منٹو کی کہانی منٹو کی زبانی

سعادت حسن منٹو دہلی کے اسٹیج پر
اردو ڈراما ’’ایک کتے کی کہانی‘‘ کی کامیاب پیشکش
منٹو کا کردار زندہ ہے
منٹو کی کہانی منٹو کی زبانی
کہانیاں خود لکھواتی ہیں مجھ سے:منٹو
نئی دہلی(۳۰، مارچ ۲۰۱۳) ’’میں کہانیاں نہیں لکھتا، کہانیاں خود بخود لکھوا لیتی ہیں مجھ سے‘‘ یہ مکالمہ ہے مشہور اردو ڈراما ’’ایک کتے کی کہانی‘‘ کا جس میں منٹو کے کردار کی زبان سے یہ ادا ہوتا ہے۔ منٹو کی حیات و خدمات پر مبنی ڈرامہ ’’ایک کتے کی کہانی ‘‘ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے کنوینشن سینٹ میں نہایت کامیابی کے ساتھ اسٹیج کیا گیا۔ جس کی ہزاروں کی تعداد میں موجود ناظرین نے خوب پذیرائی کی۔
ڈرامہ ’’ایک کتے کہانی‘‘ پچھلے دنوں شہر میں تھیٹر کے شائقین اور ڈراموں سے دلچسپی رکھنے والوں کے درمیان بہت مقبول و مشہور ہوچکاہے ۔ اردو کے شائقین نے بھی اس کی خوب پذیرائی کی۔ ’’ایک کتے کی کہانی‘‘ کو دہلی سرکار کے قائم کردہ ادارے ساہتیہ کلا پریشد کی جانب سے سال ۲۰۱۲ کا بہترین ڈرامے کا انعامم بھی حاصل ہوچکا ہے۔ مشہور ڈرامہ نگاراور ریڈیوکے فنکار دانش اقبال کے لکھے اس ڈرامے کی ہدایت کا کام ملک کی مایہ ناز ڈرامہ نگار، اداکارہ اور ہدایت کار محترمہ سلیمہ رضا نے انجام دیا۔ خیال رہے کہ سلیمہ رضا نے اس سے قبل جوشؔ ملیح آبادی کی ’یادوں کی بارات‘ ،فیض کے خطوط پر مبنی’’ چند روز اور مری جان‘‘، ایرندرا، میٹرو پولس‘‘، نٹی ونودنی‘‘ ، میں کون ہوں‘‘ وغیرہ ڈراموں کو کامیابی کے ساتھ ملک و بیرون کے ممالک میں پیش کر کے اپنے فن کا لوہامنوا چکی ہیں۔ ’ایک کتے کی کہانی‘ کے مصنف دانش اقبال کے اردو ڈرامے، ’’دارا شکوہ‘‘، یہ شہر دلی‘‘، امرتا‘‘ وغیرہ ڈرامے ہند وپاک میں کامیابی کے ساتھ کھیلے جاتے ہیں۔
جواہر لعل نہرو یونیور سٹی کے کنوینشن سینٹر میں رنگ بیار ڈراما فیسٹِول کا افتتاح اردو کے مشہور و مقبول ڈرامہ ’’ایک کتے کی کہانی‘‘ کی پیش کش سے ہوا۔
ونگس کلچرل سوسائٹی نے پچھلے دنوں اردو کے کئی اہم ڈرامے پیش کر کے تھیٹر کی دنیا میں اردو ڈراموں کی موجودگی بحسن خوبی درج کرائی ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں اردو میں اسٹیج ڈرامے کے وجود پر ہمیشہ سوال اٹھتا رہا ہے۔ لیکن ’ونگس‘ نے خالص اردو ڈراموں کی پیشکشوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جس طرح واجد علی شاہ، امانت لکھنوی، نے اردو اسٹیج کی شروعات کی تھی اور پارسی تھیٹر تک آتے آتے اردو اسٹیج کو ملک بھر میں سب سے زیادہ مقبولیت مل چکی تھی لیکن آغاحشر کاشمیری، ماسٹر فدا حسین کے بعد اردو کا اسٹیج کمزور پڑنے لگا۔ حالانکہ محمدمجیب، محمد حسن، کیفی اعظمی، حبیب تنویر، اقبال مجید، جاوید صدیقی جیسی شخصیات اسٹیج سے بھی جڑی رہی ہیں لیکن پھر بھی مین اسٹریم تھیٹر میں اردو کا فقدان رہا۔ ’’ونگس کلچرل سوسائٹی‘‘ نے اردو ڈراموں کی پیش کشوں کی بنیاد پر مین اسٹریم میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان کی مایہ ناز اکادمی، ساہتیہ کلا پریشد کی جانب سے سال ۲۰۱۲ کے بہترین ڈرامے کے ایوارڈ سے بھی ’’ایک کتے کی کہانی‘‘ کو نوازا جا چکا ہے جس کی حال میں پیشکش نے ملک بھر میں اردو کی اس پیشکش پر رشک کیا۔
اس ڈرامے کے ذریعہ منٹو کی سوانح پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ موقع بموقع منٹو کی لکھی چند مشہور کہانیوں کے کچھ حصے پیش ہوتے رہے ، جن میں’ کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت، جی آیا صاحب اور ٹٹوال کا کتا‘ قابل ذکر ہیں۔ ان میں ٹٹوال کا کتا کی پیشکش سے ہند و پاک کے درمیان تناؤ کی بہترین عکاسی ہوتی ہے ۔ منٹو کے کردار کے ذریعہ منٹو کی ذہنی کیفیات کو بھرپور طریقے سے پیش کرنے میں طارق حمید بہت کامیاب رہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر کے کردار میں کپل ہمنانی نے، سلطانہ کے کرداد میں مسکان بگانے، اِشر سنگھ کے کردار میں محمد عادل سیفی نے ، اور ٹٹوال کے کتے کے کردار میں کُش اروڑا نے بہترین اداکاری کے نمونے پیش کیے۔ رنجن بسو نے روشنی کا اہتمام کر کے اور انکُش گپتا نے موسیقی کا اہتمام کر کے اس ڈرامے کی پیشکش کو اور بھی قوت بخشی۔
***
Viewers: 2140
Share