Mamtaz Rashid | شوکت علی ناز سے ایک مکالمہ

محمد ممتاز راشد ۔دوحہ قطر

شوکت علی ناز سے ایک مکالمہ

 قطر کے نامور شاعر شوکت علی ناز کا تعلق باغبانپورہ لاہور سے ہے۔ تعلیمی مراحل وہیں مکمل کیے اور خطاطی کو اپنا روزگار بنالیا۔1976میں قطر آئے اور قطر نیون لائٹ کمپنی سے وابستہ ہوئے اور 37سال سے انہی کے ساتھ سرگرمِ روزگار ہیں۔ ریڈیو قطر اردو سروس سے فون کے ذریعے بہت زیادہ وابستگی ہے۔اسی توسط سے بزمِ اردو قطر سے متعارف ہوئے نیز ادارۂ خیال وفن،دبستانِ ادب قطر ، مجلس فروغِ اردو ادب اور شائقینِ فن سے بھی ۔ ان تنظیموں میں عہدیدار بھی رہے۔ آج کل عالمی شہرت یافتہ تنظیم مجلس فروغِ اردو ادب کے پروگرام منیجر اور ادبی ، ثقافتی اور سماجی تنظیم شائقینِ فن کے صدر ہیں۔شعری مجموعہ ’’ چاہتوں کا خمار‘‘ مئی 2009ء میں منظر، عام پر آیا۔ کئی عالمی مشاعرے پڑھ چکے ہیں۔ ہم نے ان سے مکالمہ کیا جو نذرِ قارئین ہے :۔

سوال: اپنی زندگی کے ابتدائی دور اور تعلیمی مراحل کے بارے میں کچھ بتائیے ؟
جواب : مغل سٹریٹ شالیمار لنک روڈ باغبانپورہ میری جائے پیدائش ہے۔مہینہ مارچ اور معروف صوفی شاعر و بزرگ حضرت مادھو لال حسین کے عرس پر لگنے والے میلہ شالامار باغ(میلہ چراغاں)کا دن۔والدِ محترم حاجی احمد دین کے پانچ بیٹوں میںآخری نمبر میرا ہے ، سو سارے گھر کا لاڈلا بھی رہا۔ پانچویں جماعت تک کی تعلیم ایم سی بوائز پرائمری سکول (نزد مسجد تالاب والی) باغبانپورہ سے حاصل کی، 6ستمبر1965پاک بھارت جنگ کی وجہ سے پبلک ہائی سکول باغبانپورہ بند ہو گیااور دوسال تک میرا تعلیمی سلسلہ بھی موقوف رہا۔اس دوران خطاطی کے شوق کو پورا کیا، بعد ازیں1967میں مسلم ہائی سکول باغبانپورہ(المعروف مندر والا سکول) میں داخلہ لیا، مڈل اور میٹرک کے امتحانات سکول کے تمام اساتذہ خصوصاً ہیڈ ماسٹر جناب سید محمد صدیق شاہ صاحب، عبدالحمید ملک، محمد اسحاق اور اصغر علی عسکری(جنہوں نے کلاس ہشتم میں مجھے نازؔ کا تخلص دیا) کی خاص توجہ کی بدولت امتیازی نمبروں سے پاس کئے خطاطی اور آرٹ کی جانب لگاؤ نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کی راہ دکھائی مگر کچھ دیر ہو جانے کی وجہ سے داخلہ نہ مل سکا، بڑے بھائی کی خواہش پرگورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ریلوے روڈ لاہور میں میکنیکل انجیئنرنگ کے شعبے کو اپنایا، میٹرک میں اچھے نمبروں کی وجہ سے وہاں مالی وظیفہ بھی ملنے لگا۔ مگر بوجوہ یہ سلسلہء تعلیم 2یا3سیمیسٹر زسے آگے نہ چل سکا، خطاطی اور آرٹ اس پر سبقت لے گئے اور بندہ انجینئر کی بجائے کمرشل آرٹسٹ و ڈیزائنر بن گیا۔
سوال : قطر آنے کی کچھ روداد ؟
