ابو ظہبی میں آٹھویں عالمی پُروقار و یادگار اُردومشاعرے کا انعقاد

آٹھویں عالمی پُروقار و یادگار اُردومشاعرے کا انعقاد
صدارت ندافاضلی نے کی،پاکستانی سفارتخانے کے جناب ارشد جان پٹھان نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی
منتظمِ اعلی ظہور الاسلام جاوید کی اردو ادب کیلئے خدمات کو خوب سراہا گیا۔سامعین نے تمام مہمان اور مقامی شعراء کا کلام دلجمعی سے سنا اور دل کھول کے داد دی۔
رپورٹ : حسیب اعجاز عاشرؔ (ابو ظبہی) مشاعرے ہماری تہذیبی اقدار کا اہم ستون ہے،نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اُردو سے محبت کرنے والے موجود ہیں وہ مشاعروں کے انعقاد سے اپنی تہذیبی اور ثقافتی اقدار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ان خیالات کا اظہار سفیرِ پاکستان برائے متحدہ عرب امارات جناب جمیل احمد خان نے آٹھویں عالمی اُردہ مشاعرے ابوظبہی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کیاانہوں نے کہا کہ شاعری ودیعتِ خداوندی ہے اسکو لکھنے سے، اس کو پڑھنے سے، اسکو سننے سے جو روحانی تسکین اور خوشگوار کیفیت کا احساس ہوتا ہے، اسکا بیان الفاظ میں ممکن نہیں ہے اسی لئے شاعری کو روح کی غذا کہا گیا ہے۔گل و بلبل کے افسانوں کے ساتھ غمِ دینا اور غم دوراں کے نئے نئے پیرائے میں نظم کیا جاتا ہے، میرے سے لے کر غالب سے لے کر اقبال تک اور اقبال سے لے کر جوش، فیض اور فراز تک سب نے اپنے اپنے منفرد اور مخصوص لہجے اور فکر سے نہ صرف سخن فہموں کی تشنہ لبی کی سیرابی کا بندوبست کیا بلکہ اردو ادب میں گرانقدرافاضہ کیا۔مجلہ میں شائع ہونے والے پیغام میں سفیرِ پاک نے ابو ظبہی میں منعقد ہونے والے مشاعروں کے حوالے سے کہا کہ یہ روایت بہت پرانی ہے،یہاں پر تسلسل کے ساتھ عالمی مشاعرے منعقد ہو رہے ہیں، میرے قیام کے دوران ابو ظبہی میں تیسرے عالمی مشاعرے کا انعقاد ہو رہا ہے، اس ضمن میں ان مشاعروں کے منتظمِ اعلی جناب ظہور الاسلام جاوید کے حوصلے، لگن اور انتھک محنت کی داد دیتا ہوں جو انتہائی مستقل مزاجی سے ان عالمی مشاعروں کا انعقاد کر رہے ہیں.
مہمانِ خصوصی ارشد جان پٹھان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو مشاعرے اس برصغیر کی روایت ہیں اور ہماری ثقافت کا حصہ بھی،اردو ادب کی بقاء اور فروغ کے لئے ایسی محفلوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے،انہوں نے اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے اپنی پسندیدہ ایک غزل بھی حاضرین کی سماعتوں کی حوالے کر کے داد حاصل کی۔منتظم اعلی جناب ظہور الاسلام جاوید خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی بھی نقشِ وفا وجہ تسلی نہیں ہو سکتا۔ عقدۂ مشکل پسندی اُسی وقت کھلتا ہے جب شوخئی تحریر جذبہ بے اختیار شوق کی مرہون منت ہو جائے۔نالہ دل اوراقِ لخت دل پہ ایک دیوانِ بے شیرازہ کی طرح بکھرے ہوئے ہیں کہ جن کا بیان کرنا عشرت قتل گہ اہلِ تمنا کے مترادف ہے۔ میں تو شہیدانِ نگہ یار کا خون بہا بھی نہیں مانگ سکتا اگر اپنی کم مائیکی میں عرضِ نیاز کر سکتا ہوں تو صرف اور صرف اُسی ذات سے کہ جو اپنے بندوں سے انکے رگ گلوسے بھی زیادہ نزدیک ہے اور جو کتابِ فرقان میں باربار کہہ رہا ہے کہ ’’اے محبوب ہم نے تمہارے ذکر کو بلند کر دیا‘‘ اسی محبوب خدا کا ذکر ہمارے قلب و جان کے لئے وجہ سکون و تسلی اور آسودگی کا باعث ہے اللہ تعالی کا کرم ورحم اور سرکارِدوعالمﷺ کے وسیلہ جلیلہ کی برکتوں سے مجھ جیسے بے بصیرت کا دامان آرزو بھرا رہتا ہے۔ حسبِ وعدہ ۸واں عالمی اُردو مشاعرہ پیشِ خدمت ہے۔سفارتخانہ پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری ارشد خان پٹھان کی محبتوں نے تنگی دل کا گلہ کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔جناب ریاض ملک صاحب، جناب حاجی محمد اسحاق، جناب نورالحسن تنویر،جناب ہادی شاہد، جناب امامت نقوی، جناب شکیل خان، جناب خان زمان اور جناب چوہدری بشیر نے محفل سخن کے برپا کرنے میں اگر رتی بھر شائبہ بھی تھا تو اسے شائبہ خوبی تقدیر میں تبدیل کر دیا۔شاداب رضا،یعقوب تصور، ڈاکٹر عاصم واسطی،انوارشمسی، خالد چشتی المعروف فقیر سائیں، فرحت نور خان، حسیب اعجاز ، شرافت علی شاہ،محمد اقبال نسیم، عبدالسلام عاصم،فرہادجبریل اور اختر عابدی کے خلوص و محبت اور انتھک محنت بھی شامل ہے اور انہوں نے کہاشکیل آزاد اور عبدالقدوس نے بھی دائمی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ابوظبہی کی محافلِ شعرو سخن کے انتہائی آب و تاب کے ساتھ چمکنے والے ستارے ڈوب گئے۔تمام اسپانسرز اور اداروں جن کا اس محفل سخن کو منعقد کرنے میں کلیدی کردار ہوتا ہے، صمیم قلب سے ان کی محبتوں اور عنائیتوں کا شکر گزار ہوں۔اور ان سب سے بڑھ کر متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی بصیرت کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی فراست کی بین دلیل یہ ہے کہ انتہائی مختصر وقت میں امارات کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا اور یہاں پر مقیم ہر شخص کو وہ سہولیات اور آسائشیں میسر کیں کہ جن کا دوسرے ممالک میں صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔میں تمام سخن فہم ،سخن دوست اور سخن شناسوں کی اس مشاعرے میں آمد اور اس کو کامیاب بنانے پر اپنے دل کی گہرائیوں سے سپاس گزار ہوں۔

آلجاہلی تھیٹر آرمڈ فورسز آفیسرز کلب ابوظبہی میں منعقدہ اس آٹھویں عالمی پُروقار و یادگار اُردہ مشاعرے کی صدارت ندافاضلی نے کی،پاکستان سفارتخانے سے فرسٹ سیکریٹری جناب ارشد جان پٹھان نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ، تعارف کے لئے نظامت کے فرائض شرافت علی شاہ نے نہایت ہی خوبصورتی سے ادا کئے،تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآنِ پاک سے کیا گیا جس کی سعادت حسیب نے حاصل کی۔مقصود احمد تبسم نے نعت رسول مقبولﷺ بڑی عقیدت و احترام سے پیش کی۔شعراء اکرام کوسٹیج پر مدو ح کیا گیاتوحاضرین تالیوں سے اپنی محبتوں کا اظہار کرتے رہے۔صدر تقریب ندا فاضلی کے سٹیج پر آنے پرمنظر قابل دید تھا،حاضرین اپنی نشستوں کو چھوڑ کر کھڑے ہو گئے انکی تالیوں سے پرذوق سامعین کی کثیر تعداد سے کھچا کھچ بھرا ہا ل مسلسل گونجتا رہا۔