے ان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ۔وہ پاکستان کی تاریخ کے ایک عینی شاہد ہیں ۔انھوں نے وطن کے قیام سے لے کر اس کے دو لخت ہونے تک کے تمام مراحل دیکھے ہیں ان کے اسلوب میں جو سوزنہاں اور قلبی درد ہے وہ انھیں اپنے معاصر شعرا میں منفرد مقام عطا کرتا ہے ۔ایک جذبہ جو ہر جگہ پوری قو ت کے ساتھ جلوہ گر ہے وہ وطن کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کرنے کا جذبہ ہے ۔وہ جہاں بھی رہے ،جس حال میں بھی رہے وطن اور اہل وطن کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہے ۔بہ قول افتخار نسیم :
اداس بام ،کھلا در پکارتا ہے مجھے
جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھے
میں یہ بات بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ وحید بخش غیاث کے دل کی دھڑکنوں کے تار سے ایک ہی نغمہ پھوٹتا ہے اور اس کی دھن سے سب لوگ وجد میںآجاتے ہیں۔وہ نغمہ ہے ’’اے نگار وطن تو سلامت رہے ۔۔۔مانگ تیری ستاروں سے بھر دیں گے ہم ‘‘۔ایسے درد مند دل رکھنے والے محب وطن پاکستانی کے لیے کون ہے جو سراپا سپاس نہ ہو گا ۔ایسے پر عزم اور باہمت لوگ ملک وقوم کا عظیم اثاثہ ہوتے ہیں ۔ان کی قومی خدامت کا عدم اعتراف نہ صرف ایک مہلک تاریخی غلطی ہے بلکہ اسے نا شکری پر بھی محمول کیا جائے گا ۔ وحید بخش غیاث اپنے اسلوب کے معجز نما اثر سے قطرے میں دجلہ اور جزو میں کل کا منظر دکھانے پر قادر ہیں ۔مجروح سلطان پوری نے ایسے ہی اہل دل کے بارے میں کہا تھا جنھوں نے اپنی ہمت ،مسقل مزاجی ور سعی پیہم سے حالات کا رخ بدل دیا۔
اہل طوفاں آؤدل والوں کا افسانہ کہیں
موج کو گیسو ،بھنورکو چشم جاناناں کہیں
وحید بخش غیاث کی شاعری میں عصری آگہی کا عنصر نمایاں ہے ۔وہ جانتے ہیں کہ گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے ۔اس شمع کو فروزاں رکھنے کے لیے اردو زبان و ادب کے پروانوں کی دل سوزی نا گزیر ہے ۔تخلیق فن کے لمحوں میں وہ خون بن کر رگ سنگ میں اتر جانے کی صلاحیت سے متمتع ہیں ۔زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ۔ان کی بات دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اترتی چلی جاتی ہے ۔مسلسل شکست دل کے باعث بے حسی کا عفریت ہمارے سر پر منڈلا رہاہے ۔ہر کوئی اپنی دھن میں مگن اور اپنی ہوا میں خراماں خراماں پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔شہر نا پرساں میں ایک حساس تخلیق کارکی چشم تر پر کو ن نگا ہ ڈالتا ہے ۔آئیے وحید بخش غیاث کی شاعری کے چند نمونے دیکھ لیں ۔اپنی شاعری میں انھوں نے اصلاح اور مقصدیت کو ہمیشہ اولیت دی ہے ۔
وطن سے شان ہوتی ہے ،وطن پہچان ہوتا ہے
وطن سے آن ہوتی ہے ،وطن ایمان ہوتا ہے
وطن کچھ مانگتا بھی ہے، وطن والوذرا سوچو
وطن پر جو نچھاور ہو ،وطن کو مان ہوتا ہے