جواب : جی ضرور سناتا ہوں ۔ ۔ ۔ بڑے بھائی محمد اسلم( اللہ غریقِ رحمت کرے) قطر میں مقیم تھے اُن سے خط و کتابت کا سلسلہ میری بدولت ہی ہوا کرتا تھا، ہر دوسرے مکتوب میں قطر کے ویزہ کی فرمائش ہوتی تھی، آخر کار فرمائش پوری ہوئی اور 28فروری 1976 ء کو قطر کی سرزمین پر قدم رکھا،یکم مارچ قطر نیون لائٹ کمپنی میں میرا پہلا دن تھا، تب سے اب تک ایک ہی کمپنی میں مختلف حیثیتوں سے خدمات پیش کرتا آ رہا ہوں، پاکستان میں کچھ عرصہ ایسٹرن نیون سائن لاہور میں گزارا تھا، وہ تجربہ کام آیا اور کمرشل آرٹسٹ و ڈیزائنر سے ابتدا ء کی پھر المہندس الفنی، ورکشاپ انچارج، سیلز ایگزیکٹیو اور اب کوالٹی کنٹرولر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہا ہوں۔
سوال : خطاطی اور ریڈیو قطر اردو سروس کے پروگراموں میں حصہ لینا ، کیسے تجربے رہے ؟
جواب : خطاطی پرائمری سکول سے ہی ذہن و دل پر حاوی تھی، تختی لکھنے اور دیگر طلباء سے مقابلے کا رجحان اس میں نکھار پیدا کرتا گیا پھر ایک استاد سے باقاعدہ سائن رائٹنگ کی تعلیم بھی حاصل کی، گھر کے قرب و جوار میں پانچ سینما گھر تھے اُن کے پینٹرز کو اکثر رنگ برنگی پینٹنگ کرتے دیکھتارہا اور ایک دن خود بھی اُس کا حصہ بن گیا اور شوق شوق میں یہ عمل پارٹ ٹائم شغل کی شکل اختیار کر گیا اور چھوٹی سی عمر میں بڑی بڑی سینما کی دیواریں بھی لکھیں، اندھیری راتوں میں شوقیہ طور پر وال چاکنگ بھی کی۔ انہی دنوں ایکٹر بننے کا شوق بھی پروان چڑھا اور سکول کے علاوہ کئی ایک اسٹیج ڈراموں میں ایکٹنگ بھی کی۔ سٹار Ariesہونے کے ناطے آرٹ، شاعری اور دیگر تخلیقی صلاحیتیں روح میں رچی بسی ہوئی ہیں اسی وجہ سے شاید ریڈیو سننے کا شوق بچپن سے تھا ،سبق یاد کرتے ہوئے بھی ریڈیو برابر بج رہا ہوتا تھا۔ یہاں آکر گلف کی مختلف ریڈیو سروسز سننا، بذریعہ خطوط اور ٹیلیفون پروگراموں میں شرکت عام مشغلہ بن گیا، انہی سروسز سے کئی بار Liveانٹرویوز بھی نشر ہوئے۔ دینی، ادبی،معلو ماتی اور انعامی پروگراموں میں حصہ لیا اور خوب انعامات جیتے
متحدہ عرب امارات، ایران، پاکستان، قطر اور دنیا بھر کے ملکوں میں آواز کی دنیا کے دوست بنے جو ابھی تک رابطے میں ہیں۔ معروف مزاحیہ ٹی وی سیریل بلبلے کی ’’ مومو‘‘ ( حنا دلپذیر) حنا خان اُن دنوں ریڈیو ایشیا سے ادبی پروگرام ’’ شمع کے رو برو‘‘ پیش کیا کرتی تھیں، انہوں نے 45منٹ کا مکمل پروگرام اس ناچیز کی شاعری اور ادبی خدمات کے حوالے سے کیا تھا۔جو پورے گلف میں نشر ہوا۔ 1980میں ریڈیو قطر کی اردو سروس کا آغاز ہوا تو اس کی تجرباتی نشریات سے لیکر اب تک اس سے جڑا ہوا ہوں۔کئی نشیب و فراز آئے مگر ریڈیو سے دوستی نہ ٹوٹی بلکہ قطر ریڈیو کی اردو سروس کے ادبی پروگرام مجھے قطر کی ادبی اور شعری محفلوں سے متعارف کرانے کا ذریعہ بنے، جس میں سب سے اہم کردار سید منور نور گیلانی اور قطر ریڈیو اردو سروس کے روحِ رواں سیف الرحمن صاحب کا ہے۔ ریڈیو کے مختلف پروگراموں میں خوبصورت خطوط اور خاص مواقع پرمبارک باد کے ہاتھ سے بنے ہوئے تہنیتی کارڈزمیری پہچان ہوا کرتے تھے۔ اب بھی Liveپروگرامز میں ٹیلیفون پر شرکت کا سلسلہ جاری ہے جسے ہر خاص وعام خوب سراہتے ہیں، یوں کہہ لیں کہ شاعری اور ریڈیو دوحہ میں میری پہچان بن چکے ہیں۔
سوال : ادب سے رغبت کیسے بڑھی ؟ ابتدائی محفلیں کون سی تھیں ، ان دنوں کن نمایاں شخصیات سے ملے ؟؟
