Dr. MD Murtaza | Article | خواتین کے افسانوں میں کردارنگاری : ایک جائزہ

ڈاکٹر ایم ڈی مرتضیٰ جامعہ نگر، نیو دہلی۔ انڈیا Email : murtazadu@yahoo.com M. 09268691986 – 09718836513 خواتین کے افسانوں میں کردارنگاری : ایک جائزہ کردار نگاری فن افسانہ کا ایک […]
ڈاکٹر ایم ڈی مرتضیٰ
جامعہ نگر، نیو دہلی۔ انڈیا
Email : murtazadu@yahoo.com
M. 09268691986 – 09718836513
خواتین کے افسانوں میں کردارنگاری : ایک جائزہ
کردار نگاری فن افسانہ کا ایک اہم جز ہے۔اس کے لئے محض زندگی کا باریک مطالعہ ہی نہیں بلکہ علوم نفسیات پرگہری نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔انسان کے اعمال و حرکات و سکنات وجذبات کاتجزیہ ایک بہتر نفسیاتی علم اور تجربوں کی موجودگی کے بغیر ممکن نہیں۔افراد قصہ کے حرکات وسکنات کی عکاسی کا نام کردار نگاری ہے۔افسانے میں ہمیں کردار کی محض ایک جھلک نظر آتی ہے۔افسانہ نگار کو پوری زندگی سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ صرف ایک رُخ دکھلاتا ہے۔اچھے کردار کے لئے ضروری ہے کہ اس میں انفرادیت ہو۔ اس کے اطوار گفتار اور افکار میں ہم آہنگی اور توازن ہو فعالیت اس کی نمایاں خصوصیت ہے۔افسانے کے کردار کو جیتا جاگتا اور متحرک ہونا چاہئے۔اور چند جھلکیاں دکھاکر ہی پوری زندگی کی طرف اشارہ کردے۔بعض افسانوں میں کردار نگاری نہیں ہوتی۔ واقعات کی خاص تنظیم اور تربیت بنیادی حقیقت رکھتی ہے اور بعض افسانے محض کردار کے افسانے ہوتے ہیں۔ کرداروں کے سلسلے میں E.M.FORSTERنے فلیٹ اور راؤنڈ کردار کا ذکر کیا ہے اور دونوں میں تمیز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فلیٹ کردار کی حقیقتیں واضح اور بہت جلد نظر آنے والی ہوتی ہیں۔ہم آسانی سے ایک جملے میں اس کے کردار کا نچوڑ پیش کرسکتے ہیں۔لیکن راؤنڈ کرداروں کے ساتھ ایسی بات نہیں اردو افسانے میں ابتدا سے کردار کی پیش کش کے دو اہم طریقے رائج ہیں۔ ایک یہ کہ کردار افسانے کے جس حصہ میں داخل ہوتا ہے وہیں اس کا مکمل تعارف کرادیا جاتا ہے۔کردار کا حلیہ،اس کی چال ڈھال،عادات و اطوار اور اس کے نظریات کو افسانہ نگار اس طرح بیان کرتا ہے کہ اس کی پوری شخصیت واضح ہوجاتی ہے۔ بعدمیں کردار کا عمل یا کہانی کے واقعات اسی تعارف یا تفصیل کے مطابق پیش کئے جاتے ہیں۔اس طریقے میں کہانی کی دلچسپی کا انحصار زیادہ تر واقعات کی ترتیب و تنظیم اور اس کے انوکھے پن پر ہوتا ہے۔ کیونکہ قاری کردار کی فطرت اور اس کی شخصیت سے واقف ہوچکا ہے۔اس لئے وہ کردار سے افسانہ نگار کی بیان کی ہوئی خصوصیات پر پورے اترنے یا کردار کے مطابق حالات کے پیش آنے کی توقع رکھتا ہے اور جب افسانے میں ان دو طرح کے حالات کے برعکس صورت حال پیش آتی ہے۔مثلاً کردار کی شخصیت کاایسا متضاد پہلو سامنے آجائے جس کی طرف افسانہ نگار نے پہلے سے کوئی اشارہ نہیں کیایا کسی ایسے واقعہ یا صورت حال سے کردار کو دوچار ہونا پڑے جو اس کی شخصیت اور فطرت سے متصادم ہو تو قاری چونک پڑتا ہے اور مثبت یا منفی صورت حال سے پیدا ہونے والے ردعمل کے طور پر وہ مسرت یا صدمے کی کیفیت سے گزرتا ہے۔کردار نگاری کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ افسانے کی ابتداء میں یا کردار کی آمد کے ساتھ ہی اس کی شخصیت یا فطرت سے متعلق تفصیلی بیان نہیں ہوتابلکہ کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے کردار کی فطرت اور اس کی شخصیت کے پہلو نمایاں ہوتے جاتے ہیں اور اس کی مکمل تصویر یاپوری شخصیت اس وقت تک سامنے نہیں آتی جب تک کہانی ختم نہیں ہوجاتی۔اس صورت میں کہانی کی دلچسپی کا انحصار واقعات سے زیادہ کردار پر ہوتا ہے۔کردار نگاری کے ان دونوں طریقوں میں کرداروں کو ان کی حرکات و سکنات اور ان کے عمل کے ذریعے اُبھارا جاتا ہے اور چونکہ یہ کردار مصروف عمل ہوتے ہیں اس لئے زمانی عرصے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔کردار نگاری کے یہ پرانے طریقے ہیں ۔لیکن جب نئی قدروں نے جنم لیا،نئے رحجانات نے نقطۂ نظر میں تبدیلی پیدا کی تو لوگوں کے سوچنے کاڈھنگ بدلا اورچیزوں کو سطحی نظرسے دیکھنے کے بجائے وہ اس کی ماہیئت تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے۔ادب بھی اس سے متاثر ہوا اور افسانہ نگاروں نے نفس انسانی کی عمیق و دقیق کیفیات کا مطالعہ کیا۔باطن پران کی نظر گہری ہوئی اور اس پر زور دینے کے بجائے کہ فرد کیا کرتا ہے۔اس بات پر غور کرنے لگے کہ فرد کیا ہے۔چنانچہ افسانہ نگاروں نے محسوس کیا کہ کسی مخصوص لمحے یا زمانے میں انسان کی حقیقت کاصحیح نفسیاتی بیان نہ تو کردار کی خارجی تفصیل نگاری کے ذریعہ ہوسکتا ہے نہ حالات و واقعات کے تئیں کردار کے ردعمل سے ممکن ہے۔اس طرح کردار نگاری کا ایک تیسرا طریقہ وجود میں آیا۔جس میں کردار کے چلنے،اس کی گفتگو کے انداز،رہن سہن اور ظاہری عمل کے بجائے تمام تر توجہ کردار کے اندرون یا اس کی ذہنی پیش کش پر دی جانے لگی۔اس طریقے میں کردار کسی خاص لمحے یا زمانے کااسیر نہیں ہوتابلکہ بیک وقت وہ ماضی حال اور مستقبل پر حاوی ہوتا ہے۔یہاں کردار کا عمل اور وقت کا عرصہ گو کہ بہت کم ہوتا ہے لیکن کردار نفسیاتی طور پراُبھر کر سامنے آتا ہے۔کردار نگاری ذہنی تجزیہ کافن ہے اس میں وہی افسانہ نگار کامیاب ہوسکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہواور جو انسانی نفسیات پر گہری نظر رکھتا ہو۔اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر نظرمقالہمیں افسانہ نگار خواتین کی کردار نگاری کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حجاب امتیاز علی ان افسانہ نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اردو افسانوی ادب کو کئی زندہ جاوید کردار عطا کئے ان کرداروں کے نام دادی زبیدہ،جسوتی، سرجعفر،چچا لوث،ڈاکٹر گار، روحی اور زوناش وغیرہ ہیں۔دادی زبیدہ ایک دبلی پتلی باوقار خاتون ہیں، جو اپنا حکم منوانے میں خاص نوع کی لذّت محسوس کرتی ہیں۔ سرجعفر اور ڈاکٹر گار خاندان کے رفقاء خاص ہیں۔چچا لوث خاندان کے سربراہ ہیں جبکہ روحی،جسوتی ،صوفی،صبوحی محبت کرنے والے کردار ہیں۔حجاب کے افسانوں کے کردار دادا، دادی، چچا،چاچی اور بھائی،بہن بھی ہیں لیکن یہ لمحاتی ہیں۔ان میں قربت اور رفاقت کی گرمی نہیں ملتی۔حجاب کے کردار بظاہر مہذب،باشعور اور خاصے تعلیم یافتہ ہیں۔مگر سب کے سب ذہنی امراض کے شکار ہیں۔ ان میں ڈاکٹر گار ایک ماہر نفسیات ہے لیکن خود اتنے کمزور دل کا ہے کہ اپنے مکان کی بالائی منزل پر نہیں جاتا کیونکہ اس کاخیال ہے کہ اس کی مرحوم بیوی کی روح وہاں خیر مقدم کے لئے تیار ہوگی:
’’اگر پام کی مختلف شاخیں آپس میں مل جاتی ہیں اور اس سے ایک طرح کی آواز نکلتی ہے تو ڈاکٹر گار اپنی محبوب بیوی کی آواز سمجھ بیٹھتا ہے۔‘‘
روحی ایک نسوانی کردار ہے جو تمام قصوں کو بیان کرتی ہے۔زوناش ایک حسین ملازمہ ہے جو ہر وقت روحی کے ساتھ رہتی ہے۔سرجعفر میں لالچ اور حرص کی جانی پہچانی انسانی خصلت ہے۔ یہ عادت ان سے ایک شریف دوست کا قتل کرادیتی ہے اور پھر انہیں اعصابی امراض میں مبتلا کردیتی ہے۔سرہالی غیر فطری طاقتوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہیں۔ کیپٹن نوید سے انسانی جذبات کامظاہرہ ہوتا ہے اوران کرداروں سے تھوڑی بہت قربت محسوس ہوتی ہے۔حجاب کے افسانوی کرداروں کی دوسری خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ تمام افسانوں میں ایک جیسے نظر آتے ہیں جاسوسی دنیا کے فریدی،حمید،قاسم، انور اور عمران ایسے کردار ہیں جو تقریباً ہر افسانے میں رہتے ہیں۔ڈاکٹر گار،روحی، جسوتی، سرمارلی، زوناش،سرجعفر ، حمیرہ ،زبیدہ خانم، کرنل نکساری یہ سب کردار خیالی ہیں۔یہ خیالی کردار رومانی مزاج رکھنے کے باوجود رومانیت کی لذت اور جذبہ نا اسودگی نہیں رکھتے یہ تخیلی کردار محبوب کے سامنے برف کی طرح سرد اور بے جان دکھائی دیتے ہیں۔حجاب کے سارے کردار تخیلی ہیں اس لئے سماجی رشتوں کی ضرورت بھی نہیں ۔ دو جنسوں کی محبت اور ان کے تعلقات کاغذی ہیں۔جسوتی ،ڈاکٹرگار، روحی کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔لیکن یہ سب اعصابی امراض میں مبتلا ہیں اور سبھی کو انجانی دنیا کی جستجو ہے اس لئے ان کے درمیان دوستی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔حجاب پہلی افسانہ نگار ہیں جنہوں نے مردوں اور عورتوں کے اس رشتہ کو اپنے تخیلی افسانوں میں جگہ دی۔حجاب نے تاریخ نفسیات، سائنس، علم نجوم اور مذہب عالم کا مطالعہ کیا تھااس لئے وہ کردار نگاری کی سطح پر رومانی کردار تخلیق کرپائیں اور انہوں نے آنے والی مصنفاؤں کے لئے ایک نئی راہ کھول دی۔
مسز عبدالقادر کے افسانوی کرداروں میں ارواح کو خاص اہمیت حاصل ہے،ان کے افسانوں میں خبیث روحیں ہر جگہ نظر آتی ہیں،ان کے نسوانی کرداروں میں صلیبی دوشیزائیں بھی ہیں،جنہیں ’’کانونٹ کا چاند‘‘ کہہ کر روشناس کرایا گیا ہے۔یہ صلیبی لڑکیاں مریم کی معصومیت اور زلیخا کا مزاج رکھتی ہیں انہیں اپنے دل اور دماغ پر کامل قدرت نہیں ہے یہ جنس مخالف کو دیکھ کر گھبراجاتی ہیں راہبہ، اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔مسز عبدالقادر کے افسانوں میں تخیل سے زیادہ روایتی بھوت،جن اور اعصابی وغیرہ بھی پیش کئے گئے ہیں کیونکہ عرصہ دراز تک اس فطری اور مافوق الفطرت ہستیوں پر لوگوں کا ایمان رہا ہے۔اور ان کا تعلق بھی پرانے عقیدوں و تو ہمات سے ہے۔لہٰذا اس کوبھی تخیلی کرداروں کی ایک شکل کہا جاسکتا ہے۔ان کرداروں کے نام دولت،ماہی یوشیع،آغا رحیم وغیرہ ہیں۔ یہ کردار تماشائی کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ زندگی کے لئے جدو جہد کرتے نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے کرداروں میں آغا رحیم ایک ایسا کردار ہے جو شیخ علی وجودی کی یاد دلاتا ہے۔ آغا رحیم ایک مذہب پرست آدمی ہے جو انسانوں کی قربانی کے ذریعہ اپنے مذہبی دیوتا کو خوش کرتا ہے۔وہ بھی شیخ علی وجودی کی طرح بے مثال جسمانی اور دماغی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ہوسکتا ہے کہ مسز عبدالقادر آغا رحیم کے کردار کو پیش کرتے وقت شیخ علی وجودی سے متاثر رہی ہوں۔مسز عبدالقادر پرانی عمارتوں اور کھنڈروں کاذکر بھی اپنے افسانوں میں کرتی ہیں۔ان کے پس منظر میں کہانی کا تانابانا بنتی ہیں۔مصر کے اہرام اور اس سے وابستہ کہانیوں میں ’’صدائے جرس‘‘ کافی دلچسپ ہے۔ان میں مردہ کرداروں کے ذریعہ کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔یہ مردہ لاشیں کبھی کبھی زندہ اور متحرک ہوجاتی ہیں اور عجیب وغریب مظاہرہ کرتی ہیں۔
