Atif Mirza | Editorial | ذکرِ یار چلے ۔۔۔۔ از: عاطف مرزا

عاطف مرزا مری ہلز۔ پاکستان ذکرِ یار چلے ’’ ہر شخص کھا رہا ہے۔‘‘ ’’ ہر کوئی کام چور ہے۔‘‘ ’’ سارے بے ایمان ہیں۔‘‘ ’’غیرت تو اٹھ ہی گئی […]
عاطف مرزا
مری ہلز۔ پاکستان
ذکرِ یار چلے
’’ ہر شخص کھا رہا ہے۔‘‘
’’ ہر کوئی کام چور ہے۔‘‘
’’ سارے بے ایمان ہیں۔‘‘
’’غیرت تو اٹھ ہی گئی ہے۔‘‘
’’ کس پر اعتبار کیا جائے؟‘‘
یہ ہیں آج کل ہر دوسرے فرد کے لبوں سے نکلنے والے مکالمے، جن کی رو سے یہی لگتا ہے کہ’’ اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘،’’ چور چوہدری اشراف کمینے‘‘۔ ہر طرف ناامیدی کے قصے، ہر تھڑے پر احساسِ زیاں، ہر چوپال میں مُردنی، گروہ کے گروہ شکوے میں مصروف، شاکیوں کا ایک جم غفیر، ناشکروں نے مایوسیوں کے جال پھیلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ تنقیدی نشستیں ہر ہوٹل پر جاری۔ ہر کسی کا ذہن آسیب زدہ۔
عجیب الجھن ہے ،سب کے سب کام چور وں کا ذکر کرتے نہیں تھکتے، بات ہورہی ہے ہر جگہ پر اُن بد خصلتوں کی کہ جن کے ذکر سے شاید شیطان بھی بھاگتا ہو، لکھا جارہا ہے صرف اُن گٹھیا لوگوں پر جن سے شاید رب بھی ناخوش ہو،امید رکھی جارہی ہے اُن سے جو امید کی کرنوں کے قاتل ہیں،جانے کیوں ہر اخبار کی شہ سرخیوں میں خطاواروں کو عظمت کا مینار ثابت کیا جارہا ہے؟کیوں آج کے اِس دور ابتلاء میں نجات دہندہ ایسوں کو کہا جارہا ہے کہ جن سے نجات حاصل کرنے میں ہی نجات ہے۔بہت ہوگیا، اب یہ نارسائی کا قصہ تمام ہونا چاہیے۔امیدوں کا سورج چمک رہا ہے صرف ناشکری کے بادل ہٹانے ہوں گے۔سب چور نہیں ہیں۔ سارے حرام خور نہیں ہیں۔ہر ایک کمینہ نہیں ہے۔ ہر شخص بے ایمان نہیں ہے۔
پتا ہے کیوں؟ اگر ہر شخص کھا رہا ہے، ہر کوئی کام چور ہے، سارے بے ایمان ہیں،سب کی غیرت میں ’’ب ‘‘کا تناسب بڑھ گیا ہے، سب بے اعتبارے ہیں، تو یہ سڑکیں، گلیاں، بازار، چمک دمک،رونق میلہ کس کے دم قدم سے ہے؟ کون ہے جو اس ٹوٹتے ہوئے نظام کو ابھی تک جوڑے ہوئے ہے؟ کون ہے جو روایتوں کو اب تک سنبھالے ہوئے ہے؟ کس کے قلم سے ابھی تک امیدوں کے لفظ نکل کر مایوسوں کو حوصلہ دیے ہوئے ہیں؟ کون ہے جو آج بھی گلگت سے چلنے والے خط کو کراچی کے ایک چھوٹے سے ہوٹل کے بیرے تک پہنچا رہا ہے؟ مسجد میں آج بھی فجر کے وقت سخت سردی میں کون اذان دے رہا ہے؟ سیاچن کے برف کدے میں آج بھی کس کی آنکھ پہرے کے لیے جاگ رہی ہے؟ آج بھی کوئی تو ہے محلوں، چکوں میں ’’جاگتے رہنا‘‘ کی آواز لگا رہا ہے؟کوئی تو ہے جو اب بھی سڑکوں پر رات کے آخری پہر میں پٹرولنگ کے فرائض انجام دے رہا ہے؟ شدید برف باری میںآج بھی کون بجلی کی ٹوٹی ہوئی تاروں کو درست کرکے شہرکی روشنیاں قائم رکھے ہوئے ہے؟
