Haseeb Ejaz Ashir | Column | کیا یہ دکھ کی بات ہے

کیا یہ دکھ کی بات ہے؟
حسیب اعجاز عاشرؔ
ایک ہفتہ قبل پاکستان کے ایک معروف کالم نویس کے کالم کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، سوچا اس بارے اپنے خیالات کا اظہار کروں، پھر سوچا کہ رہنے دوں وہ کہاں نامورلکھاری جن کے جملے جملے لفظ لفظ حرف حرف کامول لگتا ہے اور کہاں میں جو کبھی کبھار لکھ کر چند دوستوں سے پذیرائی کی درخواست کروں تو چندمروت میں لاج رکھ لیتے ہیں۔لیکن اس باربات ہماری قوم اور ہمارے معاشرے کی تھی،جس نے کئی روز تک مجھے گہری سوچ میں ڈالے رکھا۔پھر آخر ایک تڑپ نے انگلیوں میں جنبش پیدا کی اور قلم کوسفید کاغذ پرچند خاکے کھینچنے پر مجبور کر دیا ۔خیر ان معززکالم نگار نے اپنے کالم میں وہی لکھا جواُسکی سوچ اور اُسکے بے اختیار نازک احساسات و جذبات نے حالات و واقعات کا اثر لیا۔.کالم میں پاکستان کی ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کے ایک انگریزی زبان اور انگریز کے حوالے سے بیان کو کڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔اور پھر کیا ………..دو سیاسی جماعت سمیت پوری قوم و معاشرے کی ایسی تیسی پھیر دی گئی ،انداز اور لہجے سے ایک غیر مسلم،بد تہذیب معاشرے سے ہمارا موازنہ کر کے ایساتاثر دیا گیا جیسے ہم کوئی گھٹیا معاشرے کا حصہ ہوں،
یہ بات ٹھیک ہے کہ ہمارے معا شرے کواسلام و ملک دشمن طاقتیں اندرونی انتشار کا شکارکرنے کی مسلسل کوشش میں ہیں۔مگرہم اپنی تاریخ کے اوراق سے دھول اُڑاکرپلٹیں تو فتوحات کی ایک لمبی فہرست ملے گی،یہ تاریخی فتوحات اپنی جگہ ہم نے تواپنے افکار،تعلیم اورکارناموں سے بھی سنہری تاریخ رقم کی ہے ۔کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں جنہوں ہودو میٹرز،مختلف اقسام کے پمپ، ڈویلپمنٹ آف کیمسڑی، کیوسکس، سکیل آف میوزک، مشرقی پرفیومری انڈسٹری، سول انجینرنگ،میکینیکل انڈسٹری،پری فیبریکیٹڈ ہومز اینڈ مووایبل سٹریکچرز،کلاک ٹیکنالوجی، ایجاد کیے ،کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں ڈایورزن ڈیم،ریڈ کارپٹ، دنیا کا پہلا سافٹ ڈرنک، سائٹ سیور، پہلی تجرباتی فلائٹ کی کوشش، پہلی ونڈمل، فرام باکٹ ٹو بائیک، ماڈلنگ دی سٹارز،پینڈولم، کمپاس ایجاد کیے ،کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں جنہوں نے مختلف اقسام کے کلاکس اینڈ گھڑی،آسٹرونومی،نیویگیشن،میتھ میٹکس،شوگر ریفاینرز،واٹر ٹربن، میڈیکل سائنس،میڈیکل یونیورسٹی اینڈ پبلک ہسپتال ایجاد کیے ،کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں مصنوعی موسمی ردوبدل، مکمل ملٹری ٹیکنالوجی،پوٹاشیئم نائٹریٹ کی پیوریفیکیشن،فائیر پروف کپڑے اینڈ ڈیزالوڈ پاؤڈر،،اٹومیٹک دروازے، کرینک شافٹ،کینکٹنگ راڈ،انجنز،وینٹی لیٹر،آن آف سوئچ ایجاد ات کی ،کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں جنہوں پہلی مصنوعی پاورڈ مینڈ راکٹ،کیمرہ ٹیکنالوجی،کیمیکل ٹیکنالوجی اینڈانڈسٹری،،لیبارٹریز،،اینالاگ مشین (کمپیوٹر)،انسٹرومنٹس، برائیل، توتھ برش، شیمپو،سوپ، کاسمیٹک، گن پاوڈر، گارے کو گولڈ میں بدلناایجاد کیے،کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ ہم انکی اولادہیں جنہوں،پلاسٹک سرجری، کیلیگرافی، کپڑے اور پیپر کی مینوفیکچرنگ،زراعت میں اصطلاحات، واٹر مینجمنٹ،چس، لائبریریز، جیوگرافی،پے چیک، ٹریولنگ، ارکیٹکچرنگ وغیرہ وغیرہ وغیرہ جیسی اسلامک ایجادات سے ساری دنیا کو بدل ڈالا اور مستقبل میں رہنمائی کیلئے علم کا خزانہ بھی فراہم کیا۔
بحثیت پاکستانی کیا یہ باعث فخر نہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی سب سے بڑی ولنٹیر ایمبولینس اورگنائزیشن ہے۔.کیا یہ باعث فخر نہیں کہ ہم کرکٹ ورلڈ چیمپین ہونے کے علاوہ بیشمار ورلڈ ریکارڈ بھی رکھتے ہیں،ہاکی اور سکوائش میں بھی ہم نے تاریخ رقم کی ہے،.کیا یہ باعث فخر نہیں کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں،.کیا یہ باعث فخر نہیں کہ حال ہی میں ہماری یوتھ نے ۳ دن میں ۱۲ عالمی ریکارڈ بنا کہ اپنی یک جہتی اور حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے.کیا یہ باعث فخر نہیں کہ ہماری سونا اُگلتی دھرتی نے ارفع کریم،نصرت فتح علی خان،قدیر خان،ثمرمبارک،وسیم اکرم،شعیب اختر،ظفرگِل،عبدالستارایدھی،حسن رضا،جہان شیر خان،،جہانگیر خان،محمدآصف سنوکر چیمپین،مہک گِل،احمد امین بودلہ،علیم ڈار،ایم ایم عالم،ڈینٹل گل اور قمر زمان،دیانتدارعمر اجمل خان،شافع تھوبانی،کم عمر سول جج محمد الیاس، سلطان راہی کو جنم دیا ہے،کیا یہ باعث فخر نہیں دنیا کی بہترین گارمنٹس،سرجیکل کا سامان،عالمی سطح میں استعمال ہونے والے کھیلوں کا سامان یہاں بنتا ہے، دنیا کی دوسری بڑی چوٹی کے.ٹو،بہترین ڈیمز،سب سے بڑی نمک کی کان ہمارے پس ہیں،یہ باعث فخر نہیں کہ دنیا کے ساتویں بڑی جدید ترین اسلحہ سے لیس دنیا کی بہترین پیشہ ور فورس ہمارے پاس ہیں،کیا یہ باعث فخر نہیں کہ خیبر پختون خاں کے خوبصورت برف سے ڈھکے پہاڑ،سندھ میں دنیا کا بہترین ریگستانی علاقہ،پنجاب کی بہترین زرعی زمین،بلوچستان کی معدینات سے بھرپور قیمتی زمین،دنیا کی جنت کشمیر،ایشیاء کا تیسرا فری اینڈ ڈیپ سی پورٹ گوادر ہمارے پاس ہے۔کیا یہ باعث فخر نہیں کہ قراقرم پاس، مشہور سلک روٹ، بولان پاس،ٹیکسلا یونیورسٹی،دنیا کا پہلا بزنس سکول،ریور انڈس دنیا کا دوسرا بڑا دریا ہمارے پاس ہیں،دنیا کا بڑا مہاجر کیمپ یہاں ہیں،یہ باعث فخر نہیں کہ لامحدود گیس کے ذخائر،سیاحت کیلئے دنیا کا خوبصورت ملک، چار موسم،آٹھ بلند ترین خوبصورت چوٹیوں میں سے چھ پہاڑوں سے اللہ تعالی نے ہمیں نوازا ہے،اللہ تعالی نے اپنی جن جن فیاضیوں سے پاکستان اور پاکستانیوں کو نوازا ہے انکی تفصیلات میں جانا ہی ناممکن ہے۔