جواب : ادب سے رغبت سکول کی بزمِ ادب سے اور پھرکلاس ہشتم یا شاید پھر اس سے پہلے سے، کیونکہ خوش خط ہونے کی وجہ سے سکول کے احاطے میں موجود تختہ سیاہ جن کا کوئی خاص مصرف نہ تھا اُن پر معروف شعراء کے اشعار یا قطعات ہر ہفتے لکھنا میرے ذمے تھابلکہ اکثر سیکشن Aمیں اگر ڈرائنگ کے استاد کوئی اسکیچ یا ماڈل ڈرائنگ کرتے تو سیکشن Bمیں مجھے ڈرائنگ بنانے کو کہتے،اس کے علاوہ کلاس 6thسے10thتک ہر کلاس کے سکول چارٹ بنانے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی جاتی تھی۔استاد شعراء کے مشہورِ زمانہ اشعار، اقوالِ زریں،ادبی، علمی اورتاریخی شخصیات کے حالات زندگی اور نصاب میں پڑھائے جانے والے ادباء ،شعراء کی سوانح حیات مع اشعار لکھنے سے ادب سے کافی لگاؤ ہوگیا تھا جسے تقویت اردو کے اساتذہ نے بخشی، جب وہ میر و غالب اور اقبال کو
پڑھاتے تھے، ان کے اشعار کی تشریح و وضاحت فر ماتے تھے تو شاعری دل و دماغ پراثر انداز ہوتی اور ذہن پر نقش چھوڑتی تھی، حسنِ اتفاق یہ کہ میں کلاس 8thسے ہی دوستوں کے محبت ناموں میں جان ڈالنے کے لیے اپنے اُلٹے سیدھے اشعار لکھ کر دیتا تھا ،
تب ہی تو میرے اردو کے استادوں اصغر علی عسکری اور عبدالحمید صابر نے مجھے نازؔ کے تخلص سے نواز دیا تھاجو کہ اب بھی میرے نام کا حصہ ہے۔اور دوسرا ذریعہ ریڈیو اور ٹی وی تھا جس میں سُنائی جانے والی ہر اچھی غزل میں فوراً نوٹ کر لیتا تھا، معروف ٹی وی کمپیئر طارق عزیز کے پروگرام نیلام گھر میں بیت بازی ہو یا پی ٹی وی کا کوئی مشاعرہ اِن میں پڑھے جانے والے اشعارنوٹ کرنے کی عادت سی بن گئی تھی اور اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی چیز مجھے یاد بھی رہ جاتی ہے چنانچہ اُن دنوں سینکڑوں اشعار ازبر بھی تھے۔
قطر میں ابتدائی محفل میں شرکت ریڈیو قطر اردو سروس کی پروڈیوسر ،اناؤنسر محترمہ بانو سلیمان(مرحومہ) کے توسط سے ہوئی ان کے ایک پروگرام میں کسی ادبی نشست کے انعقاد کا اعلان ہوا، شوق تھا تفصیل جانی اور اگر غلط نہیں توالرمیلہ کے علاقے میں برخیا بوترابی کے گھر کے صحن میں ایک محفلِ مشاعرہ تھی جس میں کافی شعراء کو کلام سناتے ہوئے سنا،کیونکہ پہلی نشست میں جانا ہوا تھا نہ میں کسی کو جانتا تھا نہ مجھے کوئی بس ایک چہرہ ذہن میں آتا ہے شاید وہ فیروز آفریدی تھے ،مائیک پر کھڑے کلام سُنا رہے تھے اور کچھ کانپ بھی رہے تھے۔اس کے بعد ریڈیو قطر کے روحِ رواں سیف الرحمن کی تیمار داری کے وقت سید منور نور گیلانی سے متعارف ہوا ، اور انہوں نے میری پہلی ملاقات بزمِ اردو قطر کے چیئر مین معروف افسانہ نگار سید شمیم حیدر جونپوری سے کرائی ، محافل میں آنے جانے کا
