ظہورالاسلام جاوید اور ڈاکٹرعاصم واسطی کی میزبانی میں رشید حسین کےاعزازمیں محفلِ سخن

شاعروادیب اپنےدل کی آواز شعراور نثر سے دکھی انسانیت کی ترجمانی کرتے ہیں:رشید حسین
ظہورالاسلام جاوید اور ڈاکٹرعاصم واسطی کی میزبانی میں رشید حسین کےاعزازمیں محفلِ سخن
رشید حسین اورمقامی شعراء نےاپنا کلام پیش کیا۔ مہمان شاعر نے اپنی تصیف “نئی منزلوں کے مسافر” شرکاء میں تقسیم کیں
ابوظبہی (حسیب اعجاز عاشر) شاعر و ادیب اپنے دل کی آواز شعر اور نثر سے دکھی انسانیت کی ترجمانی کرتے ہیں جو قابلِ تحسین ہے جبکہ ادب کی آبیاری کرنا اُسے بھی بڑا کام ہے، اور اس حوالے سے محفل کا اہتمام کرنا، اُسے سجانا، اور اُسے خوش اسلوبی سنبھالنا بھی بہت اہم ہے۔ دیارِ غیر میں جس طرح ظہورالاسلام جاوید اور ڈاکٹرصباحت عاصم واسطی ایک طرف تو اچھا ادب تخلیق کر رہے ہیں اور اسکے فروغ کے لئے اپنے مخلصانہ خدمات بھی پیش کر رہے ہیں یہ یقیننا حوصلہ افزاء ہی نہیں بلکہ قابلِ فخر بھی ہے،اِن خیالات کا اظہار لندن سے آئے جناب رشید حسین نے ظہور الاسلام جاوید کے زیرِاہتمام ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کہ رہائش گاہ پر اپنے اعزاز میں منعقدہ خوبصورت محفلِ سخن میں اظہارِتشکر میں کیا انہوں نے کہا کہ اتنی خوبصورت محفل کے انعقاد پر میں انکا تہہ دل سے مشکور ہوں۔محفل میں نئے شعرااکرام کے منفرد کلام نے مجھے فرحت بخشی ہے نئے شعراء اکرام کا اردو کے تمام تقاضوں کے مطابق کلام لکھنا اور پھر حروف کی صیح ادائیگی میرے لئے باعثِ مسرت رہی ہے۔سماعتوں کو یقینناۡ مکمل غذا میسر آئی جو کہ یورپ اور امریکہ میں ملنا مشکل ہے،خیالات کی ترسیل کے لئے ایسی محفلوں کا انعقاد بہت ضروری ہے تاکہ علم سینہ با سینہ آگے منتقل ہوتا رہے۔اپنی تصنیف “نئی منزلوں کے مسافر” کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پچھلی نصف صدی میں ہجرتوں کے جن مراحل سے میں گزرا ہوں اور جن چیزوں کو بذاتِ خود دیکھنے اور ان کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے وہ اپنی قدروقیمت میں بے بہا ہیں اور بس یہی ایک چیز ایسی تھی جس نے مجھے آمادہ کیا کہ میں اپنے ان تجربات کو لفظوں کا جامہ پہناوں۔میری فیملی سمیت میرے عزیزوں،دوستوں اور خیراندیشوں کی حوصلہ افزائی اور مدد اگر ہر قدم پر شاملِ حال نہ ہوتی تو میں یقینی طور پر اس کتاب کو مکمل نہ کر پاتا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں شائع ہونے والی انکی تصنیف “نئی منزلوں کے مسافر” انکے چشم دید ذاتی تجربات اور تاریخی حقائق پرمبنی پانچ باب ہندوستان کے بٹوارے کی حوالے سے “یادوں کے چراغ”، سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے “نئی منزلوں کے مسافر”،یو اے ای کی ترقی اور یہاں اردو کا حال کے حوالے سے “مشرقِ وسطی کے شب و روز”،لندن میں گزرے وقت کے حوالے سے “لندن کی کہانی لفظوں کی زبانی” اور مغرب کی ہجرت کے تناظر میں”کیا کھویا کیا پایا” شامل ہیں۔ جو کہ قاری کے لئے کسی بھی دلچسپی سے کم نہیں ہے۔ جبکہ انکا مجموعہ کلام “آئینہ پسِ آئینہ” پہلے ہی سے حلقہ احبابِ ذوق میں بہت مقبول ہے۔