’’اُف میرے سامنے پانچ گز کے فاصلے پر ایک لاش جس کی آنکھیں بے نور اور ڈراؤنی تھیں۔جس کے سر کے بال کھڑے تھے جس کے دانت ہڈیوں کی طرح باہر نکلے ہوئے تھے اور جسم لکڑی کی طرح اکڑا ہوا تھا اپنے استخوانی پنجے پھیلائے ہماری طرف آرہی تھی۔‘‘
مسزعبدالقادر کے افسانوی کرداروں پر زندگی کادھوکا ضرور ہوتا ہے لیکن یہ کردار ہماری دنیا کے نہیں ہوتے کیونکہ ان کا وجود سراسر افسانوی ہے۔ان کے افسانوں میں کچھ انسانی کردار بھی ہیں جو بھائی،چچا،عاشق وغیرہ کے روپ میں پیش کئے گئے ہیں۔ ان کرداروں کامقابلہ بدکرداروں سے ہوتا ہے اور اکثر وبیشتر ان کی فتح ہوتی ہے۔کرداروں کا یہ تصادم افسانہ میں تھوڑی بہت دل چسپی پیدا کرتا ہے۔چنانچہ افسانہ ’’راکھشش‘‘ کے بھائی جان انسانی نمائندے کی حیثیت سے پیش کئے گئے ہیں اور بدروح کا مقابلہ نہایت جاں فشانی سے کرتے ہیں۔ اسی طرح افسانہ ’’گلنار‘‘ میں شجاع بہادری سے آسیب کو اپنے قبضے میں کرکے اپنی بیوی گیتی آرا کو پریشانیوں سے نجات دلاتا ہے۔مسز عبالقادر کے افسانوں میں بھائی ،بہن،ماں،باپ،بیٹے،چچا ،دوست ،طوائف وغیرہ کے رشتے بھی ملتے ہیں۔ مگر ان رشتوں کو بنیاد بناکرانہیں حقیقی روپ میں پیش کرنے کی کوشش نہیں ملتی۔ اس طرح کے رشتے واقعات کو سہارا دینے کی غرض سے پیش کئے گئے ہیں۔
ڈاکٹر رشید جہاں کی تحریروں میں ہر طبقہ،ہر مذہب اور ہر نسل کے کردار اپنے مسائل کا بوجھ کاندھوں پر اُٹھائے حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ان میں اکثریت نسوانی کرداروں کی ہے۔وہ کرداروں کی نفسیات اور ذہنی حالت سے بخوبی واقف ہیں۔ان کے کردار اپنے روایتی اور فرسودہ ماحول کے خو ل میں بند ہیں۔ انہوں نے اس روایتی ماحول سے نئی نسل کے کچھ متحرک کردار بھی تراشے ہیں۔مثلاً ’’افطاری‘‘ کی نسیمہ، ’’میرا ایک سفر‘‘ کی زبیدہ اور ’’صفر‘‘ کا سعید وغیرہ بعض افسانوں میں کرداروں کے ذریعہ حقیقت نگاری کرتے وقت وہ اس حد تک چلی گئی ہیں کہ اس میں مصنوعی پن جھلکنے لگتاہے ۔مثال کے طور پر ان کے افسانے ’’چور‘‘ کا کردار ’کمن‘ ۔یہاں رشید جہاں ایک مثالی چور کے کردار کو پیش کرنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔
’’پھر میری نظر چاروں طرف دوڑنے لگی۔میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے چور بگلا بھگت بنے گھومتے ہیں۔ بڑے بڑے محلوں میں رہتے ہیں۔ہوائی جہاز اُڑاتے ہیں اور بڑے بڑے برے اعظم کھائے بیٹھے ہیں۔‘‘
رشید جہاں کے کردار بہت ہی جاندار، باعمل اور جدو جہد سے بھرپور نظر آتے ہیں۔ افسانہ ’’چھدّاکی ماں‘‘ میں رشید جہاں نے عورت کے کردار کو بہت ہی ماہرانہ انداز میں پیش کیا ہے۔جب چھدّا کی ماں نے اپنی نئی بہو کو ستانا شروع کیا تو اس کی بہو نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔
’’بڑھیا نے اپنی وہی حرکتیں شروع کی تھیں لیکن یہ لڑکی بڑھیا کے جوڑ کی ہے۔ایک دن پکڑ کر ساس کی وہ مرمت کی کہ سب بہوؤں کا بدلہ نکال لیا۔‘‘
رشیدجہاں نے اپنے کرداروں کو جینے کا نیا انداز سکھایا۔ان کے کرداروں میں جامداورمتحرک دونوں ہی طرح کے کردار پائے جاتے ہیں۔ لیکن اکثر یت متحرک کرداروں کی ہے۔جامد کرداروں کو ان کی ضرورت کے مطابق استعمال کیا گیا ہے۔ درگا،شکنتلا،خادم علی، کنیز، فاطمہ، عتیق، قدیر، عزیز وغیرہ چند کردار ہیں۔دُرگا مظلوم عورت کی کردار نگاری پیش کرتی ہے۔ فاطمہ بھی مظلوم ہے مگر اپنے بھتیجے قدیر کی لمحہ بھر کی تقریر سے شوہر کے خلاف بغاوت کرنے کاعزم کرلیتی ہے۔خادم علی ضعیف الاعتقاد ہیں۔ ان کی بیوی کنیز مرجاتی ہے اور وہ ’استخارہ‘‘ کے چکر میں پڑجاتے ہیں۔ان کرداروں میں خادم علی کے علاوہ اور کوئی بھی اپنے دم سے زندہ نظر نہیں آتا۔رشید جہاں کے افسانوں کے کردار تخیلی یا ارتقائی نہیں ہیں۔انہوں نے صحیح معنوں میں کرداروں پر توجہ نہیں کی،انہیں کرداروں سے زیادہ صحافتی رنگ پسند تھا۔اس لئے ان کے افسانے کرداروں کی ظاہری اور باطنی زندگی کی کش مکش کو بھی پیش نہیں کرتے۔محترمہ ایک ڈاکٹر تھیں علم نفسیات کی واقفیت کے باوجود وہ متوسط طبقے کے ذہن کو نہ کھنگال سکیں۔
خاتون اکرم نے انسانی زندگی کا مطالعہ اچھی طرح کیا تھا اس لئے ان کے یہاں کردار نگاری کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ان کے افسانوں کے کردار نہ تو محلوں کے رہنے والے ہیں اور نہ چھونپڑیوں کے ،بلکہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔انہیں خوشی بھی میسر ہوتی ہے اور رنج بھی وہ عورتوں کی نفسیات سے زیادہ واقف ہیں۔اسی لئے انہوں نے عورت کی مختلف کیفیات اور احساست کو طرح طرح سے بیان کیا ہے۔انہوں نے نئی تہذیب کی خرابیوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ان کے نمائندہ افسانہ ’’آرزو کی قربانی‘‘ میں ایک ایسی ہٹ دھرم خاتون کاکردار ہے جو بے جا رسوم کی پابند ہے اور نئی تہذیب کی گرویدہ۔اسی طریقہ کار کی ایک مثال ان کا افسانہ ’’بالائی آمدنی‘‘ ہے جس میں کردار نگاری کی ایک عمدہ مثال پیش کی گئی ہے۔’’بچھڑی بیٹی‘‘ میں ایک پرانے زمانے کی ساس کا کردار پیش کیا گیا ہے کہ اسے پوتی کے کھوجانے کاغم کم اور بہو کے کوئی دوسری اولاد نہ ہونے کا افسوس زیادہ ہے۔
’’بڑی بی کی گھبراہٹ قابل دید ہے۔یوں تو پہلے بھی وہ کہا کرتی تھیں۔مگر جب سے شکیلہ کھوگئی تب سے اور بھی بے قرار ہیں۔دن رات اسی پیچ و تاب میں گزرتا ہے۔یہ نہیں کے انہوں نے کچھ تدبیر نہ کی ہو۔‘‘