وحید بخش غیاث اپنی ذات میں ایک انجمن اور دبستان علم وادب ہیں۔حب الوطنی ،انسانی ہمدردی ،خلوص اور دردمندی ،بے لوث محبت اور بے باک صداقت کے جذبات ان کے قلب و روح اور جسم و جاں میں رچ بس گئے ہیں ۔انھوں نے وطن اوراہل وطن سے والہانہ محبت کی جو بزم اپنے نہاں خانہ ء دل میں سجا رکھی ہے وہ ہمیشہ حسین یادوں سمیت نکھری رہتی ہے ۔ہجر و فراق اور وطن سے دوری کاکرب سہتے سہتے انھوں نے صبرو استقامت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔کئی بار تغافل احباب کے باعث ان کے سینہء سوزاں میں اشک رواں کی لہر اٹھی لیکن پھر بھی انھوں نے ضبط کو شعار بنایا اور بغیر آنسوؤں کے رو کر تزکیہ نفس کرنے کی صورت تلاش کر لی ۔ان کے صبر و تحمل کے سامنے گل و یا سمن بھی لب بستہ دکھائی دیتے ہیں۔ان کے دل میں ایک ہی تمنا ہے کہ جب ساری دنیا تیزی سے بدل رہی ہے تو پاکستان کے غم زدہ طبقے کا حال بھی بدلنا چاہیے۔ان کے فکر وخیال کا محور ہمیشہ انسانیت کی فلاح و بہبود،معاشرتی امن و سکون اور سماجی زندگی کی فلاح و بہبود رہا ہے ۔زندگی کی برق رفتاریوں نے فطرت ،معاشرے اور سماج میں جو بعد ،تضاد اور کشمکش کی کیفیت پیدا کر دی ہے اس پر انھیں شدید تشویش ہے ۔ان کی دلی تمنا ہے کہ ادب کے وسیلے سے زندگی کو درپیش ابتلا اور آزمائش سے عہدہ بر آ ہو ن وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔وہ ادب کو انسانی زندگی کے سب سے اہم اور موثر شعبے کی حیثیت سے قومی زندگی کے تمام پہلوؤں پر منطبق کرنے کے آرزو مند ہیں۔ایک بزرگ اور جہاں دیدہ ادیب کی حیثیت سے وہ پاکستان کی تہذیبی ،ثقافتی اور تاریخی میراث پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ وہ قومی کلچر کی ترقی کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور اس ترقی کی راہ میں حائل فصیل جبر کو وہ تیشہ ء حرف سے منہدم کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں ۔فسطائی جبر کے خلاف وہ قلم بہ کف مجاہد کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ان کی خواہش ہے کہ زندگی کی حیات آفریں قوتوں کے روشن مستقبل کے بارے میں حوصلے اور امید کی شمع فروزاں رکھی جائے اور ہوائے جوروستم میں بھی اسے گل نہ ہونے دیا جائے ۔ان کی دلی آرزو ہے کہ نئے تخلیق کاروں کو پرورش لوح قلم کے اہم منصب سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے معاشرتی زندگی کو صحت مند رجحانات کے فروغ کو ہمیشہ اپنی اولین ترجیح سمجھنا چاہیے ۔ ان کی تخلیقات میں اس کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے ۔اس کا اندازہ ان کی نظموں کے مطالعہ سے لگایا جا سکتا ہے ۔ان کی نظمیں ’’سچ کی طاقت ‘‘ ، ’’فرق ذات پات ‘‘،’ ’ شعرائے کرام سے گزارش ‘‘یوم آزادی ‘‘،آشوب روزگار ‘‘، ’’ شاہ نامہ ء پاکستان ‘‘،’’ اور آشوب روزگار ‘‘ان کے ذوق سلیم کی مظہر ہیں ۔ان کی شاعری جہاں فکر و نظر کو مہمیز کرنے کا وسیلہ ثابت ہو تی ہے وہاں اس کے اعجاز سے قاری کے ذوق سلیم کو صیقل کیا ہے ۔یہ شاعری قاری کے لیے قلبی ،روحانی اور ذہنی تسکین کی متاع بے بہا سے لبریز ہے ۔