Dr Fazal Ullah Mukarram | بصارت سے بصیرت تک

مبصر : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم
H,No.16-9-537,Old Malakpet,
Hyderabad.AP.36
Mob:09849377948
email: dramsf@yahoo.com
بصارت سے بصیرت تک
مصنف : پروفیسر محمد علی اثر
پروفیسر محمد علی اثر کی یہ (55) ویں تصنیف ہے جس میں ان کے انتیس تحقیقی و تنقیدی مضامین اور مقالات شامل ہیں۔یہ تمام مضامین مطبوعہ ہیں جو ہند و پاک کے ادبی و تحقیقی مجلوں میں شائع ہو چکے ہیں اور ان میں کچھ فاصلاتی تعلیم کے نصاب کے لیے بھی لکھے گئے ہیں نیز یہ کہ ان میں دو تہائ مضامین کا موضوع دکنی ادب ہے۔اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ پروفیسر صاحب ایک عرصہ سے علیل ہیں اس کے باوجود ایک صحت مند ادب لکھنے میں نہ صرف کامیاب ہیں بلکہ دیگر محقیقین کے لیے ایک مشعل راہ ہیں کیونکہ عرض مصنف کے تحت وہ خود لکھتے ہیں ’’ خرابیء صحت کی بنا پر راقم اپنی ہر کتاب کو آخری تصنیف سمجھتا رہا لیکن قربان جائیے خالق کائنات کے‘ کہ جس نے اس نحیف و ناتواں اور بیمار و معذور کی نہ صرف عمر دراز فرمائ بلکہ پڑھنے لکھنے اور تصنیف و تالیف کے قابل بھی رکھا ‘‘۔
زیر نظر تصنیف کے فہرست مضامین پر نظر ڈالنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ قارئین کو کتاب کی اہمیت و افادیت کا کچھ کچھ انداز ہ ہوسکے۔ ان مضامین میں خواجہ بندہ نواز اردو کے پہلے شاعر ‘ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر‘ اردو کی پہلی تقریظ اور اس کا خالق‘ اردو کی پہلی نثری تصنیف اور اس کا مصنف‘ دکنی اردو کا اولین ہندو شاعر‘ مثنوی سیف الملوک و بدیع الجمال اور اس کا مصنف‘ غوثی ارکاٹی اور اس کے غیر مطبوعہ قصائد‘ صوفیائے گولکنڈہ کی علمی اور ادبی خدمات‘ شاہ ابوالحسن قربیِٖٖ اور ان کاغیر مطبوعہ کلام‘ باقر آگاہ:شخص‘شاعر اور نقاد‘ اردو کے صاحب دیوان رباعی گو‘ نصیر الدین ہاشمی اور دکن میں اردو‘ ڈاکٹر زور کے تدوینی کارنامے‘ ڈاکٹر عبدالحق کرنولی کی علمی‘تنظیمی اور ادبی خدمات‘ مسعود حسین خان بہ حیثیت ماہر دکنیات‘ اردو مشاعروں کا دکنی دور‘ رائے جسونت سنگھ پروانہ لکھنوی‘ دکنی کاپہلاادبی مورخ‘ اردو کی پہلی صاحب دیوان شاعرہ‘ دکنی شاعری خمریات‘ تحقیق و تدوین:مسائل اور مباحث‘ نظیر اکبرآبادی کے واقعات حیات‘ عدیل اور محاورات عدیل‘ اقبال متین : شخصیت اور فن کے چند زاویے‘ دکنی ادب کے معاصر محقیقین‘ اسلم مرزا بہ حیثیت محقق‘ سحر سعیدی کی تحقیقی خدمات‘ وہاب اشرفی کی تاریخ ادب اردو اور اردو شہ پارے کے مرممہ ایڈیشن پر ایک نظر قابل ذکر ہیں۔
مضامین کے موضوعات دیکھنے سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ صاحب تصنیف درجہَ اول کے محقق اور نقاد ہیں اور یہ تمام مضامین ‘ مصنف کے عمیق مطالعہ اور مشاہدہ کے غماز ہیں اور وہ اصول تحقیق سے کما حقہُ واقف ہیں بلکہ انہیں تحقیق و تدوین میں کمال حاصل ہے تبھی تو وہ دکنی ادب کی معاصر تحقیق کے سپہ سالار ہیں۔اپنے چند مضامین کے بارے اظہار خیال کرتے ہوے وہ خود لکھتے ہیں’’ اس کتاب کے ذریعے بعض قدیم شعراء اور ادباء کو پہلی بار متعارف کروایا جا رہا ہے۔