سخت بارش کے دوران کیچڑ میں پھنسی گاڑی کو نکالنے میں مدد دینے والا فرشتہ آج بھی نمودار ہوتا ہے اور بغیر نام پتا بتائے، شکریہ سنے بغیر اپنی راہ چل پڑتا ہے، اُس کا ذکر گم۔آج بھی لاکھوں سے بھرا بیگ اُس کے مالک تک پہنچانے کے لیے ٹیکسی ڈرائیورمارے مارے پھرتے ہیں، ایسی خبر کہیں اندر کے صفحات میںآخری کالم کے نیچے۔ آج بھی بغیر رشوت کے بجلی کے میٹر لگانے والے لائن مین مل جاتے ہیں، مگر کون انہیں ایوارڈ دے؟آج بھی غریبوں کی بیٹیاں کسی نیک اور مخیر شخص کی وجہ سے رخصت ہو کر پیا دیس سدھارتی ہیں اور وہ بھلا آدمی نام چھپانے کا وعدہ لے کر کسی اور کی مدد کے لیے اگلی گلی چل پڑتا ہے۔ آج بھی ایکسیڈنٹ میں سفر آخرت کو روانہ ہونے والے کا رختِ سفرِامروز سنبھال کر اُس کے ورثاء کو پہنچایا جاتا ہے ، وہ بھی سخت شرمندگی کے ساتھ کہ بھائی جی یہ بات کسی کو پتا نہ چلے۔ اس دور میں بھی ایک ٹرین پشاور سے چل کر کراچی کینٹ کے سٹیشن تک پہنچتی ہے۔ تاخیر سے سہی مگر پہنچتی توہے۔ ذکر اس انجن ڈرائیور کا کیا جانا چاہیے جو اپنے ڈیوٹی ٹائم سے کئی گھنٹے زیادہ لگا کر ٹرین کو منزل پر پہنچا رہا ہے۔
اکثر لوگوں کی ایک عادت سے دل بیزار ہوتا جارہا ہے اور وہ ہے کسی ایک شعبے میں کام کرنے والوں کی عادات کے بارے میں ایک جملہ، مثلاً، ’’شاعر بھٹکے ہوئے ہوتے ہیں‘‘ یا ’’ڈاکٹر قصائی ہوتے ہیں‘‘ یا ’’ڈرائیور طبقے میں غیرت نہیں‘‘ یا ’’کسٹم والے حرام کھاتے ہیں‘‘ یا ’’فوجی پاگل ہوتے ہیں‘‘۔کیا کسی ایک شعبے کی نمائندگی کے لیے ایک فقرہ کافی ہے؟ سوچنے کی بات ہے کہ اِن اداروں میں کام کرنے والے زیادہ جب نکمے کم ہیں۔ اگر ادارہ چل رہا ہے تو کام کرنے والوں کی وجہ سے ۔ اگر تاخیر ہورہی ہے تو نکموں، کام چوروں کے سبب۔ پہلے تو اِن فقروں پر پابندی ہو۔پھر اِن محنتی اور دیانت دار لوگوں کا ذکر ببانگ دُہل کیا جائے اور بعد میں نکموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔اِس سے اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور کام چوروں کی دل شکنی۔
ہر میدان میں ، ہر ادارے میں دل اور دماغ رکھنے والے موجود ہیں، انہی کے سبب وہ ادارے رواں دواں ہیں۔ سڑکوں پر کچرا ڈالنے والے چند ہیں جبکہ صاف رکھنے والے زیادہ۔ مگر کیا ہے کہ ایمان فروشوں ، بدخصلتوں ، کاہلوں، ناشکروں کے ذکر سے عاجز آکر متنفر ہونے والے اب بڑھ رہے ہیں۔ احساس کے منصور کو سولی چڑھانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔چند نام نہاد علماء، ریا کار مصلحین قوم، بد خصلت امراء،منافق اساتذہ، بے رحم معالجین، فاتر العقل منتظمین ، غیرمطمئن طلبا،نالائق ملازمین کی وجہ سے ان سے متعلق تمام شعبے بدنامی کا شکار ہوگئے ہیں۔صرف کچھ غلط لوگ،گنتی کے ناہنجار،محدود ناقابل اعتبارلوگوں کی موجودگی کی نحوست الامان، الحفیظ ، الحذر۔
