Shehryar Ahmad | Afsana | ایک لڑکی پارو

شہریار احمد بیت الرضا ۔اکرم کالونی سول لائنز۔نزد کمشنر ہاؤس 332 – 810 25 42 گوجرانوالہ schehryar.ahmed@yahoo.com ایک لڑکی “پارو” پارو کینیڈا میں رہتی تھی ۔میں ایک دن ہوٹل میں […]

شہریار احمد
بیت الرضا ۔اکرم کالونی
سول لائنز۔نزد کمشنر ہاؤس
332 – 810 25 42 گوجرانوالہ
schehryar.ahmed@yahoo.com

ایک لڑکی “پارو”

پارو کینیڈا میں رہتی تھی ۔میں ایک دن ہوٹل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھ کے چائے پی رہا تھا کہ ایک دو,تین ,چار اکھٹے میسیج
(message)میرے موبائل فون پر ریسیو ہو گئے یہ کون ہو سکتا ہے میں نے اپنے سامنے پڑے ٹشو والے ڈبے میں سے دو ٹشو نکال کر ہاتھ صاف کیے اور اوپر والی جیب میں سے موبائل نکال کر (message)پڑھے۔۔ ہیلو ہائے علی۔۔۔
تم پاکستانی ہو نا۔اگر تم جواب دینا چاہتے ہو تو اس) (messageکو ری پلائی کر دو۔یہ چار میسیج انگلش زبان میں تھے۔ابھی میں نے پڑھے ہی تھے کہ ایک اور میسیج آ گیا۔
سو ری میرا نام پارو ہے میں بتانا بھول گئی تھی اور تمھارا نام علی ہے۔نہ ہی میرا نام علی ہے اور نہ ہی میں کسی پارو کو جانتا ہوں یہ پھر کیا چکر ہے۔
کون ہے ۔ہم کو بھی ذرا پارو کے بارے میں بتا ؤ ہم تو تم کو شریف انسان سمجھتے تھے اور تم چھپے رستم نکلے ہو۔ابراہیم نے مجھ کو تنگ کرنے والے انداز میں کہا۔
نہیں یار ۔۔میں تو خود اس پارو کو نہیں جانتا کون ہے یہ۔اور وہ تو مجھے علی کہہ کر مخاطب کر رہی ہے میں نے ابراہیم کو موبائل میں میسیج پڑھتے ہو کہا ۔ اسی دوران دوسرا میسیج آ گیا۔اور ساتھ ہی تیسرا بھی آ گیا ۔ہائے علی ۔۔تم مجھ کو جواب نہیں دے رہے میں پریشان ہو گئی ہوں کیا بات ہے ۔آ ئی مس یو۔۔۔۔! اب میں کا لج پڑھنے جا رہی ہوں پھر بات ہو گئی یہ دونوں میسیج میرے ساتھ ابراہیم نے بھی پڑھے اور پڑھتے ہی مجھے شک کی نظروں سے دیکھنے لگا ۔جس طرح میں اس سے کو ئی بات چھپا رہا ہوں اﷲ کی قسم مجھے خود نہیں معلوم یہ کیا معاملہ ہے۔میں نے کبھی تمھارے سے بات کو ئی چھپائی ہے میں نے ابراہیم کو مطمئن کیا۔۔تو پھر یہ کیا چکر ہے ۔اس نے رعب ڈالتے ہو ئے کہا۔۔
اس چکر کی تو مجھ کو بھی ابھی تک سمجھ نہیں آ ئی جب لگے گی تو تم کو بھی بتا دوں گا۔ چلو گھر چلیں ۔۔دوپہر کے بارہ بج گئے تھے۔ میں نے کہا۔۔
ہم نے کتابیں اٹھا ئی اور کا ؤنٹر پر جا کر پیسے دیے اور مین گیٹ کے رستے سے باہر نکل آ ئے ۔سا ئیکلیں پکڑیں اور دونوں گھر آ ئے۔ابراہیم میرے بچپن کا دوست تھا۔ میں اور وہ پہلی جماعت سے لے کر میٹر ک تک اکھٹے پڑھتے تھے ہم میٹر ک کے امتحان کی تیا ری کر تے تھے۔آج ہمارا مو ڈ بن رہا تھا کہ چائے پیتے ہیں اور ہم کسی ہو ٹل میں جا کے چائے پینے لگے ۔ہم دونوں ایک ہی گلی میں رہتے ہیں ۔گھر بھی آمنے سامنے ہیں ۔گھر آنا جانا ایسا ہے جیسے رشتے دار ہوں وہ اپنے گھر چلا گیا اور میں اپنے گھر سا ئیکل اندر کی اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ابھی کتا بیں ہی رکھی تھیں کے امی جی کمرے میں آ گئیں ۔نہ سلام نہ دعا اور چوروں کی طرح اندر آ ئے ہو تم۔سلام دعا اور پیار کر کے امی جی با ہر چلی گئیں اور میں کمرے کی ٹیوب آن کرکے اپنے کمرے کے بیڈ روم پر لیٹ گیا اور ایک ایک کر کے موبا ئل میں سے میسیج بار بار پڑھنے لگااور کسی بھی بات کی سمجھ نہ لگی معاملہ کیا ہے۔سب سے پہلے تو اس نے مجھے علی کہہ کر مخاطب کیا ہے ۔جب کہ میرا نام علی نہیں۔ دوسرا
اس کو میرا موبا ئل نمبر کہاں سے ملا ۔تیسرا وہ کہاں رہتی ہے۔

