ایک قدم روشنی کی طرف۔اکیسویں صدی اردو ادب چیلنجز اور ان کا حل

گرراج گورنمنٹ کالج نظام آباد میں منعقدہ دوروزہ قومی اُردو سمینار کا رپورتاژ

از: محمد محبوب ریسرچ اسکالریونیورسٹی آف حیدرآباد
جس طرح ہند وستان کے نقشہ میں ادبی علمی اور تہذیبی اعتبا ر سے دہلی اور لکھنو کو طرّہ امتیاز حاصل ہے اور یہ دونوں شہر اردو ادب کی تاریخ میں دبستان دہلی اور دبستان لکھنؤ کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ اسی طر ح آندھرا پردیش کے نقشہ میں نظام آباد کو بھی علمی ‘ ادبی ‘ تہذیبی اور فروغ اردو کے اعتبار سے اپنی ایک منفرد حیثیت حاصل ہے ۔ بہت کم شہر علمی وادبی طور پر اتنے ما لا مال ہو تے ہیں کہ ان کے آگے با دشاہوں کے خزانے بھی ہیچ معلوم ہو تے ہیں۔شہر نظام آباد داراالحکومت حیدرآباد سے 171 کلو میٹر شمال میں واقع ہے ۔ یہ شہر ریاست آندھرا پردیش کا ایک گنجان آبا دی والا ضلع ہے ۔ یہاں کی کل آبادی 10 لاکھ سے تجا وزہے ۔ابتداء ہی سے نظام آباد کی سرزمین اردو ادب کے لئے بہت زرخیز ثا بت ہوئی ہے اسی سرزمین نے کئی ایسے نامور افسانہ نگار ‘ شاعر اور صحافی پیدا کئے جنہوں نے سا ری دنیا میں اپنا اور اپنے وطن کا نام روشن کیا ۔ جن میں قابل ذکر اقبا ل متین ‘ پروفیسر ڈاکٹر بیگ احساس ‘ انیس فاروقی ‘ وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے بعد نظام آباد سے سب سے زیادہ اردو اخبارات ورسائل نکلتے ہیں جن میں قا بل ذکر ما ہنامہ للکا ر ‘ ما ہنامہ گونج ‘ ما ہنامہ فکر جمہور ‘ ماہنامہ بسا ط ذکروفکر ‘ اور روزناموں میں روزنامہ مارننگ ٹائمز ‘ روز نامہ آج کا تلنگانہ ‘ اور روز نامہ محور ‘ روزنامہ اربن نیوز ‘ اور تمہید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اسی طر ح یہاں پر کئی ادبی محفلوں کا انعقاد بھی ہو تا رہتا ہے ۔ لیکن نظام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گرراج گورنمنٹ کا لج کے گولڈن جو بلی آڈیٹوریم میں5اور 6 فروری 2013 ؁ء کو اردو کا دوروزہ قومی سمینار بعنوان ’’ اکیسویں صدی اردو ادب چیلنجز اور ان کا حل ‘‘ منعقد کیا گیا ۔ جو انتہا ئی کامیاب رہا ۔ اس سمینار کے روح رواں اور کنوینر جناب ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی لیکچر ار اردو و صدر شعبہ اردو گرراج کا لج تھے۔ سمینار کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر موضوع کا انتخاب کیا گیا۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد ‘اردو یونیورسٹی اور عثمانیہ و تلنگانہ و ساتاواہانا یونیورسٹی کے پروفیسروں اور اساتذہ سے مشورے کئے گئے۔ اور کافی تشہیر اور تیاری کے بعد سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ 5 فبروری کی صبح سے ہی گولڈ ن جوبلی ہا ل میں مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا کرناٹک ‘مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش کے مختلف اضلاع سے مقالہ نگارنظام آباد پہونچے۔ پروگرام کا آغا زصبح 10 ؍بجے سے ہو نے والا تھا لیکن مقررہ وقت سے بہت پہلے ہی گرراج کالج کا گولڈن جو بلی آڈیٹوریم اپنی تنگ دامنی کا شکو ہ کر رہا تھا ۔ اسی ما حو ل میں مہمانا ن خصو صی جن میں پروفیسر مظفر شہ میری ‘ پروفیسر انور الدین ‘ پروفیسر نسیم الدین فر یس ‘ ڈاکٹر محسن جلگا نوی‘ ڈاکٹر اطہر سلطانہ ‘ پروفیسر ڈاکٹر فضل اللہ مکرم ‘ اور ڈاکٹر محسن جلگانوی تشریف لا تے ہیں۔ تالیوں کی گو نج میں مہمانوں کا استقبال ہو تا ہے اور مہمانوں کی آمد کے بعد قومی اردو سمینار کا باضابطہ آغا ز کیا گیا ۔