سلسلہ شروع ہوا۔ میر ببرعلی ا نیس سیمینار میں بزم سے مزید قربت ہوئی، سیمینار کے شرکاء ہندوستانی اور پاکستانی ادباء کے علاوہ آپ سے(محمد ممتاز راشد)،امجد علی سرور،عزیز رشیدی، خوشنودبخاری اور دوحہ میں علم و ادب کے حوالے سے معتبر و مقبول شخصیت ملک مصیب الرحمن سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔اس کے بعدتنظیمِ اربابِ قلم،ادارۂ خیال و فن،انجمن شعرائے اردو جس کے اجلاس اُن دنوں یوسف کمال کے دولت کدے پر ہوا کرتے تھے،ان کے ادبی اجلاسوں میں باقا عدہ شرکت کی وہاں محمد سلیمان دہلوی، عبدالحئ ، عتیق انظر،جلیل نظامی، رفیق شاد اکولوی اور دیگر حضرات نے خوب حوصلہ افزائی کی اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا۔
سوال : مجلس کے عالمی مشاعروں میں کن نمایاں اہلِ قلم سے یادگار ملاقاتیں رہیں ؟
جواب : مجلس کے عالمی مشاعروں اور ایوارڈ تقریبات میں دنیائے ادب کی تمام معتبر ہستیوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، ان میں کئی ایک ایسے نام ہیں جن سے ملنے کا شاید تصور بھی کرناممکن نہ تھا اُن میں بڑے بڑے دانشور، شعراء، نثر نگار ، فلم اور ٹی وی کی شخصیات قابلِ ذکر ہیں، چند نام جو ذہن میں محفوظ ہیں اُن میں جناب احمد ندیم قاسمی،جناب اشفاق احمد،جناب انتظار حسین، جناب مختار مسعود، جناب کالی داس گپتا رضا،جناب گوپی چند نارنگ،محترمہ بانو قدسیہ ، جناب محمد خالد اختر، جناب جمیل جالبی، جناب شوکت صدیقی، جناب مستنصر حسین تارڑ،جناب عبداللہ حسین، جناب اسد محمد خان،جناب محمد منشا یاد،جناب مسعود مفتی، جناب جمیل الدین عالی، جناب حمایت علی شاعر، جناب سید محمد کاظم، جناب رتن سنگھ،محترمہ سیدہ جعفر،پروفیسر وارث علوی، پروفیسر مغنی تبسم، جناب قاضی عبدالستار، جناب نثار احمد فاروقی،جناب صلاح الدین پرویز، جناب احمد فراز، جناب شہزاد احمد،جناب امجد اسلام امجد، جناب انور شعور، جناب ندا فاضلی، جناب عطاء الحق قاسمی،جناب شموئل احمد اور جناب نصیرالدین شاہ قابلِ ذکر ہیں۔
سوال : آپ کی زندگی کا سب سے یادگار مشاعرہ کون سا رہا اور کس حوالے سے ؟
جواب : میرے اب تک کے یادگار مشاعروں میں مشاعرہ بیادِ جون ایلیا 2003( دوبئی) سب سے یاد گار مشاعرہ ہے اور وہ بھی کئی ایک حوالوں سے،اول یہ کہ قطر سے باہر کسی ملک میں یہ میری کسی بھی عالمی مشاعرہ میں پہلی شرکت تھی،دوم اس مشاعرے میں پاک و ہند کے علاوہ کئی ایک ممالک کے معروف شعراء بشمول جناب احمد فراز موجود تھے۔
سوال : تاریخی ’’شالامارباغ‘‘ آ پ کے گھر کے پاس ہے۔ پچپن میں آپ نے اسے کیسا دیکھا اور اس کا سالانہ میلہ کیسا ہوتا ہے ؟
جواب : کیا تاریخی سوال ہے۔۔۔ جیسا کہ میں ابتداء میں عرض کرچکا ہوں کہ تاریخی’’ شالا مار باغ ‘‘ اور اسکے میلہ کا میری زندگی سے گہرا تعلق ہے کیونکہ اسی میلہ کے روز میں نے اس دنیا کے میلے میں قدم رکھا تھا،ڈھول تاشوں کی تھاپ میں شاید آنکھ کھلی ہو گی۔ اسطرح اس میلے نے مجھے بھی تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے،میرا غریب خانہ اس شالامار باغ سے آدھے کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے سو لڑکپن کا کافی وقت اس باغ میں اس حوالے سے گزرتا رہا کہ ایامِ تعلیم کے دوران جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی تھیں اور ان میں کرنے کے لیے جو ہوم ورک (چھٹیوں کا کام) ملتا تھا اُس کو انجام دینے کے لیے میں صبح صبح شالا مار باغ پہنچ جاتا تھااور کسی گہرے پیڑ یا سرو قد’’ سرو‘‘ کے سائے کا سہارا لیتا تھا، خصوصاً برسات کے دنوں میں جب تیز ہواؤں کے ساتھ بارش برستی تھی ،ہم دوستوں کے ساتھ شالامار باغ کا رخ کرتے اور موسم کے اعتبار سے پکے ہوئے جامن اور درختوں سے گرنے والے آموں سے خوب لطف اندوز ہوتے تھے۔ اس لحاظ سے میں اس میلہ کو اپنی سالگرہ پر ہونے والی ایک تقریب تصور کرتا ہوں اور میرے احباب بھی از رہِ مذاق یہی کہتے ہیں کہ شوکت بڑے خوش قسمت ہو تم کہ تمہارے آنے کی خوشی میں اتنا بڑا میلہ لگتا ہے۔ اس میلہ کی اُن دنوں ایک خاص اہمیت تھی،لاہور کے گرد ونواح کے دیہات میں بسنے والے زیادہ تر کھیتی باڑی کرتے تھے اور فروری اورمارچ کے مہینے فصلوں کی کٹائی کے مہینے ہوتے ہیں، فصلوں کی کٹائی سے فارغ ہو کر یہ لوگ تفریح طبع کے لیے اس میلے کا رخ کرتے تھے ، دہقانوں کی رنگ برنگی ٹولیاں ، میٹھی میٹھی بولیاں گاتے ہوئے،ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے اس میلہ کی رونق کو دوبالا کرتی تھیں۔سنا ہے کہ ابتداء میں یہ میلہ شالا مار باغ کے اندر لگا کرتا تھامگر بعد میں اس کے ارد گرد اور حضرت مادھو لال حسین کے دربار کے احاطے میں لگنے لگا اور اب بھی اُسی آب وتاب سے لگتا ہے۔
سوال : ’’چاہتوں کا خمار ‘‘ میں آپ کی کونسی شاعری ہے ؟ پہلی کتاب کا تجربہ کیسا رہا ؟
جواب : ’’چاہتوں کا خما ر ‘‘ در اصل میری غزلوں کا مجموعہ ہے جس میں میرے ابتدائی دور کی شاعری کے علاوہ طرحی غزلیں ،حمد ، نعت، سلام اور منقبت شامل ہیں۔ رہی بات تجربے کی تو کہوں گا کہ بہت اچھا رہا یہ حسین تجر بہ ، احباب سے خوب پذیرائی ملی اور سب سے زیادہ خوشی اُس وقت ہوئی جب مجلس فروغِ اردو ادب کے ایوارڈ و عالمی مشاعرے کی تقریب منعقدہ المجلس آڈیٹوریم شیراٹن ہوٹل میں ہزاروں حاضرین ، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے ادباء و شعراء کی موجودگی میں اردو کی دو خوبصورت بستیوں ہندوستان اور پاکستان کے سفیروں محترمہ دیپا گوپالن وادھوا ، جناب محمد اصغر آفریدی اوروزارتِ ثقافت والفنون والثرات قطر کے نمائندہ جناب موسیٰ زینل موسیٰ نے ’’چاہتوں کا خمار ‘‘ کی رونمائی فرمائی۔
سوال : قطرکی ادبی فضا کا دیگر ادبی مراکز سے تقابل کریں تو کیا تاثرات ہونگے ؟
جواب : قطرکی ادبی فضا کا دیگر ادبی مراکز سے تقابل کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ قطر کی ادبی فضادیگر اردو مراکز سے زیادہ خوشگوار ہے،اس خوشگواری میں دوحہ کی اردو سے محبت کرنے والی ہندوستانی اور پاکستانی شخصیات کا اہم رول ہے جو اردو ادب و ثقافت کے فروغ کے لیے دن رات کوشاں ہیں، اس وقت دنیائے ادب کا سب سے بڑا اردو ایوارڈ ہر سال (تقریباً 16سال سے ) مجلس فروغِ اردو ادب کے پلیٹ فارم سے دیا جا رہا ہے۔