خاتواکرم کی کردار نگاری کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ جوں جوں ان کے کردار ارتقائی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں۔ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوتی جاتی ہے۔ان کی کردار نگاری میں کہیں جھول نہیں آتا۔ان کے بیشتر افسانے 1918تا1920کی تخلیقات ہیں۔
عصمتچغتائیکے افسانوں میں مرد اور عورت کرداروں کی تعداد مساوی ہے۔عصمت نے کرداروں کے ذریعہ معاشرے کے اخلاقی رحجانات کی بھی آئینہ داری کی ہے۔نوجوان لڑکے لڑکیوں کی جنسی بیداری پر سب سے پہلے عصمت نے توجہ دی۔انہوں نے معاشرتی گھناؤنے پن کو پیش کرکے کرداروں کے جذباتی ردّعمل کا بھی مظاہرہ کیا۔عصمت کے کردار زیادہ ترخالہ،ماموں،ماں، نانی، دادی،میاں،بیوی، دوست وغیرہ ہیں۔ ان کے اپنے ذاتی اور سماجی مسائل ہیں یہ تعلیم ،زندگی، موت، شادی، بیاہ، عشق، ہوس پرستی،بے کاری، جہالت، سبھی کچھ ہیں۔اس طرح عصمت نے کرداروں کے اچھے اور برے پہلوؤں کوچنا ہے۔
’’گائے بیاتی ہے تو کوئی نہیں پوچھتا کہ بیٹا ہے یا بیٹی سب دودھ دوہنے لگتے ہیں۔مرغی انڈا دیتی ہے تو اسے پیار سے دانہ ڈالتے ہیں۔پر جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو لوگ اس سے سونے کا انڈا دینے کی فرمائش کیوں کرتے ہیں۔‘‘
عصمت کے کردار خیالی نہیں ہیں بلکہ سب کے سب نمائندہ ہیں۔عورتوں میں نو عمرلڑکیاں، خالائیں، نانی،دادی اور مردوں میں اپنے بھائیوں کے علاوہ رشتے کے بھائی،چچا،باپ، استاد، نواب صاحب، کالج کے لڑکے،مہتر، چمار وغیرہ ہیں۔ان کے نام رام اوتار،کالی چرن،گیندا، نیرا، زہرہ، عذرا، سعید ،صفیہ، واحد،شمیم ،شبراتی، حامد، رضیہ، رشید،سلمہ،فخرالنساء، حمیدہ، کبریٰ،ریاض اور فریدہ وغیرہ ہیں۔ان میں کوئی بھی کردار ایسا نہیں جسے خیالی کہا جاسکے۔ عصمت کے دوسرے افسانوں میں جن میں عورتیں اور مرد میاں بیوی کے طورپر پیش کئے گئے ہیں۔ان میں ’’نفرت‘‘ کی فخرن اور منو میاں ’یار‘‘ کے فرید اور اکبر،’’بے کار‘‘ کی ہاجرہ اور باقر میاں،’’نند‘‘ کے سلیمان اور شہناز وغیرہ ہیں۔فخرن اور منو میاں بچپن کی طے ہوئی نسبت کی وجہ سے زبردستی ازدواجی بندھنوں میں بندھے ہیں۔ان میں خلوص اور محبت کی کمی ہے۔ٹھیک اس کے برعکس شہناز اور سلیمان افسانہ ’’نند‘‘ میں شوہر بیوی ہیں۔شہناز اونچے طبقے کے آزاد خیال شوہر کی روشن دماغ بیوی ہے۔کچھ دنوں تک دونوں کے تعلقات اچھے رہتے ہیں۔ پھر دونوں ایک دوسرے کے لئے وفاداری کا جذبہ نہیں رکھتے۔دونوں اپنی جنسی زندگی کو آزاد کردیتے ہیں۔مگر یہ بات افسانہ ’’یار‘‘ میں نہیں۔فریدہ بھی شہناز کی طرح آزاد اور بے باک ہے اس کا شوہر اسے بے پناہ آزادی دے دیتا ہے۔لیکن فریدہ اکبر کی غیر موجودگی میں اس کے گہرے دوست سے کسی قسم کا جنسی تعلق پیدا نہیں کرتی۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ پوری وفاداری کرتی ہے۔لیکن سلیمان اور شہناز کے درمیان چھل کپٹ موجود ہے۔افسانہ ’’کافر‘‘ میں مسلمان لڑکی ہے جو پشکر نام کے ایک ہندو سے شادی کرلیتی ہے۔یہ شادی بچپن کی دوستی کانقطۂ عروج ہے۔اس افسانے میں عورت اور مرد جس رفیقانہ جذبے کے ساتھ ملتے ہیں اور دوستی کی جو فضا پائی جاتی ہے وہ بے حداہم ہے۔یہ کردار دو مذہبوں کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ دوتہذیبوں کے ممتاز نمائندے ہیں۔ عصمت نے ان کرداروں کے مسائل پر بڑی تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔وہ ایک ماہر نفسیات کی طرح ان کے دلوں میں اترتی ہیں۔ ان گرہوں کے کھولنے کی سعی کرتی ہیں۔جو لاشعور میں دبے رہتے ہیں۔لیکن ہر لمحہ شعور میں آنے کے لئے بے چینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔یہ سب کردار ہماری زندگی کے بہترنمائندے ہیں۔
صالحہ عابدحسین کے افسانوں کے کردار ایسے افراد ہیں جو طبقاتی کشمکش اور سماجی استحصال کا شکار ہیں۔ ان کے کرداروں میں اکثریت نسوانی کرداروں کی ہے۔یہ نسوانی کردار مظلومیت کا مرقع ہیں۔نسوانی کرداروں میں بھی دو طرح کے کردار ہیں۔ایک وہ جن میں ہندوستان کی عابدہ،ماں کی ممتا رضیہ ہیں۔ اور دوسرے مسز جمیل اور وہ کمیونسٹ لڑکی جو ہندوستان میں سرمایہ داروں کے خلاف بولتی ہے۔لیکن صالحہ کے کردار باوجود جانے پہچانے اور مظلوم ہونے کے ڈرامائی عناصر نہیں رکھتے۔صالحہ کے کرداروں میں بے حد شریف انسان بھی ہیں۔ افسانہ ’’شماتت ہمسایہ‘‘ کے بڑے میاں جن کے یہاں برابر چوری ہوتی ہے لیکن چور کو پکڑوانے سے گریز کرتے ہیں۔دنیا انہیں بے وقوف سمجھتی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ چوری کرنے والا ان سے زیادہ پریشان حال ہے اس طرح کے دوسرے کردار بھی ہیں۔’’نراس میں آس‘‘ افسانے کے کردار ایسے افراد ہیں جو مختلف طبقے اور مذہب سے آئے ہیں۔یہ کردار فسادات کے زمانے کے تخلیق کردہ ہیں۔ان میں ہندو مسلمان سبھی شامل ہیں۔ان میں ہندو اور سکھ ایسے بھی ہیں جو مسلمانوں سے اپنی بے حرمتی ،قتل اور غارت کا بدلہ لیتے ہیں اور ایسے بھی ہیں جو جان پر کھیل کر لوگوں کو بچاتے ہیں۔ان میں ہندو مسلمان سبھی شامل ہیں۔دہشت او ربربریت کے اس رقص میں صالحہ نے ان کرداروں کے ذریعہ انسان دوستی کا بڑا مبارک پیغام دیا ہے۔ان کرداروں میں فنی خصوصیت نہیں پائی جاتی لیکن یہ کردار ہماری غلط کاریوں کی طر ف اشارہ کرتے ہیں۔فسادات پر لکھے گئے افسانوں میں سردار جی،کرشن، عابد علی، فوجی نوجوان اور دیگر معاشرتی افسانوں کے کرداروں میں ’’رقاصہ‘‘ کی سرسوتی، ’’سنبھالا‘‘ کی موہنی اور پریم،’’للی یا سرلا‘‘ کی ماں اور پریم، یہ تمام نسوانی کردار اس قسم کے ہیں۔جن میں برابر کسی نہ کسی قسم کی تبدیلی فطری اور ضروری معلوم ہوتی ہے۔اس سے کہانی کار کی واقفیت کا پتہ چلتا ہے۔جیمس لین نے لکھا ہے کہ151