پہلے دوسوالوں کا جواب تو نہ مل سکا البتہ میسیج کے آخر میں اس کا موبا ئل نمبر کے شروع میں ملک کا کوڈ دیکھ کے لگتا تھا کہ یہ کوڈ نمبر پاکستان کا نہیں ہے بلکہ کسی اور ملک کا ہے۔
میٹرک کے سا لانہ امتحان شروع ہو نے میں کچھ ہی ماہ رہتے تھے ۔اس لئے میں رات کو گیارہ بارہ بجے تک بڑھتا رہتا تھا مارچ کا مہینہ تھا اور موسم بھی بہار کا شروع ہو چکا تھا ۔ایک ,دو ,تین,چار,اکھٹے میسیج آگئے ۔میں ہاتھ میں پکڑی اردو شا عری کی کتاب ایک سا ئیڈ پر رکھ دی اور میسیج پڑھنے لگا ۔ہائے علی ڈیئر۔۔۔تم کہاں ہو۔۔آ ئی مس یو ۔۔۔ پاکستان میں اس وقت رات ہو گئی ہے۔جب کہ یہاں کینیڈا میں دن ہے ۔تم کیا کر تے ہو ۔تم مجھے جواب نہیں دیتے۔۔اچھا تم کینیڈا کی رہنے وا لی ہو ۔میں نے آ ہستہ آ واز میں کہا جیسے وہ میرے سا منے ہی بیٹھی ہو۔ پر میں اس کو جواب کیسے دوں ۔میرے موبا ئل میں پیسے ہی ختم ہو گئے ہیں ۔اتنے پیسے نہیں کہ پانچ سو والا کا رڈ لوڈ کر سکوں۔یہ سٹوڈنٹ دور بھی عجیب ہوتا ہے کچی پنسل بھی لینی ہو تو امی ابو سے پیسے لے کر خریدنی پڑتی ہے۔پر اب بات پانچ سو روپے والے کارڈ کی ہے موبا ئل پر ایک ہو ر میسیج موصول ہونے کی بیل ہو ئی اور میسیج آن کیا ۔تمھارے موبا ئل میں سے پیسے ختم ہو گئے ہیں یا پھر تم مجھ سے بات نہیں کر نا چاہتے۔
ہیں اس کو کس طرح پتہ لگا کہ میرے موبا ئل میں سے کریڈٹ ختم ہو چکا ہے۔میں نے حیرانی سے دل میں سو چا پھر ساری رات اس کا میسیج نہ آیا ۔مجھ کو کتا بیں بھول گئیں کارڈ ضرور لوڈ کر نا ہے۔پھر پارو کے ساتھ اچھی خاصی بات چیت ہو گئی ۔رات پارو کے بارے میں سوچ سوچ کر ہی سو گیا اور صبح اٹھتے ہی ذہن میں موبا ئل کارڈ سوار ہو گیا۔اگلے دن اتوار تھا اور اکیڈمی سے بھی چھٹی تھی ۔ناشتہ کرکے ابراہیم کے گھر چلا گیا ۔اس کو سا ری بات بتا ئی اس نے اپنی امی سے کوئی ضرورت کا بتا کر پانچ سو روپے لے لیے۔اس کو گھر میں کو ئی کام تھا اس لیے وہ گھر پر ہی رہ گیا اور میں گلی کی نکڑ والے جنرل سٹور سے پانچ سو کا کارڈ لے کر لوڈ کیا اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔آتے ہی میں نے پارو کے ساتھ اس نمبر پر ایک دوسرے بعد میسیج کر دیے ۔۔۔۔ہیلو پارو۔۔۔تم کہاں ہو۔۔۔
میں تمھارے ساتھ بات کر نا چاہتا ہوں۔ابھی دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کے اس کا جواب آ گیا۔
ہائے علی ۔۔۔میں اپنے کمرے میں ہوں میں بھی تمھارے ساتھ بات کر نا چاہتی ہوں اس کے ساتھ ہی ہماری چیٹنگ شروع ہو گئی ۔کیا تمھارا کارڈ ختم ہو گیا تھا ۔۔۔نہیں۔۔۔اصل میں میں نے دو دن سے موبائل بند کیا ہوا تھا۔معلوم نہیں جھوٹ بھول دیا۔
ویل۔۔۔اب بند نہ کر نا۔۔۔اچھا۔۔۔نہیں کر تا ۔۔۔میں نے پارو کو کہا۔۔۔
تم نے تو میرے بارے میں پو چھا نہیں۔ میرا نام پارو ہے اور میں کینیڈا میں رہتی ہوں اور کینیڈا میں پڑھتی ہوں ۔۔اچھا۔۔۔۔
تمھارا نام علی ہے۔تم پاکستانی ہو۔۔اصل میں میری بڑی خواہش ہے کہ میں پاکستانی کے ساتھ دوستی کروں اور مجھے علی نام بہت اچھا لگتا ہے۔
ہاں کیوں نہیں۔۔۔پر میرا نام علی نہیں ہے یہ بات درست ہے کہ میں پاکستانی ہوں تم کو میں دھو کہ نہیں دینا چاہتا ۔تمھاری باتیں سن کر بڑی

