Aftab Ahmad Afaqi | ’’اردو اور بھوجپوری :آواجاہی کے پہلو ‘‘تہذیب اور زبان کے رشتوں کی نئی تلاش

آفتاب احمد آفاقی شعبۂ اردو ،بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی ’’اردو اور بھوجپوری :آواجاہی کے پہلو ‘‘تہذیب اور زبان کے رشتوں کی نئی تلاش قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی […]

آفتاب احمد آفاقی
شعبۂ اردو ،بنارس ہندو یونیورسٹی
وارانسی
’’اردو اور بھوجپوری :آواجاہی کے پہلو ‘‘تہذیب اور زبان کے رشتوں کی نئی تلاش
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، اس لحاظ سے قابل مبارک باد ہے کہ اس کے مالی تعاون سے بھوجپوری ادھین کیندر ،بنارس ہندو یونیورسٹی کے زیر اہتمام’’اردو اور بھوجپوری : آواجاہی کے پہلو ‘‘ کے عنوان کے تحت ایک دو روزہ قومی سمینار ، ۲۲،۲۳ مارچ کو منعقد کیا گیا ۔یہ سمینار موضوع اور مواد کے لحاظ سے ان معنوں میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ اس سے قبل اردو یا بھوجپوری زبان میں اس نوعیت کا کوئی سمینار، مذاکرہ یا مباحثہ عمل میں نہیں آیا ۔ویسے بھی ہمارے یہاں کلاسیکی شعر و ادب اور معروف اہل قلم یا موضوعات ،ہماری فکر و دانش کا ہی حصہ رہے ہیں ،اور ہماری تمام تر توجہات و ترجیہات قدمااور متاخرین پر ہی رہی ہیں ایسے میں نئے موضوعات یا اردو سے علاحدہ ہو کر غور و فکر کرنے یا عصری تقاضوں اور مطالبات پر ہم نے کم ہی بنائے ترجیح رکھی ہے ۔اردو کی پیدائش یا انسلاکات کے ضمن میں ہمارے تصورات آج بھی اکابرین کی ہی رہین منت ہیں جبکہ صداقت یہ ہے کہ دوسری زبانیں بالخصوص ہندی اپنے کلاسیکی سرمائے کو نہ صرف متمول کر رہی ہے بلکہ اس کے حدود میں اردو کے کئی اہم موضوعات ، ادبا اور شعرا شامل ہو چکے ہیں جنھیں اردو والوں نے لائق توجہ نہیں سمجھا ۔نتیجتاََکبیر ، نانک ،رحیم اور خسروجیسے ہندوستانی شعرا ہمارے مطالعے کا حصہ نہ بن سکے ، اسی طرح علاقائی زبانوں کے رشتوں پر بھی ہم نے غور و فکر کرنے کی زحمت گوارہ نہ کی ،ایسی حالت میں اردو کے تعلق سے یہ خیال پیدا ہونا ایک فطری امر ہے کہ اردو صرف اشرافیہ کی زبان ہے۔اس خیال کو اس مفروضے نے مزید تقویت بخشی کہ اس کی پرورش و پرداخت بڑی حد تک محلوں ، امرا و روساء کے درباروں میں ہوئی ہے۔دلی ، لکھنؤ ، عظیم آباد ، کلکتہ اور دکن اس کے اہم مراکز رہے ہیں۔ظاہر ہے اردو زبان کی نزاکتوں اور لطافتوں پر اس کے اثرات سے انکار کی گنجائش نہیں ، لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ اردو محض امرا تک ہی محدود رہی ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس زبان کا رشتہ دوسری علاقائی زبانوں اور بولیوں سے بڑا گہرا اور پائدار رہا ہے ۔ اردو کو مخصوص طبقے تک محدود کرنے کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ یہ زبان مقامی تہذیب و ثقافت کی نفی کرتی ہے اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور روایات کی علمبردار نہیں ہے ۔