Dr. Muhammad Yahya Saba | Review | احتشام حسین کی تخلیقی نگارشات ایک مطالعہ

نام کتاب : احتشام حسین کی تخلیقی نگارشات ایک مطالعہ
مصنف : پروفیسر شہزاد انجم
موجودہ پتہ : شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی۔110025
مستقل پتہ: کارڈ سینٹر،بڑی مسجد معروف گنج،گیا (بہار)۔823001
ناشر: مصنف
سال اشاعت: مارچ2000
تعداد : ۴۰۰(چارسو)
قیمت: ۱۵۰( ایک سو پچاس روپے )
کمپیوٹر کمپوزنگ : منصور رضا ،بڑی مسجد ،معروف گنج ،گیا
مطبع : راحت آفسٹ پریس،دہلی
تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد یحیےٰ
شعبہ اردو،کروڑی مل کالج دہلی یونیورسٹی دہلی۔110007
کسی بھی ملک کی شناخت تاریخ و تہذیب کے آئینے میں کی جاتی ہے اور دیکھا یہ جاتا ہے کہ تہذیب کی اساس کیا تھی ۔ کس حد تک اس میں اخذ و قبول کی صلاحیت تھی ۔ اور اس میں کس حد تک دوسرے تہذیبی دھاروں سے خود کوہم آہنگ کرنے کی قوت تھی ، ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مختلف تہذیبی دھاروں نے اپنی شناخت یا پہجان بنائی ہے اور ہزار ہا برس کی اقوام عالم کی تاریخ اگر آج بھی زندہ ہے تو اس کی وجہ وہ تہذیبی دھار ے ہیں ،جو ایک دوسرے سے اختلافات کے با وجودباہم ربطہ کے خصوصی جوہر اپنے اندر پوشیدہ رکھتے ہیں۔ ان تمام تہذ یبوں کے مختلف رنگ ہیں مگر سب رنگ مل کر ہندوستانی تہذیب کی بنیاد کا پتھر قرار پاتے ہیں ۔بالکل اسی طرح جیسے انسانی جسم میں ہاتھ کی انگلیاں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے سے بڑی چھوٹی ہوتے ہوئے بھی ایک ہی ہاتھ کا حصہ ہوتی ہیں۔ سنگم پر گنگا اور جمنا کے پانی کارنگ مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک ہوتا ہے اور ان نکات کی نشاند ہی کا سب سے موثر ذریعہ تصنیف و تالیف ہے۔
کتابیں تہذیب وثقافت کی امین ہوتی ہیں اوراس کے ذریعہ ماضی کے ورثہ کو مستقبل کے لوگوں تک پہنچا کر کامیابی کی راہیں متعین کی جاتی ہیں۔ انسانی تاریخ کے ہر عہد میں کتابوں کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لیے خدائے پاک نے انبیائے کرام پر چار آسمانی کتابیں نازل فرمائیں ان کتابوں کے نزول کو فرزندان آدم کے لئے نعمت اور ہدایت کامنبع و مرکز قرار دیا ۔دنیا کی تاریخ میں پیغمبر ، صحابہ کرام، اولیاو صوفیاء ، شاعر و ادیب اور ان جیسی ہستیاں گزریں ان سبھوں نے معاشرتی و انسانی نظام کی تشریح کتابوں کے ذریعہ ہی کی۔ لہٰذا اس صدی کے معروف تنقید نگار پروفیسر شہزاد انجم نے عالمی شہرت یافتہ اردو ادب کے ناقد پروفیسر احتشام حسین کی تخلیقی نگارشات پر تحقیق کر کے ان کے خیالات ان کی فکر اور ان کے تہذیبی ورثے کو بقائے دوام عطا کیاہے۔
ہندوستان میں بے شمار اردو کے شاعر وادیب،دانشور اور صوفی و علما گزرے ہیں جنہوں نے ہندوستانی زبان وادب اور سماج کی تعمیر میں نہایت ہی اہم رول ادا کیا ہے۔ ان حضرات کی تخلیقی، ادبی اور اخلاقی بلندی کے نتیجے میں بہت سے زبان وادب، کنبوں اور طبقوں نے ادب ،ثقافت اورفنون لطیفہ قبول کیا ، جس طرح صوفیوں نے اسلام کو پھیلا نے کی غرض سے ہندوستان کے علاوہ دوسرے ممالک کا بھی سفر کیا ۔ اسی طرح ہمارے اردو زبان وادب کے مشاہیر وادیب اور دانشوروں نے اردو زبان وداب تہذیب وثقافت کو عالم گیر پیمانے پر اس کی ترقی وترویج کو فروغ دیا۔ شہروں سے قصبات تک اور قصبات سے دیہات تک انھوں نے علم وادب اور رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری کیا۔ خانقاہیں اور مدرسے بھی اسی تحریک کا مر ہون منت ہیں۔ خانقاہوں اور مدرسوں کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ صدیوں سے رشدو ہدایت اور علم و دانش کا منبع و مرکز رہے ہیں اور ہر دور میں صو فیوں،مجتہدوں اور درویشوں کی بدولت ان کی نمایاں حیثیت رہی ہے ۔ ہمارے وطن کی تاریخ میں ادباء اور صوفیائے کرام نے جس طرح اپنا کردار ادا کیا اور خدمات انجام دی ہیں وہ ہندوستانی تہذیب وثقافت کی سنہری روایات کا روشن ترین حصہ ہے ۔ سچ یہ ہے کہ عالمگیر پیمانے پرادیبوں، صوفیوں اور عالموں کا کوئی تصور ہندوستان کے ادیبوں، صوفیوں اور عالموں کے بغیر نا مکمل اور کسی حد تک معنویت سے خالی ہے بہرحال ہے اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ پروفیسر شہزاد انجم اپنے عہد کے نامور اردو کے استاد،ناقد،محقق،دانشور، اہل نظر اور نہایت جیدعالم وسالک اسکالر ہیں۔ ان کی زندگی ایک بین الا قوامی دستور حیات ہے جو اردو زبان وادب ہی نہیں بلکہ قرآن کے ابدی اصولوں کی تعبیر ہے ۔موصوف کا ایک ہی مدعا رہا ہے کہ معلم اور صوفیوں کی طرح زندگی گزرے اور قوم وملت میں تعلیم کی روح پھونکے۔ لہٰذا موصوف درس وتدریس کے جملہ اوصاف و کمالات اوراردو زبان و ادب کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہیں۔ ادیب اور صوفی کو اپنی تحریروں میں قدم قدم پر تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہوتی ہے ۔ سنین و شہود کے تعین کے بغیرانکی مطابقت کے لئے کاوش کرنی پڑتی ہے مختلف زبانوں میں اس طرح کے جدول موجود ہیں ۔ موصوف نے زندگی میں تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں میں خوب حصہ لیاہے۔کسی بھی شائستہ سماج میں تعلیم کا جو مقام ہے وہ آپ سے پوشیدہ نہیں ہے معلم او ر دانشور نہ صرف علم کی روشنی پھیلانے اور نوجوان نسلوں کو خاص طور سے طالبعلموں کو سنوارنے اور آراستہ کرنے کے ذمہ دار ہیں بلکہ ساری تہذیبی روایتوں کا سر چشمہ بھی ہیں یہ ساری خوبیاں پروفیسر شہزاد انجم کے سرشت میں داخل ہے۔ان کے ناخن تاویل سے عقدۂ احکام علم اور ادبی شریعت کا چشمہ جاری وساری ہوا ہے۔ ہندوستان کے سیکولر نظام کے چو کھٹے میں صحیح سماجی شعور کو پیدا کرنا بھی ہمارا فرض ہے اور خاص طور سے اردو کے اساتذہ کے ذمہ یہ بھی مزید فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ زبان اور ادب کی تعلیم و تدریس اور تحقیق کی بنیاد اس نہج پر اٹھائیں کے ان کی پیداوار یعنی جن طلبہ کو تعلیم و تربیت دے کر فراغت و سند فراہم کروانے میں کلیدی رول ادا کیا ہندوستان کے رنگا رنگ کلچر اور اس کے مضمرات اور امکانات کی صحیح نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم کی جبّلی رواداری ہم آہنگی اور گوناگوں عناصر کی انضمانی روایات کا بھی نمونہ ہو نیز ہماری تعلیم و تربیت قومی عزائم کے حصول کا زینہ ثابت ہو۔ایک زمانہ تھا اردو شعر و ادب کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اردو شاعری میں گل و بلبل اور لب و رخسار کی باتیں ہی قلمبند کی جاتی ہیں ۔ اسی طرح اردو ادب عشقیہ داستانوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں اس سلسلے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں اور اب اردو شعر و ادب میں زندگی کے سلگتے مسائل سے بھی بحث کی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود ہو سکتا ہے کہ اردو ادب میں زندگی کے سنجیدہ مسائل پر بحث کی مزید گنجائش نکل سکتی ہے ۔اس کو ایک الگ عنوان دے کرتفصیل سے گفتگو ہوسکتی ہے۔ یہ ایک الگ باب ہے۔ میرا مقصد یہاں پروفیسر شہزاد انجم کی ایک کتاب پر تبصرہ کرنا ہے۔ لہٰذا میں اصل مدعا پرآتا ہوں ۔