’’کسی ایک کردار کی زندگی کے سب سے اہم موقع کو ڈرامائی صورت میں مختصر طور پر پیش کرنے کا نام افسانہ ہے۔‘‘
ممتاز شیریں کے افسانوں میں عورت اور مرد کردار عموماًشوہر بیوی یاہونے والے رفیق کی حیثیت سے ابھرے ہیں۔یہ کردار چلتی پھرتی زندگی کے نمونے ہیں یہ مسلمان گھرانوں کے افراد ہیں جو علم وفن کی دولت سے مالامال ہیں۔جنہیں آرٹ اور ادب سے دلچسپی ہے۔ان کرداروں میں محدودیت ہے۔ ممتاز شیریں اپنے کرداروں کے ماحول،عادات،واطوار ان کی دلی کیفیت اور ان کی فطرت کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف ہیں۔ان کے تمام کردار متحرک اور ارتقاء پزیر ہیں۔ان کرداروں کے نام نانی بی، پروین، مِس فنانس، گلنار، پرویز،رانی، رامو، نیلا، اننت، سلیم، رابرٹ وغیرہ ہیں۔یہ کردار یا تو خود حالات کو اپنے موافق کرلیتے ہیںیا خود حالات کے موافق ڈھل جاتے ہیں ۔ ان کے زیادہ تر کردار ازدواجی زندگی کی خوشیوں تک محدود ہیں۔’’آئینہ‘‘ممتاز شیریں کا بہترین افسانہ ہے۔جس میں ایک مکمل انسانی کردار ہے۔اس کہانی میں انسانی ہمدردی کا جذبہ انتہائی مؤثر طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔لفظی اعتبار سے کہیں کہیں پر جذباتیت کا غلبہ ہے لیکن ’’نانی بی‘‘ کاکردار بڑے خوب صورت انداز میں ساری اعلیٰ قدروں کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔
’’میری انا کیاتم میرے سہانے بچپن کی ان تمام یادوں کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ان خیالات کو جو تمہارے بڑھاپے اور میرے بچپن کے جوڑ سے پیدا ہوگئے تھے۔‘‘
اس افسانے کو مختلف خیالات اور ماحول کے تانے بانے سے مکمل کیا گیا ہے۔’’انگڑائی‘‘ ایک کم سن پردہ نشیں خاندان کی لڑکی کی کہانی ہے۔جس کو ہمیشہ گھر کے رشتے دار مردوں سے بھی الگ رکھا گیا تھا اور پھر فطری تقاضے سے مجبور ہوکر وہ اپنے اسکول کی ٹیچر ’’مِس فنانس‘‘ سے جذباتی طور سے وابستہ ہوگئی تھی۔
’’ہفتہ بھر میں جس دن ان کا گھنٹہ نہ ہوتا وہ دن کس قدر منحوس دکھائی دیتا میں ان پر مرتی تھی اور دیوانگی کی حد تک ان کو چاہتی تھی۔‘‘
صدیقہ بیگم کے افسانوں میں عورت اور مرد کرداروں کی تعداد مساوی ہے۔ عورت، ماں، بہن، بھابھی، نند، دادی،ساس،بہو،طوائف یہ سبھی افسانوں میں پیش کئے گئے ہیں۔ٹھیک اسی طرح مرد کردار بھی ہیں۔عورت اور مرد کرداروں کے درمیان متفرق رشتے بھی ان کے افسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ’’ایک بیوی ایک طوائف‘‘ کی زہرہ خود کو ایک طوائف سمجھتی ہے۔کیونکہ وہ ایک اعلیٰ طبقے کی عورت کا شعور نہیں رکھتی۔وہ متوسط طبقے کی ایک خوبصورت لڑکی ہے۔جس کی شادی اتفاقاً ایک ڈپٹی کلکٹر سے ہوجاتی ہے۔اس طرح ازدواجی زندگی کے باوجود بھی عورت مردکی محکوم ہوجاتی ہے۔افسانہ ’’کومل رانی‘‘ بھی غور طلب ہے جس میں کومل رانی اپنے شوہر کے علاوہ بہت سے لوگوں سے جنسی تعلقات رکھتی ہے۔لیکن اس ناجائز رشتے کے باوجود اسے اپنے شوہر سے بے پناہ محبت ہے،وہ جنسی بے راہ روی اس لئے اختیار کرتی ہے تاکہ دووقت کی روٹیاں پابندی سے ملتی رہیں۔ ’’بیمار‘‘ اور ’’دودِچراغ محفل‘‘ کی ہیروئن نعیمہ اور نمو زیادہ عمر کے افراد کی بیویاں ہیں۔لیکن جذباتی اور ذہنی طور پر وہ دوسروں سے وابستگی رکھتی ہیں۔ان کے یہاں عورت اور مرد کرداروں کا مخلصانہ اور رفیقانہ رشتہ بھی ملتا ہے۔ان میں شنو،تارہ،غزالہ، حامد، اطہر، نعیمہ، راہو، شاہدہ، سونا، رامو اورسنیل جیسے نام ہیں۔ یہ کردار جسمانی او اعصابی امراض کے شکار نہیں ہیں۔بلکہ سماج کی بے رحم زنجیروں کو توڑنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔
’’اگر ندی کے پاس سوکھے درخت کا تنا ہوتا تو لوگ ضوور پوچھتے کہ آج تک بوڑھا روپ چند ندی کے کنارے کیسے بیٹھا رہ گیا تھا ۔یہ تیز و تند ہوا کے جھونکے اس کا کچھ بھی تو نہ بگاڑ سکے تھے۔‘‘
صدیقہ بیگم کے افسانوں کے کردار تخیلی نہیں ہیں۔ بلکہ انہوں نے اپنے افسانوں میں دو قسم کے کردار پیش کئے ہیں،اول وہ کردار جو زندگی کی جدوجہد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جو قحط، فساد، غریبی، بے کاری کے بوجھ سے مرجاتے ہیں۔اپنی لڑکیوں ،بیویوں کو فروخت کردیتے ہیں ان میں کسانوں کی وہ عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں حکومت کے کارندے مال گذاری نہ ملنے کی وجہ سے ننگا کردیتے ہیں۔ دوسری طرف اس طبقے کے وہ کردار ہیں جو زندگی سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔جس میں چمار ٹولی کا روپ چند ہے جس کی جوان بیٹی کی عصمت ریزی ملا حسین کے لڑکے نے کی تھی جو اپنی عزت کی خاطر دریا کی لہروں میں سما گئی اور جب پورے شہر میں ہندومسلم فساد ات کی وبا شروع ہوئی اور لوگ ملا حسین کے گھروں سے پردہ نشیں بہو بیٹیوں کو عریاں کرکے اس کے سامنے لے آئے تاکہ وہ برسوں پرانی بے عزتی کا بدلہ لے سکے تو نہ صرف روپ چند نے انتقام لینے سے انکار کردیا۔بلکہ ایسا کرنے والوں میں سے ایک کو موت کے گھاٹ بھی اُتار دیا۔ان کرداروں میں ایک ’’کمل‘‘ بھی ہے جو آزادی کی جدو جہد میں جیل جانے والے دوست کو فساد کا شکار ہونے سے بچاتا ہوا خود مرجاتا ہے۔صدیقہ بیگم کے افسانوں کے کردار ایک سسکتی ہوئی تہذیب کے نمائندہ ہیں۔ ان کی نسوانی دنیا عصمت کی طرح جنسی الجھنوں میں مبتلا نہیں ہے۔انہو نے ایک بھی کردار ایسا پیش نہیں کیاجس کے وجود پر یقین نہ آتا ہو۔ان کو کرداروں کی اہمیت کا احساس ہے۔صدیقہ بیگم نے اپنے ماحول کی گھٹی ہوئی فضا کو چیر کر عوامی دکھ درد کا مطالعہ کیا ہے۔