کالج کے لیکچرر محمد عابد علی نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کی۔ انہوں نے تمام مدعو مہمانوں کو شہ نشین پر بلایا۔ مہمانوں کو گلہا ئے عقید ت پیش کئے گئے۔ کا لج کے ایک طا لب علم عبدالسلام قمر نے علامہ اقبا ل کی شاہکا ر نظم ’’ یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘‘ کو اپنے مخصوص اور مترنم اند از میں پڑ ھ کر تمام محفل کے قلوب کو گرما دیا ۔ اس کے بعد اسی کا لج کی تین طالبات نے علامہ اقبال کے ترانہ ہندی ’’ سا ری جہا ں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ‘‘ کو خوبصورت انداز میں پڑ ھ کر محفل کا با ضا بطہ آغا ز کر دیا ۔اس کے بعد الحاج ڈاکٹر محمد ناظم علی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کا لج مو ڑ تا ڑ نے شہ نشین پر تشریف فرما مہمانان خصو صی پروفیسر مظفر شہ میری ‘ پروفیسر انور الدین ‘ پروفیسر نسیم الدین فر یس ‘ ڈاکٹر محسن جلگا نوی‘ ڈاکٹر اطہر سلطانہ ‘ ڈاکٹر فضل اللہ مکرم‘ جناب تبسم فریدی ایڈیٹر روز نامہ ما ننگ ٹائمز اور ڈاکٹر سلمان عا بد مرتب سپلیمنٹ جہانِ نوروزنامہ اعتماد اور گرراج کالج کے پرنسپل پروفیسر ایس لمباگوڑ وغیرہ کا تعارف پیش کیا ۔ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی صدر شعبہ اردو گرراج گورنمنٹ ڈگری کالج نے تمہیدی خطاب کیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایکسویں صدی میں جہاں دنیا ایک عالمی دیہات میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ اور معا شرہ اور انسانی زندگی اس صدی میں جن مسائل سے گذر رہی ہے ۔ ان میں اپنی زبان اور اپنی تہذیب کا تحفظ اہم مسئلہ ہے اور نو جوان نسل کو اردو سے واقف کروانا اور ان کے مسائل کا حل نکالنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اور اس کے سا تھ سا تھ اردو کو عصر حا ضرکے تقا ضوں جیسے کمپیوٹر ‘ انٹر نیٹ ‘ وغیرہ سے ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے ۔اسی لئے گرراج گورنمنٹ کالج نظام آبا د کے شعبہ اردو کے تحت اور یو جی سی ( سی پی ای گرانٹس ) کے زیر اہتمام دوروزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ تا کہ اس سمینار کے ذریعہ اردو کا مستقبل ‘ اور اس کے رسم الخط کے تحفظ اور اردو کے فروغ کے سلسلے میں لائحہ عمل طئے کیا جائے۔ پروفیسر ایس لمبا گو ڑ پرنسپل گورنمنٹ گرراج ڈگری کالج نظام آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلع نظام آبا د میں1956ء میں صنعت کار گری راج مل نے یہ کالج قائم کیا جو 1960 ؁ء میں گرراج کالج کے نام سے حکومت کے زیرنگرانی آگیا ۔ لیکن اس کالج میں 1983 ؁ء میں اردو میڈ یم سیکشن قائم کیا گیا ۔ یہاں یو جی سطح پر بی اے ‘ بی کام ‘ بی ایس سی ‘ کو رسیز اردو ‘ تلگو‘ اور انگریزی میڈیم ‘ سے ہیں۔ جبکہ پی جی سطح پر سات مضامین کے کو رسیز دستیاب ہیں۔اور NAAC نے پہلی مرتبہ کا لج کو B+ کا درجہ عطا کیا ہے ۔ اُمید ہیکہ کا لج کے اسا تذہ کی کو شیشوں اور طلباء کی سخت محنت و جستجو سے کالج مستقبل قریب میں اے زمرہ کا درجہ حا صل کریگا۔