احتشام حسین کی تنقیدنگاری پر بے شمارمضامین ومقالات لکھے اور پڑھے جا چکے ہیں اور کئی مستقل تصانیف بھی منظر عام پرآکر مقبول ہوچکی ہے لیکن احتشام حسین کی تخلیقی نگارشات پر صرف چند کتابیں ہی اب تک شائع ہوئی ہیں ۔ ۲۰۰۰ ؁میں شائع ہونے والی پروفیسر شہزاد انجم کی یہ زیر تبصرہ کتاب جب شائع ہوئی تو اس وقت احتشام حسین کی تخلیقی شہپاروں کو کما حقہٗ نہ تو تلاش کیا گیا تھا اورنہ ہی اس پر کوئی مستقل کتاب موجود تھی ۔اس اہم اوراچھوتی موضوع پر پروفیسر جناب شہزاد انجم کی یہ کتاب احتشام حسین تنقید میں اہم اضافہ ہے ۔یوں تو پروفیسر شہزاد انجم کی متعدد تصانیف اور بے شمار مضامین معتبر ملکی اور بین الاقوامی ادبی رسائل وجرائد میں شائع ہو کر ارباب نظر سے خراج تحسین وصول کرچکے ہیں ،لیکن احتشام حسین کی تخلیقی جوہر پر کام کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ احتشام حسین کے اندر تنقیدی شعور کے ساتھ ساتھ بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں موجود تھیں ۔چونکہ اس کتاب سے قبل احتشام حسین کی تنقیدی پہلو پر ہی کام کیا گیاتھا ۔اس لیے یہ موضوع نیا اور اہم بھی ہے ۔
ڈاکٹر احتشام حسین نے اپنی ادبی تخلیقات منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہی نہیں کیا ۔جیسا کہ بعض نقاد کرتے ہیں بلکہ ان کی ادبی تخلیقات شاہکارکا اہم نمونہ ہے ۔پروفیسر شہزاد انجم نے ان کا تنقیدی جائزہ لیا اور ان کی قدرو قیمت جدید ادبی منظرنامہ کے تحت متعین کی ۔مصنف نے زیر تبصرہ کتاب میں احتشام حسین کی شخصیت کے بعد ان کیافسانہ نگاری ،غزل گوئی،نظم نگاری،سفر نامے اور مکتوب نگاری تمام اصناف نظم ونثر میں پیش کی گئی تخلیقات کا محکمہ کیا ہے۔اسی پہلو کو مدنظررکھتے ہوئے مصنف نے اس کتاب کوپانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔اول شخصیت ،دوم افسانہ نگاری،سوم، شاعری،چہارم سفرنامے اور پنجم مکتوب۔شہزاد انجم کی تخلیق کی خاصیت یہ ہے کہ انہوں نے دوسرے نقادوں کے آرا کی حوالے سے اپنی بات کو مدلل اور منطقی نقطہ نظر سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے
احتشام حسین کی شعری خوبیوں کا ذکرکرتے ہوئے مصنف نے ان کے غم ذات اور غم کائنات کو سمونے کے فن کو واضح کیا ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے احتشام حسین کی تمام تخلیقات کی تلاش جستجو کی ہے ۔شعری محاسن کی جتنی بھی شرطیں ہوسکتی ہیں مصنف تخلیق کار کی شاعری میں موجود ہونے کا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس کو دلیلوں سے واضح بھی کرتے ہیں ۔
’ساحل اور سمندر‘اور’ سوویت یونین تاثرات اور تجزیہ ‘کے اہم سفرنامے ہیں۔ شہزاد انجم نے انہیں تحلیل و تجزیہ کا موضوع بنا یاہے ۔ خطوط نگاری کے بعد میں دیگر قدیم اور جدید مکتوب نگاروں کا ذکر کرتے ہوئے احتشام حسین کی اہمیت مکتوب نگاری کے میدان میں ثابت کی ہے ۔اس کے علاوہ خطوب نگاری کے مطالعہ سے اس عہد کی تحریکات سیاسی اور تہذیب رجحانات کو واضح کرتے ہوئے اس کی تاریخی اورادبی اہمیت ثابت کرتے ہیں۔
اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کو احتشام حسین کے وہ پہلو جو تنقید کے علاوہ تخلیقی ہیں اورجن سے اردو دنیا ایک دہائی قبل بے خبر تھی با خبر کرتے ہیں ۔مصنف کی خاصیت یہ ہے کہ جو بھی بات کہتے ہیں وہ مدلل اور منطقی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے ۔شہزاد انجم کی اس کتاب کو بذات خود تخلیق کا ایک اعلیٰ نمونہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ تنقیدی پہلوؤں کو پیش کرتے ہوئے تخلیقی عنصر ماند پڑجاتا ہے لیکن مصنف کے قلم کی داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے احتشام حسین کی ادبی تخلیقات کو جنہیں انہوں نے خود بے رنگ سمجھا تھا آج شہزاد انجم کی اس کتاب کی بدولت انہیں ایک تخلیق کار کی حیثیت سے تسلیم کیاگیا ۔برصغیر کے مایہ ناز تنقید نگار اوردانشور پروفیسر شارب ردولوی کی رائے کے مطابق شہزاد انجم کے نظریات بدلتے ہوئے حالات میں بھی ادب کی تفہیم اور ادبی اقدار کے تعین میں رہنمائی کرتے ہیں ۔کتاب کی پشت پر لکھے گئے شارب ردولوی کی نوٹ میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ’ شہزاد انجم ایک ادب کے سنجیدہ قاری ہیں۔‘ان کی یہ ادبی کاوش ان کے علمی ذوق ،خلوص،محبت اور تنقیدی شعور کی نشاندہی کرتے ہیں ۔مجھے امید ہے کہ ان کا یہ ادبی سفر جاری رہے گا اوران کی تحریریں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی ‘۔کتاب کے مطالعہ کے بعد اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ شارب ردولوی جیسے جید تنقید نگار کی رائے حرف بہ حرف صحیح ہے ۔شہزاد انجم سر ورق کے
فلپ پر احتشام حسین کی خطوط نگاری کی اہمیت واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر احتشام حسین صرف تنقیدی اورتحقیقی مقالات ہی لکھتے اور خطوط نگاری پر توجہ نہ دیتے تو ان کے تنقیدمیں وہ جوہر پیدا نہ ہوتا جو آج ہے نیز ان کے سفر ناموں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ احتشام حسین کے سفرناموں سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ فکر ونظر کی تعمیر میں ان کے سفر امریکہ اوریوروپ نیز روس نے کس قدر مددپہنچائی۔ ان کے افسانوں کے ذریعہ ہم ان کی ہمدردیوں اور ان کے کرب دونوں کا احساس کرسکتے ہیں اور ان کی شاعری محسوسات کی دنیا کو سمیٹتی ہے ۔ ان سب باتوں سے گویا مصنف یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر احتشام حسین ایک اچھے تخلیق کار نہ ہوتے تو ایک اچھے تنقید نگار نہ بنتے ۔
اچھی تخلیق کی خاصیت یہ ہے کہ مروری زمانے کے ساتھ ا س کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حالانکہ بعض جید عالموں نے مذکورہ کتاب پر تبصرہ کیا ہے لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ اپنے ریفریشر کورس کے لیے ایک ایسی تخلیق کار کی تخلیق کا انتخاب کروں تومیری نظرسب سے پہلے احتشام حسین لکھی گئی شہزاد انجم کی کتاب پڑی۔جس کو مصنف نے ۱۳؍اپریل ۲۰۰۰کو عنایت کی تھی۔جس سے میں بارہاں مستفید ہوتا رہا ہوں اور اپنے آپ کو ریفریش کرتارہا ہوں ۔میں سمجھتا ہوں کہ موصوف کے اس ادبی کاوش کو ہندوستان کے مختلف جامعات کے نصاب میں اردو نصاب میں شامل ہونا چاہیے تاکہ اہل علم حضرات اس کتاب کے مطالعہ سے اپنی استعدادمیں اضافہ کرسکیں۔
Viewers: 2150
Share