وحید بخش غیاث نے ظالمانہ استحصالی نظام کے خلاف ہمیشہ کھل کر لکھا ہے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے مظلوم اور قسمت سے محروم محنت کش طبقے پر عرصہ ء حیات تنگ کر رکھا ہے ۔اس نظام کے مسموم اچرات زندگی کی اقدار عالیہ اور درخشاں روایت کو شدید ضعف پہنچایا ہے ۔ان حالات میں مجبور انسانیت کے لیے وہ دلی تڑپ کا اظہار کرتے ہیں ۔ان کی نظم ’’آشوب روزگار ‘‘ان کے ترقی پسندانہ شعور کی مظہر ہے :
روٹی نہیں ہے کپڑا نہیں ہے مکان بھی
ہر ایک اپنے حال پہ زار و قطار ہے
اس بے بسی کے دور میں بے کس ہوئے ہیں سب
مجبوریوں کے جال میں اک اک شکار ہے
یہ لوٹ مار ،خان خرابہ ہے چار سو
دنیا کے کونے کونے سے چیخ و پکار ہے
بچہ بلک رہا ہے مگر ماں میں دم نہیں
بیٹی کے غم میں باپ کا سینہ فگار ہے
نفرت کی آندھیاں ہیں عداوت کی بجلیاں
ہر آشیاں کے گرد انھی کا حصار ہے
چولے بدل رہے ہیں نئی چال چل کے لوگ
مکر و فریب سب نے بنایا شعار ہے
سانسوں کے تار ٹوٹ رہے ہیں ادھر ادھر
اور چارہ گر کے سر پہ وزارت سوار ہے
ان سب کاایک حل ہے نظر میں غیاث کی
دامن میں پھول بھر کے کہو سب سے پیا ہے
وحید بخش غیاث کے اسلوب کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اخوت کی جہانگیری اور محبت کی فراونی کے آرزو مند ہیں۔وہ تخلیق فن کے لمحوں میں مظلوم کی حمایت کو ادب کے معیار کی علامت سمجھتے ہیں ۔کئی ترقی پسند ادیبوں سے ان کے قریبی تعلقات زندگی بھر قائم رہے ۔ہاجرہ مسرور کے خاندان کے بزرگوں سے ان کی قطر میں ملاقات ہوئی ۔کیا ہی اچھا ہو کہ وحید بخش غیاث اپنی خود نوشت میں ان تمام یادوں کو شامل کر لیں ۔وحید بخش غیاث نے معاشرے کے مفلوک الحال اور پس ماندہ طبقے کے مصائب و آلام کو پورے خلوص اور دردمندی سے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ایک زیرک تخلیق کار کی حیثیت سے وحید بخش غیاث نے اردو سوانح نگار ی ،سفرنامے ،شاعری اور تاریخ کے بارے میں اپنے اسلوب سے اردو زبان و ادب کوثروت مند بنایا ہے ۔ان کی غیر مطبوعہ تصانیف جلد زیور طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آنے والی ہیں ۔ان کے اسلوب میں تحلیل و تجزیہ کا عنصر قاری کو مسحور کر دیتا ہے ۔وہ قنوظیت سے دامن بچا کر ہمیشہ پر عزم رہنے پر اصرار کرتے ہیں ۔ نثر ہو یا نظم ان کی انفرادیت کا جادو ہر صنف ادب میں سر چڑھ کر بو لتا ہے ۔وہ مفلس کے تبسم کو دیکھ کر تڑپ اتھتے ہیں کہ اس غیور کے سینے میں ابھی تک فاقوں کی سکت باقی ہے ان کی تحریریں قاری کو ایک جہاں تازہ کی سیر کراتی ہیں ۔پاکستان کے ممتاز ادیبوں کی تخلیقی کامرانیوں کو وہ بہ نطر تحسین دیکھتے ہیں ۔جب بھی کسی ادیب کی کوئی تحریر ان کو پسند آتی ہے وہ بلا تامل اسے خط لکھ کر یا ٹیلی فون کے ذریعے اس کی تحسین کرتے ہیں ۔یہ ان کی علم دوستی اور ادب پروری کی دلیل ہے۔