خوشی ہو ئی میں تمھارے ساتھ د وستی کر نا چاہتی ہوں ۔اپنا نام بتا ؤ۔۔
میں نے اس کو اپنا نام بتا یا اور پھر سوال کیا ۔ آپ نے میرا موبا ئل نمبر کہاں سے لیا ہے۔انٹر نیٹ سے لیا ہے ۔میرا خیال ہے کہ چیٹنگ کرتے وقت کسی کو دیا ہو گا ۔۔ہو سکتا ہے۔۔تم کیا کر تے ہو۔۔۔میں میٹر ک کا سٹوڈنٹ ہوں اور تم کیا کر تی ہو۔
میں بھی میٹرک کی سٹوڈنٹ ہو لیکن میں اے لیول کر رہی ہوں۔ بہت خوب ۔۔۔
تمھارے ملک میں اس وقت صبح ہے اور میرے ملک کینیڈا میں رات ہے ۔اب مجھ کو اجازت دو میں سو نے لگی ہوں گڈ نا ئٹ بوائے۔۔۔۔
پھر ملیں گے ۔جواب میں میں نے بھی اس کو گڈ نا ئٹ لکھ کر بھیج دیا ۔ اس کے بعد میسیج نہ آ یاپر میں سا را دن پڑھا ئی کو بھول کر اس کے میسیج کا انتظار کر تا رہا ۔اور گھر سے با ہر بھی نہ نکلا۔میرے دل میں طرح طرح کے سوال آ رہے تھے جو میں پارو سے کر نا چاہتا تھا۔
پھر لڑکی کا احساس پہلی دفعہ پیار جگا رہا تھا۔ ایک دم چار جر پر لگے موبا ئل پر میسیج موصول ہو ئے میں نے بھاگ کر موبا ئل کو چارجر سے اترا اور میسیج پڑھے ۔۔ہائے بوائے ۔۔آ ئی لو یو اینڈ آ ئی مس یو دس شا ئم۔۔۔I love you and I miss you this time) (یہ میسیج پڑھ کے میں حیران ہو گیا اور کو ئی بھی جواب نہ دے سکا ۔اس کے بعد اس کا کو ئی میسیج نہ آ یا۔پھر دو دن اس کا کو ئی میسیج نہ آ یا میں پریشان ہو گیا ۔۔آ ئی مس یو ٹو ۔۔کے میسیج ایک دو بار بھیج دیے پر جواب نہ آ یا۔ معلوم نہیں وجہ یہ تھی کہ اس کے ساتھ تعلق سا محسوس ہو نے لگا۔ لگتا تھا کہ میں اسے صدیوں سے جانتا ہوں اور دل میں اس کے لیے اتنا پیار کہاں سے آ گیا تھا معلوم نہیں کیوں ۔۔۔ اس کا میسیج نہیں آ رہا تھا اور میری حالت اس طرح کی ہو رہی تھی جیسے پانی کے بغیر مچھلی کی ہو۔کتابیں پڑھنے کو جی نہیں کر رہا تھا۔دل میں سوچ رہا تھا کہ پارو کیسی ہو گی اس کا نام کتنا اچھا ہے ۔ ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ موبا ئل پر میسیج موصول ہو نے کی بیل ہو ئی جیسے میری آنکھوں میں چمک آ گئی ہو۔۔ہائے بوائے کیا حال ہے تمھارا۔۔۔میں ٹھیک ہو ں تم کہاں ہو۔۔۔میں تمھارے دل میں کیا تم کو نظر نہیں آ رہی ۔۔آئی مس یو پارو تم مجھ کو چھوڑ کے نا جانا۔
اگر تم میرے پاس ہوتے تو تمھارا منہ چوم لیتی ۔پارو ۔۔تمھارا نام بڑا ہی اچھا ہے ۔ میں نے اس سے کہا۔۔ میرے ابو کینیڈا کے رہنے والے ہیں انھوں ایک انڈین )میری ماں(کے ساتھ شادی کی ہو ئی ہے جب میں پیدا ہو ئی تو میری امی نے میرا نام پارو رکھ دیا۔۔
تم تو اپنے نام کی طرح بہت خوبصورت ہو ۔۔۔۔میں نے اس کو کہا۔
پر تم نے تو مجھے دیکھا ہی نہیں کیا تم مجھے دیکھنا چاہتے ہو۔میں نے تم کو دیکھ کرتمھارے ساتھ دوستی نہیں بلکہ تمھارے احساس اور تمھاری روح کے ساتھ تعلق جوڑا ہے۔اس طرح تین مہینے گزر گئے اور پتہ بھی نہ لگا ہم ایک دوسرے کے ساتھ روز موبا ئل چیٹینگ کر تے رہے ایک دن میں رات گیا رہ بجے کمرے میں سو رہا تھا کہ میسیج موصول ہوا۔۔میں نے میسیج پڑھا ۔۔
میں تمھارے ساتھ شادی کر نا چاہتی ہوں کیا تم میرے ساتھ شادی کرو گے۔مجھے اعتراض نہیں پر میرے اور تمھارے درمیان سات سمندروں کا فا صلہ ہے ۔اس بات کی فکر نہ کرو میں اس کا بندوبست کر لوں گی ۔اور تم کو اپنے پاس کینیڈا بلا لوں گی۔
میں تمھاری خوشی میں خوش ہو۔۔۔ تھینک یو بوائے۔۔آ ئی لو یو۔۔

