Dr Syed Muhammad Yahya Saba | محقق ودانشور ڈاکٹر تنویر احمدعلوی نہیں رہے

ڈاکٹر سید محمد یحیٰ صبا شعبۂ اردو، کروڑی مل کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی۔110007 Mobile:09968244001 محقق ودانشور ڈاکٹر تنویر احمدعلوی نہیں رہے ایک روشن دماغ تھا نہ رہا ۔۔۔شہرمیں اک چراغ […]
ڈاکٹر سید محمد یحیٰ صبا
شعبۂ اردو، کروڑی مل کالج،
دہلی یونیورسٹی، دہلی۔110007
Mobile:09968244001
محقق ودانشور ڈاکٹر تنویر احمدعلوی نہیں رہے
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا ۔۔۔شہرمیں اک چراغ تھا نہ رہا
مذکورہ شعر اردو کے عظیم محقق ودانشور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے سلسلہ میں صادق آتا ہے جو ۲۰فروری شب ساڑھے ۹ بجے انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون:بہت صدمہ پہنچا، اس لیے نہیں کہ وہ میرے کوئی رشتہ دار تھے یا ہمارے پڑوسی بلکہ اس لیے کہ اردو کا ایک عظیم محسن نہ رہا جس نے اپنی ساری زندگی درس وتدریس اور اس سے بھی زیادہ تحقیق وتدوین میں صرف کیا۔استاد محترم کی رحلت پر ایک تعزیتی جلسہ کا انعقادکیا، جس میں شرکاء نے ان کی علمی وادبی خوبیوں کا ذکر کیا۔ شعبہ اردو کروڑی مل کالج کے استاد ڈاکٹر یحیےٰ صبا نے ان کا تعارف پیش کرتے ہوئے استاد محترم کی علمی وادبی خدمات پر بصیرت افروز اور پرمغز تقریر کرتے ہوئے ان کی ہمہ جہت لیاقت وصلاحیت پر تفصیل سے اظہار کیا۔جس کی تفصیلات انشاء اللہ عنقریب مضمون کی شکل میں منظرعام پر قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔ شعبہ اردو، ستیہ وتی کالج کے معروف استاد ڈاکٹر قمر الحسن کے مطابق ڈاکٹرتنویر احمدعلوی تحریری صلاحیتو ں کے علاوہ بے پناہ تقریری صلاحیت کے مالک تھے۔ کسی بھی علمی موضوع پر سیر حاصل اظہار خیال کرتے اور اپنے عہد کے اکابرین کو بھی متاثر کرتے ۔شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی نے بطور صدر ان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے عالمگیر پیمانے پر شہرت حاصل کی۔ اردو تنقید کے جواں سال نقاد شعبہ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹر ندیم احمد نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ ڈاکٹر تنویر احمد علوی کی نگارشات کو سینٹرل ایشیا میں اضافے کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ بلند پایہ محقق، ایک کامیاب اور ہر دلعزیز استاد تھے۔ انہوں نے ایک ایسی نسل کی آبیاری کی ہے جو دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں تدریس وتحقیق کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شعبہ اردو دیال سنگھ کالج کے استاد اور جدید تنقید کے پارکھ ڈاکٹر مولا بخش کے مطابق یونیورسٹیوں میں تحقیق کے لیے جن اساتذہ نے بنیادی کتابیں لکھیں ان میں سے سرفہرست تنویر علوی کا نام ہے۔ تحقیق وتدوین کے اصول مرتب کرتے وقت انہوں نے جس جانفشانی کیساتھ مغربی تحقیق وتنقید کے اصولوں کے پیش نظر مشرقی انداز تحقیق کی باریکیوں سمجھانے اور سمجھنے کی کوشش کی اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔
دہلی یونیورسٹی کے استاد اورپراکٹوریل بورڈکے رکن ڈاکٹر محمد کاظم کے مطابق اردو شعر وادب کو جن چند جیالوں نے سرخرو کیا ہے اوردنیا کی عظیم زبانوں کے ہم پلہ لانے کے لیے جو سمت مقرر کی ہیں ان میں تنویرعلوی سرفہرست ہیں۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ کروڑی مل کالج کے سینئر استاد اور تنقید نگار ڈاکٹر خالد اشرف نے کہاکہ عالمی منظر نامے پر نگاہ رکھنے والے دبستان دہلی کے عظیم ادیب وتنقید نگار تنویر احمدعلوی کی رحلت اردو میں ایک بڑا خلاہے۔ شرکا ء کی آرا ان کی علمی وفنی خوبیوں کے ضامن ہیں۔ شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عارف اشتیاق نے ڈاکٹر علوی کے سلسلہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ موصوف جدید اردوتحقیق اور اصول تحقیق کے بانی ہیں اور کسی بھی محقق کو ڈاکٹر علوی کی کتاب سے استفادہ کے بغیر چارہ نہیں ۔ وہ ساری زندگی تصنیف وتالیف میں مصروف ر ہے اور کم وبیش دو درجن کتابیں چھوڑیں جن میں’ آزادی کے بعد دہلی میں ارد وتحقیق‘،’غالب کی سوانح عمری:خطوط غالب کی روشنی میں ‘،’کلاسیکی اردوشاعری کے روایتی ادارے کردار اور علامتیں‘،’ کلیات ذوق‘،’دتاسی:رسالہ تذکرات‘،’ اصول تحقیق وترتیب متن‘، آخرالذکربالخصوص نہ صرف اردو کی بلکہ ہندوستان کی دوسری زبانوں میں ایسی مستند اور معیاری کتاب ناپید ہے۔ ڈاکٹر علوی کی یہ کتاب موضوع کی تفہیم وتعبیر اور مباحث کی جامعیت کے لحاظ سے بلاشبہ ایسی ہے جس پراردوزبان بجاطور پر فخر کرسکتی ہے اس کے علاوہ تدوین اور ترتیب کی اہم کتابوں کے علاوہ تراجم کی بڑی تعدادہے۔ مثلاً ’عبدالرزاق: صحائف معرفت‘، ’علوی قادری:تاریخ محمودی (کتاب الشہادت)‘ وغیرہ اہم ہیں۔ ڈاکٹر علوی نے بعض کتابیں سفر ناموں پر بھی قلم بند کیں، جس میں ’سفرناموں میں دہلی ‘ اور ’سیر سفر: سفر نامہ لاہور وحیدرآباد‘ اردو زبان و ادب کی اہم میراث ہیں۔
مرحوم کی خصوصیت تھی کہ ان کا مطالعہ ہمہ جہت تھا اور زبان وادب کے تعلق سے کسی بھی موضوع پرعلمی گفتگو میں ملکہ رکھتے تھے۔ فارسی ادبیات کا بھی اچھا مطالعہ تھا جس کی واضح مثال ’’عالب کی فارسی شاعری‘‘ اور ترجمہ’’ نقش نیم رخ‘‘ ہے۔ ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں میں بارہ ماہ سے کی روایت اور پھر اردو میں اس کی تاریخ اس موضوع پریکتا و منفرد ہے۔ ڈاکٹر علوی محقق ،تخلیق کار، تنقید نگار، سفرنامہ نویس ،شاعر، مترجم، اور ماہر لسانیات تھے۔ اردو میں موجودہ دورمیں ان جیسی ہمہ جہت شخصیت خال خال ہے۔ وہ ایک طویل عرصہ سے بستر علالت پر تھے اور ضعف نے ان کو سمیناروں اور علمی مجلسوں سے باز رکھا تھا۔گزشتہ دو مہینے سے سخت علیل تھے اور آخر کار داعی اجل کو لبیک کہا اور۲۱فروری کی شب ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے ۔
Viewers: 6918
Share