Ali Shah | شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام منکیر میں ممتاز ماہر تعلیم وشاعر سلیم چوہان کے ساتھ ایک شام

رپورٹ ۔اسد عباس
شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام منکیر میں ممتاز ماہر تعلیم وشاعر سلیم چوہان کے ساتھ ایک شام
صدارت معروف محقق بلال مہدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی چوہدری محمد یامین تھے
چھم چھم برستی بارش میں منعقدہ اس تقریب نظامت کی ذمہ داری علی شاہ نے نبھائی
” شریف اکیڈمی ” بین الاقوامی علمی و ادبی تنظیم ہے جس کا ہیڈکواٹر جرمنی میں ہے اور جس کے بانی و چیف ایگزیکٹو جرمنی میں مقیم معروف شاعر وادیب شفیق مرادہیں جبکہ شریف اکیڈمی کی شاخیں دنیا بھر میں قائم ہیں ۔
یوں دنیا بھر میں علم و ادب کے فروغ کے حوالے سے شریف اکیدمی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی شریف اکیڈمی فعال کردار ادا کر رہی ہے منکیرہ میں مقیم شاعر ،ادیب اور صحافی علی شا ہ ضلع بھکر کے لئے شریف اکیڈمی کے ڈائریکٹر ہیں ۔ ملک بھر کی طرح ضلع بھکر اور بالخصوص تحصیل منکیرہ میں شریف اکیڈمی کے زیرِ اہتمام انتہائی خوبصورت تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔ گزشتہ دنوں منکیرہ میں شریف اکیڈمی کے زیرِ اہتمام خوش خیال ،دانشور اور ممتاز ماہر تعلیم محمد سلیم چوہان کے ساتھ ایک خوبصورت شام منعقدہوئی ۔ اس تقریب کی صدارت معروف محقق و دانشور بلال مہدی نے کی جب کہ مہمان خصوصی منکیرہ کی نوجوان سماجی شخصیت ،ڈسٹرکٹ سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین ،مسلم لیگ تحصیل منکیرہ اور انجمن تاجران کے صدر چوہدری محمد یامین تھے، تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت نوجوان صحافی اسد عباس نے حاصل کی جب کہ انتظار حسین جعفری نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی ۔ دران تقریب نوجوان شاعر ، ادیب ، صحافی اور شریف اکیڈمی جرمنی کے ڈائر یکٹر علی شاہ نے خوبصورت کمپیئرنگ کے ذریعے تقریب کو گلرنگ بنائے رکھا ۔شریف اکیڈمی کی روایت کے مطابق صاحب شام محمد سلیم چوہان نے شمع جلا کر دنیا بھر میں علم ادب کی روشنی پھیلانے کے حوالے سے شریف اکیڈمی کا نصب العین واضح کیا ۔علی شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے شریف اکیڈمی کا تعارف کرایا اور شریف اکیڈمی کی علم وادب کے فروغ وترویج کے حوالے سے خدمات پر روشنی ڈالی ۔نوجوان معلم ودانشوراکبر علی ساجد نے اظہار خیال کرتے ہوئے منکیرہ میں خوبصورت ادبی تقریبا ت منعقد کرنے پر شریف اکیڈمی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اکیڈمی کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے صاحب شام سلیم چوہان کے فن وشخصیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہااگر چہ محمد سلیم چوہان ایک اچھے شاعر وادیب بھی ہیں لیکن ان کی علاقہ تھل کیلئے بے مثال علمی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سلیم چوہان صاحب جہاں جہاں بطور معلم ۔ہیڈماسٹر یا ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسر تعینات رہے انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھر پو رمظاہرہ کرتے ہوئے تھل کے ریگزاروں میں علم کی قند یلیں روشن کیں ۔