اور قدیم دکنی کی بعض تخلیقات پہلی بار تدوین متن کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں جیسے غوث ارکاٹی کے دو قصیدے اور اس کی مثنویوں کا انتخاب اور غوثی کے والد افصحی بیجاپوری کا ایک مرثیہ اور ان کی مثنوی وفات نامہ او ر غزلوں کے چیدہ چیدہ اشعار وغیرہ ۔مزید برآں بانیء مکہ مسجد سلطان محمد قطب شاہ کی وہ طویل نظم جو کلیات محمد قلی مرتبہ ڈاکٹر زور اور مرتبہ ڈاکٹر سیدہ جعفر میں مکمل پیش کی گئ ہے۔اور بعض کتابوں میں اس کے چند منتخب اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ سلطان محمد قطب شاہ کی اس تقریظ کو خاکسار نے از سر نو مرتب کرکے اختلاف نسخ بھی دے دیا ہے۔‘‘(ص ۸)
اردو ادب میں یہ بحث طویل عرصہ سے چلی آرہی ہے کہ اردو کی پہلی نثری تصنیف کون سی ہے اور اس کا مصنف کون ہے؟ کسی نے سید اشرف جہانگیری سمنانی کے ایک رسالہ تصوف اردو کو پہلی نثری تصنیف بتایا تو کسی نے شیح عین الدین گنج العلم کو اردو کا پہلا نثر نگار کہا جبکہ مولوی خواجہ بندہ نواز گیسوے درازؒ سے منسوب رسالہ معراج العاشقین کو اردو کاپہلا نثری کارنامہ قرار دیا پھر جامعہ عثمانیہ کے محقق ڈاکٹر حفیظ قتیل نے معراج العاشقین کا لسانی تجزیہ کرتے ہوے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ تصنیف حضرت بندہ نوازؒ کی نہیں ہے بلکہ شاہ مخدوم حسینیؒ کی ہے جبکہ اردو کی پہلی نثری کتاب کلمۃ الحقائق ہے جو برہان الدین کی تصنیف ہے۔پروفسر محمد علی اثر نے اپنے مضمون ’’ اردو کی پہلی نصری تصنیف اور اس کا مصنف‘‘ میں ان تمام تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوے اور معراج العاشقین کا لسانی تجزیہ کرتے ہوے یہ تصدیق کی ہے کہ کلمہ الحقائق ہی اردو کی پہلی نثری تصنیف ہے۔اب تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ پروفیسر مجید بیدار نے اپنی تصنیف ’’ دکنی نثر پر ایک نظر‘‘ میںیہ اعتراض کیا ہے کہ ڈاکٹر حفیظ قتیل‘ محقق اور نقاد ضرور ہیں مگروہ ماہر لسانیات نہیں ہیں جبکہ ایک ماہر لسانیات ہی صحیح طور پر کسی فن پارہ کالسانی تجزیہ کرسکتا ہے اس لیے یقینی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ معراج العاشقین خواجہ بندہ نواز گیسوے دراز کی تصنیف نہیں ہے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئ ماہر لسانیات اس تحقیق پر نظر ثانی کر۔۔دیکھیں تحقیق کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ تحقیق ‘ تحقیق کی دشمن ہوتی ہے۔
پروفیسر محمد علی اثر کے مضامین کی زبان اور اسلوب نہایت سادہ اور عام فہم ہے ان کی تحریر میں کوئ الجھاؤ نہیں ہے بلکہ موضوع سے متعلق جتنا بھی مواد اکٹھا کیا جا سکتا ہے وہ تمام ذرائع سے حاصل کرلیتے ہیں پھر وہ عالمانہ طریقہ سے تجزیہ کرکے واضح انداز میں پیش کرتے ہیں اس دورا ن تحقیق کے تمام مروجہ اصول پر عمل پیرا ہوتے ہیں‘کبھی ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرتے جو ایک کامیاب محقق کی نشانی ہے۔
صاحب تصنیف کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ کبھی کسی کے دباؤ میں کام نہیں کرتے اور نہ ہی کوئ سمجھوتہ کرتے ہیں بلکہ حفظ مراتب کا خیال کرتے ہوے سچ کوواضح طور پرپیش کرنے کی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ذیل میں ان کے مضامین سے اقتباس دیے جا رہے ہیں۔
مضمون ’’ڈاکٹر زور کے تدوینی کارنامے‘‘ میں وہ لکھتے ہیں۔