محفل کا آغاز تلاوت قرآنِ پاک سے ہوا جسکی سعادت سلمان خان نے حاصل کی، نظامت کے فرائض سلمان احمد خان کے حصے میں آئے۔ افتتاحیہ کلمات میں ظہورالاسلام جاوید نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور صدرِ محفل ومہمان شاعر رشید حسین کا مختصراۡ تعارف پیش کیا جبکہ تقریب کے انعقاد میں ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کے تعاون کو تہہ دل سے سراہا، تمام شعراءاکرام جنمیں ظہورالاسلام جاوید، تسنیم عابدی، ڈاکٹر عاصم واسطی، طیب رضا۔ طارق بٹ، سلمان خان، فقیر سائیں، آصف رشید اسجد، عبدالاسلام عاصم، فرہاد جبریل اورارسلان طارق شامل تھے نے اپنے اپنے کلام اور منفرد اندازِبیان سے خوب داد کے حقدار بنے۔کئی فرمائشی کلام بھی پیش کیا گیا جس نے محفل کی رونق میں اضافہ کر دیا۔ مہمان شاعر رشید حسین نے کئی غزلیں اور نظمیں پیش کی، انکی شاعری اُس غیر معمولی گہرے احساس کی ترجمانی کررہی تھی جو انہوں نے سمندروں، خلیجوں اور جزیروں کے فاصلوں میں محسوس کی ہے اور جسے یہ بے اختیار اپنی محبتوں کا پیغام لئے شاعری سے سمیٹنے میں کوشاں ہیں۔رشید حسین اپنے جداگانہ تخلیقی کلام کے ہراشعار، ہر سطر پر پُرذوق سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔
محفلِ سخن میں شعراءاکرام کے پیش کئے گئے کلام سے منتخب اشعارقارئین کی نذر
رسلان طارق بٹ
رَوَیا تو نے جو ہم سے روا رکھا
نام زہر کا بھی ہم نے دوا رکھا
فرہاد جبریل
زمین اور آسمان کے درمیان خلا ہے جو
میرے فرار کے لئے بہت بڑا شگاف ہے
عبدالسلام عاصم
کھو گیا ہے سماں خوشبووں کا یہاں
ورنہ ہوتا گزر تتلیوں کا یہاں
سلمان خان
تجھے پا کر کبھی کھویا نہیں کچھ
تجھے کھویا تو پایا کچھ نہیں ہے
آصف رشید اسجد
تم اپنے دل کو بڑا کر کے صاف بات کرو
بچھرنا ہے تو ضرورت نہیں بہانے کی
فقیر سائیں
تیرگی ہو تو اُسے نُور نہیں لکھ سکتا
خُون کو مانگ کس سندھور نہیں لکھ سکتا
طارق حسین بٹ
حال اُن پر میرا عیاں ہوتا
کوئی میرا بھی رازداں ہوتا
طیب رضا
یہ اتفاق ہے وہ میری آنکھ کا زینہ
اتر رھا تھا کہ میں خواب سے نکل آیا
ڈاکٹر عاصم واسطی
ہدایت کار نے کیسے معطل کر دیا منظر
کہانی ختم کیوں کر دی، ابھی کردار باقی ہے
تسنیم عابدی
ہوا کو یہ بھی بتایا کہ روشنی ہے کہاں
چراغ کو بھی میرے راستے میں رکھا گیا
ظہور الاسلام جاوید
ہے حرف شناسی کسی آئینے کی مانند
پتھر کوئی پڑ جائے تو سب حرف بکھر جائیں
رشید حسین
(نظم)
آئینہ دیکھا تو چہرہ نظر آیا مجھ کو
ایک دھندلا سا سراپا نظر آیا مجھ کو
ایسا لگتا ہے کہ پہچاں رہا ہوں خود کو
محوِ حیرت بنا آئینے کو میں دیکھتا ہوں
جس طرح آئینہ حیرت سے مجھے دیکھتاہے
محفل کے اختتامیہ کلمات میں میزبان محفل ڈاکٹر عاصم واسطی نے مہمان شاعر رشید حسین کا شکریہ ادا کیا جنکی قبولیتِ دعوت اس شاندار محفل کے انعقاد کا باعث بنی۔ محفل میں اختتام تک شرکاء کی بھرپور دلچسپی کو خوب سراہا۔ انہوں نے اردو و ادب کے فروغ کے لئے ایسی محفلوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھنے کے اراداے کا بھی اظہار کیا۔ مہمان شاعر نے اپنی تصیف “نئی منزلوں کے مسافر” کی کتب شرکاء میں بھی تقسیم کیں۔ محفل کے اختتام پر پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

Viewers: 2116
Share