جبکہ انہوں نے بغیر کسی ستائش و پذیرائی کی تمنا کے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور فرض شناسی سے نبھائیں ۔اکبر علی ساجد نے مذید کہا کہ شریف اکیڈمی نے محمد سلیم چوہان کے اعزاز میں ایک خوبصورت اور پروقار شام منعقد کر کے نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف کیا ہے بلکہ اپنی علم وادب دوستی کا ثبوت بھی دیا ہے ۔ مہمان خصوصی چوہدری محمدیامین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ تھل میں ادب کے فروغ کیلئے اسی طرح کی خوبصورت ادبی تقریبات کا گاہے بگاہے منعقد ہونا اشد ضروری ہے اور یہ کریڈٹ شریف اکیڈمی اور اکیڈمی کے ڈائریکٹر علی شاہ کو جاتا ہے کہ جو تھل کے صحراوءں میں ادب کے چراغ جلا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں شریف اکیڈمی کا شکرگزار ہوں کہ جس کے منتظمین نے اس قدر دلکش ادبی تقریب میں مجھے شرکت اور ظہار خیال کا موقع دیا ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے شعراء اگر اسی طرح کی تقریبات منعقد کراتے رہیں تو میں اور پوری انجمن تاجران ان کے ساتھ بھرپورتعاون کریں گے ۔انہوں نے صاحب شام محمد سلیم چوہان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سلیم چوہان جیسے محسنوں کی قدر کرنی چاہیئے کہ جنہوں نے منکیرہ جیسے پسماندہ علاقہ میں نوجوان نسل کی آبیاری کی ہے ۔آخر میں انہوں نے کہا کہ سلیم چوہان جیسی علمی وادبی شخصیت کی پذیرائی کر کے شریف اکیڈمی اور اس کے روح رواں علی شاہ نے جو روایت قائم کی ہے دیگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیئے ۔صدر تقریب بلال مہدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں سلیم چوہان کو ایک عرصہ سے جانتا ہوں لیکن میں نے ان کو علاقہ تھل کے لوگوں سے ان کے بارے میں سن کر زیادہ جانا ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل منکیرہ کے نوجوان کسی بھی میدان میں دیگر علاقہ کے لوگوں سے کم نہیں ہیں لیکن ان کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر نہیں آتے ۔تاہم شریف اکیڈمی نے یہاں کے تخلیق کاروں کیلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے اور شریف اکیڈمی کے زیر اہتمام منکیرہ میں منعقدہ گزشتہ چند تقریبات سے یہاں کے دانشور وں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شریف اکیڈمی نے محمد سلیم چوہان کے اعزاز میں خوبصورت ادبی تقریب منعقد کرکے پورے علاقہ کی نمائندگی کی ہے جس پر شریف اکیڈمی کے ڈائریکٹر علی شاہ مبارک باد کے مستحق ہیں ۔اس موقع پر ایک خوبصورت محفل مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا ۔اس مشاعرہ میں جن شعراء کرام نے خوبصورت کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں ۔ محمد سلیم چوہان ،سعید احمد حاشر،محمد اقبال بالم،ظہور احمد دانش،اشفاق احمد شجر ،جابر حسین ،پرویز انجم ،ناصر حسین ناصر ،علی شاہ اور محمود الحسن ماجد ۔شعراء کرام نے جو کلام پیش کیا اس میں سے نمونہ کلام کے طورپر چند اشعار پیش خدمت ہیں ۔
مجبوریوں کا پاس بھی کچھ تھا وفا کے ساتھ
وہ راستے سے پھر گیا کچھ دیر آکے ساتھ
محمد سلیم چوہان
***
سوحیلے کیتم روکن دے ہنج رکدی نہیں توں ول آ
سک سک اے سڑ موئی ساڑ ڈتے سک مکدی نہیں توں ول آ
تیڈے ہوندے روگ بھگیندے رہوں اے ڈھکدی نہیں توں ول آ
جگ پچھدئے حاشر کیا آکھوں گل لُکدی نہیں توں ول آ