ظاہر ہے کہ اردو صرف ترسیل کی زبان ہی نہیں بلکہ ہماری برسہا برس کی ملواں تہذیب کی علامت بھی ہے جس کے رگ و ریشے میں مختلف مذاہب ، عقائد اور تصورات کے خون دوڑ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اردو اور فارسی برسہا برس تک اس ملک کی سرکاری زبان رہی ہیں جس کے باعث دفتروں کے علاوہ عوام و خاص کی تہذیب کا حصہ بننے کا انھیں شرف بھی حاصل رہا ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کی دوسری زبانوں مثلاََ بنگلہ، گجراتی اور مراٹھی کے علاوہ بھوجپوری اور میتھلی وغیرہ بولیوں اور شعر و ادب پر بھی اردو کے اثرات نمایاں ہیں۔خصوصاََبھوجپوری علاقے پر اس کے گہرے نقوش مرتب ہوئے ہیں ، اردو کے ہزاروں الفاظ بھوجپوری میں ایسے رچ بس گئے ہیں جنھیں علاحدہ کرنا مشکل ہے ۔مثلاََ اکثرہاں ( اکثرا) اجماوال( آزمانہ) آرج ( عرض) کبول ( قبول) سبر ( صبر) سوبھا ( صبح) ستاول ( ستانا) کریجہ (کلیجہ) بے ماری ( بیماری ) کترل ( کترنا ) وغیرہ جیسے سیکڑوں الفاظ بھوجپوری زبان میں اس طرح رچ بس گئے ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ اردو کے ہیں یا بھوجپوری کے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں زبانوں میں لین دین کا عمل یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے ۔ اردو کی شعری تخلیقات کو اگر منہا کر دیا جائے تو تقریباََ تمام نثری فن پاروں خصوصاََ فکشن پر بھوجپوری کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ بالخصوص بہار کے مغربی علاقوں اور اتر پردیش کے مشرقی اضلاع کے شعر و ادب پر بھوجپوری کے اثرات بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ عوامی سطح پر اردو گیت ، بارہ ماسے کی روایت ، کہاوت ، ضرب المثل ، دیہی علاقوں میں پڑھے جانے والے مرثیے اور شادی کے موقع پر گائے جانے والے گیت ہمارے جذباتی رشتوں اور تہذیبی قدروں کا شفاف آئینہ ہیں ۔
متذکرہ رشتوں پر غور و فکر اور تحقیق و جستجو کے اعتبار سے متذکرہ سمینار کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے ۔اول یہ کہ اس علاقے کی مشترکہ تہذیبی قدروں کی از سرِنو باز یافت کی ایک سعی کی گئی، اور دوم لسانی سطح پر ان دونوں زبانوں کے رشتے کی تلاش اور اس کی روشنی میں مستقبل میں ان دونوں زبانوں کے فروغ کے لیے عملی اقدام کے تعلق سے حکمتِ عملی متعین کی گئی۔ اس سلسلے میں ہندی کے ممتاز نقاد پروفیسر اودھیش پردھان نے اپنے کلیدی خطبے میں اردو اور بھوجپوری کے رشتے پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں زبانیں ہندوستان کی سوندھی مٹی سے جنمی ہیں ان دونوں زبانوں کے بولنے اور سمجھنے والے ایک ہی ہیں،ان کا کلچر،ان کا علاقہ اور رسم ورواج سب ایک ہیں۔بھوجپوری بولنے والی آبادی کا تعلق چونکہ دیہات سے رہا ہے اور اس خطّے کی آبادی کا بڑا حصّہ آج بھی گاؤں میں بستا ہے ،جہاں رواداری،بھائی چارگی اور میل جول ،دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی مثالیں ،صارفیت کے اس عہد میں بھی شہروں کے مقابلے زیادہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ بھوجپوری میں اردو اور فارسی زبانوں کی کثرت اس کی بین مثا لیں ہیں ۔اس لئے کہ ہندو اور مسلمان ،ان دونوں زبانوں کی آبیاری اور ترویج و اشاعت میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کے ان دونوں زبانوں کا مطالعہ ہمارے اتحادو اتفاق کے چلن کو بھی مضبوط کریگا اور ہماری سا جھا وراثت کوعام کرنے میں بھی ممد و معاون ثابت ہوگا۔
