Tahira Masood | Article | پاکستان اور اس کے لا محدود وسائل

آنسہ طاہرہ مسعود۔ ٹورانٹو  anisamasood58@gmail.com پاکستان اور اس کے لا محدود وسائل یہ عنوان ہم میں سے بیشتر لوگوں کو عجیب لگے گا ہے نا؟ کیونکہ ہم اکثر پاکستان کے […]
آنسہ طاہرہ مسعود۔ ٹورانٹو
 anisamasood58@gmail.com
پاکستان اور اس کے لا محدود وسائل
یہ عنوان ہم میں سے بیشتر لوگوں کو عجیب لگے گا ہے نا؟ کیونکہ ہم اکثر پاکستان کے متعلق اب ایسا نہیں سنتے۔ہم میں سے کون ہے جو پاکستان کی موجودہ حالت زار سے واقف نہیں ۔ اور کسی حد تک مایوس بھی۔ ہر چند اچھی امید کی خواہش اور توقع اور دعاہم سب کی ہے اور رکھنی بھی چاہئیے کیونکہ نا امیدی کفر ہے۔ مگر ابھی تک تو جھوٹے منہ بھی اس طرح کی کوئی خبر نہیں ملتی تھی۔ اور پاکستان کا ذکر آتے ہی دل میں اک ٹیس سی اک ہوک سی اٹھتی تھی۔ ایک مصنوعی ذلت و مسکنت جو اس قوم پہ طاری کر دی گئی ہے۔ وہ نہایت دل شکن ہے۔ پاکستان ہمارے دل کی دھڑکن ہے۔ اس سے منسلک ہر چیز سے ہمیں ایک اٹوٹ تعلق محسوس ہوتا ہے۔ اسی لیے اس سے متعلق ہر بات خواہ اچھی ہو یا بری ہم اس کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
قارئین کرام ایک نہایت خوش کن اور امید کو بحال کرنے والی ایک نئی چیز سامنےآئی تو دل بے حد و حساب خوش ہوا اور تحدیث نعمت کے طور پر اپنے عزیز پاکستانی بہن بھائیوں سےاس کا ذکر کرنا بہت ضروری لگا۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ابھی کچھ روز پہلےایک معروف پاکستانی ٹی وی چینل پر ایک نہایت مقبول پروگرام میں پاکستان میں موجود ایسے معدنیات کے ذخائر کے اعدا دو شمار بتائے گئے جو ریکارڈ پر ہیں اور جن کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے۔ ان معدنیات کے ذخائر میں پاکستان کی رینکنگ پہلے دس بڑے ممالک میں ہوتی ہے۔
پروگرام میں بتائے گئے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں دنیا میں کوئلے کے چوتھے بڑ ے ذخائر ہیں جن کی مالیت پچیس کھرب ڈالرز بتائی جاتی ہے۔ جو کہ باقاعدہ ریکارڈ پر ہیں۔ سونے اور تانبے کے ذخائر میں پاکستان دوسرا بڑا ملک ہے۔ جن کی مالیت کا اندازہ دو ہزار پانچ سو ارب ڈالرز ہے۔ قیمتی پتھروں میں سنگ مر مر میں پاکستان آ ٹھویں نمبر پہ جبکہ پکھراج جسے اوپل بھی کہا جاتا ہے پانچویں نمبر پہ ہے۔ ایکسپورٹ میں پاکستان فٹ بال بنانے والا چند سال پہلے نمبر ایک پر تھا اب دوسرے نمبر پہ ہے۔ اب پہلے نمبر پہ چائنا ہے۔
کپڑے کی صنعت میں پاکستان آٹھویں نمبر پر جبکہ کپاس کی پیدا وار میں چوتھے نمبر پہ ہے۔ اسی طرح کاشتکاری میں پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ گندم پیدا کرنے میں ہمارا پیارا وطن چھٹے نمبر پہ ہے۔ گنے کی کاشت میں پانچویں نمبر پہ اور پھلوں میں کنوں کی کاشت میں اول نمبر پہ اور کھجوروں کی کاشت میں پاکستان چوتھے نمبر پہ ہے۔ اور یہاں کی کھجور اتنی اعلیٰ ہے کہ عرب بادشاہ یہاں سے بیج نہیں درختوں کےدرخت اکھاڑ کر لے گئے ہیں اور کھجوروں کی کاشت میں اب باقاعدہ پاکستان کے مقابل پر آ گئے ہیں۔
خشک میوہ جات میں پاکستان بادام کی پیدا وارمیں ساتویں نمبر پہ اور پستوں میں دسویں نمبر پہ ہے۔ اسی طرح سبزیوں میں پیاز کی پیدا وار میں دوسرا بڑا ملک ہے اور انڈیا کو بھی برآمد کرتا ہے۔