جن کی سچائی کی بات کی جا رہی ہے انہوں نے ۱۹۶۵ کی جنگ میں عین جب بھارت شکست کھا رہا تھا ہمیں دھوکا دے کر ہماری امداد کو روک دیا جبکہ ہم پہلے ہی سے سینٹو اور سپٹوکے دفاعی معاہدے میں تھے۔۱۹۷۱میں ہمیں آخری وقت خوش فہمی میں رکھا گیا کہ ساتواں بحری بیڑہ مدد کو آرہا ہے اور جن سے دوستی کی قیمت ہم ابھی بھی ادا کر رہے ہیں،ہماری بربادی دیکھتا رہے۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ’لسٹ وَرس ‘‘ کے مطابق دنیا کی سب بڑی دس ڈکیٹیوں میں پاکستان کا نام شامل نہیں بلکہ چھ گوری چمڑی والے دیسوں میں ۱۸ مارچ۱۹۹۰ میں بوستان میوزیم یو ایس میں ۳۰۰ ملین کی ڈکیٹی ہوئی،یو کے میں سٹی بونڈز کی ۲۹۲ ملین کی ڈکیٹی ۲مئی۱۹۹۰ میں ہوئی۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ دسمبر۲۰۱۱ میں دی فسکل ٹائمز کے’’دی ٹن لارجسٹ گلوبل بزنس کرپشن کیسز‘‘ ارٹیکل کے مطابق پاکستان کا نام کہیں نہیں. جبکہ یو ایس،جرمنی،فرانس،جاپان اور سویس شامل ہیں او ر ۵۷۹ ملین ڈالر کی سب سے بڑی کرپشن نومبر۲۰۰۹ میں کے۔بی۔آر ہیلی بڑٹن (یو ایس)میں ہوئی۔جس ہمسایہ ملک بھارت کی حکومت ،حمہوریت اور اسکی شفافیت کی بات کی جاتی ہے وکی پیڈیامیں شائع ہونے والی ٹراسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ۲۰۰۵کے مطابق ۶۲فیصدبھارتیوں کو حصولِ نوکری کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ دنیا کی تایخ کا سب سے بڑا قاتل پاکستانی یا مسلم نہیں رُوسی’’وسل بلوخن‘‘.ہے،کمیونسٹ پارٹی آف دی سویت سے تعلق رکھنے والے اس فردِ واحدنے اپنی گولی سے ۷۰۰۰ پولش کے جنگی قیدیوں کو ۲۸ دن میں قتل کیا۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ دنیا کی تاریخ کا سب بڑا قتلِ عام جس میں سٹیٹ ملوث تھی، میں بھی ہم نہیں بلکہ سب جانتے کہ کون سی مہذب قوم نے ہیروشیما پر غضب ڈھایا.کسطرح ٹوکیو،چونگنگ، ڈریسڈین پر سٹریٹیجک بمبنگ کی گئی۔شاید ہم بھول گئے کے ایک اور انسانیت کے قدر دان ہٹلر کا قتل و غارت کیسا تھا،کوئی ۳ لاکھ کوئی ۶ لاکھ کی تعداد بتاتا ہے۔یہودیوں کو قتل کر کے انکے جسموں سے بال صاف کر کے ،کنوئیر پر ڈال دیا جاتا اور بھٹیوں میں پگھلا کر نالوں میں بہا دیا جاتا.سڑکوں ،گلیوں میں انکی لاشیں اُٹھانے والا نہیں رہا۔یہی مہذب قومیں برما،فلسطین،افغانستان اور کشمیر میں ہونے والی خون ریزی پے خاموش ہیں۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ اگر عیاشی کی بات کی جائے تو دنیا کے ۲۰ بڑے مہنگے عیاش ترین ہوٹلز بلڈنگز میں سے ایک بھی پاکستان میں نہیں بلکہ ۱۸ تو کسی مسلم ممالک میں ہیں ہی نہیں۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ’’اِنفو پلیئز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے دس بڑے کرپٹ لیڈرز میں کوئی بھی پاکستانی نہیں بلکہ ۹ کا تعلق تو کسی بھی مسلم ممالک سے نہیں۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ’’بزنس اِنسائیڈر‘‘ میں دسمبر ۲۰۱۲ میں مائیکل کیلی کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دنیا کے بارہ بڑے کرپٹ ممالک میں پاکستان شامل نہیں۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ’’بزنس اِنسائیڈر‘‘ کی ہی دسمبر۲۰۱۰ میں چاندنی راتھوڑ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں دنیا کی دس بُری ترین ائیر لائن میں کوئی پاکستانی ائیر لائنز شامل نہیں مگر یو ایس ائیر لائن ضرور شامل ہے۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ جورڈن رانے کی نومبر ۲۰۱۱ میں’’ دنیا کے سب سے زیادہ بُرے ائیر پورٹس‘‘کے حوالے شائع ہونے والے ارٹیکل کے مطابق بھی صورتحال ویسی ہے جو ائیر لائنز کی ہے۔