مہمانِ خصوصی پروفیسر پرتھیویش ناگ،وائس چانسلر،مہاتما گاندھی کاشی ویدیاپیٹھ نے اپنے افتتاحی کلمات میں ،مختلف ممالک میں اپنی ملازمت کے دوران قیام اور وہاں اردو کی صورتحال پر معلو مات افزا روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک میں میرے عربی سیکھنے کا واحد ذریعہ ہندوستانی زبان اردو ہی تھی۔ پروفیسر ناگ نے زبان اور جغرافیہ کے رشتوں کی نشاندہی بڑے دلچسپ انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ ہر زبان پر سماج کی طرح جغرافیہ اور قدرتی مناظر کے بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ ماریشس اورسورینام جیسے ممالک میں ہندوستانی، مزدور کی حیثیت سے گئے تھے لیکن اپنی زبان اور تہذیب کو اپنے سینے سے لگائے رکھا آج وہاں اردو ،ہندی اور بھوجپوری بولنے والوں کی جو تعداد ہے وہ انہیں دیہاتیوں کی محنت کا ثمرہ ہے ۔پاکستان میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ بھلے ہی حاصل ہے لیکن آج وہاں محض سات فیصد لوگ ہی اردو کو اپنی تحریری ضروریات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ا نھوں نے کہا کہ بھوجپوری اور اردوزبان میں نوجوان اپنا مستقبل تلاش کر سکتے ہیں اس میں ممکنات کی کمی نہیں ہے ۔ اس زبا ن کو جغرافیہ ، سماجیات اور دوسرے مضامین سے بھی جوڑا جا سکتا ہے ۔ اس موقع پر صدر شعبۂ اردو ، ڈاکٹر یعقوب یاور نے کہا کہ ہماری تہذیب اور زبانیں اسی ملک کی پیداوار ہیں ۔تہذیب ،تمدن اور ادب کے باہمی میل جول سے ایک ایسا کلچر پیدا ہوتا ہے جس میں انسانیت مقدم ٹھہرتی ہے ۔ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم نے زبانوں کو مختلف تہذیبوں کی طرح خانوں میں بانٹ کر دیکھنے کی سعی کی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زبان و تہذیب کے باہمی اختلاط اس قدر پیچیدہ ہوتے ہیں اور اس کے اثرات دوسروں پر اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ ان کی نشاندہی مشکل ہے ۔ پروفیسر شاہینہ رضوی نے بھوجپوری علاقے کی تہذیب و ثقافت کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں آج بھی محّرم کے موقع پر بھوجپوری بھاشا میں مرثیے ،نوحے اور دہے پڑھے جاتے ہیں ان میں اردو اور فارسی کے الفاظ بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔اپنے صدارتی کلمات میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس مہیندر ناتھ رائے نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اوربھوجپوری اسٹڈی سینٹر نے اس سمینار کا انعقاد کرکے اردو اور بھوجپوری جاننے والوں کو ایک نئی راہ دکھائی ہے ۔ آخر میں تمام شرکاء کو بھوجپوری کی پہچان گمچھا اور جھولا پیش کیا گیا جس میں سادگی بھی تھی اور اپنی قدروں کی حفاظت کا جذبہ بھی موجزن تھا۔افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر آفتاب احمد آفاقی نے کی ۔آخر میں بھوجپوری اسٹڈی سینٹر کے صدر پروفیسر سدا نند شاہی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ دوپہر کے کھانے میں بھی اس علاقے کی روایت کوخصوصی اہمیت دی گئی تھی۔پوڑی ،اچار اور سبزی کے ذائقے سے مقامیت کی خو شبو آرہی تھی۔ہر شخص اس بات سے مطمئین نظر آرہا تھا کہ پہلی بار ہی صحیح لیکن یہ ایک خو ش آئین پہل ہے۔کسی نے ایک شعر پڑھا اور بجا پڑھا:
کچھ نہیں تو کم سے کم خوابِ سحر دیکھا تو ہے۔۔جس طرف دیکھا نہ تھا اس طرف دیکھا تو ہے
شام کو اردو اور بھوجپوری کے شعرا پر مشتمل ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں زبانوں کے شاعروں نے اپنے کلام سے نوازا اور شامعین دیر تک محظوظ ہوتے رہے۔جن اردو شعرا کے کلام داد و تحسین لینے میں کامیاب ہوئے ان میں طربؔ صدیقی ،الکبیرؔ بنارسی، ثمر غازی پوری ،نظامؔ بنارسی اور یعقوب یاور کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں ہندی اور اردو کے ادیبوں اور قلم کاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ،اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹرجمیل اخترنے کی ۔موصوف نے علی گڑھ میں تعلیم حا صل کی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں بھوجپور ی زبان کے مرکز یعنی آرہ میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں ۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادب فہمی کا ایک شستہ مذاق رکھنے کے علاوہ بھوجپوری سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ اس اجلاس میں پہلا مقالہ دیواکر پانڈے نے بہ عنوان ’’بھوجپوری شاعری میں اردو الفاظ ‘‘ پیش کیا ، ان کی پوری تقریر بھوجپوری میں تھی لہجے کا اتار چڑھاؤ اور بھوجپوری کے میٹھے الفاظ نے ایک ایسی فضا تیار کر دی جس میں غورو فکر کے ساتھ سامعین نے قہقہے بھی لگائے۔ان کی گفتگو میں کہیں طنز و مزاح کے تیر تھے کہیں کھیتوں کھلیانوں ،ندی اور تالابوں کی خوشبو۔ تو کہیں چرواہوں کی مختلف آوازیں،کھیتوں میں کام کرنے والیوں کے گیت،جھومر اور سوہر کے رس نے پریم چند کے ان کرداروں اور ماحول کو زندہ کر دیا جس میں ہوری اور دھنیا کبھی بستے تھے ۔ان کا خیال تھا کہ بھوجپوری اصلاََ گاؤں دیہات کے علاقے سے تعلق رکھتی ہے ۔ جہاں ہندوؤں اور مسلم تہذیب کے علاوہ کوئی تیسری سنسکرتی نہیں ملتی یہی وجہ ہے کہ بھوجپوری شعر و ادب میں اردو یا فارسی کے الفاظ ہی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ بھوجپوری زبان کی قدیم شاعری یا جدید غزلوں کے مجموعوں پر اردو کے گہرے اثرات بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان نے بھوجپوری شاعری کو متمول کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
ڈاکٹر جمیل اختر نے ’’ بھوجپوری پر اردو کے اثرات ‘‘ عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا، انھوں نے کہا کہ بھوجپوری ایک آریائی زبان ہے جو اتر پردیش کے مشرقی اور بہار کے مغربی اضلاع میں بولی جاتی ہے۔ اس خطے کی اپنی ثقافت اور سماجی ساخت ہے جسے ہم گنگا جمنی تہذیب و ثقافت سے عبارت کرتے ہیں جس میں مختلف مذاہب کے لوگ اور مختلف لسانی گروہ باہم مل جل کر رہتے آئے ہیں ۔ ظاہر ہے اس میل جول اور باہمی اختلاط کے نتیجے میں ایک دوسرے کی تہذیبی و معاشرتی رسوم و روایات ، عقاید و تو ہمات ، ترجیہات و تعصبات ، خیالات و تصورات کا تبادلہ ایک فطری امر ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ مغلیہ دور حکومت میں فارسی کا غلبہ رہا ۔ فارسی عدالتی اور سرکاری زبان تھی ، اس کا اثر مقامی زبانوں پر بھی پڑا ، بھوجپوری نے بھی فارسی کا اثر قبول کیا ، لیکن اخذ و استفادہ کا بڑا سرچشمہ اس علاقے میں بسنے والے عوام کی زبان یعنی اردو ہی تھی جس کے اثرات اس علاقے کی بولی ، بھوجپوری نے سب سے زیادہ قبول کیے ۔ ہر چند کہ اس زبان میں سنسکرت ، کھڑی اور انگریزی کے متعدد الفاظ موجود ہیں لیکن آج ہندی ، اردو اور بھوجپوری کے الفاظ باہم اس طرح شیر و شکر نظر آتے ہیں کہ انھیں علاحدہ کرنامشکل ہے ۔
ڈاکٹر صفدر قادری نے ’’ اردو کی پیدائش کے نظریات اور بھوجپوری کا ابتدائی ادب‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ بہ زبانِ ہندی پیش کرتے ہوئے مروّجہ نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اردو دوسری زبانوں کی طرح ہی عوام کے درمیان سماجی ضروریات کے نتیجے میں پیدا ہوئی لیکن اس کا رشتہ درباروں سے قائم ہوتارہا یہی سبب ہے کہ اس پر اشرافیہ طبقے کی پسند و نا پسند کے اثرات محسوس کیے جا سکتے ہیں بلکہ ایک طرح سے اردو برہمن واد کی زبان کی منتقل صورت ہے ۔امیر خسرو بھلے ہی عوامی شاعر تھے لیکن وہ بھی آخر کار اشرافیہ سماج کے اہم رکن تھے ۔ اردو محققین کے وسائل اس قدر محدود ہیں کہ وہ اردو کی پیدائش اور ارتقاء کے تعلق سے پنجاب اور دلی کے دائرے سے باہر نہ نکل سکے ۔ جبکہ واقعہ یہ ہے کہ اردو کی پیدائش کے سلسلے میں الہ آباد کے مشرق میں بولی جانے والی عوامی زبان اور ادب کو بنیاد بنا کر تحقیق کی جاتی تو اس کے نتائج زیادہ بہتر بر آمد ہوتے ۔ بہ الفاظ دیگر بھوجپوری ، مگہی ، متھلی ، برج اور جھارکھنڈ کی ناگپوری ایسی بھاشائیں ہیں جنھیں بنیاد بنا کر از سر نو تحقیق کی جا سکتی ہے ۔ بھوجپوری اور دوسری بولیوں کی یہ بدقسمتی رہی کہ زبان اور فکر و شعور کی سیاست میں یہ علاقہ کمزور اور بے اثر رہا ہے ۔ انگریزوں کی آمد کے بعد بھی ادبی لحاظ سے متمول ہونے کے باوجود اس کی قدر و قیمت متعین نہ ہو سکی ۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ پورب کے اس خطے کے ادبیات کے تعلق سے گفتگو کا آغاز ہو اس سے بھوجپوری علاقے کی تاریخ ، تہذیب اور شعر و ادب سے ہم بخوبی واقف ہوں گے۔ صفدر قادری عام طور سے ان پہلوؤں پر بطورِ خاص روشنی ڈالتے ہیں جن سے اختلافی نکتے بر آمد ہوں ،ان کے مضمون میں اسی طرح کی بات تھی ۔بلکہ دلائل کی جگہ جذبات کے غلبے نے بعض نئے سوالات پیدا کر دیے۔
ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے ’’اردو ناولوں میں بھوجپوری کا استعمال‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔ اسلم صاحب ہماری نسل میں ایک ایسے ادیب ہیں جن میں تنظیمی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں ۔وہ بذاتِ خود نئے موضوعات پر اکثر سیمینار اور مذاکرے کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، تاہم بھوجپوری اور اردو کے تعلق سے منعقدہ اس سیمینار سے اس قدر خوش تھے کہ وہ اسے سنگ میل کی حیثیت قرار دینے سے بھی گریز نہ کر سکے ۔ اپنے پرچے میں پریم چند ، راہی معصوم رضا، عبدالصمد ، الیاس احمد گدی، غضنفر وغیرہ کے وسیلے سے یہ ثابت کیا کہ اردو فکشن میں بھوجپوری زبان اور بولیوں کا استعمال بڑی خوبی سے ہو رہا ہے ۔