قا رئین آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ برقی توانائی کا بحران دور کرنے کے لیے پاکستان نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ سرے سے پاکستان کو یہ مسئلہ ہی نہیں ہے۔ مثلا صرف شمسی توانائی سے پاسکتان بیس لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ اور خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو نہایت مفید موسم عطا فرما رکھے ہیں۔ جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہوا کی ہے۔ قرآن پاک میں ہوا کا ذکر ہے جس میں معاشی منفعت ہے۔ پاکستان ہوائی چکی یعنی ونڈ مل سے ساڑھے تین لاکھ میگا واٹس بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ مکران کے ساحل اس کے لیے بہت زرخیز ہیں۔
پھر تیسرے نمبر پہ سب سے سستا ذریعہ یعنی ہائیڈن انرجی ہے۔ جس کو برو ئے کار لاتے ہوئے ایک لاکھ میگا و اٹس بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ جبکہ ضرورت صرف بیس ہزار میگا واٹس کی ہے۔ اس کے مطابق صارفین کو پچاس سے ساٹھ پیسے فی یونٹ بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ قارئین یہ تو یہ وہ اعداد و شمار تھے جو ہم نے سنے اور من وعن آ پ کی گوش گزار کردیے۔
ہمیں ان کی صداقت پہ کوئی شبہ نہیں کیونکہ یہ ایک نہایت محب وطن پاکستانی نے میڈیا پہ آ کر ببانگ دہل ہم سب کو بتائے۔ پروگرام میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک وقت تھا کہ نواب آف بہالپور عربو ں کو زکوۃ بھیجتے تھے۔ اور یہ کہ جس قدر سنگ مر مر اور دوسرے وسائل پاکستان میں موجود ہیں اگر ان کو صحیح طور پہ استعمال کیا جائے تو پاکستان میں روزگار کے اتنے مواقع فراہم ہو سکتے ہیں کہ ہمیں باہر سے لوگوں کو ملازم رکھنا پڑ جائے۔ اور لوگ پاکستان آنے کے لیے ویزے اور راہیں تلاش کریں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہماری زندگیوں میں ہی ہو سکے۔آمین۔
یہ سب جان کر ہمارے یا کسی بھی پاکستانی کے غم و غصے اور ناراضگی کا اندازاہ تو ہو ہی سکتا ہے۔ لیکن ساتھ میں بے بسی کی آگہی بھی ہے۔ سوائے دعا کے کیا کر سکتے ہیں ہم؟ اب ہمیں تشویش ہے تو صرف یہ کہ اس کے بعد بھی ہمارا ملک غریب ممالک کی صف میں کیوںکھڑا ہے۔ اور ہماری عوام سانس سانس، بوند بوند خوشحالی کے لیے کیوں ترستی ہے؟ آج کے میڈیا کا یہ فائدہ تو ہے کہ کم از کم ہمیں یہ اندازہ تو ہوا کہ ہمارے حکمران کیسے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں زیادتی کرنےا ور سہنے دونوں سے بچائے۔ آمین
اور یہ بھی وسوسہ ہے کہ ان معدنی قدرتی وسائل کا حشر ہمارے لالچی حکمرانوں نے کیا کیا ہوگا؟ کیا یہ ان کی نظر سے اوجھل رہ سکے ہوں گے؟ یا بچ بھی سکے؟
کیا یہی وجہ نہیں کہ لوگ ان وسائل تک پہنچنے کے لیے سیاست کی کرسی کے لیے اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں۔ تا کہ اس دولت سے جتنی لوٹ مار کر کے اپنی نسلوں کو منتقل کر سکتے ہوں کر لیں۔ اور کیا ا سی وجہ سے تو وہاں مذہبی لسانی فسادات نہیں کروائے جاتے کہ لوگوں کو اپنی ہی پڑی رہے؟ اور اس دھاندلی اور لوٹ مار کی طرف کوئی نہ دیکھے۔ اور یہ کہ شاید اسی لیے غیر ملکی طاقتیں اس ملک کے گرد گھیرا تنگ رکھتی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کمی نہیں۔اللہ کرے کہ کوئی ایسا حکمران آئے جو عوام کا حق عوام کو دے۔ اور پاکستان کو دلہن کی طرح سجا دے۔آمین
***
Viewers: 6836
Share