ایسا بھی نہیں کہ ہر دور میں اللہ نے ’’جاگتے رہنا‘‘کا نعرہ بلند کرنے والے نہ بھیجے ہوں۔اللہ رب ذوالجلال کے نام لیوا اب بھی اُس کے بندوں کی مدد کے لیے اپناتن من دھن لٹانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ آج بھی جہاں فضائے بدر پیدا ہوتی ہے تو گردوں سے قطار اندر قطارفرشتے نصرت کو اترتے ہیں۔ آج بھی خضرصفت ،زمان و مکان کے حساب کتاب سے ماوراء ہوکر ہرراستے پرمسافروں سے ملتے ہیں۔ایدھی، چھیپا آج کے دور میں موجود ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی فضائی ایمبیولینس سروس ایدھی صاحب کی شروع کردہ ہے۔ آج بھی براہیم کا ایماں پیدا ہو تو آگ انداز گلستاں پیدا کرسکتی ہے۔غرضیکہ کس کس چیز کا ذکر ہو جس پر فخر کیا جاسکتا ہے، دنیا کو بتایا جاسکتا ہے۔
کب تک ہمیں احساسِ محرومی و جرم کے ٹیکے لگتے رہیں گے۔ خدارا امیدیں پھیلائیے، خوشی کی خبر دیجیے، تما م کامیاب اور نیک کاوشوں کا چرچا ہو تو ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی درستی کی طرف قدم بڑھے گا۔ اب اُس جماعت کو اٹھنا ہوگا جسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ؐ نے ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر ‘‘ کا فریضہ انجام دینے کا حکم دیا ہے۔ تمام تر سادگی اور نیک نیتی سے اپنے فرائض انجام دینے والوں کو اجر کی امید اللہ سے رکھ کر کام کرنا ہوگا۔ کیونکہ اللہ ہر شخص ہے ہر عمل کا بدلہ بھرپور انصاف اور بے تہاشا رحمت کے ساتھ عطا کرتا ہے۔
اگر کوئی مسئلہ ہے تو یہ کہ درست لوگوں کی تعداد ہے تو زیادہ لیکن اس میں سے اکثر کم ہمتے اور کج حوصلہ افرادہیں۔ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانا بہت بڑی نیکی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ نیکی اور اچھے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا جائے اور بے حیائی اور برے کاموں میں کسی کی مدد نہ ہو۔دنیا کے ہر دین میں نیکی اور برائی کا نظریہ ایک ہی ہے۔ یہ بات اظہر المن الشمس ہے کہ نیک عمل کے اثرات ہر شخص پر مثبت مرتب ہوتے ہیں چاہے وہ مسلمان ہو یا نہیں۔ اگر ایک ہندو یا عیسائی دیانت سے اپنا کام کر رہا ہے تو معاشرے میں اُسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور ایسے ہی ایک مسلمان بد دیانتی کا مرتکب ہو رہا ہے تو معاشرہ اسے بُرا ہی سمجھے گا۔ کسی غیر مسلم کے بُرے کام سے اُس کا دین بدنام نہیں ہوتا جب کہ مسلمان بُرا کام کرتا ہے تو غیر مسلم ، اِسلام پر انگلی اُٹھاتے ہیں۔ ہر فرد، ملت کے مقدر کا ستاراہے، لہٰذااپنے تمام بُرے اعمال کو اِسلام کے کھاتے میں ڈال کر بدنام مت کرائیں۔
اپنے سر سے احساسِ محرومی کا بھوت اتار کر احساسِ تفاخر اپنانا ہوگا کہ اللہ نے ہمیں بہت سی بہت کچھ عطا کیا ، بہت سی کامیابیاں ہمارے نصیب میں لکھیں۔صرف چند شیطانوں ، منافقوں، بے ہدایتوں اور غیرت سے عاری لوگوں کے قصور کی سزا پوری قوم کو کیوں ملے؟
***
Viewers: 11783
Share