پاکستان کے ممتاز ادبی مجلات میں وحید بخش غیاث کا کلام پڑھ کر ایک گونہ اطمینان ہوتا ہے کہ ابھی کچھ لوگ اس جہاں میں ایسے بھی باقی ہیں جو قومی مفاد کو ہر قسم کے ذاتی مفاد پر ترجیح دیتے ہیں اور جن کی تخلیق کے سوتے وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ محبت اور قلبی وابستگی کے جذبات سے پھوٹتے ہیں ۔اردو زبان میں انھوں نے اپنی گل افشانیء گفتار سے ایک دھنک رنگ منظر نامہ پیش کیا ہے ۔نظم ہو یا نثر وہ ہر صنف ادب میں اپنی کامرانیوں کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں ۔اردو نثر میں انھوں نے جن اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ان میں افسانہ ،انشائیہ ،خاکہ ،سفرنامہ ،منظوم سفر نامہ اور خود نوشت شامل ہیں ۔زبان و بیان کی سلاست اور اسلوب کی انفرادیت ہر صنف ادب میں ان کو اہم مقام عطا کرتی ہے۔مجھے یہ جان کر دلی مسرت ہوئی ہے کہ وحید بخش غیاث کی نمائندہ تحریروں پر مشتمل ایک کتاب جلد شائع ہو رہی ہے ۔اس کتاب کی اشاعت سے نہ صرف اردو ادب کی ثروت میں اضافہ ہوگا بل کہ اردو زبان و ادب کے طالب علم بھی اس عظیم دانش ور کے بارے میں اہم معلومات سے فیض یاب ہوں گے ۔اپنے زور طبع سے کاغذ پر کلیجہ نکا ل کر رکھ دینے والے اس صاحب طرز ادیب کے بارے میں مثبت شعور وآگہی پروان چڑھانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔1936میں ڈیرہ غازی خان کے ایک متوسط گھرانے کے معمار کے ہاں جنم لینے والے اس صاحب بصیرت ادیب نے اس وقت کے حالات کے مطابق میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی زندگی میں اپنی دنیا آپ پیدا کی ۔تجارت اور کاروبار میں دیانت سے خود کفالت حاصل کی اور کبھی باب رعایت سے داخل ہونے کاخواب نہ دیکھا۔وطن کی تعمیر و ترقی کا جو خواب انھوں نے دیکھا تھا اس کی تعبیر انھیں اہل وطن کی جد و جہد میں دکھائی دی ۔اس پر وہ اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور شکوہء ظلمت شب کرنے کے بجائے اپنے حصے کی شمع فروزاں کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ان کی خاندانی شرافت ،دیانت اور وقار کی وجہ سے ان کو معاشرتی زندگی میں جو قدر و منزلت نصیب ہوئی وہ لائق صد رشک و تحسین ہے ۔وحیدبخش غیاث جیسے درویش منش اور منکسر المزاج ملک و قوم کے بے لوث خادم ملی اثاثہ ہوتے ہیں ان کا وجود اللہ کریم کی نعمت ہوتاہے ۔دنیا میں ایسے لوگوں کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کریم نے اپنی کائنات کے نظام کو بہ طریق احسن چلانا ہے ۔جب تک ایسے نابغہء روزگار لوگ ہماری صفوں میں موجود رہیں گے ہمیں اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں کسی تشویش کی ضرورت نہیں ۔علم و ادب کے ایسے روشن ستارے اذہان کی تطہیر وتنویر کا وسیلہ ہیں۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ انھیں سدا شاد و آبادرکھے اور ان کا دامن راحتوں اور مسرتوں سے معمور رہے ۔وہ ہر پاکستانی کے لیے سرمایہء افتخار ہیں ۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
***
Viewers: 2829
Share