ندا فاضلی اپنے دونوں بلند ہاتھ ہلا ہلاکر چاہنے والوں کو جواب دیتے رہے، شریک ہونے والے شعراء اکرام میں ندافضلی(انڈیا)، امجد اسلام امجد(پاکستان)، انور شعور(پاکستان)، عباس تابش(پاکستان)، ریحانہ قمر(امریکہ)، پاپولر میرٹھی(انڈیا)، انا دہلوی(انڈیا)، راشدنور(پاکستان)،سہیل ثاقب(سعودیہ)، شوکت علی ناز(قطر)،یو اے ای سے تسنیم عابدی،ڈاکٹر عاصم واسطی، سحرتاب رومانی،عبدالمنان، خالد نسیم،ڈاکٹر ثروت زہرہ، یعقوب عنقا،ڈاکٹر اکرم شہزاد، م ک حسرت اور فقیر سائیں شامل تھے،جبکہ مدیردنیائے ادب کراچی اوج کمال نے بھی خصوصی شرکت کی۔تقریب کے آغاز میں مہمان خصوصی ارشد جان پٹھان، منتظم اعلی ظہورالاسلام جاوید،صدرِمحفل ندا فضلی اور امجد اسلام امجد نے مجلہ کی رونمائی کی اور مہمان خصوصی نے تمام مہمان شعراء اور سپانسرز میں جبکہ منظمِ اعلی نے مہمان خصوصی کو نشانِ سپاسپیش کیئے۔شرافت علی شاہ نے تقریب کی باقاعدہ نظامت کے فرائض ظہور الاسلام جاویدکے سپرد کر دیئے۔جنہوں نے بزم میں تمام شعرائے کرام کا انکے مقام و مرتبے کے مطابق بصد احترام خاص خیال رکھا،انکے حسب معمول منفرد اور جداگانہ اندازِ نظامت کے سبھی مداح ہوئے۔شعراء کرام کے منفرد کلام و لہجے سے مشاعرہ آغاز سے ہی سامعین کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب رہا،لیکن صیح معنوں میں سحرتاب رومانی کے کلام سے مشاعرے کے اصل عروج کا سفر شروع ہوا ،انکے کلام اور سامعین کی بہت زیادہ داد و تحسین نے محفل میں حقیقی ادبی جوش پیدا کر دیا،راشد نور،سہیل ثاقب اور شوکت علی نازنے اپنے پختہ کلام سے محفل میں رنگ جمادیا۔انا دہلوی نے اپنا رومانوی کلام پُر ترنم پیش کر کے سامعین میں حاضرمنچلوں کے دل جیت لئے۔پاپولر میرٹھی نے حسبِ معمول اپنے کھلکھلاتے لبوں سے مزاحیہ کلام پیش کر کے سامعین کے چہروں پے مسکراہٹ بکھیر دی۔سحر انگیزدھیمے لہجے والیں شاعرہ ریحانہ قمر کی ہجر و وصال کے دکھ سکھ اور آس امیدوں میں گھیری شاعری نے دلوں کو موہ لیا۔عباس تابش کو مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے اس بار بھی اپنے الفاظوں کے ذخیروں کوبڑی فن سے اپنے جاندارکلام کی زینت بناکرسامعین کو ڈھیروں داد دینے پر مجبور کر دیا۔انورشعور دنیاء ادب میں قد آور شخصیت ہیں جن کی ہر غزل ہر شعر ہر سطر سامعین کے دل پر براہ راست اثر کرتے ہیں اس ۸ویں علمی مشاعرے کی جان بنے رہے، کئی فرمائشی کلام بھی پیش کیا،امجد اسلام امجد کے مائیک پے آتے ہی سامعین کے چہروں پے رونق صاف نمایاں ہونے لگی، اپنے جداگانہ انداز اور پُر اثر کلام سے مشاعرے کو یادگار بنا دیا،محفل کے اختتام پرصدر محفل نامور شاعر ندافاضلی نے امیر خسرو کے انداز میں دوحے پیش کر کے مشاعرے کو عجب رنگ دے دیا،کئی غزلیں اور نظمیں بھی سامعین کی نذر کر کے ڈھیروں داد و تحسین سمیٹی،جہاں انکا کلام قابلِ سامع تھا وہاں اُنکا انداز بیان بھی قابلِ دید تھا،تقریب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مشاعرے پاکستان اور بھارت کے عوام کو قریب لانے میں مددگار ثابت ہوں گے،دلوں کی دوریاں ختم ہوں گی،محبتیں بڑھیں گی۔میں تہہ دل سے منتظمین خصوصا ظہور الاسلام جاوید کو اس کامیاب مشاعرے کے انعقا د پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،رات ساڑھے نوبجے شروع ہونے ولی یہ کامیاب محفل مشاعرہ تقریبا صبح ساڑھے چار بجے اپنے اختتام پر پہنچی،تقریب کا دلچسب پہلو باذوق سامعین کے تقریب کے اختتام تک دلجمعی سے کلام کو سماعت کرنا،انہوں نے ادابِ شعرو سخن کو ملحوظِ خاطر رکھااور بھرپور داد دے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کرتے رہے۔