خدیجہ مستور نے ترقی پسند خاتون افسانہ نگاروں کی طرح تخیلی کرداروں کو اپنے افسانوں میں جگہ نہیں دی خدیجہ مستورمتوسط طبقے کے ایک مسلمان گھرانے کی عورت ہیں۔ انہوں نے مزدوروں اور کسانوں کا معاشرہ نہیں دیکھا ہے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد وہ آزاد ہندوستان سے پاکستان چلی گئیں۔پاکستان میں بھی ان کا ماحول وہی رہا۔ البتہ افراتفری کے دور میں مختلف طبقوں کے لوگوں کو انہوں نے ضرور دیکھا۔اس لئے مجموعی طور پر ان کے افسانوی کردار وہی رہے جنہیں وہ اچھی طرح جانتی ہیںیا جن کے گرد وہ رہتی ہیں ان کے کرداروں میں عورتوں اور مردوں کی تعداد مساوی ہے۔خدیجہ کے افسانوں کے کردار زیادہ تر مسلمان گھرانوں کے آدمی ہیں۔ ان کے نام افروز، شہلا، ہاشمہ، نسرین، شکیل، آصف، صفیہ، عروج، جاوید اور گلشن ہیں۔ ان کرداروں میں چند نسوانی کردار دلچسپ ہیں۔مثلاً’’ ہینڈپمپ‘‘ کی جینابیگم اور ’’دیوانی‘‘ کی ہیروئن جوشوہر کی موت کے بعد مختلف لوگوں کو اپنی طرف کھینچناچاہتی ہے۔ لیکن تمام لوگ اس کی بھانجی سے التفات برتتے ہیں۔اور ہر بار اسے اپنی شکست کا احساس ہوتا ہے۔افسانہ ’’کیا پایا‘‘ کی ہیروئن کا کردار بھی خاصا بھیانک ہے۔یہ ایسی عورت کی کہانی ہے جو نوکری کرتی ہے شادی نہیں کرپاتی۔جب زمانہ گزرجاتا ہے تو تمام مناسب رشتے آنے بند ہوجاتے ہیں اور آخر وہ ایک غریب پوپلے فرد کو اپنی زندگی کا شریک سفر بنالیتی ہے،افسانہ ’’چپکے چپکے‘‘ میں ایک ایسے فرد کا کردار پیش کیا گیا ہے جو نوجوان کی غلط کاریوں کی وجہ سے عورت کی ضرورت پوری نہیں کرپاتا۔شادی کے بعد اس کی بیوی نوکر سے ناجائز تعلقات رکھتی ہے اور اس سے ایک بچہ بھی ہوتا ہے۔اس المیہ کو شوہر اور بیوی دونوں ہی دردناک طور پر محسوس کرتے ہیں لیکن دونوں طرف مجبوری حائل رہتی ہے اور آخر دونوں سمجھوتہ کرلیتے ہیں خدیجہ مستورکے کچھ افسانوں کے کردار جنسی گھٹن میں مبتلا ہیں۔دیوانی،چپکے چپکے،تہمت،عشق، لاش، جوانی وغیرہ ایسے افسانے ہیں جن میں صحت مند کرداروں کا وجود نہیں ہے۔افسانہ ’’دادا‘‘ اور ’’بے چاری‘‘ بے حد عمدہ اورقابلِ ذکر کرداروں کی کہانی ہے۔خدیجہ مستورکے افسانوں میں کردار اور واقعات دونوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔بعد کے افسانوں میں خدیجہ مستور نے کردارنگاری کے تقاضوں پر نگاہ رکھی ہے۔
ہاجرہ مسرورکے افسانوں میں مردکرداروں کی بربریت کی شکار عورتیں عام طور پر ملتی ہیں۔ان کے افسانوں میں عورت کچلی ہوئی ہے۔اس کی سماج میں کوئی عزت نہیں مردکردار عورتوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔افسانہ ’’تل اوٹ پہاڑ‘‘ میں ایک ایسے معاشرے کو پیش کیا گیا ہے جس میں باپ اپنی بیٹی کی فکر کئے بغیر اس کے سامنے مختلف عورتوں کے ساتھ عیاشی کرتا ہے۔افسانہ ’’سرگوشیاں‘‘ میں ایک مظلوم عورت کا کردار پیش کیا گیا ہے۔جو اپنی تمناؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے اورفساد کی نذر ہوجاتی ہے۔افسانہ ’’ایک بچی‘‘ کا کردار ایک جوان لڑکی ہے جو اپنے جذبات تھپک تھپک کر سلاتی ہے لیکن جنسی آسودگی حاصل نہیں کرسکتی۔افسانہ ’’کاروبار‘‘ میں بیوی شوہر کے ہر حکم کی اطاعت اپنا فرض سمجھتی ہے خواہ وہ نہایت ہی غیر انسانی خواہش کیوں نہ ہو۔ہاجرہ کے کرداروں کا جنسی شعور جسمانی مظاہرہ سے بہت آگے نکل گیا ہے۔ہاجرہ نے عورت پر کئے گئے مظالم کوبہت نمایاں طور پر پیش کیا ہے انہوں نے اپنے افسانوں میں ایسے کردار تخیّل کئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ کردار ایسے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں جو معاشرہ دن بہ دن ٹوٹتا جارہا ہے۔یہ کردار خیالی نہیں ہیں۔ہاجرہ مسرورکے افسانوں کے کردار عام انسان ہیں جو مختلف نظام حیات سے وابستہ ہیں۔ اور مختلف طریقہ کار سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہاجرہ مسرورکے افسانوں میں چند کرداری افسانے بھی ہیں۔ جو کردار نگاری کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان افسانوں میں ’’بھالو‘‘ اور ’’گیند‘‘ رکھے جاسکتے ہیں۔’’بھالو‘‘ ایک عمدہ کہانی ہے ۔ہاجرہ کے زمانے میں واقعات سے زیادہ دلچسپ کرداروں کے افسانے ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہانی ’’بھالو‘‘ کی تخلیق کی،جنسی حقیقت نگاری سے سماجی حقیقت نگاری کاسفر ہاجرہ مسرورکے شعور کا ارتقائی سفر ہے۔ایک خاص وقت کے بعد انہوں نے سماجی حقیقت نگاری کو پیش کیا۔ہاجرہ کو کردارنگاری کے تقاضوں کا احساس ہمیشہ رہا ہے۔ اس لئے ہاجرہ مسرورکے کردار ایک طرح سے عصمت چغتائی کے کرداروں سے کچھ امتیازی شان رکھتے ہیں۔
