ظہورالاسلام جاوید اور ڈاکٹرعاصم واسطی کی میزبانی میں رشید حسین کےاعزازمیں محفلِ سخن
رشید حسین اورمقامی شعراء نےاپنا کلام پیش کیا۔ مہمان شاعر نے اپنی تصیف “نئی منزلوں کے مسافر” شرکاء میں تقسیم کیں
محفل کا آغاز تلاوت قرآنِ پاک سے ہوا جسکی سعادت سلمان خان نے حاصل کی، نظامت کے فرائض سلمان احمد خان کے حصے میں آئے۔ افتتاحیہ کلمات میں ظہورالاسلام جاوید نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور صدرِ محفل ومہمان شاعر رشید حسین کا مختصراۡ تعارف پیش کیا جبکہ تقریب کے انعقاد میں ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کے تعاون کو تہہ دل سے سراہا، تمام شعراءاکرام جنمیں ظہورالاسلام جاوید، تسنیم عابدی، ڈاکٹر عاصم واسطی، طیب رضا۔ طارق بٹ، سلمان خان، فقیر سائیں، آصف رشید اسجد، عبدالاسلام عاصم، فرہاد جبریل اورارسلان طارق شامل تھے نے اپنے اپنے کلام اور منفرد اندازِبیان سے خوب داد کے حقدار بنے۔کئی فرمائشی کلام بھی پیش کیا گیا جس نے محفل کی رونق میں اضافہ کر دیا۔ مہمان شاعر رشید حسین نے کئی غزلیں اور نظمیں پیش کی، انکی شاعری اُس غیر معمولی گہرے احساس کی ترجمانی کررہی تھی جو انہوں نے سمندروں، خلیجوں اور جزیروں کے فاصلوں میں محسوس کی ہے اور جسے یہ بے اختیار اپنی محبتوں کا پیغام لئے شاعری سے سمیٹنے میں کوشاں ہیں۔رشید حسین اپنے جداگانہ تخلیقی کلام کے ہراشعار، ہر سطر پر پُرذوق سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔
محفلِ سخن میں شعراءاکرام کے پیش کئے گئے کلام سے منتخب اشعارقارئین کی نذر
رسلان طارق بٹ
رَوَیا تو نے جو ہم سے روا رکھا
نام زہر کا بھی ہم نے دوا رکھا
فرہاد جبریل
زمین اور آسمان کے درمیان خلا ہے جو
میرے فرار کے لئے بہت بڑا شگاف ہے
عبدالسلام عاصم
کھو گیا ہے سماں خوشبووں کا یہاں
ورنہ ہوتا گزر تتلیوں کا یہاں
سلمان خان
تجھے پا کر کبھی کھویا نہیں کچھ
تجھے کھویا تو پایا کچھ نہیں ہے
آصف رشید اسجد
تم اپنے دل کو بڑا کر کے صاف بات کرو
بچھرنا ہے تو ضرورت نہیں بہانے کی
فقیر سائیں
تیرگی ہو تو اُسے نُور نہیں لکھ سکتا
خُون کو مانگ کس سندھور نہیں لکھ سکتا
طارق حسین بٹ
حال اُن پر میرا عیاں ہوتا
کوئی میرا بھی رازداں ہوتا
طیب رضا
یہ اتفاق ہے وہ میری آنکھ کا زینہ
اتر رھا تھا کہ میں خواب سے نکل آیا
ڈاکٹر عاصم واسطی
ہدایت کار نے کیسے معطل کر دیا منظر
کہانی ختم کیوں کر دی، ابھی کردار باقی ہے
تسنیم عابدی
ہوا کو یہ بھی بتایا کہ روشنی ہے کہاں
چراغ کو بھی میرے راستے میں رکھا گیا
ظہور الاسلام جاوید
ہے حرف شناسی کسی آئینے کی مانند
پتھر کوئی پڑ جائے تو سب حرف بکھر جائیں
رشید حسین
(نظم)
آئینہ دیکھا تو چہرہ نظر آیا مجھ کو
ایک دھندلا سا سراپا نظر آیا مجھ کو
ایسا لگتا ہے کہ پہچاں رہا ہوں خود کو
محوِ حیرت بنا آئینے کو میں دیکھتا ہوں
جس طرح آئینہ حیرت سے مجھے دیکھتاہے
محفل کے اختتامیہ کلمات میں میزبان محفل ڈاکٹر عاصم واسطی نے مہمان شاعر رشید حسین کا شکریہ ادا کیا جنکی قبولیتِ دعوت اس شاندار محفل کے انعقاد کا باعث بنی۔ محفل میں اختتام تک شرکاء کی بھرپور دلچسپی کو خوب سراہا۔ انہوں نے اردو و ادب کے فروغ کے لئے ایسی محفلوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھنے کے اراداے کا بھی اظہار کیا۔ مہمان شاعر نے اپنی تصیف “نئی منزلوں کے مسافر” کی کتب شرکاء میں بھی تقسیم کیں۔ محفل کے اختتام پر پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
Leave a Reply