’’تاج الحقائق کے مصنف کے تعلق سے زور صاحب نے قطعی راے قائم نہیں کی تھی۔اپنی تحریروں میں انہوں نے کہیں اسے
؂ وجہی کی تصنیف بتایااور کہیں اس کے مصنف کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔کسی ٹھوس ثبوت کی عدم موجودگی میں
انہوں نے شک ویقین کی ملی جلی کیفیت کے باعث غالبا اس کتاب کی اشاعت کا کام مکمل نہیں کیا ۔‘‘(ص 218)
مضمون ’’تحقیق و تدوین:مسائل و مباحث ‘‘میں شغلی کی تاریخ وفات پر اس طرح بحث کرتے ہیں۔
’’ پروفیسر صاحبہ نے اس قطعے کا آخری تاریخی مصرعہ غلط تحریر کیا ہے موصوفہ نے ابتدائ جملے میں شغلی
کی تاریخ وفات 1117 ء لکھی ہے اور قطعہ تاریخ کا آخری تاریخی مصرعہ جس طرح لکھا ہے اس
سے اندازہ ہو تا ہے کہ محترمہ شعر و نثر میں امتیاز نہیں کرسکتیں۔چوتھا خط کشیدہ مصرعہ جس میں شغلی کی
تاریخ وفات کا مادہ تاریخ بھی ہے‘ بے بحر اور بے قافیہ ہو گیا ہے بلکہ مادۂ تاریخ کا اس میں اندراج
بھی غلط ہے لیکن تاریخ وفات صحیح لکھی گئ ہے اور خط کشیدہ لکیر بے معنی ہوگئ ہے۔(ص 297)
مضمون ’’ وہاب اشرفی کی تاریخ ادب اردو ‘‘ پر محمد علی اثر کا نقأ نظر ملا حظہ ہو۔
’’آمد بر سر مطلب شمالی ہند کے دوسرے مصنفین کی طرح ڈاکٹر وہاب اشرفی نے دکنی ادب اوردکنی کے
اکثرو بیشتر مصنفین کو قابل اعتناء نہیں سمجھا۔۔۔ ڈاکٹر اشرفی نے اپنی ضخیم تاریخ ادب میں نہ صرف دکنی
اردو کے بلند پایہ او ر عہد ساز شعراء کے ناموں کی شمولیت بھی مناسب نہیں سمجھی بلکہ بعض شعراء اور مصنفین
کی تاریخی ترتیب میں بھی ٹھوکریں کھائ ہیں۔‘‘(ص367)
مضمون ’’ اردو شہہ پارے کے مرممہ ایڈیشن پر ایک نظر ‘‘ میں مصنف یوں حتمی راے دیتا ہے۔
’’اس کتاب کی تحقیق و تدقیق اور ترتیب و تدوین کا اولین مقصد جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے۔اردو ادب
کے قدیم متون کے شہکاروں کے کارناموں کے تحقیق کے جدید اصولوں کی روشنی میں مرتب کرنا ہے۔جو کسی
بھی اعتبار سے پورا نہ ہوسکا۔کتابت ‘ کمپوزنگ‘ یا پروف خوانی کی اغلاط سے قطع نظر حاشیہ نگار نے بھی کتاب کو
مجموعۂ اغلاط بنانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی۔‘‘(ص393)
پروفیسر محمد علی اثر ‘ دکنی تحقیق و تدوین میں ایک با اثر نام ہے آپ نے نہایت دیانت داری سے تحقیقی امور انجام دیے ہیں تبھی تو خواجہ احمد فاروقی نے کہا تھا کہ ’’آزادی کے بعد ایدرآباد کے جن محققوں اور نقادوں نے علم و بصیرت اور اعتدال و توازن کی بنأ پر شہرت حاصل کی ہے ان میں عزیزی محمد علی اثر بہت نمایاں ہیں مجھے یقین ہے کہ ان کی تحقیق و تنقید سے اردو کو بہت فائدہ پہنچے گا اور حیدرآباد کی اعلی روایات زندہ رہیں گی‘‘ جبکہ خاجہ حمید الدین شاہد نے یہ فرمان بھی جاری کیا تھا کہ ’’آپ قابل مبارکباد ہیں کہ استاد محترم ڈاکٹت زور کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور ان کے سچےِ جا نشین بننے کا آپ ہی کو حق پہنچتا ہے‘‘ تقریبا (400)صفحات مجلد خوب صورت کتاب کی قیمت صرف(175/-) روپیے ہے جس کا ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوز‘نئی دہلی ہے۔جو طلباء‘ ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کے لیے قابل مطالعہ ہے۔جسے مصنف (09848740484)کے علاوہ اردو بکڈپو‘اردو ہال ‘حیدرآباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
***
Viewers: 2078
Share