تسنیم سلیم چھتاری نے واقعات کی مدد سے کردار نگاری کی خصوصیت کو اجاگر کیاہے۔چونکہ ان کا دائرہ محدود ہے۔اس لئے ان کے یہاں کرداروں میں تنوع اور دسعت نہیں ملتی۔ان کے افسانوں کے کردار زیادہ تر جذباتی کش مکش اور آرزو مندی کے سہارے زندگی گزارتے ہیں ان کے یہاں کرداروں سے زیادہ دلچسپی واقعات میں ملتی ہے۔کردار واقعہ کی تخلیق کا سبب نہیں بنتے بلکہ واقعات کرداروں کواُجاگر کرتے ہیں۔وہ افسانے جو کردار نگاری کی خاطر رکھے گئے ہیں۔ واقعات کی ترتیب دار کڑیوں کے ذریعہ بہتر کردار نگاری تک پہنچ سکتے ہیں۔افسانہ ’’ٹوٹ گیا ایک تارا‘‘ میں انجم اور پرویز کا کردار پیش کیا گیا ہے۔ پرویز انجم سے اپنی جنسی تشنگی کی تکمیل کرتا ہے اور پھر چلتا بنتا ہے۔انجم اس بے التفاتی کے باعث نڈھال سی رہنے لگتی ہے اور آخر کار مرجاتی ہے۔ اس افسانے میں ہوس اور مردوں کی بربریت کو موضوع بنایاگیا ہے۔افسانہ ’’شجرہ نسب‘‘ میں پرویز کا کردار پیش کیاگیا ہے۔پرویز ہندوستانی ہے جو اپنی بچپن کی منگیتر ثریا سے شادی کرنے کی غرض سے اپنے چچا کے پاس پاکستان جاتا ہے۔لیکن اس کے چچا کی شرط ہے کہ وہ پاکستانی بن جائے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اب ہندوستان میں نسل، رنگ اور شجرہ نسب محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پرویز یہ ذلت گوارہ نہیں کرتا اور واپس لوٹ آتا ہے۔ پرویز ان نوجوانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنا ایک آزاد اور عمدہ نصب العین رکھتے ہیں۔ جو نسل ،رنگ اور قومیت کے تنگ دائروں سے نکل چکے ہیں۔تسنیمسلیم چھتاری کے افسانوں کے کردار زیادہ تر اعلیٰ یااعلیٰ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کا مسئلہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وقت اس طرح صرف کیا جائے کہ زندگی کی زیادہ سے زیادہ دلکشی دامن میں سمٹ آئے۔ تسنیم سلیم چھتاری کے افسانوں کے کردار اعلیٰ تفریح کے مقامات پر جاتے ہیں اور بہت سی خوشیاں اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔عام طور پر تسنیم سلیم چھتاری نے اپنے معاشرے کے کرداروں کا انتخاب کرتے وقت اس بات کو پیش نظر رکھا ہے کہ آدمی ازلی طور پر نیک ہوتا ہے حالات اسے اچھا اور برا بنادیتے ہیں۔ رومان ، چاہتیں اور خوشیاں اگر واقعی زندگی سے تعلق رکھتی تو تسنیم سلیم چھتاری یقیناً اردو افسانہ نگاری میں ایک اہم اور منفرد حیثیت کی حامل ہوتیں۔
جیلانی بانو کے افسانوں کے کردار متوسط طبقے کے افراد ہیں۔ یہ نئے ہندوستان کے وہ کردار ہیں جو سابقہ تہذیب اور زندگی کی بچی ہوئی یادیں اپنے سینے سے لگائے نت نئی تبدیلیوں کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں آزاد ہندوستان کی بیکاری، فاقہ کشی گھلا کر مار رہی ہے۔ جیلانی بانو کے اہم کرداروں میں ’’موم کی مریم‘‘ کی قدسیہ، ’’دیوداسی‘‘ کی ملکہ اور حمید، ’’روشنی کے مینار‘‘ کی پرکاشو، ’’ڈریم لینڈ‘‘ کی روشن ،نینا اور نشاط، ’’مٹی کی گڑیا‘‘کا سلیم اور لکشمی، ’’بھور اور چراغ‘‘ کی سرلادیوی،’’آئینہ‘‘ کے اسلم، فاطمہ اور امان،’’پنچوں کی رائے‘‘ کی شبراتن، ’’فصلِ گل جو یاد آئی‘‘ کی منی، ’’ایک انار‘‘ کا اطہر اور مجیا، چھمیا، ’’نئی عورت‘‘ کی نغمہ، ثریّا اور شباب وغیرہ ہیں۔ یہ کردار ہمارے معاشرے کے چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔جیلانی بانو نے ان کے دکھوں اور غموں کو دیکھا ہے،’فصلِ گل جو یاد آئی‘‘ کی منی والدین کی مرضی کے مطابق ایک جاہل بد سلیقہ اور دیہاتی نوجوان کے پلّے باندھ دی جاتی ہے۔’’بھنور اور چراغ‘‘ کی سرلا دیوی منی،نینا اور لکشمی کی طرح نہیں ہے۔اس نے زندگی کی جدوجہد میں براہ راست قدم رکھا ہے۔’’روشنی کے مینار‘‘ کی پرکاشو اس روشنی کے مینار کی طرح ہے جس سے مسافر اپنی منزل مقصود پالیتا ہے یہ کردار زندہ اور جیتے جاگتے ہیں۔
ہم لوگ تہذیب کو ترقی دیتے دیتے اتنی دور جاپڑے ہیں کہ اب عورت عورت نہیں میٹھی گلاب جامن بن کر رہ گئی ہے۔اور مرد وحشی درندہ ہے جو بھوکھا کتا بن گیا ہے۔‘‘
جیلانی بانو کی کردار نگاری پر اثر ہے ان کے کرداروں میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی امتیازی لکیر نہیں کھینچی گئی ہے ۔مرد اور عورت کے درمیان دو رشتے بھی خاص اہمیت کے ساتھ پیش کے گئے ہیں۔ایک تو عورت مرد کی ہوس پرستی کا شکار نظر آتی ہے۔دوسرے عورت عزیزوں اور رشتہ داروں کے استحصال کے علاوہ سماج کے دوسرے مردوں کی حرم سراؤں کو بھی روشن کرتی ہے۔ان کے افسانوں کے کردار وہ لڑکیاں ہیں جو گھریلو پابندیوں سے عاجز آکر اپنی دنیا آپ بسانا چاہتی ہیں۔ جیسے افسانہ ’’موم کی مریم‘‘ کی قدسیہ مردوں کی بے رحمی کا شکار ہوجاتی ہے۔اسی طرح ’’دیو داسی‘‘ کی ملکہ بھی ہے جو نچلے طبقے کی عورت ہونے کی باعث ایک اعلیٰ طبقے کے آدمی سے باوجود گہری محبت کے بعدشادی نہیں کرپاتی۔ان کہانیوں میں پیش کی گئی عورت مظلوم ہے۔جو حالات کے مدنظر مردوں کی محبت نہیں پاتی۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں ایک بھی کردار ایسا پیش نہیں کیا جس کے وجود پر یقین نہ آتا ہو۔ان کے کرداروں کی نسوانی دنیا عصمت کی طرح جنسی الجھنوں میں مبتلا نہیں ہے۔