پروفیسر نسیم الدین فریس صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یو نیورسٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو ایک سیکولر زبان ہے اس کی تعمیر میں ہندوستان کی تمام قومیں شامل ہیں۔ لیکن آج اردو کو مسلمانوں کی زبان کہہ کر اسے اس کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے جب کہ تاریخ گواہ ہیکہ اردو کے چوٹی کے ادیب ‘ شاعر ‘ صحافی ‘ ناول نگار‘ اور رائٹرس وغیرہ سب غیر مسلم تھے۔ جیسے پریم چند ‘ رگھو پتی سہائے فراق گھورکھپوری ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ برج نارائن چکبست ‘ کر شن چندر ‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ ان شعراء اور ادباء نے بھی اردو کی بہت خدمت کی ہے ۔ جن کی ما دری زبان اردو نہیں تھی ۔ جیسے فیض احمد فیض ‘ مجروح سلطان پوری ‘ احمد ندیم قاسمی ‘ وغیرہ اہم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان نے جد وجہد آزادی میں بہت کلیدی رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اردو صحافت نے جتنے جرمانے ادا کئے ہے کسی اور زبان کی صحافت نے اتنے جرمانے ادا نہیں کئے ۔اردو زبان میں سا ری تہذیبوں اور سا ری قوموں کو سا تھ لے کر چلنے کی صلاحیت موجو د ہے ۔ انہوں نے تقریب کے روح رواں کنوینر سمینار ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی پذیر ائی کر تے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی اپنے قلم کے ذریعہ مسلسل اپنے وجو د کا احسا س دلا تے رہتے ہیں۔ اردو دنیا کو ان سے بہت تو قعات وابستہ ہیں۔ اور انہوں نے اس عالیشان سمینار کے انعقاد کے مو قع پر ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کو مبارکبا د پیش کی ۔ پروفیسر انور الدین صاحب شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکسیو یں صد ی اردو ادب چیالنجز اور ان کا حل ایک اہم مو ضوع ہے ۔ بلکہ یہ مو ضوع ہی سمینار کی کامیابی کی ضمانت ہے ۔ اردو کی فروغ اور اس کی بقاء کے لئے ہر ایک اہل اردو نمایا ں کر دار ادا کر سکتا ہے ۔ اور کر نے کا عزم اور حو صلہ ہو نا چا ہیے ۔ کیو نکہ کوئی بھی کا رنامہ ادارے نہیں بلکہ ارا دہ کر تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے گیا رہ سالہ تد ریس کے دوران 37 سمینار کئے ہیں۔ لیکن گرراج کالج میں منعقد ہونے والے اس سمینار جیسا سمینار میں نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ انہوں نے سمینار کے روح رواں کے متعلق کہا کہ ڈاکٹر اسلم فاروقی علمی وادبی دنیا میں اپنے قلم سے بہت مشہور ہے اور وہ بہت شریف انسان ہے اور اردو کے خاموش خدمت گذار ہیں۔ جناب تبسم فریدی ایڈیٹر روزنامہ مارننگ ٹائمز نظام آباد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو ایک ہندوستانی زبان ہے ۔ اور یہ تمام ہندوستانیوں کی زبان ہے ۔ اسے صرف مسلمانوں سے منسوب کرنا اردو کو قتل کر نے کے مترادف ہے ۔کیونکہ اردو کا تعلق صرف مسلمانوں سے نہ تھا نہ ہے اور نہ رہیگا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہو تی تو ٹامل ناڈو کا مسلمان اردو جانتا ‘ کرالا کا مسلمان اردو جانتا ‘ بنگلہ دیش کا مسلمان اردو سے واقف رہتا ۔ او ر گلف کے تمام ممالک مسلمانوں کے ہے لیکن وہ اردو نہیں جانتے ۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ زبان اسی ملک میں پید ا ہوئی یہیں پرورش پا ئی ۔ البتہ اس کی پرورش میں صوفیوں نے اہم کردار ادا کیا ۔