سعید حاشر
***
توں نکھڑائیں سانول قسم خداتیڈے بعد کہانی لکھڑی پئی
تیڈے نال جو گزرئے ہک ہک پل آئے یاد کہانی لکھڑی پئی
جڈاں سامن�آگئی اجڑن دی رو داد کہانی لکھڑی پئی
بالآخر پیار دی شجر ساکوں برباد کہانی لکھنی پئی
اشفاق شجر
***
اے پیار پریت دیاں سب رسماں میکوں ہن سمجھائیاں تئیں سانول
تیڈی کئیں گل کوں ناں سمجھ سگی جہڑیاں ٹھگیاں لائیاں تئیں سانول
میکوں راہ وچ علی شاہ چھوٹی ڈتائی ڈے کے رسوائیاں تئیں سانول
ہتھ رکھ کے نور قلندر تے ہن قسماں چائیاں تئیں سانول
علی شاہ
***
اواجنڑ معیار تک تک نہیں آیا
حسن قابل بہار تک نہیں آیا
رنگ انجم فضا دا کیا ہوسی
اجاں اشہب اڈار تک نہیں آیا
پرویز انجم
***
وفا دے مندر دا پیربن ونج
زمانہ تیڈا مرید ہوسی
جابر حسین
***
جیندے صدقے اے کائنات بنی او رب دا پاک رسول
ہن وارث رب دی ہر شئے دے جہڑے حسنؑ ،حسینؑ ،بتولِ
الفت حسنین دے نانے دی زندگی دا خاص اصولِ
جیکوں ناصرحب نہیں مدنی دی اوندا کلمہ پڑھن فضولِ
ناصر حسین ناصر
***
نہ کھلن دی نہ روون دی نہ گالھ کرن دی گُر ساکوں
نہ وادھے دی کوئی سمجھ ساکوں نہ گھائے دی کوئی سر ساکوں
بھانوین تحت لہو ردی قید چ رکھ بھانویں ویچ بہاولپور ساکوں
اساں دانش گنگے لوک ہسے جن دل چاہی اُن دھر ساکوں
ظہور دانش
***
دن رات رلاتا ہے مجھے پیار تیرا
کٹ گئی عمر پر کم نہ ہوا انتظار تیرا
اب تو لوٹ آؤ کہ ماجد اداس ہے دل
سانسوں کی لازم ہے دیدار تیرا
محمودالحسن ماجد
***
زردارا تیڈے گھر کھانے کئی شام سویرے پک ویندن
اساں منیائے عید دے ڈیہنہ بالم ساڈوبکیاں زیرے پک ویندن
تیڈے بال ولا ون دی خاطر کئی گھگیاں گیرے پک ویندن
ساکوں منگیان ڈال وی نہیں ملدی تیڈے روز بٹیرے پک ویندن
اقبال بالم
***
پروگرام کے آخر میں صاحب شام محمد سلیم چوہان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں شریف اکیڈمی اور علی شاہ کا بے حد مشکورہوں کہ جنہوں نے میرے لیے اس قدر خوبصورت ادبی محفل سجائی۔انہوں نے کہا کہ میری ملازمت کا ایک بڑا حصہ تحصیل منکیرہ میں گزراہے اور میں دعوے سے کہتا ہوں کہ یہاں بے حد ٹیلنٹ موجودہے۔ اگر یہ ے ہونہار نو نہال چمن پر محنت کی جائے تو یہیں سے علم کے چشمے پھوٹیں گے۔ یہیں سے ڈاکٹر،انجینئر اور جملہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ منظر عام پر آئیں گے اور اس علاقہ کے لوگوں کو کوئی پسماندہ نہیں کہہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ منکیرہ کے نوجوان شعراء بھر پور ادبی شعور رکھتے ہیں اور بھر پور توانا ادب تخلیق کر رہے ہیں اور مستقبل میں یہی نوجوان اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے ملک بھر میں اپنے علاقہ کا نام روشن کریں گے۔ تاہم ادبی تحریک کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسی طرح کی ادبی محفلیں سجتی رہیں ،سلیم چوہان نے مزید کہا کہ توانا اور مثبت معاشرے کی تعمیر کے لیے ادب کا فروغ بے حد ضروری ہے اور منکیرہ میں یہ کام بخوبی ہو رہا ہے۔ آخر میں سینئر صحافی اور انجمن صحافیان کے صدر ملک خالد محمود اعوان نے شریف اکیڈمی کی جانب سے صاحب شام محمد سلیم چوہان کو یاد گار شیلڈ پیش کی ۔دوران تقریب موسم کی آنکھ مچولی بھی جاری رہی اور بارش برستی رہی تاہم پروگرام کے شرکاء کی پروگرام میں دلچسپی آخر تک برقرار رہی۔
Viewers: 1315
Share