آل انڈیا افسانچہ اکیڈمی کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار ’’افسانچہ کل آج اور کل‘‘ کا کامیابی کے ساتھ اختتام۔

درگ (۲۴فروری ) :دو روزہ آل انڈیا افسانچہ اکیڈمی کے دوسرے دن کے پہلے سیشن میں مقامی اور دوسری ریاستوں سے آئے۔مندوبین حضرات نے اپنی نگارشات پیش کیں۔ اکیڈمی کی جانب سے تمام افسانچہ نگاروں سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ وہ اپنی جانب سے صرف دو افسانچے ہی پیش کریں۔ شرکا نے تقریباً اس کی پابندی کی۔
اس سیشن میں ہندی لگھو کتھا کے چھ اور اُردو افسانچہ نگاروں میں گیارہ تخلیق کاروں نے شرکت کرتے ہوئے اپنی تخلیقات پیش کئے۔ افسانچہ پیش کرنے والوں میں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری(میرٹھ) ، خورشید حیات(بلاسپور)، ڈاکٹر ایم اے حق(رانچی)، محمد بشیر مالیرکوٹلوی(مالیرکوٹلہ)، رونق جمال(درگ)، ڈاکٹر وکیل رضوی(جھارکھنڈ)، ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ(یوپی)، ڈاکٹر عشرت بیتاب(بنگال)، اشتیاق سعید(ممبئی)، ایم آئی ساجد(مہاراشٹر)،رحیم رضا(جلگاؤں)،معین الدین عثمانی (مالیگاؤں)اور سالک جمیل براڑ (پنجاب )کے علاوہ لگھو کتھا کاروں میں شری دوی شریواستو، آشوک شرما، گلبیر سنگھ بھاٹیا، ڈاکٹر کے ایس پرکاش ، ڈاکٹر سنجے دانی اور مسزمیتا داس نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔
خورشید حیات اور اسلم جمشیدپوری نے افسانچہ نگاروں کے افسانچوں کا تجزیہ پیش کیا۔ اس سیشن کی صدارت جناب ایم آئی ساجد اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر وکیل احمد رضوی نے انجام دیئے۔افسانچہ اکیڈمی کی جانب سے اکیڈمی کے صدر رونق جمال اور سکریٹری ڈاکٹر ایم اے حق نے باہر سے آئے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیااور انہیں سند توصیفی کے ساتھ ساتھ مومنٹو بھی پیش کئے۔ علاوہ ازیں تمام شرکاء حضرات کو بھی سند توصیفی پیش کرکے انہیں اعزاز بخشا۔
اس موقعہ پر فن افسانچہ نگاری کو فروغ و ارتقا دینے اور اسے مضبوطی و استحکام بخشنے کی غرض سے شرکاء نے اپنے گرانقد آراء بھی پیش کئے جس پر غوروفکر اور اسے جامہ پہنانے کا وعدہ اکیڈمی کے عہدہ داروں اور ذمہ دارں نے کیا۔اس طرح آل انڈیا افسانچہ اکیڈمی کا یہ دو روزہ سیمینارپوری کامیابی اور آب و تاب کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
***

Viewers: 1174
Share