قیس آفریدی کے ساتھ بزم ادراک کی اعزازی نشست

 

خان پور :۔( نیوز ڈیسک)قیس فرید ی نے تین نسلوں کی فکری اور ثقافتی آبیاری کی ہے ۔جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود اُن کی سوچ توانا اور مثبت ہے ان خیالات کا اظہار معروف سرائیکی ادیب و دانشور شاعر قیس فریدی کے ساتھ بزم ادراک کی ایک خصوصی نشست میں کیا گیااس نشست کی نظامت کے فرائض مرزا حبیب الرحمٰن نے ادا کیے ۔مجاہد جتوئی نے قیس فرید ی کے فن اور شخصیت پر مقالہ پیش کیا جس میں ان کی50 سالہ ادبی ثقافتی خدمات کا جائزہ لیا گیا تھا ۔بزمِ ادراک کے صدر ملک منیر احمد نے کہا کہ قیس فرید ی کو ایک مثالی انسان اور مثالی ادیب قرار دیا جا سکتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی ادبی دھڑے بندی سے الگ رہتے ہوئے اپنے فن کی بنیاد پر اپنی شناخت قائم کی اظہر عروج نے بتایا کہ قیس فرید ی کی شاگردی میں انہوں نے اپنا فنی سفر کس آسانی سے طے کیا ۔قیس فریدی کے ادبی مقام و مرتبہ کا کوئی ادیب اگر اس قدرمثبت رویے بھی رکھتا ہو تو اسکی عظمت کو سلام کر نا لازمی ہو جاتا ہے اس موقع پر مہمان خصوصی قیس فریدی نے بزم ادراک کی ادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ذہنی غلامی انسانوں اور قوموں سے انکی شناخت چھین لیتی ہے جس کے بعد زوا ل کا عفریت ان قوموں کو نگل لیتا ہے ۔جو قومیں اپنے فکری دفا ع میں ناکام رہ گئیں ان کی تاریخ ، جغرافیہ اورثقافت دنیا سے مٹ گئی ۔حاضرین کی فرمائش پر قیس فرید ی نے اپنا کلام سنایا جسے بے حد پسند کیا گیا اس موقع پر قیس فریدی کے اعزاز میں ایک محفل مشاعرہ بھی منعقد کی گئی جس میں اظہر عروج ، عاشق سومرو اور سعید ثروت نے کلا م سنایا ۔حاضرین میں ایم یوسف وحید ، پروفیسر محبوب ستا ر ، پروفیسر یوسف سلیم ، پروفیسر کلید عمر ، رانا محمد ندیم ، پروفیسر جام محمد عرفان ، نذیر احمد بزمی ، مجاہد جتوئی ، مرزا حبیب الرحمٰن ، پروفیسر منیر ملک اور دیگر کئی ادیب شامل تھے ۔ بزم ادراک کے صدر منیر ملک نے قیس فرید ی کا شکریہ ادا کیا ۔
Viewers: 933
Share