شعرائے کرام کے کلام سے اقتباس نذرِ قارئین۔
مقصود احمد تبسم(نعت)
یہ ہیں معراج محبت کے اشارے شاید
ہم نے مکے میں بھی دیکھے ہیں مدینے کے خواب
فقیر سائیں
تسبیح دائیں ہاتھ میں،بائیں میں رشوتیں
کس نے میرے ضمیر کو مارا پتا نہیں
میم ک حسرت
رکھئے مقابل آئینہ آئینہ سازکے
حیرت زدہ کو اور بھی حیراں بنائیے
نسیم خالد
دیوار بن کے ہم نے تجھے آزما لیا
تو نے بھی اپنے ہاتھ میں پتھر اُٹھا لیا
یعقوب عنقا
راستے کی گرد میں کھویا ہوں میں
ڈھونڈ مجھ کو ہمسفر،آواز دے
سحرتاب رومانی
پھر یوں ہوا کہ وقت نے یہ فیصلہ دیا
جو لوگ اگلی صف میں تھے،پیچھے کئے گئے
ڈاکٹر ثروت زہرہ
ہمارے دور میں رقاص کے پاوں نہیں ہوتے
ادھورے جسم لکھتی ہوں خمیزہ سر بناتی ہوں
شوکت علی ناز
کون روتا ہے سر شام سرہانے میرے
آگیا کون یہ غم اور بڑھانے میرے
سہیل ثاقب
لوگ تو ہمدرد ہیں دکھ بانٹنے آ جائیں گے
میں مگر تقسیم کا کب تک عمل جاری رکھوں
ڈاکٹر عاصم واسطی
کر اعتراف عشق سرعام فخر سے
دیتا ہے کون تجھ کو سزا دیکھتا ہوں میں
راشد نور
فراتِ وقت سے ایک تشنگی لئے آخر
میں لوٹ آیا ہوں دنیا کی پیاس رکھنے کو
تسنیم عابدی
ہوا کو یہ بھی بتایا کہ روشنی ہے کہاں
چراغ کو بھی میرے راستے میں رکھا گیا
ریحانہ قمر
کہیں میں دل کہیں سطرِ انتساب میں ہوں
میں اک طرف کی نہ ہو کر بڑے عذاب میں ہوں
انا دہلوی
زمانے والو: نہ بجھ سکے گا تمہاری پھونکوں سے پیار میرا
مرے چراغوں کے حوصلے اب ہوا سے آگے نکل رہے ہیں
پاپولر میرٹھی
ایسے عالم میں مناسب نہیں انکار چلو
چلو دلدار چاند کے پار چلو
ظہور الاسلام جاوید
میرے ساتھ تھا جب تک تو آسمان میں تھا
عجیب رنگ میں تھا اور عجب گمان میں تھا
مجھے شکار کیا ہے بڑے سلیقے سے
وہ میری گھات میں بیٹھا مری مچان میں تھا
عباس تابش
مجھ گمنام سے پوچھتے ہیں فرہاد مجنوں
عشق میں کتنا نام کمایا جا سکتا ہے
یہ مہتاب یہ رات کی پیشانی کا گھاؤ
ایسا زخم تو دل پر کھایا جا سکتا ہے
پھٹا پرانا خواب ہے میرا پھر بھی تابش
اس میں اپنا آپ چھپایا جا سکتا ہے
انور شعور
توجہ میں کمی بیشی نہ جانو
عزیزو: میں اکیلا آدمی ہوں
گزاروں ایک جیساوقت کب تک
کوئی پتھر ہوں میں یا آدمی ہوں
شعور آجاؤ میرے ساتھ لیکن
میں ایک بھٹکا ہوا سا آدمی ہوں
امجد اسلام امجد
وہ ایک سوچا ہوا ناز سا تکلم میں
نظر میں ایک جھجک سی کوئی بنائی ہوئی
ڈھکا ڈھکا سا تکبر وہ بات سننے میں
تھی جس میں حسن کی نازش کہیں چھپائی ہوئی
بدن میں خوف کی لرزش بھی ، اور دعوت بھی
گریز کرتی ہوئی اور قریب آتی ہوئی
کچھ اس کو دیکھ کے کھلتا نہ تھا کہ کیا ہے وہ
فریب دیتی ہوئی یا فریب کھائی ہوئی
ندافاضلی
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے اُدھر کے ہم ہیں
پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے
اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں
وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں تک
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
اور چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب
سوچتے رہتے ہیں کہ کس راہ گزر کے ہم ہیں
***
Viewers: 1607
Share