واجدہ تبسم کے افسانوں کے کردار مردا ور عورت دونوں ہیں۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں جاگیرداری طبقے کے اعلیٰ افراد کو کردار بناکر پیش کیا۔سماج کی گھناؤنی رسموں حیدرآباد کے معاشرے اور جاگیرداری تہذیب میں عورت کے جنسی استحصال کو اپنے افسانوں کاموضوع بنایا۔’’اللہ کے نام پر‘‘ اور ’’لڑکی بازار‘‘ جیسے افسانوں میں روسا اور امرا کے کردار پیش کئے جو نچلے طبقے کے ساتھ ظلم اور نا انصافیوں میں مصروف رہتے تھے۔واجدہ کے افسانوں میں جنس کا غلبہ ہے۔ان کے کردار بے راہ روی یاجنسی الجھنوں کا شکار نہیں۔یہ کردار کھاتے پیتے گھرانوں کے آسودہ حال نوجوان ہیں۔جن کی ذہنی آسودگی جسمانی تقاضا بنی ہوئی ہے۔افسانہ ’’پھانس‘‘ میں انسانی ذہن کے ایک ایسے گوشے کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جس میں حسد اور رقابت کی آگ شدت سے سلگتی ہے کہ آدمی خود اس میں بھسم ہوتا چلاجاتا ہے۔واجدہ تبسم نے اس افسانے میں کرداروں کے ذریعہ عورت کی فطرت کی بعض کمزوریوں اورخواہشات کو بھی بڑے معصوم انداز میں پیش کیا ہے۔واجدہ نے اپنے افسانوی کرداروں کے ذریعہ ذہنی طور پر قدیم ہندوستانی قوم کی ضعیف الاعتقادی کو بھی بیان کیا ہے۔افسانہ ’’پھول کھلنے دو‘‘ میں ’بندو‘ کو کردار بنا کر قدیم ہندوستان میں ہریجنوں کی بدحالی کو پیش کیا ہے۔الغرض واجدہ تبسم کا یہ افسانہ آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد ہریجنوں کی معاشی اور سماجی حالت کا بہترین عکاس ہے۔جس میں قدیم ہندوستان میں ہریجنوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں اور جبرو ظلم کا ذکر کیا گیا ہے۔وہیں افسانوی کرداروں کے ذریعہ آزادی کے بعد ان کی بہترہوتی حالت کو بھی بیان کیا ہے۔ان کے افسانوں میں ایک مخصوص طبقہ اور مخصوص ماحول کی نمائندگی بھی ملتی ہے۔یہ مخصوص اعلیٰ طبقہ حیدرآباد کے نوجوانوں اور امراء کا ہے کہ کس طرح یہ طبقہ آہستہ آہستہ کھوکھلا ہورہا ہے۔واجدہ نے اس طبقے کی بیماری کو بڑی خوبی کے ساتھ کرداروں کے ذریعہ پیش کیا ہے۔کھوکھلی تہذیب کی گرتی دیواروں اور ان کے نقش و نگار کو ایک دستاویز کی حیثیت دینے کی جو کوشش ان کے افسانوی کرداروں میں ملتی ہے و ہ اپنے محدود دائرے میں کم ہے۔اس لحاظ سے واجدہ تبسم کواردو افسانہ نگاری میں ایک منفرد حیثیت دی جاسکتی ہے۔
قرۃ العین حیدر کے افسانوں کے کردار زیادہ تر متوسط طبقے کے افراد ہیں۔ان میں لڑکیاں زیادہ اور لڑکے کم ہیں۔ان کے افسانوں میں معاشی ضرورتیں سماجی اور تہذیبی زندگی کے دوسرے مسائل نہیں ملتے۔یہ تمام کردار دنیا کے سب مسئلوں سے آزاد ہیں۔صرف انہیں عشق کی بیماری لگی ہے۔اور اس عشق میں نہ افلاطونی نظریہ پنہاں ہے اور نہ جذبہ کا خلوص چھپا ہے۔بلکہ یہ عشق ایک طرح سے بازار کی منڈی ہے۔جہاں ہر خریدار مال خریدتے وقت سامان کو اچھی طرح اُلٹ پلٹ کر دیکھ لیتا ہے۔مختصر افسانوں میں کرداروں کی زیادتی فنی نقطۂ نظر سے خراب سمجھی جاتی ہے۔لیکن قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں کرداروں کی بہتات ہے۔’’برف باری سے پہلے‘‘، ’’ کیکٹس لینڈ‘‘، ’’دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم‘‘؛’’میں نے لاکھوں کے بول سہے‘‘؛ ’’یہ داغ داغ اُجالا‘‘ وغیرہ جیسی کہانیوں میں دس دس کردار ہیں۔ان کے نام پولی، جیمی،زون، نشاط، پوم پوم ڈارلنگ، ممی ،رومی وغیرہ ہیں۔ان کے کرداروں میں مسلم گھرانوں کے افراد کی اکثریت ہے۔یہ ہندوستان کی مجموعی زندگی کے ترجمان نہیں ہیں۔ان میں حرکت اور جدوجہد کا حوصلہ نہیں۔ یہ عملی زندگی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتے۔ یہ کتابی کیڑے ہیں۔ ان کے کرداروں کی دنیا اداس، خاموش اور حزن امیز ہے۔ ان میں اضطراب اور بے چینی نہیں ہے۔ ان میں سپاٹ پن ہے۔ عام طور پر ان کرداروں کو خیالی کہا جاسکتا ہے۔ایک عرصہ تک قرۃ العین حیدر ان ہی کرداروں کے دام میں اسیر رہیں۔ لیکن بعدکے افسانوں میں ان کا زاویہ نظر دوسرا ہے۔ وہ اپنے طبقے کے افراد کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ان کے خیالات اور عمل کے پیچھے جو اسباب پوشیدہ ہیں ان کی جستجو کرتی ہیں۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کس طرح ادب، سیاست اور سماجی زندگی کے دوسرے شعبہ کومنافع پسندی کے لئے قربان کررہا ہے۔ اس کے لئے ’’ہاؤسنگ سوسائٹی‘‘ کا جمشید سلیمان دو مختلف زندگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ افسانہ ’’حسب و نسب‘‘ کی کہانی ایک سماجی المیہ ہے جو ایک رئیس خاندان زمین دار کے اردگرد گھومتی ہے۔
’’چھمی بیگم نے اپنی کوٹھری میں جاکر ایک بار پھر جانماز نکالی وضو کیا اور نفل پڑھنے لگیں۔ اور اس رب ذوالجلال کا شکریہ ادا کیا جسے اپنے بندوں پر دو دو وقت ہنسی آتی ہے۔ اس پاک پروردگار نے ان کے باپ دادا کی لاج ان کے حسب و نسب کی عزت رکھ لی۔‘‘
قرۃ العین حیدر نے اس افسانے میں کرداروں کے عمل کے وسیلے سے ایک تہذیب کی موت اور دوسری کی پیدائش و نشودنما کو بڑے فن کارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔قرۃ العین حیدر کے افسانوں کے کردار مسوری کی برفیلی وادیوں مین انجانے خواب دیکھتے ہیں۔ دارجلنگ، مشرقی پاکستان کے گاؤں، باغوں، تالابوں، مشرقی ایشیا کے گھنے جنگلوں ،پہاڑوں اور ندیوں میں رومانی ماحول کے پیکر تراشتے ہوئے نظر آتے ہیں۔قرۃ العین حیدر رومان کو حقیقی پس منظر میں تلاش کرتی ہیں۔ زندگی کو عام حسن کے ساتھ سمیٹنے کا تصور رکھتی ہیں۔ ان کے افسانوں کی عورت خاموش، اُداس اور درد و غم کی تصویر ہے۔
***
Viewers: 14538
Share