اور یہ زبان اپنی شیرینی کی وجہ سے آج سا ری دنیا میں مقبول ہو رہی ہے ۔اور دیار غیر جیسے امریکہ ‘ برطا نیہ‘ نیو زی لینڈ وغیرہ میں اردو کی نئی نئی بستیاں آبا د ہو رہی ہیں۔ جو اردو کے لئے بہت خوش آئند بات ہے ۔ اس طرح آج انگریزی کے بعد پوری دنیا میں اردو زبان سب سے زیادہ بولی اور پڑھی جاتی ہے ۔لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ آج اہل اردو بالخصوص اردو کی روٹی کھا نے والے اپنی نسل کو انگریزی ذریعہ تعلیم سے تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ’’اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے ‘‘ کے مصداق آج اہل اردو ہی اپنے بچوں کو اردو سے دور رکھ کراردو کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ جب کہ اس دور میں اپنی اولاد کو اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم دلوانا ہی سب سے بڑا چیالنج ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے قاتل خو د اردو بولنے والے ہیں۔ پروفیسر مظفر شہ میری صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ اس سمینار کے انعقاد پر انہیں بہت مسرت ہو رہی ہے ۔ اور اس کے حاضرین با لخصوص ایک نسل سے دوسری نسل تک زبان و تہذیب پہنچا نے والی ماؤں اور بہنوں کو کالے کالے بر قعوں میں اتنی کثیر تعداد میں دیکھکر انہیں کعبتہ اللہ کی یا د آرہی ہے اور اس منظم اور کامیاب وہ عظیم الشان سمینار سے خطاب کر تے ہوئے انہیں فخر محسوس ہو رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اچھے ناموں کے اچھے نتا ئج نکلتے ہیں۔ اکسیو یں صدی میں اردو ادب کے چیا لنجز اور مسائل کے حل کے لئے جو سمینار منعقد کیا گیا ہے ۔ نظام آبا د کی سرزمین پر انشا ء اللہ اس سمینار کی وجہ سے اردو زبان کی نظام میں جو گڑ بڑ ہے ۔ وہ آباد ہو جائیگی۔انہوں نے کہا کہ اکسیو یں صدی میں اردو زبان کے مسائل میں اردو زبان وادب کو روزگار سے کے ساتھ جو ڑا جائے اور اردو کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے کیسے مربوط کیا جائے۔ یہ اہم مسائل ہیں اس کے حل کے لئے ہمیں اکیسویں صدی میں جانے سے پہلے بیسویں صدی کی خامیوں کو تلاش کر کے اس کا سد باب کر یں تو منا سب رہیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان اس وقت زند ہ رہتی ہے جب تک اس زبان کا گرامر زندہ رہے ۔ انہوں نے کئی الفا ظ کے جمع اور واحد بنا نے کے طریقہ بتا تے ہوئے کہا کہ آ ج اہل اردو اپنی زبان میں دوسری زبانوں کے الفا ظ کے سا تھ سا تھ اس کا گرامر بھی شامل کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے اردو دم تو ڑ رہی ہے ۔ انہوں نے مثال دے کر کہا کہ یہ لفظ ’’ چیلنج‘‘ کا جمع اس طر ح بنا یا جائے ؟ کیا ’’ ز ‘‘ لگا کر یا ’’س‘‘ لگا کر اسی طرح کالج کی جمع اور یو نیو رسٹی کی جمع کیسا بنائی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اردومیں دنیا کی کسی بھی زبان کا لفظ لے سکتے ہیں لیکن گرامر نہیں لینا چا ہیے ۔ اور اردو والے اپنی زبان گرامر اور قوائد کو ہر گز نہیں چھو ڑنا چا ہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس صدی کا اہم مسئلہ رسم الخط کے تحفظ کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچہ گھر سے با لخصوص اپنی ما ں کی گود سے رسم الخط سیکھتا ہے ۔ اگر اسے گھر میں نہیں سکھا یا جائے تو وہ باہر نہیں سیکھتا ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو چا ہیے کے وہ اپنی گو د میں پروان چڑھنے والی نسل کو اردو رسم الخط سے آراستہ کریں ۔ اور اس کے علاوہ ہمیں چا ہیے کہ اولیاء اللہ جس محبت سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا تھا ۔ اسی محبت سے ہمیں لوگوں کو اپنے رسم الخط کی طرف بلانا چا ہیے اور ہر ایک اردو داں یہ عہد کرے کے وہ اپنی پوری زندگی میں دس آدمیوں کو اردو سے آراستہ کریگاتو اردو کا فروغ ہو گا ۔ اردو میں املا کی درستگی کا مسئلہ بھی بہت اہم ہے ۔ 1905 ؁ ء میں اردو املاء کی درستگی کے لئے بہت اقدامات کئے گئے تھے۔ آج ا نہی اقدامات کو دوہرا نے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے اس کے لئے ایک تجویز پیش کی کہ ٹیچر ٹریننگ کو رسیس جیسے ڈی ایڈ ‘ بی ایڈ ‘ وغیرہ میں املاء کی درستگی کے متعلق ایک مضمون شامل نصاب ہو نا چا ہیے ۔ اس کے علاوہ بچوں کی رائٹنگ ( لکھا وت ) پر بھی توجہ دینا چا ہیے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی اہل اردو میں حرف تہجی سے متعلق اختلافا ت ہیں۔ بعض حروف تہجی 36 کہتے ہیں اور کچھ 37 کہتے ہیں۔ اور کچھ ماہرین لسانیات حروف تہجی کی تعداد 52 بتاتے ہیں اور بعض 56 ہو نے کا دعوی کر تے ہیں۔ ان حالات میں ایک عام قاری یہ سمجھ نہیں پا تا کہ اردو کے حروف تہجی کتنے ہے ۔ البتہ پا کستان ( جہاں کی سرکاری زبان اردو ہے ) والوں نے حروف تہجی 58 بتا ئے ہیں تاہم حروف تہجی کی تعین کے لئے ایک قومی سطح کا سمینار منعقد کرنا چا ہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ عام طور پر کے جی تا پی جی نصاب کی ترتیب و تدوین میں کوئی ماہر لسانیا ت نہیں رہتا ۔جس کی وجہ سے اس میں خامیا ں ہو تی رہتی ہیں۔لہذا نصاب کی ترتیب و تدوین دینے والی کمیٹوں میں ماہرلسانیا ت کو شامل کرنا چا ہیے۔ اکسویں صدی میں اردو کا ایک اور اہم مسئلہ اردو قا رئین کی قلت کا ہے ۔ آج اردو کا قا ری اردو سے بھا گ رہا ہے ۔ اُسے پکڑنا ہے اور اردو کے قا رئین کو پید ا کرنا ہے ۔ اس کے والدین کو چاہیے کے وہ اپنے اندر مطا لعہ کی عادت ڈالیں۔ اخبارات ‘ رسائل ‘ اور کتا بیں ‘ خرید کر پڑھیں تو بچوں میں بھی غیر محسوس طریقہ سے مطا لعہ کی عادت پروان چڑھیگی۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بچہ اپنے با پ کو اور بچی اپنی ماں کو جیسا کر تے اور کہتے دیکھتے ہیں۔ ان ہی اعمال کو اپنی زندگی میں دہرانے کی کو شش کر تے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اہل اردو دنیا کے کسی بھی زبان کے ادب سے اس کی کسی بھی صنف سخن کو لیجئے اور ادب کے کوئی بھی نظریات کو لیجئے۔ کوئی اعتراض نہیں لیکن تین باتوں کا خیال رکھیں۔کوئی بھی چیز فیشن پر ستی کے لئے نہ ہو ۔ ۲) کسی نظریے یا صنف سخن کو اردو ادب میں شامل کرنے میں جلد با زی نہ کی جائے ۔ ۳) جو صنف لے رہے ہیں وہ اردو ادب کے مزاج کے مطا بق ہو اور اردو ادب میں ڈھل جا ئیں۔اس پر مغز جملہ پر پروفیسر مظفر شہ میری کلیدی خطبہ اختتام کو پہنچا کے اسا تذہ طلباء کو تھوڑی سچائی دیتے ہیں اور طلباء تمام سچایاں کھوج لیتے ہیں۔ بعد ازاں سو و نیئر کی رسم اجراء جناب مظفر شہ میری کے ہا تھوں انجام دی گئی۔ اور مہمانوں کی شال پوشی اور انہیں مومنٹو دئے گئے۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے شکریہ ادا کیا۔اس کے فوری بعد بعد مقالے پڑھنے کا سیشن شروع ہو ا ۔