وکی پیڈیا میں وہ ریپ کیسزجو پولیس ریکارڈ میں درج ہیں صرف ۲۰۰۳۔۲۰۱۰ میں یو ایس میں یو۔این ریپ سٹیٹسٹک کے مطابق ساتھ لاکھ پینتیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔کیا یہ دکھ کی بات ہے کہ اس رپورٹ میں بھی پاکستان کا ذکر نہیں؟
کیا یہ حقیقت نہیں کہ فوجی کا بیٹا فوجی،ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر، موچی کا بیٹا موچی، درزی کا بیٹا درزی، شاعر کا بیٹا شاعر،قاری کا بیٹا قاری،وکیل کا بیٹا وکیل،ادیب کا بیٹا ادیب،صحافی کا بیٹا صحافی وغیرہ وغیرہ ہو سکتے ہیں،توپھر پاکستان میں سیاستدان کا بیٹا سیاستدان ہونے پرباعنوان’مورثی سیاست‘‘ پر بحث و مباحثہ کر کے قیامت کیوں ڈھا دی جاتی ہے۔بہت ذیادہ تاریخ کو نہ بھی چھیڑا جائے تو سنیئر بش،جونیئر بش،کلنٹن اور ہیلری کلنٹن بھی ایسی ہی سیاست کی مثالوں میں سے نہیں؟کوئی بیٹا اپنے باپ سا قابل ہو گا تو ہی اپنی باپ کی وراثت کو خوش اسلوبی سے سنبھال پائے گا اور عوام تسلیم بھی کرے گی،ورنہ کسی کو ورثے میں ملی سیاست یاپیشے کو آج کی باشعور عوام کسی صورت قائم نہیں رہنے دے گی۔
ہم بدتہذیب نہیں بس ہم کو نیندِغفلت سے بیدارکرنے کی ضرورت ہے،جو کام ہمارے والدین،اساتذہ اکرام، علماء اکرام، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا ہے،آج کی تیزی سے کروٹیں بدلتی دنیا میں سب سے اہم ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔خدارا اس آزاد میڈیا کو ہمارے گلے کا طوق نہیں سر کا تاج بنائیے ، یہ اِس پرمنحصر ہے کہ ہمارے اچھے امیج کونمایاں کر کے ہمیں دنیا میں انمول بنا دے یا چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں کو ہائی لائٹ کر کے ہمیں دو کوڑی کا کر دے،ہماری جذبہ حب الوطنی سے ہماری رہنمائی کر کے ہمیں سنوار دے یا دوسری کی ثقافت کی ہم پر یلغار کر کے ہمیں بے کار کر دے۔ تخریب کاریوں کو غلط رنگ دے کرمسلکوں اور ذات پات کی جنگ میں ہمیں دست و گریبان کر کے دشمنانِ قوم و ملت کے ہاتھ مضبوط کر دے یا پھربھائی چارگی، صبرو تحمل اور ہمت کا درس دے کر قوم کو متحد کئے رکھے۔غیر یقینی صورتِ حال میں مایوسی پھیلا کر ہمارے حوصلے توڑدے اور نا امید کر دے یا پھرامیدِ بہار سے شجر سے ہمیں پوستہ کئے رکھے۔ہم میں آج بھی قائدواقبال زندہ ہیں جس کی تلاش انہیں نے کرنی ہے،ہماری باصلاحیت یوتھ آج بھی ہر میدان میں بازی لے جا سکتی ہے لیکن انکو بھی انہیں نے تراشنا ہے۔بس اس میڈیانے ایک شفیق ماں کیطرح اس قوم کی انگلی پکڑ کر اس بنجر ہوتی زمین کو پھر سے سر سبز شاداب گلشن بناناہے تا کہ ہم اپنا کھویا ہوا تشخص پھرحاصل کر سکیں۔
Viewers: 1705
Share