اس ایوارڈ اور سالانہ عالمی مشاعرہ کی گونج تمام اردو بستیوں میں سنی جاتی ہے،جس کی ابتداء اردو کے شیدائی ملک مصیب الرحمن (مرحوم) نے جناب محمد عتیق کے ساتھ مل کر کی، مجلس اب تک 16ایوارڈ تقریبات اور18عالمی مشاعرے منعقد کروا چکی ہے مجلس کا ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے اور طلائی تمغے پر مشتمل یہ ایوارڈ دنیائے ادب کے بہترین نثر نگاروں کو دیا جاتا ہے ۔جن کا انتخاب ہندوستان اور پاکستان سے دو الگ الگ جیوریز کرتی ہیں ، جن کے سربراہ ہندوستان میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور پاکستان میں جناب مشتاق احمد یوسفی ہیں۔ اس سے قبل بزمِ اردو قطراور انڈ و قطر اردو مرکزنے چھوٹی بڑی نوعیت کے کامیاب عالمی مشاعرے بھی کروائے۔ بزم کا یہ تسلسل ادبی سیمینارز کی صورت میں اب بھی جاری ہے ، ادارۂ خیال و فن بھی مختلف نوعیت کی ادبی تقریبات اور مشاعروں کا انعقاد کرواتا رہا،اور اسی نام سے ایک مجلہ تسلسل سے لاہور اور دوحہ سے بیک وقت شائع کر رہا ہے۔ اسی طرح تقریباً 7سال سے انجمن محبانِ اردو ہر سال ایک عالمی مشاعرے کا انعقاد کر رہی ہے اور ماہانہ یا سہ ماہی شعری نشستوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔حلقۂ ادب اسلامی کی اس سلسلہ میں اپنی خاص حیثیت ہے اور حلقہ کے ماہانہ ادبی اجلاس قطر میں اسلامی ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،اس لحاظ سے قطر میں فروغِ اردو کا کام زیادہ تسلسل سے اوردوسرے مراکز کی نسبت بہتر ہو رہا ہے ۔
سوال : اردو کا مستقبل نئی نسل کے حوالے سے کیسا نظر آتا ہے ؟
جواب : بہت ہی روشن مستقبل کی امید اور خواہش ہے، ہم لاکھ نئی نسل کو انگریزی سکولوں میں تعلیم دلوائیں وہ اردو سے نا بلد نہیں ہیں
احباب کی محفلوں میں، گھرکے ماحول میں، ٹی وی اور سنیما کی سکرین پر،ریڈیو پہ بجنے والے فلمی و غیر فلمی نغموں میں، اساتذہ کی لکھی غزلوں سے اور دلکش و مسحور آوازوں کے سنگم سے اردو ہر نسل کے دل اور روح میں سرائیت کرتی رہے گی اور کبھی زوال پذیر نہ ہوگی۔
سوال : اپنے کلام سے کچھ اشعار عنایت ہوں ۔
جواب : ایک تازہ غزل اور ایک قطعہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔۔۔
غزل
کتنا سادہ ہے فسانہ مری تنہائی کا
اِس میں کردار ہے تنہا مری تنہائی کا
یوں اکیلے میں ملا کر نہ مجھے اے دنیا
تجھ پہ پڑ جائے نہ سایہ مری تنہائی کا
مانگتی پھرتی ہیں خیرات کسی محفل کی
میری آنکھوں میں ہے کاسہ مری تنہائی کا
شاخ در شاخ وہ چرچے نہیں پروازوں کے
ہر پرندہ ہوا تنہا مری تنہائی کا
ایک مدت ہوئی ، پر یاد ہے اب تک مجھ کو
میری دہلیز پہ سجدہ مری تنہائی کا
حبس اتنا ہے کہ مر جائے نہ تنہائی مری
کوئی تو کھولے دریچہ مری تنہائی کا
اے فلک! تیری بھری بزم بھی خالی ہو جائے
ٹوٹ جائے جو ستارہ مری تنہائی کا
کوئی تو بات ہے شوکتؔ مری تنہائی میں
معتقد ہے جو زمانہ مری تنہائی کا
قطعہ (ماں)
یکلخت اڑا بام سے جب طائرِ ہستی
آ بیٹھے منڈیروں پہ قضاؤں کے پرندے
وہ پیڑ میرے صحن کا جس دن سے گرا ہے
چہکے نہیں اس دن سے دعاؤں کے پرندے

Viewers: 1450
Share