’’اکیسویں صدی اردو ادب چیلنجز اور ان کا حل‘‘ دوروزہ قومی سمینار کے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد انور الدین صاحب یونیورسٹی آف حیدرآباد اور پروفیسر نسیم الدین فریس صاحب صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کی۔ اس اجلاس میں ڈاکٹر فضل اللہ مکرم چیر پرسن بورڈ آف اسٹیڈیز اورینٹل کالج عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے اردو صحافت نئے رحجانات اور نئے چیلنجز ، ڈاکٹر سلمان عابد اسسٹنٹ پروفیسر اردو آرٹس کا لج حیدرآبادنے اردو تعلیم اور روزگار کے مواقع،محمدمصطفی علی سروری اسوسیٹ پروفیسرشعبہ ترسیل عامہ و صحافت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے اردو جرنلزم اور روزگار کے مواقع پر اپنا اپنا مقالہ پیش کیا۔ اور اردو اور روزگار کے مواقع بیان کئے اور اردو صحافت کے بدلتے رجحانات پر روشنی ڈالی۔جبکہ جناب تبسم فریدی ایڈیٹر نظا م آباد مارننگ ٹائمز نے گرراج کالج میں اردو میڈیم کے قیام اور اردو صحافت کے غیرجانب دارارنہ رول پر روشنی ڈالی۔ دوسرے ا جلاس کا آغاز دو پہر ۳ بجے بعد طعام عمل میں آیا نظامت ڈاکٹر محمد ناظم علی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتا ڑ نے کی، دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد انور الدین اور پروفیسر مجیدبیدار نے انجام دی۔اس اجلاس میں ۱۴ مقالے پڑھے گئے۔ڈاکٹر محمد ابرارلباقی صدر شعبہ اردو ساتاواہانا یونیور سٹی کریم نگر نے اردو رباعی اور اخلاقی قدریں، ڈاکٹر شیخ سلیم صدر شعبہ اردو انوارلعلوم کا لج حیدر آباد نے کالجوں میں اردو نصاب مسائل اور تجاویز،ڈاکٹر نشاط احمداسسٹنٹ پروفیسر یونیورسٹی آف حیدرآباد نے غضنفر کی ناو ل نگاری کا جائز،ڈاکٹر نثاراحمد اسسٹنٹ پروفیسر ایس وی یونیورسٹی تروپتی نے‘اردو اور انفارمیشن ٹکنالوجی ،ڈاکٹر محمد عتیق اقبال اردوآرٹس کالج حیدرآباد نے’’ فنی ترجمہ اور اس کی قسمیں‘ ،‘ڈاکٹر حمیرہ سعید این ٹی آر ڈگری کالج محبوب نگرنے اردوافسانے میں خواتین کے مسائل ،ڈاکٹر محمد ناظم علی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ‘نے زبانوں کی تہذیب اور اردو، ڈاکٹر صفدر عسکری پرنسپل گورنمنٹ ڈگر ی کالج آرمور نے انیس کے مر ثیوں میں اخلاقی قدریں، ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی گرراج کالج نظام آبادنے انفار میشن ٹکنالوجی اور اردو،‘ڈاکٹر طیب خرادی بنگلورنے اردو طنزومزاح میں سماجی عناصر کرناٹک کے حوالے سے ‘ ڈاکٹر محسن جلگانوی ایڈیٹر اوراق ادب اعتمادحیدرآبادنے اردو صحافت کے مسا ئل ،ڈاکٹر گل رعناا سسٹنٹ پروفیسر‘تلنگانہ یونیورسٹی نظام آبادنے اردو طنزومزاح اور عصر حاضر کے مسائل،ڈاکٹر اطہر سلطانہ اصدر شعبہ اردوتلنگانہ یونیورسٹی نظام آبادنے اردو اور قومی یکجہتی‘‘ڈاکٹر موسیٰ اقبا ل اسسٹنٹ پروفیسر تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد نے’’ اردو افسانے کی روایت اور ارتقاء‘‘ جیسے موضوعات پر مقالے پیش کئے ۔ پروفیسر مجیدبیدار نے ان مقالوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر عنوان کی اپنی ایک انفرادیت ہے جسطرح سے حکومت نے خواتین کو۳۳فیصد تحفظات فراہم کیا ہے اسی طرحسے اس سمینا ر میں ۳۳ فیصد سے زائد خواتین نے مقالے پڑھے ہیں۔ انہوں نے اکیسویں صدی اردو چیلنز اور ان کا حل کے عنوان پر مجموعی جائزہ لیا۔پروفیسر محمد انور الدین شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد نے صدارتی خطا ب میں ۱۴ مقالہ نگاروں کاانفرادی ‘ تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لیاکہا کہ ان ۱۴ مقالہ پیش کرنے والو ں میں میرے ۸ شاگرد ہیں جنہوں نے اپنی محنت و لگن سے اردو کے در پیش مسائل اور ان کا حل تلاش کر نے کی کوشش کی ہے۔پہلے دن کا پروگرام ۵ بجے شام اختتام کو پہنچا۔ڈاکٹر محمد ناظم علی نے شکریہ ادا کیا۔مقالہ نگاروں کو مہمانان خصوصی کے ہاتھوں سند اور مومنٹو پیش کئے گئے۔
اردو سمینار ہو ‘مہمان شہر میں ہوں اور مشاعرہ نہ ہو یہ اردو محفلوں کی روایت ہی نہیں۔ اسی بات کے پیش نظر سمینار میں شرکت کے لئے آئے مہمانوں اور مقامی محبان اردو کی خواہش پر ایک نجی محفل شعر کا اہتمام کیا گیا۔۵ فروری کی شب ۹ بجے رضاء گیسٹ ہاوس پر جہاں مہمانوں کے قیام کا انتظا م تھا ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام عمل میں لایا گیا جسکی صدارت پروفیسر مجید بیدارنے کی۔مہمانان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر محسن جلگانوی ایڈیٹر اوراق ادب اعتمادحیدرآباد‘ محمد تقی الدین ایڈیٹر ورق تازہ ناندیڑ‘ڈاکٹر شجاعت علی ایس آر ٹی یو نیور سٹی نا ند یڈ نے شرکت کی مہمان شعراء پروفیسر مجید بیدار، ڈاکٹر محسن جلگانوی ‘ کبیر ا حمد شکیل، شیخ احمد ضیاء، عبدالقدوس رضوان بودھن نے اپنا کلام پیش کیا۔مقا می شعراء میں ضامن علی حسرت، سید ریاض تنہا،عبدا لرحیم قمر، اشفاق اصفی، شریف اطہر،سو زنجیب آبادی ،عبدالقیوم نقیب،جلال الدین اکبر،شعیب نظام آبادی،چکر نظام آبادی اوسط نظام آبادی اور رضی شطاری نے اپنے کلام سے سامعین کو محظو ظ کیا۔ رات دیرگئے مشاعرہ چلتا ر ہا سا معین کی ا یک بڑی تعداد نے اس مشاعرے سے استفادہ کیا۔ نظامت سید ریاض تنہا نے انجام دی۔ مشاعرے سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محسن جلگانوی اور پروفیسر مجید بیدار نے کہا کہ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کی اپنے وطن نظام آباد آمد کے بعد اردو کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ احباب کو جوڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ اردو کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ ان کی مخلصانہ کوشش کا لوگ ساتھ دیں۔
دو سرے دن۱۰ بجے صبح گولڈن جو بلی آڈیٹوریم گرراج ڈگری کا لج میں قومی اردوسمینار کے تیسرے اجلاس کا عبد الرحمن بیگ کی نعت سے آغاز عمل میں آیا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر مجید بیدار‘ڈاکٹر فضل اللہ مکرم نے کی۔ ڈاکٹر محمد ابرارالباقی اور ڈاکٹر شیخ سلیم مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے۔ نظامت ڈاکٹر اسلم فاروقی نے انجا م دی۔ اس اجلاس میں ۱۴ مقالے پڑھے گئے جن میں محمد تقی ایڈیٹر ورق تازہ ناندیڑنے‘ اردو صحافت کے مسائل اور ان کا حل،ڈاکٹر شجاعت علی ایس آر ٹی یو نیور سٹی نا ند یڈ ،یورپ میں خواتین کا افسانہ (ہجرت کے حوالے سے)،ضامن علی حسرت پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرعثمانیہ نے ،غو ث خوامخواہ مزاحیہ شاعری اور عصر حاضر کا سماج ‘ محمدعبدالعزیزسہیل پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرعثمانیہ‘اکیسویں صدی میں غیر افسانوی ادب مسا ئل اور امکانات ،سید حامد پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرعثمانیہ‘اردو ڈراما اور ہمارا سماج ،شمیم سلطانہ پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرمولانا آزاد اردو یونیورسٹی، عصر حاضر اور بچوں کا ادب ،مریم فاطمہ پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرتلنگانہ یونیورسٹی‘ عصر حاضر میں خواتین کے مسائل اور ایک مثالی عورت اقبال کی نظر میں، محمد عبدالعزیز پرنسپل کریسنٹ جونئیر کالج نظام آباد،فکراقبال کی آفاقیت ،ا افتخار فہد پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرتلنگانہ یونیورسٹی ،اردو زبان وکمپیوٹر ٹکنالوجی ،تبسم سلطانہ ایم فل ، اردو زبان اور رسم الخط کا تحفظ اور ہماری ذمہ دارایاں،محمد عبدالبصیر لکچرار ، ضلع نظام آباد میں اردو شعر و اد ب،نشا ط فاطمہ پی ایچ۔ڈی ریسرچ اسکالرتلنگانہ یونیورسٹی،اردو ادب اور ذہن سازی،واحد نظام آبادی ، صفی اورنگ آبادی بحثیت استاد شاعر کے، محمد محبوب ریسرچ اسکالر، اردو ادب میں ما ں کا ذکر شامل ہیں۔ پرو فیسر مجید بیدار نے ان مقالوں پر تبصرہ فرمایا۔ اکیسویں صدی میں ان مو ضوعات کو وقت کی ایک اہم ضرورت قراردیا۔ انہوں نے کہا کے اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے جو تجاویز یہاں بیاں کی گئی اس کو حکو مت تک پہنچایا جائے اور اردو زبان و ادب کے ان چیلنجز کو قبول کرتے ہوے ادب کوے فروغ کےئلے کو شش کی جانی چاہے۔ افتتاحی اجلاس کے فوری بعد اختتامی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں جناب تبسم فریدی ایڈیٹر مارننگ ٹائمز نظام آباد ایس لمبا گوڑ پرنسپل ڈاکٹر فضل اللہ مکرم ، پرو فیسر مجید بیدارنے شرکت کی ‘جسکی صدارت جناب نصیر الدین صاحب نے کی اور اردو کے مسائل کے حل کے لئے اردو اساتذہ اور اداروں کو آگے آنے پر زور دیا۔ مقالہ نگاروں کو مہمانان خصوصی کے ہاتھوں سند اور مومنٹو پیش کئے گئے۔ اس موقع پر یوجی سی کوآرڈینیٹر مسٹر نریش کمار ریاستی صدر اے پی جی سی ٹی اے کی گلپوشی کی گئی۔ ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کے شکریہ پر دورزہ اردو سمینار کا اختتام عمل میں آیا۔ سمینار کے انعقاد کے لئے محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی‘ محمد عابد علی ‘سید حسب الر حمٰن‘سید وارث علی ‘محمد الیاس‘میر یوسف علی‘عائیشہ سلطانہ وغیرہ نے سر گرم حصہ لیا۔کالج کے طلباء کو انتظامی امور میں ساتھ دینے پر سرٹیفکیٹ دئے گئے۔
اس طرح ڈاکٹر محمداسلم فاروقی کی مخلصانہ کوشش سے شہر نظام آباد کے ایک ڈگری کالج میں یونیورسٹی سطح کا قومی اردو سمینار کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہوئے اپنی تاریخ رقم کرگیا۔ اس سمینار سے نوجوان اسکالرز کو حوصلہ ملا۔ انہیں ماہر اساتذہ کے روبرو مقالے پڑھنے اور سمینار کے ماحول کو سمجھنے کا موقع ملا۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ سمینار اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب رہے۔ اور اس سمینار کے ذریعے اردو کے جو مسائل اور ان کا جو حل ماہرین نے پیش کیا وہ ساری دنیا میں عام ہو۔ اور ہم بلا شبہ داغ کے اس شعر کے وارث کہلائیں کہ
اردو ہے جس کانام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے
Viewers: 2670
Share