بالخصوص اس علاقے سے تعلق رکھنے والے کرداروں کے مکالمے اس کے بیّن ثبوت ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ انھیں محض مکالمہ کہہ کر اردو پر تنگ نظری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا ، اس لیے کہ یہی مکالمے فکشن کے کرداروں کی جان ہیں اور کردار نگاری کے سیاق میں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ادھر اسیّ کے بعد اردو کی نئی نسلوں کی تخلیقی نگارشات میں مقامیت پر توجہ کی جو روش عام ہوئی ہے ان میں بھوجپوری بھاشا کا بھی استعمال ہو رہا ہے جسے ہم اردو کی کشادگی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
پروفیسر انیل کمار رائے ( گورکھپور یونیورسٹی ) نے اردو اور بھوجپوری کے رشتوں کو ایک اٹوٹ رشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قلم کاروں کا یہ فریضہ ہے کہ اپنی اس قدیم وراثت کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ اس کے فروغ و اشاعت میں بھی دلچسپی لیاجائے۔ بعض لوگوں نے اردو کے سمٹتے ہوئے علاقوں پر تشو یش کا اظہار کیا اور اس کی ذمہ داری اردو آبادی کے کاندھوں پر ہی دے ڈالی۔تاہم اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ ہم اردو غزل سے دلچسپی تو لیتے ہیں لیکن اس کے فنی لوازمات سے بے خبر ہیں ۔ اس سلسلے
میں دیویندر آریہ کا خیال تھا کہ اردو کا چلن کم ہوا ہے اور اس کے بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی آئی ہے ۔ انھوں نے اس بات پر توجہ دی کہ تہذیبی اور لسانی سطح پر یہ دوریاں سیاسی ،سماجی اور معاشرتی کے ساتھ لسانی عصبیت کی زائیدہ ہیں۔ اس لیے کہ اردو بڑی حد تک عربی اور فارسی سے قریب رہی ہے ۔ چنانچہ علاقائی بولیوں سے پرہیز نے اسے مخصوص طبقے تک محدود کر دیا ۔ دوسری پریشانی اس کے رسم الخط سے بھی پیدا ہوئی ہے ۔ اس اجلاس کی قابلِ ذکر بات یہ تھی کہ اس طرح کے متنازعہ فیہ تصور کا جواب حقائق اور انصاف کی بنیاد پر دینے والے ادیب بھی موجود تھے ۔ڈاکٹر پرکاش اودے نے دیویندر آریہ کے اردو سے متعلق اٹھائے گئے سوالات اور بعض اعتراضات کا بڑے مدلل انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کی اپنی تہذیب اور ثقافت ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر اسے اختصاص حاصل ہوتا ہے۔ تو پھر اردو پر ہی یہ الزام کیوں؟ کیا ہندی میں ثقیل سنسکرت الفاظ نہیں ہیں ؟جبکہ اردو اور ہندی دونوں بڑی حد تک ایک ہی زبان ہیں۔ اردو کی خوبصورتی اس کے الفاظ کی نرمیت ، ملائمیت ، شیرینی کے علاوہ اس کے رسم الخط سے بھی ہے اور پھر اردو کسی مذہب کی زبان تو نہیں اس زبان کی ترقی و ترویج و اشاعت میں دوسرے مذاہب کے لوگ برابر کے شریک ہیں۔ڈاکٹر محمد عقیل نے اردو اور فارسی زبان کے لسانی رشتوں اور بھوجپوری کی قواعد پر بطورِ خا ص روشنی ڈالی۔اس سیمینار کی ایک اہم خا صیت جس کے اثرات بہت دورتک مرتب ہوں گے وہ یہ تھی کہ نئی نسل نے اس میں بڑھ چڑھ کے نہ صرف حصّہ لیا بلکہ بحث و تمحیث میں بھی پیش پیش رہی ۔بالخصوص ہندی کے طلبہ نے یہ اعتراف کیا کہ بھوجپوری میں در آئے الفاظ کو آج تک ہم اسی کے الفاظ سمجھتے رہے ،اب ہمیںیہ احساس ہوا کہ یہ اردو اور فارسی کہ الفاظ ہیں ،اسی طرح ہندی کو سندر بنانے میں اردو زبان کے کردار سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔
سیمینار کے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر نسیم احمد نے کی ۔اس مو قع پر اودھیش پردھان نے اپنی پُر مغز تقریر میں کہا کہ اردو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور ہماری اتحاد کی علامت بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ اردو کے قلمکاروں نے عربی اور فارسی زبان و ادب سے کسبِ فیض کیا،لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس بھاشا نے یہاں کے عوام کو قریب لانے ، یہاں کے مذاہب و عقا یدکو فروغ دینے اور باہمی اتحاد و اتفاق پیدا کرنے میں جو رول ادا کیا ہے اسے نظر انداز کرنا ،تاریخ کو یکسر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔اردو نے ہندی اور بھوجپوری کے ذخیرۂ الفاظ کو متمول تو کیا ہی ہے بعض اصناف مثلاً غزل اس زبان کی ایسی دین ہے جسے ہر زبان اپنانے کی سعی میں مصروف نظر آرہی ہے۔لیکن ہمیںیہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اردو شاعری کو فنی لوازمات سے آراستہ کرنے اور اس کے تقاضوں کو برتنے میں اردو شعرا و ادبا نے جس تندیہی ، عرق ریزی اور جانفشانی سے کام لیا ہے وہ انہی کا خاصہ ہے ۔اردو غزل کی اپنی ایک تہذیب ہے ، ایک معیار ہے، ایک وقار اور وزن ہے، جسے وہ ہر صورت میں سنبھال کر رکھنا چاہتی ہے اور یہی صفت اسے ہندوستان کی دوسری زبانوں پر برتری عطا کرتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی ان اقدار کو زندگی کا شیوہ بنا لیں جنھیں ہمارے اکابرین ، بزرگوں ،صوفیوں اور سنتوں نے قائم کیا تھا۔ یہ دھرتی نانک ،بابا فرید ، بلّے شاہ اور خواجہ غریب نواز اور رامانوج کی ہے ،جنھوں نے امن اور شانتی کا بیغام دینا کو دیا تھا۔اردو نے بھی ایسے ہی صوفیوں اور سنتوں کے خون جگر سے جنم لیا ہے، اس لیے اس بھاشا میں پریم ،مٹھاس اور لچک موجود ہے ۔اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر نسیم احمد نے کہا کہ ضرورت ہے کہ اردو کے کلاسیکی شعر و ادب کا ترجمہ بھوجپوری زبان میں کیا جائے ۔ ہر چند کہ شاعری کا ترجمہ ایک مشکل عمل ہے لیکن کم از کم اس کے وسیلے سے بھوجپوری خطے کے لوگ میر، غالب ،مومن اور دوسرے اہم شعرا کے احساسات و جذبات سے باخبر ہوں گے۔آخر میں پروفیسر بلراج پانڈے ، صدر شعبۂ ہندی نے اظہار تشکر کی رسم ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کے پروگرام سے ایک نئی روشنی اور نئی قوت ملتی ہے ۔جس کی روشنی میں ہماری نسلیں اپنے مستقبل کی راہیں متعین کریں گی اور بدگمانیوں سے محفوظ رہیں گی۔اس سمینار نے جہاں بہت سارے سوالات کے حل تلاش کیے وہیں اردو کے تعلق سے قائم شدہ مفروضات کو تہس نہس کرکے ایک ایسی روایت کی طرح بھی ڈالی، جس پر مزید غور و فکر کے امکانات روشن ہیں اور حق و صداقت کو عام کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سچ کو زیادہ سے زیادہ مشتہیر کیا جائے ورنہ جھوٹ کی کثرت ہماری تہذیب کو مندمل کر دے گی۔
Viewers: 3627
Share