Khursheed Hayat | آگ لگنے کے بعد

خورشید حیات کوارٹر نمبر 16/3 ، نیو این۔ای۔کالونی، بلاسپور (سی۔جی)495004 آگ لگنے کے بعد آگ….. آگ…. شعلہ یہ کیا ہو گیا؟ دیکھتے دیکھتے سارا مکان لہک اٹھا۔ دھواں، شعلہ اور […]

خورشید حیات
کوارٹر نمبر 16/3 ، نیو این۔ای۔کالونی،
بلاسپور (سی۔جی)495004

آگ لگنے کے بعد

آگ….. آگ…. شعلہ یہ کیا ہو گیا؟
دیکھتے دیکھتے سارا مکان لہک اٹھا۔ دھواں، شعلہ اور گرمی، اس پر چینختے بلکتے بچے ،بوڑھے اور سینہ پیٹتی ہوئی عورتیں۔ ایک خلفشار سا مچ گیا تھا۔ شور اور ہنگاموں نے پاس پڑوس کی ساری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ مغرب سے بہتی ہوئی ہوائیں تیز ہوتی جارہی تھیں۔
پھر ہوتا یوں ہے کہ اچانک آگ بجھنے لگی اور دھواں سا پھیلنے لگا۔ لوگ دھوئیں سے تنگ آکر کنارے ہٹنے لگے۔ جلتا ہوا مکان اب دھوئیں کا مسکن بن گیا تھا۔ پھر آگ سرد ہوگئی۔ دھواں بھی زائل ہوگیا۔ یہاں تک کہ آگ اور دھواں ایک افسانہ بن کر رہ گیا۔ مگر مالک مکان کو ایک الگ پریشانی لاحق ہوگئی تھی کہ اس کے جسم پر ایک چنگاری آکر اپنا کام کرگئی تھی اور اس کا سارا جسم اس طرح لہک رہا تھا جیسے ساری آگ اس کے جسم میں بھر دی گئی ہو۔ کبھی کبھی فطرت کا مذاق بھی عجیب ہوتا ہے۔ آتش بازی بنانے والا وہ شخص آج خود آتش بازی کی طرح اندر ہی اندر سلگ رہا تھا۔
آگ کیوں لگتی ہے؟
آگ لگتی ہے ، یا لگائی جاتی ہے؟؟
آگ تو تہذیب کی نشانی ہوتی ہے اور تہذیب ہمیشہ حسن کی قائل ہوتی ہے۔ مگر یہ آگ تو سب کچھ سیاہ کئے جارہی تھی اور جوسیاہ نہ ہوتا اس کو بھسم کئے جا رہی تھی۔
میں دور سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ اچانک میرے ذہن ودماغ میں آگ کے شعلے اٹھنے لگے اور نگاہوں کے سامنے چنگاریوں کا ایک ہجوم سا لگ گیا۔ میں چلانے لگا۔ آگ لگ گئی ہے۔ بجھاؤ ، بجھاؤ۔مگر کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں جلتا رہا اور میرا درون خاکستر ہوتا رہا۔ میرا ایک دوست جو مجھ سے بہت قریب تھا۔ میرا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر، مجھ سے لپٹ گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ بھی نہ جلنے لگے۔مگر میرے منع کرنے کے باوجود وہ مجھ سے لپٹا رہا اور میں اسے ٹالتا رہا۔ مگر ہوا یہ کہ آگ کی ایک چنگاری اسے بھی لگ گئی اور پھر ہم دونوں پانی کی تلاش میں دوڑنے لگے۔ ہم دونوں پاگلوں کی طرح ایک سمت دوڑتے جارہے تھے اور زمانہ ہمیں مجنوں سمجھ کر ہمارا تعاقب کررہا تھا۔ راستہ آگے بڑھتا رہا۔ ہم چلتے رہے۔ چلتے چلتے ایک بستی میں آئے۔ یہ تالابوں کی بستی تھی۔ یہاں ہماری سوزش کم ہوتی۔ مگر جب پہنچا تو محسوس ہوا کہ تالاب سراب بن گئے ہیں اور پانی بھی اب کہاں ، کدھر ۔۔۔۔؟ وہ بھی ریت کی طرح تبدیل ہوکر جل رہے تھے۔ اب ہمارے سامنے کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہماری جان نکل جائے گی، اور ہم خاک کے تودا ہو کر رہ جائیں گے۔
ہم دونوں نے پھر ہمت کرکے آگے کی طرف دوڑنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر پہنچے ، اور اوپر کی طرف چلنے لگے ابھی پوری طرح سے چوٹی پر گئے بھی نہ تھے کہ محسوس ہوا ہماری چنگاری شعلہ بن رہی ہے اور اس نے پہاڑ کی ساری چوٹی کو منور کررکھا ہے۔ بستی کے ارد گرد لوگ اس نور کو دیکھنے کی خاطر جمع ہوئے ہیں اور ہم ہیں کہ اس آگ کے عادی بن گئے ہیں، ہمارا بدن آگ کا بن چکا ہے۔ اب ہم دوسروں کو جلا سکتے ہیں۔ ہم روشنی پیدا کرسکتے ہیں، مگر خود سوزش محسوس نہیں کرسکتے، کیونکہ آگ نے ہم کو آگ میں تبدیل کردیا ہے ۔اب ہم خود جلتے ہیں، جلاتے ہیں کہ جلنا اور جلانا ہمارا مقدر بن چکا ہے۔

*****

Viewers: 4382
Share