اس رات میں خوشی سے سو نہ سکا اور صبح ہو تے ہی امی جی کو سارا واقعہ سنایا پہلے تو گھر والے ناراض ہوئے پر جلدی ہی مان گئے اس دن اچانک فون پر بیل ہو ئی اور میسیج پڑھ کے پریشان ہو گیا۔۔
ہائے بوائے۔۔۔میں پارو کا کلاس فیلو ہوں میرا نام واسٹن ہے۔اگر تم نے پارو کو نہ چھوڑا تو میں اس کو مار دوں گا اگر وہ میری نہیں ہو سکتی پھر تیری بھی نہیں ہو سکتی تمھا رے پاس ایک ہفتہ ہے اگر تمھارا مجھے جواب نہ آیا پھر۔۔۔۔۔
یہ پڑھ کے میں پر یشان ہو گیا اتنے میں پارو کامیسیج بھی آ گیا بوائے۔۔واسٹن نے مجھے بتایا ہے کہ اس نے تم کو مجھے چھوڑنے کا کہا ہے۔
ہاں ۔۔اس نے سا تھ میں دھمکی بھی لگائی ہے کہ وہ تم کو مار دے گا ۔اگر میں نے تم کو نہ چھوڑا۔اب۔۔۔۔۔
وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ہم کو ڈرا رہا ہے۔وہ مجھ کو زہر لگتا ہے۔تم میری وجہ سے اپنا جیون خطرے میں نہ ڈالو اگر میں وہاں ہوتا تو اس کی ٹانگیں توڑ دیتا اس کی آ نکھیں بھی نکال لیتا جو تم کو میلی آنکھوں سے دیکھتا ہیں۔ہفتہ اس طرح گذر گیا ۔اور میسیج موصول ہونے کی بیل ہو ئی ۔
ہائے۔۔تم کہاں ہو۔اپنے گھر میں اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا ہوں۔۔میں بھی گھر میں ا کیلی ہوں آج پتا نہیں کیوں مجھے بڑا ڈر لگ رہا ہے تم مجھ کو بڑے یاد آ رے ہو ۔اگر تم میرے پاس ہو تے تو ۔۔۔۔۔آ ئی مس یو۔۔۔۔۔
یہ آخری میسیج تھاآج ایک سال گذر گیا ہے اس کی طرف سے کو ئی خیر کی خبر نہیں آ ئی نہ کو ئی میسیج۔۔۔ میں نے اس کے موبا ئل پر بڑے میسیج کیے پر کسی کا جواب موصول نہیں کیا ۔معلوم نہیں کیا بات تھی ۔دل میں کیا وسوسے آتے اب میرے موبا ئل پر کسی کا میسیج آتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ پارو کا میسیج آیا ہے۔۔۔

Viewers: 5217
Share